Deni Masail aur Ahkam-e-Shari

Deni Masail aur Ahkam-e-Shari Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Deni Masail aur Ahkam-e-Shari, Religious Center, Farid Town, Sahiwal.

اس گروپ میں آپ کے شرعی مسائل سے متعلق مختلف دارالعلوم کے شرعی مسائل و احکام سے متعلق فتاویٰ جات شیئر کیے جاتے ہیں۔
https://chat.whatsapp.com/DPMxyMwsJdu7q8QGxvwzAX

21/05/2026

*اجتمائی قربانی میں نیيتوں كا علم كیسے ہو؟*
سوال:مسئلہ : اگرجتماعی قربانی میں کسی ایک کی نیت گوشت کی ہو یا نصرانی ہو یا مرتد ہو تو کسی کی قربانی قبول نہیں ہوتی (حوالہ کتاب الزوہا ؛ کنزل دقایق ۔ سوال: ظاہری حالت تو معلوم ہو سکتی ہے کہ نصرانی یا مرتد یا سود خور ہے لیکن کسی کی نیت تو اللہ ہی جانتا ہے. ایک کی خراب نیت کی سزا سب کو ملے گی۔گویا اجتماعی قربانی انتہا ئی رسکی-خطرہ - ہے.براہ کرم، وضاحت کریں ۔ اس فقہی مسئلہ میں قرآن و حدیث سے کیسے استدلال لیا ہے ؟
جواب نمبر: 43048

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 73-73/M=2/1434 استدلال اس طور پر ہے کہ قربانی کا عمل خالص ایک قربت ہے جس میں تجزی نہیں ہے، اس لیے قربانی کے جانور میں جتنے شرکاء ہیں سب کی نیت قربت ہی کی ہونی چاہیے تاکہ تجزی لازم نہ آئے، رہی یہ بات کہ کس کی نیت کیا ہے یہ تو اللہ ہی جانتا ہے، تو بے شک نیتوں کا حال اللہ ہی کو معلوم ہے، لیکن ہمیں کسی کے متعلق بلاوجہ بدگمان ہونے کی اجازت نہیں، ہم تو ظاہر کے مکلف ہیں، چنانچہ اکر کوئی شریک نصرانی یا مرتد ہے یا مسلمان ہی ہے لیکن وہ اپنی نیت واضح کردے کہ میں قربانی کے لیے نہیں بلکہ صرف گوشت کے لیے شریک ہورہا ہوں تو ایسی صورت میں ظاہر کا اعتبار کرتے ہوئے یہی حکم لگایا جائے گا کہ کسی کی قربانی درست نہ ہوئی، لیکن اگر سارے شرکاء مسلمان ہیں اور کسی کی طرف سے ایسی کوئی صراحت نہیں کہ وہ صرف گوشت کے لیے مثلاً حصہ لے رہا ہے تو مسلمانوں کا معاملہ سداد پر محمول کیا جائے گا اور حسن ظن یہی رکھا جائے گا کہ قربانی کے دنوں میں مسلمان قربانی ہی کی نیت سے جانور ذبح کرتا ہے یا شرکت کرتا ہے۔

واللہ تعالیٰ اعلم

ماخذ: دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
#قربانی #دارالافتاء

19/05/2026

*میت کی طرف سے قربانی کرنے کا حکم اور طریقہ*
سوال
میت کی طرف سے قربانی کرنا کیسا عمل ہے؟ کیا قربانی ہو جاتی ہے؟

جواب
میت کی طرف سے قربانی کرنا جائز ہے اور اس کا ثواب میت کو پہنچتا ہے، روایت میں آتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک دنبہ اپنی طرف سے قربانی کرتے تھے اور ایک دنبہ نبی کریم ﷺ کی طرف سے قربانی کرتے تھے۔

میت کی طرف سے قربانی کرنے کی دو صورتیں ہیں:

(۱) اگر مرحوم نے قربانی کرنے کی وصیت کی تھی اور اس کے ترکہ میں مال بھی تھا تو اس کے ایک تہائی ترکہ اس وصیت کو پورا کرنا لازم ہے اور اس قربانی کے گوشت کو صدقہ کرنا ضروری ہے، مال داروں کے لیے اس وصیت کی قربانی کا گوشت کھانا جائز نہیں ہے۔

