22/08/2026
تین عظیم صحابہؓ کو جنت کی بشارت | حضرت عثمانؓ کے لیے آزمائش کی خبر | صحیح بخاری 7097
حدیث کا مکمل واقعہ
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ مدینہ منورہ کے باغات میں سے ایک باغ میں اپنی کسی ضرورت کے لیے تشریف لے گئے۔ حضرت انسؓ بھی آپ ﷺ کے پیچھے چل پڑے۔ جب رسول اللہ ﷺ باغ میں داخل ہوئے تو حضرت انسؓ دروازے پر بیٹھ گئے اور اپنے دل میں سوچا کہ آج میں رسول اللہ ﷺ کا دربان بنوں گا، حالانکہ آپ ﷺ نے انہیں ایسا کرنے کا حکم نہیں دیا تھا۔
رسول اللہ ﷺ باغ کے اندر تشریف لے گئے اور اپنی حاجت پوری کی۔ پھر آپ ﷺ ایک کنویں کی منڈیر پر بیٹھ گئے اور اپنی دونوں پنڈلیاں کھول کر انہیں کنویں میں لٹکا لیا۔
اسی دوران حضرت ابوبکر صدیقؓ تشریف لائے اور اندر آنے کی اجازت طلب کی۔ حضرت انسؓ نے فرمایا کہ آپ یہیں انتظار کریں، میں رسول اللہ ﷺ سے اجازت لے کر آتا ہوں۔ حضرت انسؓ نے اندر جا کر عرض کیا:
یا رسول اللہ ﷺ! ابوبکرؓ آپ کے پاس آنے کی اجازت چاہتے ہیں۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
انہیں اجازت دے دو اور انہیں جنت کی بشارت سنا دو۔
حضرت ابوبکرؓ اندر تشریف لائے اور رسول اللہ ﷺ کی دائیں جانب کنویں کی منڈیر پر بیٹھ گئے۔ انہوں نے بھی اپنی پنڈلیاں کھول کر کنویں میں لٹکا دیں۔
پھر حضرت عمر فاروقؓ تشریف لائے۔ حضرت انسؓ نے انہیں بھی انتظار کرنے کو کہا اور رسول اللہ ﷺ سے اجازت طلب کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
انہیں اجازت دے دو اور انہیں جنت کی بشارت سنا دو۔
حضرت عمرؓ اندر آئے اور رسول اللہ ﷺ کی بائیں جانب بیٹھ گئے۔ انہوں نے بھی اپنی پنڈلیاں کنویں میں لٹکا دیں۔
اب کنویں کی منڈیر پر جگہ بھر گئی تھی۔
پھر حضرت عثمان غنیؓ تشریف لائے۔ حضرت انسؓ نے ان سے بھی انتظار کرنے کو کہا اور رسول اللہ ﷺ سے اجازت طلب کی۔ اس مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
انہیں اجازت دے دو اور انہیں جنت کی بشارت سنا دو، اور ساتھ ہی انہیں ایک ایسی آزمائش کی خبر بھی دو جو انہیں پہنچے گی۔
حضرت عثمانؓ اندر تشریف لائے۔ چونکہ کنویں کی منڈیر پر رسول اللہ ﷺ، حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے ساتھ بیٹھنے کی جگہ نہیں تھی، اس لیے حضرت عثمانؓ ان کے سامنے کنویں کے دوسرے کنارے پر بیٹھ گئے اور اپنی پنڈلیاں کنویں میں لٹکا دیں۔
حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ پھر میرے دل میں اپنے ایک بھائی کے آنے کی خواہش پیدا ہوئی اور میں دعا کرنے لگا کہ کاش وہ بھی آ جائے۔
حدیث میں ایک بڑی بشارت
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ تینوں کو جنت کی بشارت دی۔
حضرت عثمانؓ کے بارے میں جنت کی بشارت کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ ان پر ایک آزمائش آئے گی۔
یہ بات بعد کے حالات کے اعتبار سے نہایت اہم معلوم ہوتی ہے، کیونکہ حضرت عثمانؓ کی خلافت کے آخری دور میں ایک بڑی آزمائش پیش آئی۔
ابن المسیبؒ کی تعبیر
روایت کے آخر میں سعید بن المسیبؒ نے اس واقعے کی ایک تعبیر بیان کی کہ کنویں کے اندر ان حضرات کی پنڈلیاں لٹکانے کی کیفیت ان کی قبروں کی طرف اشارہ کرتی معلوم ہوتی ہے۔
یعنی رسول اللہ ﷺ، حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کی قبریں ایک جگہ ہیں، جبکہ حضرت عثمانؓ کی قبر بقیع غرقد میں الگ ہے۔
حوالہ: صحیح البخاری، حدیث 7097
مختصر سبق:
یہ حدیث حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ کی عظیم فضیلت اور ان کے لیے جنت کی بشارت کو واضح کرتی ہے، جبکہ حضرت عثمانؓ کے بارے میں آنے والی آزمائش کا بھی پیشگی ذکر موجود ہے۔
#حدیث