Deni Masail aur Ahkam-e-Shari

Deni Masail aur Ahkam-e-Shari Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Deni Masail aur Ahkam-e-Shari, Religious Center, Farid Town, Sahiwal.

اس گروپ میں آپ کے شرعی مسائل سے متعلق مختلف دارالعلوم کے شرعی مسائل و احکام سے متعلق فتاویٰ جات شیئر کیے جاتے ہیں۔
https://chat.whatsapp.com/DPMxyMwsJdu7q8QGxvwzAX

10/08/2026

*یوم آزادی کے موقع پر باجے بجانا اور اس کی خرید و فروخت کرنا*
سوال
14 اگست کے موقع پر آج کل بچے اور نوجوان باجا بجاتے ہیں، تو پوچھنا یہ ہے کہ اس کا ستعمال شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ نیز اس کی خرید و فروخت کا کیا حکم ہے؟

جواب
صورتِ مسئولہ میں مذکورہ باجے بجانا جائز نہیں ہے اور ان کی خرید و فروخت مکروہِ تحریمی ہے؛ اس لیے کہ یہ لہو و لعب ہونے کے ساتھ ایذا رسانی کا بھی باعث ہے۔

واضح رہے کہ کلمۂ طیبہ اور اسلام کی بنیاد پر ملنے والی آزادی کی نعمت پر شکر ضرور ادا کرنا چاہیے۔

اور کسی بھی خوشی کے اظہار کے لیے ناجائز طریقوں سے اجتناب ضروری ہے، نیز بچوں اور نوجوانوں کی اس حوالے سے اخلاقی تربیت بھی کرنی چاہیے۔

"عَنْ ‌عَائِشَةَ : «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا، وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ، تَضْرِبَانِ بِدُفَّيْنِ فَانْتَهَرَهُمَا أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَعْهُنَّ، فَإِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا»

عَنْ ‌عُرْوَةَ : أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ ‌عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ «أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ دَخَلَ عَلَيْهَا، وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ، تَضْرِبَانِ بِالدُّفِّ وَتُغَنِّيَانِ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسَجًّى بِثَوْبِهِ. وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى: مُتَسَجٍّ ثَوْبَهُ، فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ فَقَالَ: دَعْهُمَا يَا أَبَا بَكْرٍ إِنَّهَا أَيَّامُ عِيدٍ. وَهُنَّ أَيَّامُ مِنًى، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ بِالْمَدِينَةِ»."

(سنن النسائي، كتاب صلاة العيدين، ضرب الدف يوم العيد 3/ 195 ط: المطبعة المصرية)
فقط والله أعلم

فتویٰ نمبر : 144401100985

مآخذ: دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
#14اگست #پاکستان #فتویٰ #دارالافتاء #باجا #باجے #لہوولعب #نصیحت

09/08/2026

*مولا علی کہنے کا حکم*
سوال

میرا ایک دوست ہے وہ کہہ رہے ہیں کہ یا علی مولا درست ہے اور کہہ رہے ہیں کہ علی کو رسولِ خدا نے مولا پکارا ہے ہم کیسے نہیں پکارے! براہِ مہربانی رہنمائی فرمائیں!

*جواب*
واضح رہے کہ "مولیٰ" کے متعدد معانی آتے ہیں، ان معانی میں سے کسی ایک معنی کو ترجیح دینے اور کہنے والے کی مراد سمجھنے کے لیے اس کلمہ کا استعمال، اس کا سیاق و سباق اور سامعین نے جملہ میں استعمال کے بعد اس کا کیا معنی سمجھا ہے، اسے بھی جاننا ضروری ہوتا ہے۔

1: حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے متعلق "من كنت مولاه فعلي مولاه" والی روایت مختلف طرق سے مختصر و طویل متن کے ساتھ متعدد کتب حدیث میں منقول ہے، ان تمام روایات کے مجموعہ کے سیاق و سباق اور پس منظر پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے لیے "مولا" کا لفظ محب، دوست اورمحبوب کے معنی میں استعمال فرمایا ہے، اور یہی معنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے سمجھا تھا؛ لہذا حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے لیے "مولا" کا لفظ اسی معنی میں استعمال کرنا چاہیے۔

2: "مولیٰ" کا ایک معنی سردار بھی آتاہے، اس معنی کے اعتبار سے بھی "مولا علی" کہنا جائز ہوگا۔