(۲) اگر میت نے قربانی کرنے کی وصیت نہیں کی بلکہ کوئی عاقل بالغ شخص اپنی خوشی سے میت کے لیے قربانی کرتا ہے تو یہ قربانی حقیقت میں قربانی کرنے والی کی طرف سے ہوگی اور اس کا ثواب میت کو پہنچے گا، اور اس قربانی کا گوشت مال دار اور فقیر سب کھاسکتے ہیں۔

اس دوسری صورت میں میت کی طرف سے قربانی کرنے کے دو طریقہ ہیں:

۱۔۔ میت کے نام پر ایک حصہ یا ایک چھوٹے جانور کی قربانی کی جائے۔

۲۔۔ قربانی کرنے والے اپنی واجب قربانی کے علاوہ ایک اور حصہ قربانی کرے اور اس کا ثواب میت کو پہنچادے ، دونوں صورتیں صحیح ہیں۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: وعن میت) أي لو ضحی عن میت وارثه بأمره ألزمه بالتصدیق بها وعدم الأکل منها، وإن تبرع بها عنه له الأکل؛ لأنه یقع علی ملك الذابح والثواب للمیت؛ ولهذا لو کان علی الذابح واحدة سقطت عنه أضحیته، کما في الأجناس. قال الشرنبلالي: لکن في سقوط الأضحیة عنه، تأمل. أقول: صرح في فتح القدیر في الحج عن الغیر بلا أمر أنه یقع عن الفاعل فیسقط به الفرض عنه وللآخر الثواب، فراجعه". (ردالمحتار علی الدر9/484)

فتاوی قاضی خان میں ہے:

"ولو ضحی عن میت من مال نفسه بغیر أمر المیت جاز، وله أن یتناول منه ولایلزمه أن یتصدق به؛ لأنها لم تصر ملکًا للمیت؛ بل الذبح حصل علی ملکه، ولهذا لو کان علی الذابح أضحیة سقطت عنه". (فتاویٰ قاضي خان علی هامش الفتاویٰ الهندیة ۳؍۳۵۲ ) فقط والله أعلم

فتویٰ نمبر : 144111201634

ماخذ: دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

19/05/2026

*اجتماعی قربانی میں حرام آمدنی والے شخص کا شریک ہونا*
سوال
اگر اجتماعی قربانی میں کسی کو معلوم نہیں ہے کہ ایک حصّہ حرام کی کمائی کرنے والے کا ہے تو کیا سب کی قربانی جائز ہوگی؟

جواب
گر اجتماعی قربانی میں کسی ایک شریک کی آمدنی حرام کی ہو اور واقعتًا اس نے قربانی میں حرام مال سے ہی شرکت کی ہو اور اس کا علم منتظمین اور دیگر شرکاء کو ہو تو ایسی صورت میں باقی شرکاء کی قربانی بھی نہیں ہوگی۔ لیکن اگر دیگر شرکاء اور منتظمین کو اس کی حرام آمدن کا واقعتًا علم نہ ہو تو دیگر لوگوں کی قربانی ادا ہوجائے گی۔

مسلمان کی آمدن کی تفتیش یا تجسس کا دوسروں کو حکم نہیں ہے، ہاں اگر کسی شخص کی آمدن کے بارے میں حرام ہونے کا علم ہو تو صرف حلال آمدن سے ہی اسے اجتماعی شریک کرنا جائز ہوگا، یا کسی کی آمدن کے بارے میں شک ہو اور اس پر کوئی دلیل بھی ہو تو تحقیق کرنا ضروری ہوگا؛ اس لیے اجتماعی قربانی کے منتظمین کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ بکنگ کی جگہ پر واضح الفاظ میں یہ تحریر آویزاں کردیں کہ اجتماعی قربانی میں صرف حلال آمدن سے شرکت کیجیے، یا اس طرح کے دیگر جملے لکھ دیں، جن سے شرکاء کو علم ہوجائے کہ حرام رقم سے شرکت منع ہے، اس کے بعد اگر کسی شریک کے بارے میں تحقیق نہ ہو تو دیگر شرکاء کی قربانی درست سمجھی جائے گی۔
فقط واللہ اعلم

