21/03/2020
اقصی سے اسراء تک !!!!!
اعلان حق کے بعد نبوت صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر تکالیف کے پہاڑ ٹوٹ پڑے تھے، حد تو اس وقت ہوئی، جب ابی طالب کی گھاٹی میں معاشی بائیکاٹ ہوا تھا: جو برسوں پر محیط ہو گیا تھا۔ حامیان اسلام پر یہ نوبت بھی آئ کہ بھوک سے نڈھال وجود اپنی توانائی کو برقرار رکھنے کے لئے درختوں کے پتے چباتے رہے، پھر قدرت مہربان ہوئ! حالات نے پلٹا کھایا۔
کلمہ حق کی پاداش میں لگاۓ جانے والے زخموں پر مر ہم کا سامان کیا جانے لگا۔ بعثت کا گیارہواں سال تھا۔ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چچازاد بہن ام ہانی کے گھر میں آرام فرما رہے تھے کہ روح الامین دربار اقدس میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ساتھ مسجد حرام میں لے آئے۔ بعض روایات میں یہ مذکور ہے کہ حطیم میں آرام فرمایا جا رہا تھا کہ ہادی حق کی آمد ہوئی۔ کوئی 27 رجب کی سہانی رات تھی۔ آسمان دنیا پر استقبال کی تیاریاں تھیں۔ ملااعلی کے ملائک اس رحمت کی تشریف آوری پر خوشی سے جھوم رہے تھے۔
ابتدا کچھ اس طرح ہوئ کہ حضرت جبریل علیہ السلام نے سینہ اقدس کو شق کیا اور قلب اطہر کو زمزم سے دھو کر علم وحکمت سے بھر دیا۔ اور پھر کسی صحیفے کی طرح بدن اطہر میں اسی جگہ واپس رکھ دیا گیا۔
پھر مبارک سفر کی تیاری شروع ہوئ۔ اتنا لمبا سفر! جانا کیسے ہوگا؟ حضرت جبریل کسی خادم کی طرح بارگاہ اقدس میں سر جھکاے حاضر تھے۔ فرمایا! اللہ پاک نے براق بھیجی ہے۔ جو روشنی کے ساتھ سفر کرے گی۔ تاحد نگاہ اس کی پہنچ ہو گی۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر تشریف فرما ہوۓ ۔ سفر شروع ہوا۔
تین مقامات پر نماز ادا فرمائ گئی۔ سب سے پہلے دار الھجرت مدینہ طیبہ میں، پھر طور سیناء میں، جہاں اللہ پاک اور اس کا کلیم ہم کلام ہوۓ تھے۔ تیسری مرتبہ ولادت عیسی کے مقام پر ادائیگی نماز ہوئ۔
راستے میں عجائب قدرت دکھائے گئے۔ فرعون کی باندی اور اس کی بیٹیوں کے دفن کے مقام سے اٹھتی خوشبوئیں محسوس کروائ گئیں اور پھر مقدس شہر میں اتارا گیا، جہاں مسجد اقصی موجود ہے۔
جب سواری اتری تو تمام انبیاء کرام استقبال کے لئے موجود تھے۔ اب سوال یہ تھا؟ کہ امامت کون کرواے۔ جبریل امین آگے بڑھے۔ امامت کے حقدار صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک تھاما اور آگے کھڑا کر دیا۔
بیت المقدس کے معاملات سے فارغ ہونے کے بعد آسمان دنیا کی طرف سفر شروع ہوا۔ بالترتیب حضرت آدم، حضرت نوح حضرت عیسی، حضرت یوسف، حضرت ادریس، حضرت ہارون، حضرت موسی اور ساتویں آسمان پر حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام سے ملاقاتیں ہوئیں۔
پھر
تاجدار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے۔ سدرۃ المنتھی کے پاس پہنچے۔ یہ ساتویں آسمان پر ایک بیری کا درخت ہے جس کی جڑ چھٹے آسمان میں ہے اور شاخیں ساتویں آسمان سے اوپر ہیں۔ اس کی شاخیں سونے کی ہیں اور پھل زمرد کے ہیں۔
