10/08/2026
*یوم آزادی کے موقع پر باجے بجانا اور اس کی خرید و فروخت کرنا*
سوال
14 اگست کے موقع پر آج کل بچے اور نوجوان باجا بجاتے ہیں، تو پوچھنا یہ ہے کہ اس کا ستعمال شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ نیز اس کی خرید و فروخت کا کیا حکم ہے؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں مذکورہ باجے بجانا جائز نہیں ہے اور ان کی خرید و فروخت مکروہِ تحریمی ہے؛ اس لیے کہ یہ لہو و لعب ہونے کے ساتھ ایذا رسانی کا بھی باعث ہے۔
واضح رہے کہ کلمۂ طیبہ اور اسلام کی بنیاد پر ملنے والی آزادی کی نعمت پر شکر ضرور ادا کرنا چاہیے۔
اور کسی بھی خوشی کے اظہار کے لیے ناجائز طریقوں سے اجتناب ضروری ہے، نیز بچوں اور نوجوانوں کی اس حوالے سے اخلاقی تربیت بھی کرنی چاہیے۔
"عَنْ عَائِشَةَ : «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا، وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ، تَضْرِبَانِ بِدُفَّيْنِ فَانْتَهَرَهُمَا أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَعْهُنَّ، فَإِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا»
عَنْ عُرْوَةَ : أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ «أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ دَخَلَ عَلَيْهَا، وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ، تَضْرِبَانِ بِالدُّفِّ وَتُغَنِّيَانِ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسَجًّى بِثَوْبِهِ. وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى: مُتَسَجٍّ ثَوْبَهُ، فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ فَقَالَ: دَعْهُمَا يَا أَبَا بَكْرٍ إِنَّهَا أَيَّامُ عِيدٍ. وَهُنَّ أَيَّامُ مِنًى، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ بِالْمَدِينَةِ»."
(سنن النسائي، كتاب صلاة العيدين، ضرب الدف يوم العيد 3/ 195 ط: المطبعة المصرية)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144401100985
مآخذ: دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
#14اگست #پاکستان #فتویٰ #دارالافتاء #باجا #باجے #لہوولعب #نصیحت