فتویٰ نمبر : 144211201199

ماخذ: دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن





ٰ
#دارالافتاء






18/05/2026

*قربانی کس شخص پر واجب ہے؟*
سوال
پوچھنا یہ تھا کہ قربانی کس شخص پر واجب ہے؟

جواب
واضح رہے کہ قربانی ہر اُس عاقل ، بالغ ، مقیم، مسلمان، مرد اور عورت پر واجب ہے جو عید الاضحٰی کے ایام میں نصاب کا مالک ہے، (یعنی ساڑھے سات تولہ سونا (87.4875گرام ) یا ساڑھے باون تولہ چاندی (612.4125گرام ) یا اس کی قیمت کے برابر رقم اس کی ملکیت میں موجود ہو )، یا اس کی ملکیت میں ضرورت و استعمال سے زائد اتنا سامان ہے، جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہے، یا رہائش کے مکان سے زائد مکان یا جائیداد وغیرہ ہو، یا استعمال سے زائد گھریلو سامان ہو ، جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو، یا مالِ تجارت، شیئرز وغیرہ ہوں، تو اس پر ایک حصہ قربانی کرنا لازم ہے ۔ (سامان خواہ کوئی بھی چیز ہو، تجارتی ہو یا تجارت کے علاوہ، اگر وہ استعمال میں نہ ہو تو اسے بھی نصاب میں شامل کیا جائے گا، لہٰذا اگر مذکورہ سب چیزیں ملاکر یا بعض ملاکر مجموعی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہے تو اس کے مالک پر بھی قربانی واجب ہوگی ۔)

نیز قربانی واجب ہونے کے لیے نصاب کے مال ، رقم ، یا ضرورت سے زائد سامان پر سال گزرنا شرط نہیں ہے، اور تجارتی ہونا بھی شرط نہیں، ذوالحجہ کی بارہویں تاریخ کے سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے مالک ہوجائے تو اس پر قربانی واجب ہے، چنانچہ اگر قربانی کے تین دنوں میں سے آخری دن (۱۲ذی الحجہ) کو بھی کسی صورت سے نصاب کے برابر مال یا ضرورت واستعمال سے زائد سامان کا مالک ہوجائے تب بھی اس پر قربانی واجب ہے ۔ ہاں عید الاضحٰی کے دنوں تک جو قرض یا اخراجات واجب الادا ہیں، اتنی مقدار منہا کرکے نصاب کا حساب کیا جائے گا۔
بنا بریں جس کے پاس رہائشی مکان کے علاوہ زائد مکانات موجود ہیں ، ضروری مکان کے لیے پلاٹ کے علاوہ دیگر پلاٹ ہیں ، ضروری سواری کے علاوہ دوسری گاڑیاں ہیں، خواہ یہ سب تجارت کے لیے ہو یا نہ ہو ، بہر حال ایسا شخص قربانی کے حق میں صاحبِ نصاب ہے ، اور اس پر قربانی کرنا شرعاً واجب ہے ۔
نیزواضح رہے کہ ایسا شخص گھر میں ایک ہو یا ایک سے زائد ، درج بالا شرائط کی موجودگی کی وجہ سے اگر ایک گھر میں متعدد صاحبِ نصاب لوگ پائے جاتے ہوں تو سب پر علیحدہ علیحدہ قربانی کرنا واجب ہے ، اور ایسی صورت میں از روئے شرع ایک ہی قربانی سارے گھر والوں کی طرف سے کافی نہیں ہوگی۔
فقط واللہ اعلم

فتویٰ نمبر : 144211201081

ماخذ: دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

#قربانی

゚viralシ

17/05/2026

*ذوالحجہ کے چاند کے بعد بال و ناخن کاٹنے کے حوالے سے جو ممانعت ہے وہ کس کے لیے ہے؟*
سوال
کیا ذوالحجہ کا چاند دیکھنے کے بعد بال اور ناخن نہ کاٹنا اس کے لیے مستحب ہے جو چاقو چلاتا ہو یا پھر ان کے لیے بھی جس کے حصے کی قربانی ہو؟ اگر کوئی بندہ قربانی کرے اور قصاب کے ساتھ چاقو چلاتا ہو کیا وہ قربانی سے پہلے بال اور ناخن کاٹ سکتا ہے؟