اور اس کے اوپر فرشتوں کی کثیر تعداد سونے کے ٹڈوں کی طرح براجمان تھیں۔
جب پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم سدرۃ المنتہی سے آگے بڑھے حضرت جبریل نے معذرت کر لی۔ اللہ پاک نے ہیبت کی تجلی ڈالی تو حضرت جبریل پرانے بوریے کی طرح ہو گۓ۔
اب آگے سفر سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے شایان شان تھا۔ پرواز بلند سے بلند تر ہوتی گئی۔ مقام مستوی آگیا۔ پھر مستوی سے آگے عرش معلی آگیا۔
ابھی پرواز جاری تھی کہ وہ مقام آگیا، جہاں پر خود 'کہاں' اور ' کب ' بھی ختم ہو چکے تھے۔ کیونکہ یہ الفاظ جگہ اور زمانے کے لئے بولے جاتے ہیں۔ اور جہاں ہمارے حضور صلی اللہ علیہ وسلم رونق افروز ہوئے۔ وہاں جگہ تھی نہ زمانہ۔اسی وجہ سے اسے لامکاں کہا جاتا ہے۔
وہاں اللہ رب العزت نے قرب کے وہ مقام عطا فرمائے جو کسی کو نہیں ملے۔ بیداری کی حالت میں دیدار کے شرف حاصل ہوۓ۔
50سے 5 نمازوں کا تحفہ ملا۔ جس میں 5 نمازوں پر پچاس کے ثواب کے وعدے ہوۓ۔ عرش کے عظیم خزانوں میں سے سورۃ البقرہ کی آخری دو آیات عطا فرمائ گئیں۔
پھر سفر کا اگلا مرحلہ شروع ہوا جس میں جنت کے نظارے کراِے گۓ۔
ایسی ایسی نعمتوں کا مشاہدہ کرایا گیا، جو نہ کسی آنکھ نے دیکھی اور نہ کسی کان نے سنی۔نہ ہی کسی کے دل میں خیال گزرا۔ پھر جہنم کا معائنہ کرایا گیا۔ اور اس کی صورت کچھ یوں تھی۔ کہ تاجدار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم جنت میں موجود تھے اور جہنم سے پردے ہٹا دیۓ گۓ۔ جس سے آپ نے ملاحظہ فرمالیا۔
اس کے بعد واپسی کا سفر شروع ہوا۔ یہ اللہ پاک کی قدرت ہے۔ کہ رات کے ایک مختصر حصے میں اپنے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو لامکاں تک کی سیر کروا دی۔ معراج ایسا ہوا کہ نوری فرشتے بھی حیران رہ گئے۔ بشریت اپنی اصل کے ساتھ نور کو پیچھے چھوڑ گئ تھی۔
پھر عقل والوں نے اپنی عقلوں پر پرکھا اور تجزیے کرتے ہوئے عقل کے گھوڑے دوڑانے شروع کۓ اس بات سے بے خبر ہوکر۔ کہ کائنات ہستی تو رب کائنات کے لئے ہے۔ جس کے لئے چاہے بکھیر دے، جس کے لئے چاہے سمیٹ دے۔عقلیں اس کا احاطہ کہاں کر سکتی ہیں؟
واقعہ معراج کے فضائل کے پیش نظر کچھ بے اصل باتیں بھی دین کا حصہ بنا دی جاتی ہیں۔ جیسے شب معراج کی رات کی عبادت اور دن کا روزہ وغیرہ۔
یاد رہے! کہ شریعت مطہرہ میں اس کی یادگار میں کسی عبادت مخصوصہ کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ اس لئے اس سے اجتناب ضروری ہے۔
اللہ پاک نے موقع معراج پر انسانیت کو شرف عطا فرمایا تھا، بلخصوص امت محمدیہ کو۔ اس کو سامنے رکھتے ہوئے اللہ پاک کے احکامات کی فرمانبرداری اور نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو لازم پکڑا جائے، یہی راہ مستقیم ہے ہاں! یہی راہ نجات ہے۔۔۔
رائٹر: رقیہ فاروقی، راولپنڈی