جَامِعَہ سَیِّدَہ اُمِّ حَبِیبَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہَا لِلِبَنَات

  • Home
  • Pakistan
  • Rawalpindi
  • جَامِعَہ سَیِّدَہ اُمِّ حَبِیبَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہَا لِلِبَنَات

جَامِعَہ سَیِّدَہ اُمِّ حَبِیبَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہَا لِلِبَنَات دینی، اصلاحی، اور ادارتی معلوماتی پیج۔۔

21/03/2020

اقصی سے اسراء تک !!!!!

اعلان حق کے بعد نبوت صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر تکالیف کے پہاڑ ٹوٹ پڑے تھے، حد تو اس وقت ہوئی، جب ابی طالب کی گھاٹی میں معاشی بائیکاٹ ہوا تھا: جو برسوں پر محیط ہو گیا تھا۔ حامیان اسلام پر یہ نوبت بھی آئ کہ بھوک سے نڈھال وجود اپنی توانائی کو برقرار رکھنے کے لئے درختوں کے پتے چباتے رہے، پھر قدرت مہربان ہوئ! حالات نے پلٹا کھایا۔
کلمہ حق کی پاداش میں لگاۓ جانے والے زخموں پر مر ہم کا سامان کیا جانے لگا۔ بعثت کا گیارہواں سال تھا۔ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چچازاد بہن ام ہانی کے گھر میں آرام فرما رہے تھے کہ روح الامین دربار اقدس میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ساتھ مسجد حرام میں لے آئے۔ بعض روایات میں یہ مذکور ہے کہ حطیم میں آرام فرمایا جا رہا تھا کہ ہادی حق کی آمد ہوئی۔ کوئی 27 رجب کی سہانی رات تھی۔ آسمان دنیا پر استقبال کی تیاریاں تھیں۔ ملااعلی کے ملائک اس رحمت کی تشریف آوری پر خوشی سے جھوم رہے تھے۔
ابتدا کچھ اس طرح ہوئ کہ حضرت جبریل علیہ السلام نے سینہ اقدس کو شق کیا اور قلب اطہر کو زمزم سے دھو کر علم وحکمت سے بھر دیا۔ اور پھر کسی صحیفے کی طرح بدن اطہر میں اسی جگہ واپس رکھ دیا گیا۔
پھر مبارک سفر کی تیاری شروع ہوئ۔ اتنا لمبا سفر! جانا کیسے ہوگا؟ حضرت جبریل کسی خادم کی طرح بارگاہ اقدس میں سر جھکاے حاضر تھے۔ فرمایا! اللہ پاک نے براق بھیجی ہے۔ جو روشنی کے ساتھ سفر کرے گی۔ تاحد نگاہ اس کی پہنچ ہو گی۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر تشریف فرما ہوۓ ۔ سفر شروع ہوا۔
تین مقامات پر نماز ادا فرمائ گئی۔ سب سے پہلے دار الھجرت مدینہ طیبہ میں، پھر طور سیناء میں، جہاں اللہ پاک اور اس کا کلیم ہم کلام ہوۓ تھے۔ تیسری مرتبہ ولادت عیسی کے مقام پر ادائیگی نماز ہوئ۔
راستے میں عجائب قدرت دکھائے گئے۔ فرعون کی باندی اور اس کی بیٹیوں کے دفن کے مقام سے اٹھتی خوشبوئیں محسوس کروائ گئیں اور پھر مقدس شہر میں اتارا گیا، جہاں مسجد اقصی موجود ہے۔
جب سواری اتری تو تمام انبیاء کرام استقبال کے لئے موجود تھے۔ اب سوال یہ تھا؟ کہ امامت کون کرواے۔ جبریل امین آگے بڑھے۔ امامت کے حقدار صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک تھاما اور آگے کھڑا کر دیا۔
بیت المقدس کے معاملات سے فارغ ہونے کے بعد آسمان دنیا کی طرف سفر شروع ہوا۔ بالترتیب حضرت آدم، حضرت نوح حضرت عیسی، حضرت یوسف، حضرت ادریس، حضرت ہارون، حضرت موسی اور ساتویں آسمان پر حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام سے ملاقاتیں ہوئیں۔