جواب
جوشخص قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو اس کے لیےذی الحجہ کاچاند ہوجانے کے بعد بال اور ناخن نہ کاٹنا مستحب اور باعثِ ثواب امر ہے، چناں چہ حدیث شریف میں ہے: ’’حضرت امِ سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب ماہ ذی الحجہ کا عشرہ شروع ہو جائے اور تم میں سے کسی کا قربانی کرنے کا ارادہ ہو تو وہ اپنے بالوں اور ناخنوں میں سے کچھ نہ لے ‘‘۔(صحیح مسلم )

یہ ممانعت تنزیہی ہے ، لہذا عشرہ ذوالحجہ میں بال اور ناخن نہ کٹوانا مستحب ہے، اور اس کے خلاف عمل کرنا ترکِ اولیٰ ہے، یعنی اگر کسی نے ذوالحجہ شروع ہوجانے کے بعد قربانی سے پہلے بال یا ناخن کاٹ لیے تو اس کا یہ عمل ناجائز یا گناہ نہیں ہوگا، بلکہ خلافِ اولیٰ کہلائے گا۔ اور اگر کوئی عذر ہو یا بال اور ناخن بہت بڑھ چکے ہوں تو ان کے کاٹنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اگر غیر ضروری بال یا ناخن کاٹے ہوئے چالیس دن پورے ہورہے ہوں تو قربانی سے پہلے یہ بال یا ناخن کاٹنا ضروری ہوگا۔

ملحوظ رہے کہ اس استحبابی حکم کا تعلق قربانی کا ارادہ رکھنے والے شخص کے ساتھ ہے، خواہ وہ جانور کی گردن پر خود چھڑی پھیرے یہ نہ پھیرے۔ یعنی قربانی کا ارادہ رکھنے والے شخص سے مراد صرف ذبح کرنے والا نہیں ہے، بلکہ جو رقم خرچ کرکے قربانی کررہاہو اس کے لیے یہ حکم ہے، لہٰذا اگر کوئی شخص بطورِ قصائی دوسرے کا جانور ذبح کررہاہو اور خود (صاحبِ حیثیت نہ ہونے کی وجہ سے) قربانی نہ کررہاہو تو اس کے لیے یہ حکم نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

فتویٰ نمبر : 144012200082

ماخذ: دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
#قربانی
#ذوالحجہ



#دارالافتاء
#فتویٰ
#عیدالاضحی












15/05/2026

*قرض لے کر قربانی کرنا*
سوال
قرض لے کر قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں ؟؟

جواب
اگر کسی شخص پر قربانی واجب نہیں ہے اور بعد میں قرض کی ادائیگی میں مشکل پیش آنے کا امکان ہو تو قرض لے کر قربانی کرنے کا تکلف نہیں کرنا چاہیےبلکہ شریعت کی دی گئی رخصت پر عمل کرتے ہوئے قربانی ترک کردے اس کے باوجود اگر یہ شخص کسی سے قرض لے کر قربانی کرتا ہے تو محض قرض لینے کی وجہ سے اس کی قربانی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، اس شخص کی قربانی درست ہو گی ۔

لیکن اگر نصاب کے بقدر سامان یا زیور وغیرہ موجود ہو نے کی وجہ سے قربانی واجب ہو گئی ہو اور نقد رقم نہ ہو تو اس صورت میں زیوراور سامان میں سے اتنی مقدار فروخت کرے جس سے قربانی کی جاسکےاور اگر سامان یا زیور بیچنے میں حرج ہے تو پھر قرض لے کر قربانی کرنا ضروری ہوگی۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"(وَأَمَّا) (شَرَائِطُ الْوُجُوبِ) : مِنْهَا الْيَسَارُ وَهُوَ مَا يَتَعَلَّقُ بِهِ وُجُوبِ صَدَقَةِ الْفِطْرِ دُونَ مَا يَتَعَلَّقُ بِهِ وُجُوبُ الزَّكَاةِ،....(وَأَمَّا) (حُكْمُهَا) : فَالْخُرُوجُ عَنْ عُهْدَةِ الْوَاجِبِ فِي الدُّنْيَا وَالْوُصُولُ إلَى الثَّوَابِ بِفَضْلِ اللَّهِ تَعَالَى فِي الْعُقْبَى، كَذَا فِي الْغِيَاثِيَّةِ". (كِتَابُ الْأُضْحِيَّةِ وَفِيهِ تِسْعَةُ أَبْوَابٍ، الْبَابُ الْأَوَّلُ فِي تَفْسِيرِهَا وَرُكْنِهَا وَصِفَتِهَا وَشَرَائِطِهَا وَحُكْمِهَا وَفِي بَيَانِ مَنْ تَجِبُ عَلَيْهِ وَمَنْ لَا تَجِبُ، ٥ / ٢٩٢)فقط واللہ اعلم

