05/10/2026
یومِ اساتذہ: استاد کا احترام یا اجتماعی منافقت؟
تحریر پروفیسر ملک مبشر حسین اعوان
پرنسپل بیکن مائنڈ ایجوکیشن سسٹم اسلام آباد
ہر سال یومِ اساتذہ آتا ہے۔ سوشل میڈیا پر استاد کی عظمت کے قصیدے شروع ہو جاتے ہیں۔ خوبصورت پوسٹر بنتے ہیں، پھول پیش کیے جاتے ہیں، تقریریں ہوتی ہیں، ’’استاد قوم کا معمار ہے‘‘ جیسے جملے دہرائے جاتے ہیں اور چند گھنٹوں کے لیے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اس معاشرے میں استاد سے زیادہ محترم کوئی شخص نہیں۔
مگر اگلی صبح حقیقت پھر دروازے پر کھڑی ہوتی ہے۔
وہی استاد کم تنخواہ کے ساتھ کلاس روم میں داخل ہوتا ہے، وہی استاد مہنگائی سے لڑتا ہے، وہی استاد اپنے بچوں کی فیس ادا کرنے کے لیے پریشان ہوتا ہے، وہی استاد انتظامیہ کے دباؤ، والدین کی توقعات اور معاشرتی بے اعتنائی کے درمیان اپنے شاگردوں کا مستقبل سنوارنے کی کوشش کرتا ہے۔
یہ کیسا احترام ہے جو صرف ایک دن یاد آتا ہے؟
اگر استاد واقعی قوم کا معمار ہے تو پھر اس کی اپنی زندگی کی بنیادیں اتنی کمزور کیوں ہیں؟
یہ سوال صرف حکومت سے نہیں، والدین سے بھی ہے، تعلیمی اداروں سے بھی ہے، معاشرے سے بھی ہے اور خود ہم سب سے بھی ہے۔
ہم استاد سے چاہتے ہیں کہ وہ ہمارے بچے کو علم دے، تہذیب دے، اخلاق دے، نظم و ضبط سکھائے، کردار بنائے، اس کی کمزوریاں دور کرے اور اسے کامیاب انسان بنائے۔ لیکن جب استاد کے حق کی بات آتی ہے تو ہمارے رویے بدل جاتے ہیں۔ بچے کی مہنگی کتاب قابلِ قبول ہے، مہنگی یونیفارم قابلِ قبول ہے، موبائل اور دیگر سہولیات قابلِ قبول ہیں، مگر استاد کی مناسب اجرت پر سوال اٹھنے لگتا ہے۔
ہم نے تعلیم کو بھی ایک عجیب کاروباری منطق میں قید کر دیا ہے:
بچے پر خرچ سرمایہ کاری ہے، استاد پر خرچ اخراجات!
یہ سوچ صرف استاد کی توہین نہیں، تعلیم کی توہین ہے۔
استاد بھی انسان ہے۔ اس کے گھر میں بھی چولہا جلتا ہے۔ اس کے بچے بھی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ اسے بھی بیماری آتی ہے، بجلی کا بل آتا ہے، کرایہ دینا ہوتا ہے، سفر کا خرچ اٹھانا ہوتا ہے اور اپنے خاندان کے مستقبل کی فکر ہوتی ہے۔ لیکن معاشرہ اس سے ایسی قربانی مانگتا ہے جیسے استاد کی اپنی کوئی ضرورت ہی نہ ہو۔
سب سے افسوس ناک رویہ بعض تعلیمی اداروں کا ہے، جہاں استاد کو ’’تعلیمی کارکن‘‘ سے زیادہ ایک ایسے ملازم کے طور پر دیکھا جاتا ہے جس سے کم سے کم معاوضے میں زیادہ سے زیادہ کام لیا جائے۔
کلاس پڑھاؤ، کاپیاں چیک کرو، امتحانات لو، ریکارڈ بناؤ، رپورٹس تیار کرو، تقریبات میں ڈیوٹی دو، والدین کو جواب دو، نتائج بہتر کرو، داخلے بڑھاؤ، ادارے کی تشہیر کرو؛ لیکن جب استاد اپنے حق کی بات کرے تو اسے یاد دلایا جاتا ہے کہ ’’آپ تو قوم کے معمار ہیں!‘‘
کیا خوبصورت جملہ ہے!
