25/02/2016
شرعی احکامات کا مذاق نہ اڑائیں-
ھم ' نکاح (شادی) کرنے کے لئے تو ہر ایک سے مشورہ لینا بہت ضروری سمجھتے ہیں ، مگر طلاق دینے کے لئے کوئ کسی سے مشورہ نہیں لیتا،حالانکہ طلاق کے مسائل، پیچیدگیاں اور معاشرتی مشکلات نکاح کی نسبت بہت زیادہ ہیں، زیادہ افسوسناک امر یہ ہے کہ اسٹامپ فروش اور کم فہم مولوی صاحبان فی الفور تین طلاقیں دلا دیتے ہیں اور خاوند بیوی کے مابین تین طلاقوں کے بعد کی پشیمانی ' کے فورا بعد صلح صفائی کروا کر اور ' نئے نکاح یا بلا نکاح کے ہی انہیں بطور خاوند بیوی کے رھنے کا سرٹیفیکیٹ بھی ' جاری کر دیتے ہیں' یاد رکھیئے.تین طلاقیں دینے کے بعد یہ جوڑا شرع شریف کے مطابق ہمیشہ ہمیشہ کے لئے، ساری زندگی تک ' ایک دوسرے کےلئے حرام ھو گیا ، شریعت میں عارضی نکاح یا عارضی طلاق نام کی کوئ چیز نہیں ھے- مطلقہ عورت کسی اور مرد سے جب مرضی چاھے، دوسرا نکاح کر سکتی ہے اور اگر اس خاتون کا ' یہ دوسرا خاوند بھی ، خلوت صحیحہ کے بعد اگر اپنی آزادانہ مرضی سے تین طلاق دے دے یا خلوت صحیحہ کے بعد فوت ھو جائے اور وہ خاتون ،عدت گزارنے کے بعد ، اپنی آزاد مرضی سے نیا نکاح اگر' کرنا چاہے ' خواہ اسی پہلے خاوند سے یا کسی اور سے ' تو کر سکتی ھے ،اللہ کا خوف کیجیئے، شریعت کے حلال کو حرام اور حرام کو حلال کرنے کا اختیار اپنے ہاتھ میں مت لیجئے،
خلوت صحیحہ یہ ہےکہ دونوں میاں بیوی کو اتنی آزادانہ تنہائ میسر ہو کہ وہ فرائض زوجیت ادا کر سکتے ہوں..