Way Of Success

Way Of Success The objective of this page is to educate the nation on the basis of Islamic Ideology. We will try to develop the atmosphere of Hope and unity among the nation.

05/02/2021
نماز کی اہمیت اور فضیلت احادیث کی روشنی میں۔ سنیئے میری اس ویڈیو میں۔
07/06/2020

نماز کی اہمیت اور فضیلت احادیث کی روشنی میں۔ سنیئے میری اس ویڈیو میں۔

Namaz ki Fazilat or Ahmiyat Hadees ki Roshni Mein. Nemaz Deen ka Satoon. Namaz ke faide in urdu short bayan. ...

11/09/2019

Summary of Surah Ma'aarij

People are asking about the infliction of the final hour. When and upon whom will it happen? It's duration, etc. Quran replied that it's anguish will fall on the disbelievers by Almighty Allah. It will be for one day, but the length of the day will be equal to the duration of fifty thousand years. They think that there is much time before Qiyamah. You should wait, the time has come near. From verse number 8 to 16 the outlook of the dangers of that day is given. The sky will be melted and the mountains will turn into wool. That day their will be no friend to help you, not even your brother,father, wife, son etc. Fire will burn those who denied the truth, gathered the wealth and didn't help the poor. Afterwards, the attributes of the believers are explained. Prayers have been emphasized the most. Moreover, they fulfill their promises, are upright in their testimonies, save themselves from adultery and believe in the day of judgement. They will live in paradise. This believers will never enter Paradise. They cannot escape punishment, and will be ashamed on the day of judgement.

01/08/2019

حاصل مطالعہ

علامہ سید سلیمان ندوی لکھتے ہیں:
’’ مسلمانوں کی ترقی اورتنزلی، دونوں کا ایک ہی سبب ہے اوروہ ہے ان کا فوری اور وقتی جوش۔ وہ سیلاب کی مانند پہاڑ کو اپنی جگہ سے ہلا سکتے ہیں، لیکن کوہ کن کی طرح ایک ایک پتھر کو جدا کرکے راستہ صاف نہیں کرسکتے۔ وہ بجلی کے مثل ایک آن میں خرمن کو جلا سکتے ہیں، لیکن چیونٹی کی طرح ایک ایک دانہ نہیں ڈھو سکتے۔ وہ ایک مسجد کی مدافعت میں اپنا خون پانی کی طرح بہاسکتے ہیں، لیکن کسی منہدم مسجد کو دوبارہ بنانے کے لئے مستقل کوشش جاری نہیں رکھ سکتے۔ یہ ان سے ممکن تھا کہ محمد علی اورابوالکلام کے دائیں بائیں گرکر جان دیدیں۔ لیکن ا ن کے بس کی بات نہیں کہ مسلسل آئینی جدوجہد سے ان اسیران اسلام کو جیل سے چھڑا لائیں۔ ‘‘
’’ ہماری ناکامی کا اصل سبب یہ ہے کہ ہم آندھی کی طرح آتے ہیں، اوربجلی کی طرح گذرجاتے ہیں۔ ہم کو دریا کے اس پانی کی مانند ہونا چاہئے جو آہستہ، آہستہ بڑھتا ہے اور سالہاسال میں کناروں کو کاٹ کر اپنا دہانہ وسیع کرتا جاتا ہے۔ کامیابی صرف مسلسل اور پائدار کوشش میں ہے۔ ہمالیہ کی برفانی چوٹیاں آہستہ آہستہ پگھلتی ہیں، لیکن کبھی جمنا اورگنگا کو خشک ہونے نہیں دیتیں۔ آسمان کا پانی ایک دو گھنٹے میں دشت وجبل کو جل تھل بنا دیتا ہے لیکن چند ہی روزمیں ہرطرف خاک اڑنے لگتی ہے۔‘‘
(شذرات معارف :اکتوبر 1917)

Wish you a very happy and peaceful Eid. May Allah accept our good deeds,forgive our transgressions and ease the sufferin...
05/06/2019

Wish you a very happy and peaceful Eid.
May Allah accept our good deeds,forgive our transgressions and ease the suffering of all people around the Globe. May the auspicious occasion of Eid, bless you with peace and bring joy to your heart and home.
Eid Mubarak!