پھر
تاجدار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے۔ سدرۃ المنتھی کے پاس پہنچے۔ یہ ساتویں آسمان پر ایک بیری کا درخت ہے جس کی جڑ چھٹے آسمان میں ہے اور شاخیں ساتویں آسمان سے اوپر ہیں۔ اس کی شاخیں سونے کی ہیں اور پھل زمرد کے ہیں۔
اور اس کے اوپر فرشتوں کی کثیر تعداد سونے کے ٹڈوں کی طرح براجمان تھیں۔
جب پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم سدرۃ المنتہی سے آگے بڑھے حضرت جبریل نے معذرت کر لی۔ اللہ پاک نے ہیبت کی تجلی ڈالی تو حضرت جبریل پرانے بوریے کی طرح ہو گۓ۔
اب آگے سفر سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے شایان شان تھا۔ پرواز بلند سے بلند تر ہوتی گئی۔ مقام مستوی آگیا۔ پھر مستوی سے آگے عرش معلی آگیا۔
ابھی پرواز جاری تھی کہ وہ مقام آگیا، جہاں پر خود 'کہاں' اور ' کب ' بھی ختم ہو چکے تھے۔ کیونکہ یہ الفاظ جگہ اور زمانے کے لئے بولے جاتے ہیں۔ اور جہاں ہمارے حضور صلی اللہ علیہ وسلم رونق افروز ہوئے۔ وہاں جگہ تھی نہ زمانہ۔اسی وجہ سے اسے لامکاں کہا جاتا ہے۔
وہاں اللہ رب العزت نے قرب کے وہ مقام عطا فرمائے جو کسی کو نہیں ملے۔ بیداری کی حالت میں دیدار کے شرف حاصل ہوۓ۔
50سے 5 نمازوں کا تحفہ ملا۔ جس میں 5 نمازوں پر پچاس کے ثواب کے وعدے ہوۓ۔ عرش کے عظیم خزانوں میں سے سورۃ البقرہ کی آخری دو آیات عطا فرمائ گئیں۔
پھر سفر کا اگلا مرحلہ شروع ہوا جس میں جنت کے نظارے کراِے گۓ۔
ایسی ایسی نعمتوں کا مشاہدہ کرایا گیا، جو نہ کسی آنکھ نے دیکھی اور نہ کسی کان نے سنی۔نہ ہی کسی کے دل میں خیال گزرا۔ پھر جہنم کا معائنہ کرایا گیا۔ اور اس کی صورت کچھ یوں تھی۔ کہ تاجدار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم جنت میں موجود تھے اور جہنم سے پردے ہٹا دیۓ گۓ۔ جس سے آپ نے ملاحظہ فرمالیا۔
اس کے بعد واپسی کا سفر شروع ہوا۔ یہ اللہ پاک کی قدرت ہے۔ کہ رات کے ایک مختصر حصے میں اپنے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو لامکاں تک کی سیر کروا دی۔ معراج ایسا ہوا کہ نوری فرشتے بھی حیران رہ گئے۔ بشریت اپنی اصل کے ساتھ نور کو پیچھے چھوڑ گئ تھی۔
پھر عقل والوں نے اپنی عقلوں پر پرکھا اور تجزیے کرتے ہوئے عقل کے گھوڑے دوڑانے شروع کۓ اس بات سے بے خبر ہوکر۔ کہ کائنات ہستی تو رب کائنات کے لئے ہے۔ جس کے لئے چاہے بکھیر دے، جس کے لئے چاہے سمیٹ دے۔عقلیں اس کا احاطہ کہاں کر سکتی ہیں؟
واقعہ معراج کے فضائل کے پیش نظر کچھ بے اصل باتیں بھی دین کا حصہ بنا دی جاتی ہیں۔ جیسے شب معراج کی رات کی عبادت اور دن کا روزہ وغیرہ۔
یاد رہے! کہ شریعت مطہرہ میں اس کی یادگار میں کسی عبادت مخصوصہ کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ اس لئے اس سے اجتناب ضروری ہے۔
اللہ پاک نے موقع معراج پر انسانیت کو شرف عطا فرمایا تھا، بلخصوص امت محمدیہ کو۔ اس کو سامنے رکھتے ہوئے اللہ پاک کے احکامات کی فرمانبرداری اور نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو لازم پکڑا جائے، یہی راہ مستقیم ہے ہاں! یہی راہ نجات ہے۔۔۔

