ضیاء الامت فاونڈیشن کوہسار

ضیاء الامت فاونڈیشن کوہسار علامہ ملک مبشر حسین اعوان (صدر ضیاء الامت فاونڈیشن خطہ کوہسار)

تحریر : پروفیسر ملک  مبشر حسین اعوان ڈائریکٹر بیکن مائنڈ ایجوکیشن سسٹم اسلام آباد وقت نے جب بھی آزمایا ہے، اُن کی نسبت و...
25/07/2026

تحریر : پروفیسر ملک مبشر حسین اعوان
ڈائریکٹر بیکن مائنڈ ایجوکیشن سسٹم اسلام آباد

وقت نے جب بھی آزمایا ہے، اُن کی نسبت و
تربیت نے رنگ دکھایا ہے

تاریخِ اسلام میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو صرف اپنے زمانے کی ضرورت نہیں ہوتیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک روشن چراغ بن جاتی ہیں۔ ان کی زندگی علم و عمل، اخلاص و محبت، فکر و بصیرت اور تربیت و کردار کا ایسا حسین امتزاج ہوتی ہے جس کے اثرات ان کے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد بھی نسل در نسل منتقل ہوتے رہتے ہیں۔ ایسی ہی عظیم، نابغۂ روزگار اور ہمہ جہت شخصیت حضرت ضیاء الامت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی ہے، جن کی نسبت سے وابستہ ہونے والے افراد کے لیے یہ نسبت محض ایک روحانی تعلق نہیں بلکہ ایک مکمل تربیتی نظام، ایک فکری ورثہ اور ایک عملی ذمہ داری بھی ہے۔

وقت انسانوں کو آزماتا ہے۔ کبھی حالات کی سختی سے، کبھی مشکلات کی یلغار سے، کبھی فتنوں کے ہجوم سے اور کبھی مفادات کے دباؤ سے۔ ایسے مواقع پر انسان کی اصل تربیت سامنے آتی ہے۔ جو تربیت صرف الفاظ تک محدود ہو، وہ آزمائش کی پہلی آندھی میں بکھر جاتی ہے، لیکن جو تربیت دل و کردار میں اتر جائے، وہ انسان کو حالات کے سامنے ثابت قدم رکھتی ہے۔ حضرت ضیاء الامت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی نسبت اور تربیت سے وابستہ افراد کی زندگیوں میں یہی حقیقت نمایاں نظر آتی ہے کہ وقت نے جب بھی آزمایا ہے، اُن کی نسبت و تربیت نے اپنا رنگ دکھایا ہے۔

حضرت ضیاء الامت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنے علمی و روحانی سفر میں قرآن و سنت کی محبت، عشقِ رسول ﷺ، شریعت کی پاسداری، طریقت کی پاکیزگی، اخلاقِ حسنہ، خدمتِ دین اور انسانیت کی خیر خواہی کو بنیادی اہمیت دی۔ ان کی شخصیت میں علم کی گہرائی بھی تھی اور روحانیت کی روشنی بھی؛ فقہ و شریعت کا شعور بھی تھا اور تصوف و تزکیہ کی لطافت بھی۔ یہی جامعیت ان کی تربیت کا امتیاز بنی۔

ان کی مجلس میں بیٹھنے والا صرف علم حاصل نہیں کرتا تھا بلکہ اپنے آپ کو پہچاننے کا ہنر بھی سیکھتا تھا۔ ان کی گفتگو میں صرف الفاظ نہیں ہوتے تھے بلکہ ایک پیغام ہوتا تھا؛ ان کے عمل میں صرف ظاہری نظم نہیں بلکہ باطن کی پاکیزگی کی دعوت ہوتی تھی۔ وہ اپنے وابستگان کو محض کسی شخصیت سے عقیدت کا درس نہیں دیتے تھے بلکہ انہیں دین کے ساتھ مضبوط تعلق، قرآن و سنت سے وابستگی اور کردار کی تعمیر کی طرف متوجہ کرتے تھے۔