فتویٰ نمبر : 144111201661

ماخذ: دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن




#دارالافتاء














15/05/2026

*مقروض شخص کی قربانی کا حکم*
سوال
اگر ایک شخص کے پاس اتنی رقم ہو کہ وہ قربانی کرے توغ بھی اس کے پاس اتنی رقم بچ جائے کے آنے والے سال تک ضروریات پوری کر سکے، مگر اس کا قرض اس کی موجودہ رقم سے کہیں زیادہ ہے، جو وہ ابھی ادا نہیں کرسکتا، تو کیا ایسا شخص قربانی کر سکتا ہے یا اس پر قربانی واجب ہو گی یا نہیں ؟

جواب
قربانی ہر اس مسلمان عاقل بالغ مقیم پر واجب ہوتی ہے جس کی ملک میں عید الاضحیٰ کے ایام میں ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی قیمت کا مال یا سامان اس کی حاجاتِ اصلیہ اور استعمال اور قرض سے زائد موجود ہو۔ یہ مال خواہ سونا چاندی یا اس کے زیورات ہوں یا مالِ تجارت یا ضرورت سے زائد گھریلو سامان یا مسکونہ مکان سے زائد کوئی مکان، پلاٹ وغیرہ۔ قربانی کے معاملے میں اس مال پر سال بھر گزرنا بھی شرط نہیں ہے۔

اگر کسی شخص کے اوپر قرض ہو اور اس کے پاس کچھ مال بھی ہو تو اگر یہ مال اتنا ہو کہ عید کے تیسرے دن تک واجب الادا قرض ادا کرنے کے بعد بھی اس کے پاس بنیادی ضرورت سے زائد، نصاب کے بقدر یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر مال بچا رہتا ہے، تو ایسے شخص پر قربانی واجب ہوگی او راگر قرض ادا کرنے کے بعد نصاب سے کم مال بچے، تو اس پر قربانی واجب نہیں ہوگی۔ البتہ مقروض شخص اگر قربانی واجب نہ ہونے کے باوجود قربانی کرلے تو اس کی قربانی ہوجائے گی، لیکن مقروض شخص کو نفلی قربانی کرنے کے بجائے دستیاب رقم سے قرض خواہوں کے قرض کی ادائیگی کرنی چاہیے، الا یہ کہ قرض خواہ از خود اسے مہلت دیں تو قربانی یا نفلی صدقے میں حرج نہیں ۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"و لو كان عليه دين بحيث لو صرف فيه نقص نصابه لاتجب."(5/ 292)

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) میں ہے:

"وشرائطها: الإسلام والإقامة واليسار الذي يتعلق به) وجوب (صدقة الفطر)

(قوله: واليسار إلخ) بأن ملك مائتي درهم أو عرضاً يساويها غير مسكنه وثياب اللبس أو متاع يحتاجه إلى أن يذبح الأضحية، ولو له عقار يستغله فقيل: تلزم لو قيمته نصاباً، وقيل: لويدخل منه قوت سنة تلزم، وقيل: قوت شهر، فمتى فضل نصاب تلزمه. ولو العقار وقفاً، فإن وجب له في أيامها نصاب تلزم." (٦ / ٣١٢ )

فقط واللہ اعلم

فتویٰ نمبر : 144212200526

ماخذ: دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
#قربانی
#قرض

#عیدالاضحی

#فتاویٰ
#دارالافتاء












14/05/2026

*والد کانابالغ بچوں کے مال میں تصرف کرنے کا حکم*
سوال
میں اپنی جائیداد کا کچھ حصہ اپنے بچوں کے نام پرکر رہا ہوں ،ابھی میرے بچے نا بالغ ہیں تو جو حصہ میں ان کے نام پرکر لوں، کیا میں اس کو ان کے فائدے کے لیے استعمال کر سکتا ہوں تاکہ بچوں کو اور فائدہ ہو جائے؟



