21/01/2021
لگی ہے اُلفت کی آگ ایسی سکونِ قلب و جگر نہیں ہے
تیرے تصور میں جی رہا ہوں مجھے کسی کی خبر نہیں ہے
نماز کیسی کہاں کا سجدہ مجھے تو اپنی خبر نہیں ہے
اُسی کے جلوؤں میں کھو گیا ہوں خیال شام و سحر نہیں ہے
وہ بیخودی چھا گئی ہے مجھ پر اُٹھائے جس نے خودی کے پردے
نظر میں ہے بس جمال تیرا اب ماسوا کی خبر نہیں ہے
ملی ہے جب سے شرابِ عرفاں نہ خیالِ دنیا نہ خیالِ عُقبا
نظر سے ایسی پلائی تو نے کہ اپنی مجھکو خبر نہیں ہے
ہزاروں منزل پے رہ گئے ہیں تم اپنا دامن بچا کے چلنا
قدم کو رکھنا سنمبھل کے ماجد یہ عشق راہِ گزر نہیں ہے
ابوالطاہر پیر سید حسن رضا شاہ مستانوی شکوری جہانگیری چشتی قادری