تاہم چوں کہ "مولی علی" آج کے زمانے میں ایک راہ گم کردہ فرقے کا شعار بن چکا ہے، اور "مولی علی" کے الفاظ کے پیچھے ان کا ایک نظریہ چھپاہوتا ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد ان کے خلیفہ بلا فصل تھے وغیرہ ؛ لہذا ان الفاظ کے استعمال سے اجتناب کرنا چاہیے، خصوصاً ایسے مواقع پر جہاں سننے والے "مولا علی" کے مختلف معانی کے فرق اور پس منظر کو نہ سمجھتے ہوں، یااس لفظ کو سننے والے اپنی مخصوص نظریات کی اشاعت چاہتےہوں۔
فقط واللہ اعلم

فتویٰ نمبر : 144506100186

مآخذ: دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
مولا_علی

#مولیٰ_علی


#حدیث



#دارالافتاء
#فتویٰ
















08/08/2026

*شوہر کی اجازت سے اسقاط حمل کا حکم*
سوال
ایک گائنی ڈاکٹر نے روح داخل ہونے کے بعد حمل ختم کرنے کی تجویز دی، ایک ایسے کیس میں جہاں غیر معمولی جنین زندہ تھا لیکن زندگی کے قابل نہیں تھا۔

جوڑے (خاتون اور ان کے شوہر) نے اتفاق کیا اور اسقاطِ حمل کیا گیا۔ جنین مردہ پیدا ہوا۔ کیا اس پر کوئی سزا ہے، جیسے دیت یا غرامہ؟ اگر ہاں، تو کس پر؟ کون اسے ادا کرے اور کس کو، اور رقم پاکستان روپے میں کتنی ہوگی؟

جواب
واضح رہے کہ اگر حمل چار ماہ کا ہو جائے تو اسے ضائع کرنا کسی صورت جائز نہیں ہے، اگر حمل چار ماہ سے کم کا ہو اور دین دار اورماہر ڈاکٹر یہ کہہ دے کہ بچہ کی پیدائش کی وجہ سے ماں کی جان کو یقینی یا غالب گمان کے مطابق خطرہ ہے یا ماں کی صحت حمل کاتحمل نہیں کرسکتی یا پھر پہلے بچے کی تربیت میں دقت ہونے اور صحیح تربیت نہ ہونے کا اندیشہ ہوتو اسقاط حمل کی گنجائش ہے۔ اگر معاشی خوف کی وجہ سے ہو تو اسقاط ناجائز ہے، اگر چہ حمل چار ماہ سے کم مدت کا ہو۔ اور شدید ضرورت نہ ہو تو چار ماہ سے کم مدت کا حمل بھی ساقط کرنا درست نہیں ہے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ حمل چار ماہ سے زائد عرصہ کا ہے اور اس میں جان پڑچکی ہے اس کو گرانا جائز نہیں تھا، یہ قتل کے حکم میں ہے جو کہ سخت گناہ کا کام ہے، میاں بیوی دونوں پر لازم ہے کہ صدق دل سے توبہ واستغفار کریں۔ البتہ جب شوہر کی اجازت سے اسقاط حمل ہوا تو کسی پر کچھ بھی ضمان لازم نہیں ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:

"أسقطته ميتا) عمدا (بدواء أو فعل) كضربها بطنها (بلا إذن زوجها فإن أذن) أو لم يتعمد (لا) غرة لعدم التعدي، ولو أمرت امرأة ففعلت لا تضمن المأمورة، وأما أم الولد إذا فعلته بنفسها حتى أسقطته فلا شيء عليها لاستحالة الدين على مملوكه ما لم تستحق فحينئذ تجب للمولى الغرة لأنه مغرور. وفي الواقعات: شربت دواء لتسقطه عمدا فإن ألقته حيا فمات فعليها الدية والكفارة، وإن ميتا فالغرة ولا ترث في الحالين.