جواب
صورت مسئولہ میں اگر سائل اپنی جائیداداپنے نابالغ بچوں کو ہبہ کرنا چاہتاہے تو یہ جائزہے ،بطور ہبہ کے ان کےنام کرنے سے وہ مالک بن جائیں گے ،اوروالدکے لیےبچوں کے مفاد میں اس جائیداد کو استعمال کرنا جائز ہوگا ۔

البتہ زندگی میں اپنی اولاد کے درمیان جائیدادکی تقسیم میں شرعاً برابری کرنا ضروری ہے یعنی جتناحصہ بیٹے کو دیں اتناہی بیٹی کو بھی دیاجائے ،بلا کسی شرعی وجہ کے کمی بیشی کرنے سے والد گناہ گار ہوگا۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"باع الأب ضيعة أو عقارا لابنه الصغير بمثل قيمته فإن كان الأب محمودا أو مستورا عند الناس يجوز وإن كان مفسدا لا يجوز وهو الصحيح."

(الباب الرابع عشر في المرابحة والتولية والوضيعة ج:3 ص173 ط:مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ )

تنویرالابصارمع الدرالمختار میں ہے:

"(والولاية في مال الصغير) (إلى الأب ثم وصيه ثم وصي وصيه) إذ الوصي يملك الإيصاء."

(کتاب الوکالۃ ج:5 ص:528-529 ط:ايچ ايم سعید )

فتاوی شامی میں ہے :

"قال في جامع الفصولين في 27 ولهم الولاية في الإجارة في النفس والمال والمنقول والعقار، فلو كان عقدهم بمثل القيمة أو يسير الغبن صح لا بفاحشه."

(کتاب الوکالۃ ج:5 ص:529 ط:ايچ ايم سعید )
فقط واللہ اعلم

فتویٰ نمبر : 144708101157

ماخذ: دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

13/05/2026

*پیسے دے کر بچہ گود لینے کا حکم*
سوال
میری شادی کو تقریباً 11 سال ہوگئے ہیں، اولاد کی نعمت مجھے میسر نہیں ہے، اس سلسلے میں ایک فیملی سے بات چیت ہوئی ہے ، انہوں نے مجھے اپنی ہونے والی اولاد مبلغ دو لاکھ روپے کے بدلے دینے کی رضامندی ظاہر کی ہے، کیا میں ان سے پیسے دے کر بچہ گود لے سکتا ہوں؟ شریعت کے اس بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب
صورتِ مسئولہ میں سائل کے لیے پیسے دے کر بچہ گود لینا جائز نہیں، شریعت میں کسی آزاد انسان کی خرید و فروخت ناجائز و حرام ہے،البتہ اپنی خوشی سے ہونے والی اولاد کی ولادت کا خرچہ اگر آپ برداشت کرلیں تو کرسکتے ہیں اور بچہ گود لینے کی صورت میں ولدیت میں حقیقی والد کا نام لکھنا ضروری ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(بطل بيع ما ليس بمال) ... (والحر والبيع به) أي جعله ثمنا بإدخال الباء عليه؛ لأن ركن البيع مبادلة المال بالمال ولم يوجد."

(كتاب البيوع، باب البيع الفاسد، 5/ 52، ط: سعيد)
فقط واللہ اعلم

فتویٰ نمبر : 144706101411

ماخذ: دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



#فتویٰ
#دارالافتاء
#اولاد













12/05/2026

*کھارا پانی میٹھا کرکے بیچنا اور یہ نہ بتانا کہ یہ بورنگ کا پانی ہے*
سوال
کیافرماتے ہیں مفتیان دین متین کہ بعض حضرات کھارے/کڑوے پانی کو کیمیکل سے میٹھا بناتے ہیں، بعدازاں کیمیکل سے بنائے گئے میٹھے پانی کو فروخت کرتے ہیں، سوال یہ ہے کہ اس پانی کو فروخت کرتے وقت یہ صراحت ضروری ہے کہ یہ حقیقت میں کھاراپانی تھا، کیمیکل سے میٹھا بنایا گیا ہے؟ یا اس وضاحت کے بغیر مطلق میٹھا اور صاف پانی کے عنوان سے فروخت کیاجاسکتا ہے؟