جس معاشرے میں کسی کے استحصال کو چھپانے کے لیے اس کی عظمت کے قصیدے پڑھے جانے لگیں، وہاں مسئلہ صرف معاشی نہیں رہتا، اخلاقی بھی بن جاتا ہے۔
والدین کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ بچے کی تعلیمی ناکامی پر فوراً استاد کٹہرے میں کھڑا کر دیا جاتا ہے، لیکن بچے کی تربیت، گھر کے ماحول، موبائل کے بے قابو استعمال، مطالعے سے دوری اور والدین کی اپنی عدم توجہی پر سوال نہیں اٹھایا جاتا۔
استاد کو بچے کی ہر خامی کا ذمہ دار قرار دینا آسان ہے؛ اپنے حصے کی ذمہ داری قبول کرنا مشکل۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ بچہ صرف اسکول سے تعلیم نہیں لیتا؛ وہ گھر، اسکول اور معاشرے کے مجموعی ماحول سے شخصیت حاصل کرتا ہے۔
استاد اکیلا قوم نہیں بنا سکتا۔
استاد راستہ دکھا سکتا ہے، مگر گھر کو بھی اس راستے پر چلنا ہوگا۔ استاد تربیت کر سکتا ہے، مگر معاشرے کو بھی اپنے رویے سے وہی اقدار دکھانا ہوں گی۔ استاد کتاب دے سکتا ہے، مگر زندگی کو بھی کتاب کے اصولوں کی تصدیق کرنا ہوگی۔
اور ہاں، استاد کو بھی اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا۔
استاد ہونا محض نوکری نہیں، ایک امانت ہے۔ اگر استاد علم کے بجائے صرف حاضری پوری کرے، کردار کے بجائے صرف نصاب مکمل کرے، سوال اٹھانے کے بجائے رٹا لگوائے اور اپنے پیشے کو صرف تنخواہ کا ذریعہ سمجھ لے تو اسے بھی اپنے منصب کا احتساب کرنا ہوگا۔
استاد کے حقوق کی بات کا مطلب یہ نہیں کہ استاد احتساب سے بالاتر ہے۔
اصل انقلاب تب آئے گا جب استاد کو عزت بھی ملے گی اور جواب دہی بھی؛ اختیار بھی ملے گا اور ذمہ داری بھی؛ مناسب معاوضہ بھی ملے گا اور اعلیٰ معیار کی توقع بھی۔
ہمیں یومِ اساتذہ کو رسمی دن بنانے کے بجائے ایک اجتماعی احتساب کا دن بنانا ہوگا۔
اس دن یہ سوال ہونا چاہیے:
کیا ہمارے استاد کو باعزت روزگار حاصل ہے؟
کیا اسے اس کی محنت کے مطابق معاوضہ مل رہا ہے؟
کیا اسے کلاس روم میں عزت اور انتظامیہ میں آواز حاصل ہے؟
کیا والدین اسے شریکِ تربیت سمجھتے ہیں یا صرف اپنے بچے کے نتائج کا ذمہ دار؟
کیا تعلیمی ادارے استاد کو سرمایہ سمجھتے ہیں یا خرچ؟
اور سب سے بڑھ کر:
کیا ہم واقعی استاد کا احترام کرتے ہیں یا صرف استاد کے نام کا احترام کرتے ہیں؟
کیونکہ احترام کا سب سے بڑا ثبوت تالیاں نہیں، انصاف ہے۔
پھول نہیں، حقوق ہیں۔
تقریریں نہیں، عمل ہے۔
اگر ہم استاد کو قوم کا معمار کہتے ہیں تو پھر اس معمار کو معاشی ملبے کے نیچے دبانا بند کرنا ہوگا۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ استاد نسلیں سنوارے تو پہلے ہمیں استاد کی زندگی سنوارنی ہوگی۔
اور اگر ہم نے استاد کو مسلسل بے توقیری، کم اجرت، غیر یقینی روزگار اور غیر ضروری دباؤ کے حوالے کیے رکھا تو یاد رکھیے، ہم صرف ایک استاد کو نہیں توڑ رہے؛ ہم آنے والی نسلوں کے کردار، علم اور مستقبل کو کمزور کر رہے ہیں۔
یومِ اساتذہ منانے کا سب سے انقلابی طریقہ یہ ہے کہ استاد کو ایک دن کے لیے نہیں، پورے سال کے لیے انسان سمجھا جائے۔
کیونکہ جس معاشرے میں استاد مجبور ہو جائے، وہاں تعلیم کمزور ہوتی ہے؛
تعلیم کمزور ہو تو کردار کمزور ہوتا ہے؛
اور کردار کمزور ہو جائے تو قومیں صرف عمارتیں بناتی ہیں، تاریخ نہیں۔