رائٹر: رقیہ فاروقی، راولپنڈی

21/03/2020

جاۓ پناہ تو ایک ہی ہے:
گزرے وقتوں کی بات ہے کہ افلاطون بادشاہ حضرت موسی کلیم اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا۔ آپ اللہ پاک کے کلیم ہیں، بڑی شان پائ ہے آپ نے۔ میں ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔ فرمایا! بولو۔۔۔ جواب دیا جائے گا۔ وہ کہنے لگا کہ اگر آسمان کمان ہو اور اس میں سے پریشانیاں تیر کی صورت میں برسیں۔ نشانہ لگانے والی خود حق سبحانہ وتعالی کی ذات ہو تو بندہ بچاؤ کے لئے کہاں ٹھکانہ پکڑے؟
تشبیہ اور تمثیل بیان کرنے والا اپنے آپ کو عقل کل خیال کر کے گویا ممتحن بن بیٹھا تھا۔ اپنی سوچ کے مطابق بڑا مشکل سوال بنا کر پیش کیا، لیکن سامنے تو کلیم ربانی تھے۔ جھٹ سے جواب آیا۔ کہ نشانہ لگانے والے کے پاس پناہ پکڑ لو۔
وہ رب ہی تو جو تنبیہ بھی کرتا ہے اور مہلت بھی دیتا ہے۔مشکل بھی دیتا ہے۔ پھر آسانیاں بھی پیدا کرتا ہے۔ مکی دور کی تکلیفوں سے بھی گزارتا ہے۔ پھر معراج کے سفر میں فرشتوں کے لئے قابل رشک بھی بناتا ہے۔
حضرت موسی کلیم اللہ اور افلاطون کے مکالمے کی یہ تمثیلی حکایت آج کے حالات کے پس منظر میں نگاہوں کے سامنے آگئی۔ مزید یہ کہ کرونا وائرس کا تذکرہ زبان زد عام ہے۔ ہر کوئی انجانے خوف کا شکار ہے۔ میڈیا اچھل اچھل کر سراسیمگی پھیلا رہا ہے۔ پوری دنیا لاک ڈاؤن ہو رہی ہے۔ خدا نہ کرے! کوئی انہونی تو نہیں ہونے جا رہی۔
بچاؤ کے سامان کی تفصیلات جاری کی جارہی پے، مساجد کے اجتماعات پر بھی پابندی کی خبریں ہیں۔ مدارس میں تعطیلات کے اعلان ہو چکے۔ لوگ اسباب اختیار کر رہے ہیں۔ چہروں کو ماسک سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔
کیا اتنا کافی ہے؟ کہ ہم اصل ملجا اور ماوی کو چھوڑ کر ایک اندھوں کی دوڑ میں شامل ہو گئے ہیں۔ جہاں مادیت ناچ رہی ہے۔ جیسے قوم فرعون نے پانی کے راستوں کو دیکھ کر اپنی بغاوتوں کو بھلا دیا تھا اور سرشار اتر گئے تھے۔ پھر ڈوب کر ابھرے تو نشان عبرت بن چکے تھے۔
ہمیں ڈوبنے سے پہلے سنبھل جانا ہوگا۔ کسی وقت میں رحمن اور رحیم کی تفسیر میں ایک نکتہ سنا تھا کہ رحمن میں پدری شفقت کی طرف اشارہ ہے۔ تھپڑ تو لگتے ہیں لیکن مستقبل سنور جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح کبھی رحمن جھنجھوڑنے کے لئے کرونا جیسے ننھے کیڑے کو مسلط کرتا ہے۔ جو بڑے بڑے سورماؤں کے کس بل نکال دیتا ہے۔ پھر ملکوں کے ملک دیوالیہ ہو جاتے ہیں۔
اس پس منظر میں ہمیں خاموش تماشائی نہیں بننا، بلکہ امت کی اصلاح کا بیڑا اٹھانا ہے۔ اپنی ذات سے ابتدا کیجئے!
استغفار کی کثرت کو معمول بنائیں۔
مخلوق خدا میں یقین پیدا کیجیے کہ موت کرونا وائرس کے ساتھ خاص نہیں ہے، بلکہ اس کا وقت پیدائش سے پہلے طے شدہ ہے۔ آخرت کا یقین ایمان کی بنیاد ہے۔ اس لئے اس ساری صورتحال میں اپنے رب کے پاس پناہ لی جائے، چاہے وہ عبادات کی کثرت کی صورت میں ہو یا گناہوں سے اپنے آپ کو بچانا ہو۔
یہ بات یاد رہے کہ آسمانی آفات ہوں یا زمینی تنازعات بچنے کا راستہ ایک ہی ہے۔ جو قرآن کریم میں مذکور ہے۔۔۔اللہ کی طرف دوڑ لگاؤ
تو آئیے! ہم بھی اس ٹوٹے رابطے کو بحال کرکے مضبوط پناہ گاہوں میں داخل ہو جائیں۔۔
رقیہ فاروقی، راولپنڈی