(قوله فإن أذن لا) ذكره الزيلعي وصاحب الكافي وغيرهما.
فقط واللہ اعلم

فتویٰ نمبر : 144704101683

مآخذ: دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
#حمل #جنین #فتویٰ #دارالافتاء #دیت #غرامہ #کفارہ ***i

06/08/2026

*بیوی کا خلع کا مقدمہ دائر کرنے کا حکم*
سوال
میری بیوی نے مجھ پر خلع کا مقدمہ دائر کر دیا ہے،اس کی شرط ہے کہ میں اپنی والدہ کو چھوڑ کر اس کے ساتھ الگ گھر کا انتظام کر کے رہوں، لیکن میں اپنی والدہ کو نہیں چھوڑ سکتا ،اس لیے کہ میں ایک ہی بھائی ہوں اور میرے والد صاحب کا بھی انتقال ہو چکا ہے،کیا یک طرفہ خلع لینا حرام ہے یا نہیں؟

جواب
صورتِ مسئولہ میں اگر سائل نے اپنی استطاعت کے مطابق اپنی بیوی کو اپنے گھر میں سے ایک ایسا کمرہ دیا ہے جس میں بیوی اور شوہر کے علاوہ کسی اور کا عمل دخل نہیں اورباورچی خانہ ،بیت الخلاء وغیرہ کا بھی انتظام ہو اوربیوی کی ضروریات کوبھی کافی ہوجائے ،جس میں وہ اپنامال واسباب تالالگاکررکھ سکے، تو سائل نے اپنی شرعی ذمہ داری مکمل کی ہے ، اب بیوی کامستقل الگ رہائش کا مطالبہ کرنا جائز نہیں ہے،اور اس بنیاد پر خلع کا مطالبہ کرنا یا مقدمہ دائر کرنا بھی جائز نہیں ہے ، اور اگر شوہر نے اس طرح کی رہائش یعنی الگ کمرہ ، بیت الخلاء ، باورچی خانہ فراہم نہیں کیا ہو،تو شرعًا شوہر اپنی یہ ذمہ داری مکمل کردے ۔

اور بیوی کو بھی چاہیے کہ وہ شوہر سے بلاوجہ نہ خلع کا مطالبہ کرے ،نہ ہی شوہر پر مقدمہ دائر کرے،نیزغیر معقول وجہ سے اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرنے والی عورت کے لیے حدیث میں وعید وارد ہوئی ہے کہ اس پر جنت کی خوش بو حرام ہے؛لہذا یک طرفہ خلع شرعا معتبر نہیں ہوتا ،جب تک شوہر خلع دینے پر راضی نہ ہو ،یا خلع کے فیصلے کو قبول نہ کرلے،تو شرعا خلع درست نہیں ہوگا ،نکاح برقرار رہے گا۔
فقط واللہ اعلم

فتویٰ نمبر : 144611100951

مآخذ: دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
#خلع #طلاق #دارالافتاء #فتویٰ

05/08/2026

*ذبیحہ کے بارے میں تحقیق و تفتیش کاحکم*
سوال
کیا اس جانور کا گوشت کھا سکتے ہیں جس میں معلوم ہی نہ ہوکہ ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لیا ہے یا نہیں؟ میرے ابو دکان سے مرغی کایا گائے کا گوشت لاتے ہیں،تو خود اُنہیں نہ ہی معلوم ہوتاہے اور نہ ہی دیکھا ہوتا ہے کہ ذبح کیسے کیا ہے، اگر میں پوچھوں، تو کہتے ہیں کہ مسلمان ہے،تو کیا اللہ کا نام ذبح کرتے وقت نہیں بولیں گے،یہ بول کر ٹال دیتے ہیں۔

تو یہ راہ نمائی فرما دیں کہ ایسا گوشت کھانا کیسا ہے ؟جس میں پتا نہیں ہوتا کہ ذبح کیسے کیا ہے ؟

*جواب*
صورتِ مسئولہ میں جب اتنا معلوم ہو کہ ذبح کرنے والا مسلمان ہے، تو اس کا ذبح کیا ہوا جانور شرعاً حلال ہے، اگرچہ یہ معلوم نہ ہو کہ اس نے ذبح کس طریقے سے کیا اور ذبح کے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لیا یا نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمان کی ظاہری حالت سے یہی غالب گمان ہوتا ہے کہ وہ ذبح کے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لیتا ہے، یہی اس کا عقیدہ ہے۔

نیز شریعتِ مطہرہ لوگوں کو حرج اور دشواری میں ڈالنا پسند نہیں کرتی، اس لیے ہر ذابح کے بارے میں یہ تحقیق کرنا کہ اس نے ذبح کے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لیا تھا یا نہیں، ایک نہایت دشوار امر ہے۔ لہٰذا مسلمان کی ظاہری حالت پر اعتماد کرتے ہوئے اس کا ذبیحہ حلال قرار دیا جائے گا ۔
فقط واللہ اعلم