جواب
عمومًا پانی کو فروخت کرنے والے کیمیکل کا استعمال کرکے ہی لوگوں کو پانی فروخت کرتے ہیں،باقی اگر لوگوں کو اشتباہ ہو کہ کھارے پانی کو میٹھا کرکے بیچا جارہا ہے یا میٹھے پانی میں ہی منرلز ملاکر فروخت کیا جارہا ہے،اور ایک میں رغبت ہو اور دسرے کو ناپسند کرتے ہوں تو پھر بتاکر بیچنا چاہیے،ورنہ دھوکے کا اندیشہ ہے،لیکن اگر لوگوں کوپہلے سے معلوم ہے کہ فلاں شخص بورنگ کا کھارا پانی میٹھا کرکے بیچتا ہے وغیرہ تو پھر لوگوں کی معلومات پراکتفاء کرتے ہوئے نہ بتانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
فقط واللہ اعلم

فتویٰ نمبر : 144510101454

ماخذ: دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن





ٰ
#دارالافتاء
















10/05/2026

*قربانی کے گوشت کی تقسیم کا طریقہ*
سوال
قربانی کے گوشت کی تقسیم کا طریقہ کیاہے؟ کیاسات حصے کرنے چاہییں اور ہر شریک اپنے متعین حصے کو تین حصوں میں تقسیم کرے؟

جواب
اگر بڑے جانور میں کئی حضرات شریک ہوں تو ایسی اجتماعی قربانی کے جانور کا گوشت شرکاء کے درمیان تقسیم کرنا شرعاً لازم نہیں ہے، البتہ اگر تقسیم کرنا ہو تو وزن کر کے برابری کے ساتھ تقسیم کرنا لازم ہے، اندازے سے تقسیم کرنا جائز نہیں ہے، چاہے شرکاء کمی زیادتی پر راضی ہی کیوں نہ ہوں، البتہ اگر گوشت کی تقسیم کے وقت قربانی کے جانور کے دیگر اعضاء مثلاً کلہ، پائے، وغیرہ کو بھی گوشت کے ساتھ رکھ کر تقسیم کرلیا جائے تو پھر تول کر تقسیم کرنا لازم نہیں ہوگا، بلکہ اندازے سے کمی بیشی کے ساتھ تقسیم کرنا بھی جائز ہوگا۔

گوشت کی تقسیم کا سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ اس میں سے ایک حصہ غرباء میں دےدے اور ایک حصہ رشتہ داروں میں دےدے اور ایک حصہ خود رکھے۔

لہذا گھر کے افراد مل کر اجتماعی قربانی کرتے ہیں اور گوشت تقسیم کیے بغیر گھر میں اکٹھا رکھ دیتے ہیں تو وہ اجتماعی طور پر باہمی رضامندی سے اس مستحب عمل کو ادا کرسکتے ہیں، اس طور پر وہ اجتماعی طور پر جانور کے گوشت کو تین حصوں میں تقسیم کردیں ایک فقراء کے لیے ، ایک رشتہ داروں کے لیے، اور ایک اپنے لیے، ورنہ بصورتِ دیگر ہر شریک اپنے حصے میں سے یہ تین حصے کرلے تو اس کے لیے یہ بہتر صورت ہوگی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 317):

"ويقسم اللحم وزناً لا جزافاً إلا إذا ضم معه الأكارع أو الجلد) صرفاً للجنس لخلاف جنسه.

(قوله: ويقسم اللحم) انظر هل هذه القسمة متعينة أو لا، حتى لو اشترى لنفسه ولزوجته وأولاده الكبار بدنة ولم يقسموها تجزيهم أو لا، والظاهر أنها لاتشترط؛ لأن المقصود منها الإراقة وقد حصلت".فقط واللہ اعلم

فتویٰ نمبر : 144012200124

ماخذ: دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
#قربانی




#دارالافتاء

#عیدالاضحی











Address

Farid Town
Sahiwal
57000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Deni Masail aur Ahkam-e-Shari posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Deni Masail aur Ahkam-e-Shari:

Share