13/12/2019

کیا وقت کا دھارا بدل گیا ہے؟
ابتدائے آفرینش سے ہی دنیا میں عروج وزوال کی بے شمار داستانیں جنم لیتی رہی ہیں۔ تخت سے تختہ دار کا سفر بھی لمحوں میں کٹ جاتا ہے۔ پرانی حکومتیں اپنے بلند و بانگ دعوے اپنے دامن میں چھپا کر کسی نادیدہ قوت کے آگے زیر ہو جاتی ہیں، پھر برائیوں اور اچھائیوں کے لیے سر راہ ترازو نصب ہوتے ہیں، بولیاں لگتی ہیں۔ تعصب کی عینک لگا کر عزتیں نیلام ہوتی ہیں اور گزرے لمحات کی تلخیوں کو مٹانے کے لئے کسی نئ امید کا سہارا لیا جاتا ہے۔
جی ہاں! پھر تبدیلی کے نعرے کے ساتھ رنگ برنگی حکومت کا قیام ہوتا ہے۔ زعماء گلے پھاڑ کر عوام الناس کو یقین دلاتے ہیں کہ سب کچھ بدل جائے گا۔ ماند پڑتی روشنیوں سے آنکھیں چندھیا جائیں گی۔ گزشتہ کمیوں کے ازالے ہوں گے۔ بنیادی ضروریات زندگی ہر انسان کی دسترس میں ہوں گی۔ کوئی بھی غریب نہیں رہے گا۔ حالات کے ڈسے لوگ امید کی مشعل لۓ اقتدا کے لیے کمر باندھ لیتے ہیں۔
لیکن یہ کیا؟ کچھ بھی تو نہیں بدلتا۔ مہنگائی کسی سر پٹ دوڑنے والے گھوڑے کی طرح ہر حد پھلانگ جاتی ہے۔ دو وقت کی روٹی تک غریب کی رسائی مشکل بلکہ ناممکن ہو جاتی ہے۔ آۓ دن ہونے والے ہنگامے اس پر مستزاد ہوتے ہیں۔ ابھی حال ہی میں لاہور میں قانون کے رکھوالوں نے ہسپتال پر دھاوا بول دیا۔ پھر تبدیلی نظر آئ کہ ظلم کی بھیانک صورت متشکل ہو گئ۔
مریضوں کے مصنوعی تنفس کو اتار کر اپنے حیوانی جذبے کی تسکین کی گی۔ دو مہزب طبقات کی آپس کی ناچاقیوں نے کتنی زندگیاں نگل لی۔ کوئی بتا سکتا ہے؟ یہ تبدیلی کی کون سی قسم ہے۔ جس میں سہولیات کی فراہمی کے بجائے زندگیاں چھین لی جاتی ہیں؟بے بس مریضوں پر طبع آزمائی کر کے اپنے کو بہادر تسلیم کیا جاتا ہے۔ پولیس کسی معذور اور لاچار کی طرح خاموش تماشائی بن جاتی ہے۔ غنڈہ گردی آسان ہو جاتی ہے۔ اور نہ جانے کتنی زندگیاں دل کا علاج کرواتے ہوئے دل بند کروا بیٹھتی ہیں۔
کیا وقت میں یہی تبدیلی رونما ہونی تھی کہ مدارس کی اصلاح کی رٹ لگانے والے سیاسی گماشتے اپنے تعلیمی اداروں کے پروردہ کالے کوٹ کے سامنے بے بس ہوگۓ تھے۔ مسیحائ کے منتظر کتنی نگاہیں پتھرآ گئ تھی۔ خود سوچ لیں! کہ اس سانحہ میں جن لوگوں نے اپنے عزیزوں کے لاشے اٹھاے ہوں گے۔ ان کے جذبات کا کیسا طوفان اٹھے گا۔ پھر وقت کا دھارا کیا بدلے گا۔ خوشیاں یا غم!