فتویٰ نمبر : 144706101592

مآخذ: دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

04/08/2026

*نعل نبی ﷺ کا عکس گھرپر لگانا*
سوال
آج کل آپ علیہ الصلاۃ والسلام کی طرف نعلین پاک کی ایک مخصوص شبیہ منسوب ہے، کیا درست ہے کہ آپ علیہ السلام کے نعلین اسی طرح تھے؟ اور اگر کوئی اس کو بطورِ تبرک گھر وغیرہ میں لگائے ربیع الاول کے بارہ دن کی تخصیص کیے بغیر کیا یہ درست ہے؟ اور کسی شخص نے یہ کہا کہ تاریخ کی تعیین کے بغیر سارا سال گھر وغیرہ میں لگانا بغیر تبرک کے درست ہے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے، کیا اس شخص کا یہ قول درست ہے؟

جواب
جہاں تک آں حضرت ﷺ کے ان آثارِ متبرکہ کا تعلق ہے جو آپ ﷺ کے زیر استعمال رہے ہوں یا آپ ﷺ کے جسمِ اطہر سے مس ہوئے ہوں، ان سے تبرک یا انہیں بوسہ دینایا سر پر رکھنا متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور علمائے متقدمین سے ثابت ہے۔ البتہ اگر آپ ﷺ کے ان آثار متبرکہ کی کوئی تصویر بنائی جائے یا اس کا کوئی نقشہ بنایا جائے تو وہ اگرچہ اصل آثار کے مساوی نہ ہوگا، لیکن چوں کہ اصل کے ساتھ مشابہت اورمشاکلت کی وجہ سے اس کو حضورِ اقدس ﷺ سے فی الجملہ ایک نسبت حاصل ہے؛ اس لیے اگر کوئی شخص اپنے شوقِ طبعی اور محبت کے داعیہ سے اسے بوسہ دے، یا آنکھوں سے لگائے تو فی نفسہ اس کی ممانعت پر بھی کوئی دلیل نہیں، لہذا فی نفسہ ایسا کرنا مباح ہوگا، بلکہ جس محبت کے داعیہ سے ایسا کیا جا رہا ہے وہ محبت ان شاء اللہ موجبِ اجر بھی ہوگی، بشرطیکہ اس خاص عمل کو بذاتہ عبادت نہ سمجھا جائے،کیوں کہ عبادت کے لیے ثبوت شرعی درکار ہے۔
یہ تو مسئلہ کی اصل حقیقت تھی، لیکن چوں کہ ان نازک حدود کو سمجھنا اور ان نزاکتوں کو ملحوظ رکھنا عوام کے لیے مشکل معلوم ہوتا ہے، اور اس بات کا اندیشہ ہے کہ اس میں حدود سے تجاوز نہ ہو جائے،مثلاً یہ کہ ان اعمال کو بذاتہ عبادت سمجھا جانے لگے یا ادب و تعظیم میں حدود سے تجاوز ہو کر مشرکانہ افعال یا اعتقادات اس کے ساتھ نہ مل جائیں۔ اس لیے مناسب یہی ہے کہ ان نقشوں کی عمومی تشہیر اور ان کی طرف ترغیب وغیرہ سے اجتناب ہی کرنا چاہیے۔ البتہ اگر کوئی اپنے عقیدے کو درست رکھ کر اور تاریخ کی تعیین کے بغیر اپنے پاس یہ نقشہ رکھے یا گھر میں لگائے خواہ تبرک کے لیے ہو، لیکن لازم اور عبادت نہ سمجھے تو اسے بدعت نہیں کہا جائے گا۔

’’ کفایت المفتی‘‘ میں نعلِ مبارک کے نقشہ پر حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ اور حضرت مفتی کفایت اللہؒ کی تفصیلی خط و کتابت کے بعد حضرت مفتی کفایت اللہؒ نے یہ لکھا ہے:

