10/01/2026
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : أَقْبَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ خَمْسٌ إِذَا ابْتُلِيتُمْ بِهِنَّ ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ تُدْرِكُوهُنَّ : لَمْ تَظْهَرِ الْفَاحِشَةُ فِي قَوْمٍ قَطُّ ، حَتَّى يُعْلِنُوا بِهَا ، إِلَّا فَشَا فِيهِمُ الطَّاعُونُ ، وَالْأَوْجَاعُ الَّتِي لَمْ تَكُنْ مَضَتْ فِي أَسْلَافِهِمُ الَّذِينَ مَضَوْا ، وَلَمْ يَنْقُصُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ ، إِلَّا أُخِذُوا بِالسِّنِينَ ، وَشِدَّةِ الْمَئُونَةِ ، وَجَوْرِ السُّلْطَانِ عَلَيْهِمْ ، وَلَمْ يَمْنَعُوا زَكَاةَ أَمْوَالِهِمْ ، إِلَّا مُنِعُوا الْقَطْرَ مِنَ السَّمَاءِ ، وَلَوْلَا الْبَهَائِمُ لَمْ يُمْطَرُوا ، وَلَمْ يَنْقُضُوا عَهْدَ اللَّهِ ، وَعَهْدَ رَسُولِهِ ، إِلَّا سَلَّطَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ ، فَأَخَذُوا بَعْضَ مَا فِي أَيْدِيهِمْ ، وَمَا لَمْ تَحْكُمْ أَئِمَّتُهُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ ، وَيَتَخَيَّرُوا مِمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ، إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا :’’ اے مہاجروں کی جماعت ! پانچ چیزیں ایسی ہیں کہ جب تم ان میں مبتلا ہو گئے ( تو ان کی سزا ضرور ملے گی ) اور میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ وہ ( بری چیزیں ) تم تک پہنچیں :
جب بھی کسی قوم میں بے حیائی ( بد کاری وغیرہ ) علانیہ ہونے لگتی ہے تو ان میں طاعون اور ایسی بیماریاں پھیل جاتی ہیں جو ان کے گزرے ہوئے بزرگوں میں نہیں ہوتی تھیں ۔
جب بھی وہ ناپ تول میں کمی کرتے ہیں ، ان کو قحط سالی ، روزگار کی تنگی اور بادشاہ کے ظلم کے ذریعے سے سزا دی جاتی ہے جب وہ اپنے مالوں کی زکاۃ دینا بند کرتے ہیں تو ان سے آسمان کی بارش روک لی جاتی ہے ۔ اگر جانور نہ ہوں تو انہیں کبھی بارش نہ ملے ۔
جب وہ اللہ اور اس کے رسول کا عہد توڑتے ہیں تو ان پر دوسری قوموں میں سے دشمن مسلط کر دیے جاتے ہیں ، وہ ان سے وہ کچھ چھین لیتے ہیں جو ان کے ہاتھ میں ہوتا ہے ۔
جب بھی ان کے امام ( سردار اور لیڈر ) اللہ کے قانون کے مطابق فیصلے نہیں کرتے اور جو اللہ نے اتارا ہے اسے اختیار نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ ان میں آپس کی لڑائی ڈال دیتا ہے
Sunan Ibn e Majah #4019
فتنوں سے متعلق احکام و مسائل
Status: صحیح