02/05/2019

Never loose hope in the mercy of Allah Almighty.

28/02/2019

سوال: قرعہ اندازی کے ذریعے انعامات کی تقسیم کی کیا شرعی حیثیت ہے ، جبکہ اس کی پرچیاں پیسوں کے عوض حاصل کی گئ ہوں ؟

جواب : مندرجہ بالا صورت جواء ہے اور اگر قرعہ اندازی مفت ہو تو یہ توہم پرستی ہے ۔ دونوں صورتوں میں ناجائز اور حرام ہے ۔

تفصیل:
اللہ تعالیٰ کا قرآنِ مجید میں ارشاد ہے۔
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّمَا الۡخَمۡرُ وَ الۡمَیۡسِرُ وَ الۡاَنۡصَابُ وَ الۡاَزۡلَامُ رِجۡسٌ مِّنۡ عَمَلِ الشَّیۡطٰنِ فَاجۡتَنِبُوۡہُ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ﴿۹۰﴾
ترجمہ : "اے ایمان والو! بات یہی ہے کہ شراب اور جوا اور تھان اور فال نکالنے کے پانسے کے تیر یہ سب گندی باتیں ، شیطانی کام ہیں ان سے بالکل الگ رہو تاکہ تم فلاح یاب ہو"
(سورة المائدہ ، آیت نمبر 90)

فلاح یاب ہونے کے لیے جوئے سے بچنا ضروری ہے، یعنی جنت حاصل کرنے کے لیئے ۔ اب جنت حاصل کرنے کے لئے کس چیز سے بچنا ضروری ہوتا ہے؟ ظاہر ہے حرام سے۔ دوسرا کہ یہ شیطانی کام ہے ۔ مندرجہ بالا آیت سے یے واضح ہے کہ جوا حرام ہے۔ یہ صرف میری کی گئ تشریح نہیں بلکہ آپؐ نے بھی آیت کی تشریح کرتے وقت جوئے کو حرام قرار دیا۔
حوالہ جات:
مسند احمد، حدیث نمبر 6770
مسند احمد، حدیث نمبر 7514
مسند احمد، حدیث نمبر 7551
سلسلہ الصحیحہ، حدیث نمبر 911

جواء تو حرام ہو گیا اب جوا ہوتا کیا ہے ؟ آپ سب جانتے ہوں گے کہ پیسے لگا کر تاش کھیلنا جوا اور حرام ہے ۔ لیکن کبھی سوچا کہ ایسا کیوں ہے ؟ اسلام کو اس پر کیا اعتراض ہے ؟ کیا اسلام کو اس میں استعمال ہونے والے کارڈ کی بناوٹ پر اعتراض ہے کہ یے گتّے کا کیوں ہے ؟ پھر تو گتّا حرام ہونا چاہئے تھا تاش نہیں۔ کیا اسلام کو کارڈ کی شکل وصورت پر اعتراض ہے ؟ پھر تو ریکٹ اینگل (rectangle shape ) حرام ہونی چاہیے تھی تاش نہیں ۔ آخر اسلام کو کیا اعتراض ہے۔ اسلام کا اعتراض مادی نہیں بلکہ اس کا اعتراض اصولی ہے ۔