’’حضرت اقدس حکیم الامت مولانا تھانوی مد ظلہ کے رسالہ ’’نیل الشفا‘‘ سے اس اعلانِ رجوع کا مطلب یہ ہے کہ رسالہ نیل الشفا سے یہ سمجھا جاتا تھا کہ نقشہ نعل شریف سے استبراک و توسل کی مسلمانوں کو تلقین و ترغیب اور نقشہ کی تشہیر و اشاعت کی تحریض مقصود ہے۔ اب حضرت مولانا دام فیوضہم نے عوام کے تجاوز عن الحد اور غلو کو مد نظر رکھ کر استبراک و توسل کی ترغیب اور تشہیر و اشاعت کی تلقین سے رجوع فرما لیا ہے۔ رہا کسی عاشقِ صادق اور مجذوبِ محبت کا والہانہ طرزِ عمل تو وہ بجائے خود مذموم نہیں، بلکہ مسکوت عنہ ہے۔ اسی طرح نفسِ مسئلہ میں تردد پیدا ہوجانے کا جو ذکر ہے، اس کا حاصل بھی بجائے جزمِ جوازِ سابق کے عدمِ جزمِ جواز ہے، نہ کہ جزمِ عدمِ جواز، پس عشاق پر طعن نہ کیا جائے‘‘۔ (کفایت المفتی، ۲ / ۹۸، دار الاشاعت) فقط واللہ اعلم

فتویٰ نمبر : 144103200274

مآخذ: دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


#تبرک




#بدعت
#عقیدہ
#دارالافتاء

#فتویٰ














03/08/2026

*چھے کلموں کی حقیقت،ان کے یاد کرنے اور پڑھنے کا حکم*
سوال
اسلام میں چھے کلموں کی حیثیت اور احادیث میں اس کا ثبوت ہے؟اس کا یاد کرنا یا پڑھنا ضروری ہے؟

جواب
اسلاف نے احادیث سے تعلیم کے واسطےاقرارتوحید اور رسالت،صفات باری تعالی ،براءت شرک اور کبائر ،اور رجوع الی اللہ جیسے بنیادی عقائد کو یکجا کر کے چھے کلموں کے مجموعہ میں مرتب کیا ہے تاکہ بآسانی اس کو یاد کیا جاسکے،پہلے چار کلمے تو بعینہ احادیث میں موجود ہیں ،البتہ آخری دو کلمے متفرق احادیث کے اجزاء ہیں جن کو جمع کیا ہے،ان کے معنی و مفہوم کے مطابق عقیدہ تمام مسلمانوں پر فرض ہے،البتہ یہ عقیدہ رکھنا کہ ان کو یاد کرنا یا پڑھنا ضروری ہے یہ درست نہیں ۔

كنزالعمال ميں هے :

"لما خلق الله جنة عدن وهي أول ما خلق الله قال لها: تكلمي قالت لا إله إلا الله محمد رسول الله قد أفلح المؤمنون قد أفلح من دخل في وشقي من دخل النار."

(الفرع الاول فی فضل الشہادتین،ج:1،ص:55،موسسۃ الرسالۃ)

وفيه أيضا:

"مكتوب على العرش لا إله إلا الله محمد رسول الله لا أعذب من قالها."

(الفرع الاول فی فضل الشہادتین،ج:1،ص:57،موسسۃ الرسالۃ)
فقط واللہ اعلم

فتویٰ نمبر : 144801100578

مآخذ: دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

゚viralシfypシ゚

02/08/2026

*کیا کسی کو منحوس کہنا درست ہے؟*
سوال
کچھ لوگ کسی شخص کے بارے میں کہتے ہیں کہ "اس کا پاؤں بھاری ہے" یا "اس کی قسمت خراب ہے"۔ کیا اسلام میں اس قسم کے عقیدے کی کوئی حقیقت یا بنیاد موجود ہے؟میرا حال یہ ہے کہ میں جو بھی کام کرتا ہوں، اکثر اس میں نقصان ہی اٹھاتا ہوں۔ اگر کسی کے ساتھ مل کر کوئی کام کروں تو بھی نقصان ہو جاتا ہے۔ اسی وجہ سے میرے بعض رشتہ دار کہتے ہیں کہ "اس کا پاؤں بہت بھاری ہے"۔

حال ہی میں میری شادی ہوئی، اور شادی کے تقریباً تین ماہ بعد میرے سسر صاحب کا انتقال ہو گیا۔ اس پر بھی بعض لوگوں نے کہا: "دیکھا! ہم پہلے ہی کہتے تھے کہ اس کا پاؤں بھاری ہے۔"کیا واقعی کسی انسان کا پاؤں بھاری یا قسمت خراب ہونے کا کوئی اسلامی تصور موجود ہے؟ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر بار بار پیش آنے والے نقصانات کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟

میں الحمد للہ پانچ وقت کی نماز باقاعدگی سے ادا کرتا ہوں، اپنی والدہ کا فرمانبردار ہوں، لیکن والد صاحب کے ساتھ بعض اوقات بحث و تکرار ہو جاتی ہے، خصوصاً جب وہ والدہ سے اونچی آواز میں بات کرتے ہیں۔ بعد میں مجھے اپنی غلطی کا احساس بھی ہوتا ہے اور دل میں ندامت محسوس کرتا ہوں، لیکن والد صاحب سے معافی مانگنے کی ہمت نہیں ہوتی۔ میں بہت کوشش کرتا ہوں کہ ان کے ساتھ بے ادبی نہ ہو، مگر پھر بھی کبھی کبھار ایسا ہو جاتا ہے۔کیا یہ ممکن ہے کہ والد صاحب کے ساتھ اس طرزِ عمل کی وجہ سے مجھے زندگی میں بار بار نقصان اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہو؟

براہِ کرم ایسی دعائیں اور وظائف بتا دیجیے جنہیں پڑھنے سے اللہ تعالیٰ بری تقدیر، مصیبتوں اور نقصانات سے حفاظت فرمائے، معاملات میں آسانی اور برکت عطا کرے، اور مجھے اپنے والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور ان کا حقیقی فرمانبردار بنا دے۔ نیز یہ بھی رہنمائی فرمائیں کہ میں کون سے اعمال اختیار کروں تاکہ دنیا و آخرت میں والدین کا نیک، صالح اور اطاعت گزار بیٹا شمار ہو سکوں۔

جواب
شرعاً کسی شخص کے بارے میں یہ عقیدہ رکھنا کہ اس کا "پاؤں بھاری ہے"، "یہ منحوس ہے" یا "اس کی وجہ سے نقصان ہوتا ہے"، درست نہیں۔ اسلام میں نفع و نقصان، زندگی و موت، بیماری و صحت، خوش حالی و تنگ دستی سب اللہ تعالیٰ کے حکم اور تقدیر سے ہوتے ہیں۔ کسی انسان، جانور، وقت، دن یا مہینے کو بذاتِ خود نحوست کا سبب سمجھنا جاہلیت کے عقائد میں سے ہے۔ لہٰذا سائل کے سسر صاحب کے انتقال کو سائل کی شادی یا سائل کے "پاؤں بھاری" ہونے سے جوڑنا شرعاً غلط اور بے بنیاد بات ہے۔

البتہ یہ حقیقت ہے کہ بعض اوقات انسان کو مسلسل آزمائشوں، مالی نقصانات یا مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں؛ مثلاً اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش، بعض گناہوں کے اثرات، معاملات میں غلط تدبیر، حقوق العباد میں کوتاہی یا درجات کی بلندی کا سبب بننے والی آزمائش۔ اس لیے ہر نقصان کو کسی شخص کی نحوست یا قسمت کی خرابی پر محمول کرنا درست نہیں۔

جہاں تک والد صاحب کے ساتھ بحث و تکرار کا تعلق ہے تو والدین خصوصاً والد کے ساتھ بے ادبی، دل آزاری اور ان کی نافرمانی بہت بڑا گناہ ہے۔ اگر سائل سے کبھی سخت کلامی یا بے ادبی ہو جاتی ہے تو سائل کو چاہیے کہ سچے دل سے توبہ کرے، حتی المقدور والد صاحب سے معافی مانگے، ان کے ساتھ نرم گفتگو اختیار کرے، ان کی خدمت کرے اور ان کے لیے دعا کرتا رہے۔ یہ ممکن ہے کہ والدین کی ناراضی یا ان کے حقوق میں کوتاہی انسان کی زندگی سے برکت کے اٹھ جانے کا سبب بنے، اس لیے اس معاملے کی اصلاح پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ تاہم کسی خاص نقصان کے بارے میں یقین کے ساتھ یہ کہنا کہ وہ صرف اسی وجہ سے آیا ہے، بغیر دلیل کے درست نہیں۔
فقط والله اعلم