رقیہ فاروقی، راولپنڈی
[email protected]

یا اللہ ہم سب کو حرمین شریفین کی بار بار حاضری نصیب فرما۔ آمین
12/11/2019

یا اللہ ہم سب کو حرمین شریفین کی بار بار حاضری نصیب فرما۔ آمین

15/10/2019

اس پوسٹ کو شیئر کریں۔ تاکہ اس کار خیر میں آپ کا حصّہ شامل ہوجائے۔۔۔۔

01/10/2019
31/08/2019

جب ہسپانیہ کے آخری مسلمان بادشاہ ابو عبداللہ کوسقوط غرناطہ کے بعد وہاں سے نکال دیا گیا تو ایک پہاڑ کی چوٹی پر رک کر وہ غرناطہ پر آخری نظر ڈالتے ہوئے رونے لگا ۰ اس وقت اس کی ماں نے اسے یہ تاریخی الفاظ کہے تھے !
"اس کے لیے عورتوں کی طرح مت رو جس کے لیے تم مردوں کی طرح لڑ نہیں سکے"
آج کشمیرکو انڈیا کا حصہ بنتے دیکھ کر دنیا بھر کے مسلمانوں کی دہائی پر مجھے ابو عبداللہ کی ماں کے الفاظ یاد آگئے۔

29/08/2019
29/08/2019

اسلام و علیکم!
جن لوگوں کی پہلی اور آخری امید صرف الله کریم کی ذات ھو ان پرمصیبت اور پریشانی اثر انداز نہیں ہوتی..

06/08/2019

اللھم انصر المجاہدین فی کشمیر وفی کل مکان۔
آمین

Address

Rawalpindi
44000

Opening Hours

Monday 08:00 - 14:00
Tuesday 08:00 - 14:00
Wednesday 08:00 - 14:00
Thursday 08:00 - 14:00
Saturday 08:00 - 14:00
Sunday 08:00 - 14:00

Telephone

+923153181986

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when جَامِعَہ سَیِّدَہ اُمِّ حَبِیبَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہَا لِلِبَنَات posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to جَامِعَہ سَیِّدَہ اُمِّ حَبِیبَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہَا لِلِبَنَات:

Share