30/04/2026
قصیدہ امام مولا رضا ابنِ موسیٰ کاظم (ص)
جشنِ مولا رضا (ص) مناتے ہیں مدحِ مولا رضا (ص) سناتے ہیں
قم سے آئے ہر ایک مصرع پر موسیٰ کاظم (ص) سے داد پاتے ہیں
قلعہ توحید کا ہے کلمہ گر اِس میں جانے کی ہیں شرائط کچھ
بھولنا مت کہ ان میں مولا رضا (ص) پسرِ کاظم امام (ص) آتے ہیں
تیرے زائر کو آقا مولا رضا (ص)، خوف دنیا کا ہے نہ محشر کا
اُن کے سر دو جہاں میں ہیں اونچے، جو ترے در پہ سر جھکاتے ہیں
معجزہ یہ بھی ہے رضا (ص) کا کہ، اُن کو دربار جب بلائیں تو
گر ہو دروازے پر کوئی پردہ، احتراماً ملک ہٹاتے ہیں
یہ بھی تاریخ میں لکھا ہے پڑھو، قہرِ ربِ جلی سے کچھ تو ڈرو
جو ہو گستاخ رضا (ص) کا اُس کو شیرِ قالین پھاڑ کھاتے ہیں
ہیں تشکّر کے اشک آنکھوں میں، قدموں میں سر ہرن رگڑتے ہیں
ضامنِ آہو (ص) کی کریمی ہے، اُس کے بچوں کی جاں بچاتے ہیں
مجھ سے کہنے لگا مرض خود یہ، چھوڑ دنیا کے سب طبیبوں کو
تیرا دارالشفا ہے مشہد میں،تجھ کو مولا رضا (ص) بلاتے ہیں
دنیا کہتی رہے ہمیں کچھ بھی، اپنا احسن یہی عقیدہ ہے
ہم رضائے امامِ مولا رضا (ص)، میں ہی رب کی رضا کو پاتے ہیں
(سید احسن عباس کاظمی)