اب وہ اصول کون سے ہیں، اس کی تفصیل نبیؐ کے زمانے سے ایک مثال پیش کرنے کے بعد بیان کروں گا ۔جاہلیت کے زمانے میں ایک طریقہ یہ تھا کہ ایک مشترک اونٹ ذبح کر کے اس کا گوشت قرعہ اندازی کے ذریعے تقسیم کرتے تھے اور قرعہ اندازی کا طریقہ یہ ہوتا تھا کہ مختلف تیروں پر حصوں کے نام لکھ کر ایک تھیلے میں ڈال دیتے تھے، پھر جس شخص کے نام جو حصہ نکل آیا، اسے گوشت میں سے اتنا حصہ دے دیا جاتا تھا، اور کسی کے نام پر کوئی ایسا تیر نکل آیا جس پر کوئی حصہ مقرر نہیں ہے تو اس کو کچھ بھی نہیں ملتا تھا۔ اس ان تمام طریقوں کو آیت کریمہ نے ناجائز قرار دیا ہے.
حوالہ: تفسیر تقی عثمانی، سورة المائدہ، شرح نمبر 6 .

جوئے کی تعریف :
قرآن ، حدیث ، تفسیر ، فقہ ، سیرت اور تاریخِ اسلامی کے وسیع تر مطالعے کے بعد جوئے کی جو تعریف سامنے آتی ہے وہ یہ ہے :
" اگر مال کی تقسیم ، اس میں اضافے یا کمی کا معیار حقوق و خدمات اور اصولوں پر رکھنے کے بجائے محض کسی اتفاقی شے پر رکھ دیا جائے تو یہ جوا ہے "
حوالہ جات :
تفسیر ابنِ کثیر ، سورة المائدہ ، آیت نمبر 3
تفسیر احسن البیان ، سورة المائدہ ، آیت نمبر 3
تفسیر تفہیم القرآن ، سورة المائدہ ، حاشیہ نمبر 14، 109
تفسیر تقی عثمانی ، سورة المائدہ ، حاشیہ نمبر 6

اب آتے ہیں سوال میں درج صورت کی جانب۔ مال کی تقسیم قرعہ اندازی کی بنیاد پر ہورہی ہے جو اتفاقی امر ہے ۔ یہ جوا ہے جو کہ ناجائز اور حرام ہے ۔ جو بھائی ایسے معاملے میں ملوث ہیں انہیں توبہ کرنے ، انعامی پرچی کو ناکارہ کرنے اور اتنی ہی رقم صدقہ کرنے کی تلقین کی جاتی ہے ۔
حوالہ جات :
صحیح بخاری ، حدیث نمبر 4860، 6107، 6301، 6650.
صحیح مسلم ، حدیث نمبر 4260، 4261.
مسند احمد ، حدیث نمبر 5302، 7887.

(طالبِ دعا : سرمد جاوید )

23/01/2019

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ "إِنَّ الْمُؤْمِنَ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا، ‏‏‏‏‏‏وَشَبَّكَ أَصَابِعَهُ"
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مومن دوسرے مومن کے لیے عمارت کی طرح ہے کہ اس کا ایک حصہ دوسرے حصہ کو قوت پہنچاتا ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کیا۔
Sahih Bukhari # 481

19/01/2019

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏" أَنَا زَعِيمٌ بِبَيْتٍ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ لِمَنْ تَرَكَ الْمِرَاءَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ كَانَ مُحِقًّا، ‏‏‏‏‏‏وَبِبَيْتٍ فِي وَسَطِ الْجَنَّةِ لِمَنْ تَرَكَ الْكَذِبَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ كَانَ مَازِحًا، ‏‏‏‏‏‏وَبِبَيْتٍ فِي أَعْلَى الْجَنَّةِ لِمَنْ حَسَّنَ خُلُقَه"ُ.
ترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میں اس شخص کے لیے جنت کے اندر ایک گھر کا ضامن ہوں جو لڑائی جھگڑا ترک کر دے، اگرچہ وہ حق پر ہو، اور جنت کے بیچوں بیچ ایک گھر کا اس شخص کے لیے جو جھوٹ بولنا چھوڑ دے اگرچہ وہ ہنسی مذاق ہی میں ہو، اور جنت کی بلندی میں ایک گھر کا اس شخص کے لیے جو خوش خلق ہو۔"
Sunnan Abu Dawood # 4800

Address

Rawalpindi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Way Of Success posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share