فتویٰ نمبر : 144712100848

مآخذ: دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن #اسلام

#فتویٰ
#دارالافتاء

#منحوسی

#بدشگونی
#تقدیر
#آزمائش




#توبہ
#دعا
#برکت












30/07/2026

*بچوں کو مسجد میں لانے کا حکم*
سوال
بچوں کو مسجد میں لےجانا؟

جواب
نابالغ بچوں کو مسجد لانے میں مندرجہ ذیل تفصیل ہے:

الف) نابالغ بچے اتنے سمجھ دار ہوں کہ وہ خود مسجد کے آداب کی رعایت کرتے ہوں یا اپنے ولی کے سمجھانے پر رعایت کرتے ہوں اور ان سے مسجد کی تلویث کا خطرہ بھی نہ ہو تو ایسے بچوں کا مسجد میں لانا بغیر کراہت جائز ہے ۔

ب) وہ نا بالغ بچہ جن سے مسجد کی تلویث کا خطرہ تو نہ ہو لیکن مسجد کے دیگر آداب کی رعایت نہ کرتے ہوں تو ان کو مسجد لانا مکروہ تنزیہی ہے۔

ج) وہ نا بالغ بچہ جن سے مسجد کی تلویث کا غالب گمان ہو ان کو مسجد لانا ناجائز اور مکروہ تحریمی ہے۔
فقط واللہ اعلم

فتویٰ نمبر : 144709100443

مآخذ: دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن




#دارالافتاء
#فتویٰ

#مساجد










29/07/2026

*بند سم کھولنے کے بعد ملنے والی فری منٹس، انٹرنیٹ اور ایس ایم ایس استعمال کرنے کا حکم*
سوال
اگر Ufone کی سم ایک مہینے تک بند رکھی جائے تو کمپنی والے اس سم میں فری انٹرنیٹ، فری ایس ایم ایس اور فری منٹس دیتے ہیں، تو ایسی سم میں جو ایک مہینے تک بند رہی ہو، اس میں ملنے والا فری نیٹ، فری منٹس اور فری ایس ایم ایس استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟

اور اسی طرح Jazz، Zong اور Telenor Pakistan کی سموں میں بھی فری نیٹ، فری منٹس اور فری ایس ایم ایس آتے ہیں۔ اس کے لیے سم میں ایک کوڈ ڈائل کرنا ہوتا ہے، پھر اس میں فری نیٹ وغیرہ آجاتا ہے۔

جواب
صورتِ مسئولہ میں ایک مہینے بعد بند سم کھولنے پر کمپنی کی طرف سے جو فری منٹس، ایس ایم ایس اور انٹرنیٹ کی سہولت کی ملتی ہے وہ کمپنی کی طرف سے تبرع اور انعام ہے،لہذا اس کا استعمال جائز ہے۔ اسی طرح کوڈ ڈائل کر کے جو سہولت حاصل کی جاتی ہے اگر اس کوڈ میں کوئی غیر شرعی چیز نہیں ہے تو پھر اس سے فائدہ اٹھانے کی گنجائش ہوگی وگرنہ نہیں۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(هي) لغةً: التفضل على الغير ولو غير مال. وشرعًا: (تمليك العين مجانًا) أي بلا عوض لا أن عدم العوض شرط فيه... (وسببها إرادة الخير للواهب) دنيوي كعوض ومحبة وحسن ثناء، وأخروي."

(كتاب الهبة، ج: 5، ص: 687، ط: سعید)

الموسوعۃ الفقہیہ الکویتیہ میں ہے:

"العطية: هي ما أعطاه الإنسان من ماله لغيره، سواء كان يريد بذلك وجه الله تعالى، أو يريد به التودد، أو غير ذلك."

(تحت عنوان الزکاۃ، ج: 23، ص: 227، ط: وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية ۔الكويت)

موسوعۃ القواعد الفقہیہ میں ہے:

"التّبرّع: ‌هو ‌إعطاء ‌مجّاني دون مقابل."

(ج: 8، ص: 868، ط: دار الرسالة العالمية)

فقط والله أعلم

فتویٰ نمبر : 144709100079

مآخذ: دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
#یوفون #جاز #زونگ #ٹیلینور #دارالافتاء #فتویٰ #ہبہ #تبرع
English Hashtags: ***i

Address

Farid Town
Sahiwal
57000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Deni Masail aur Ahkam-e-Shari posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Deni Masail aur Ahkam-e-Shari:

Shortcuts

Share