یہی وجہ ہے کہ آج جب مختلف آزمائشیں ہمارے معاشرے کو گھیر رہی ہیں، جب فکری انتشار بڑھ رہا ہے، جب سوشل میڈیا کے شور میں سنجیدہ علم کی آواز دب رہی ہے، جب مادیت انسان کے دل کو اپنی طرف کھینچ رہی ہے اور جب نئی نسل کے سامنے بے شمار فکری چیلنجز موجود ہیں، ایسے وقت میں حضرت ضیاء الامت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی نسبت سے وابستہ افراد کے کردار اور عمل کا امتحان بھی ہوتا ہے۔

یہ نسبت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ علم صرف کتابوں میں نہیں ہونا چاہیے بلکہ کردار میں بھی نظر آنا چاہیے۔ محبت صرف زبان پر نہیں بلکہ عمل میں بھی ظاہر ہونی چاہیے۔ عقیدت صرف محفلوں تک محدود نہیں بلکہ زندگی کے فیصلوں میں بھی نمایاں ہونی چاہیے۔ اور تربیت کا اصل ثبوت یہی ہے کہ انسان تنہائی میں بھی وہی رہے جو وہ لوگوں کے سامنے نظر آتا ہے۔

حضرت ضیاء الامت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی تربیت کا ایک نمایاں پہلو یہ تھا کہ دین کو زندگی سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ دین عبادات کے ساتھ معاملات کا بھی نام ہے، علم کے ساتھ اخلاق کا بھی نام ہے، محبت کے ساتھ ذمہ داری کا بھی نام ہے۔ ایک سچا وابستہ وہ ہے جو اپنے کردار سے اپنی نسبت کی گواہی دے۔

آج اگر کسی شاگرد، مرید، عقیدت مند یا وابستہ شخص کے کردار میں دیانت، اخلاص، علم کی محبت، بڑوں کا احترام، چھوٹوں سے شفقت، حق گوئی، خدمتِ خلق اور دین کی سربلندی کا جذبہ نظر آتا ہے تو یہ دراصل اس تربیت کی جھلک ہے جس کی بنیاد حضرت ضیاء الامت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ جیسے مربی نے رکھی تھی۔

وقت کی آزمائش انسان کے دعووں کو پرکھتی ہے۔ خوشحالی میں ہر شخص مخلص دکھائی دے سکتا ہے، لیکن مشکل وقت میں ثابت قدم رہنا ہی اصل تربیت کا ثبوت ہے۔ جب حالات مخالف ہوں اور انسان حق کا دامن نہ چھوڑے، جب مشکلات بڑھ جائیں مگر اخلاق نہ بدلیں، جب مخالفت ہو مگر زبان سے شرافت نہ جائے، جب اختیار ملے مگر عاجزی باقی رہے، جب شہرت آئے مگر اخلاص کم نہ ہو، تو سمجھ لینا چاہیے کہ کسی عظیم مربی کی تربیت نے اپنا اثر دکھایا ہے۔

حضرت ضیاء الامت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی نسبت کا اصل حسن بھی یہی ہے کہ یہ انسان کو شخصیت پرستی نہیں بلکہ کردار سازی کی طرف لے جاتی ہے۔ یہ نسبت انسان کو علم کی طرف بلاتی ہے، مگر ایسا علم جو عمل پیدا کرے؛ یہ روحانیت کی طرف لے جاتی ہے، مگر ایسی روحانیت جو اخلاق سنوارے؛ یہ محبت سکھاتی ہے، مگر ایسی محبت جو انسان کو اللہ تعالیٰ اور رسولِ اکرم ﷺ کی اطاعت کے قریب لے جائے۔

ان کی علمی میراث، بالخصوص قرآن فہمی اور سیرتِ طیبہ کے حوالے سے ان کی عظیم خدمات، آج بھی اہلِ علم اور عام مسلمانوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔ ان کی تصانیف اور ان کا علمی اسلوب اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ انہوں نے دین کو عصرِ حاضر کے تقاضوں کے ساتھ سمجھانے کی بھرپور کوشش کی۔ ان کے علمی کام نے ایک ایسی نسل کی فکری تربیت میں کردار ادا کیا جو روایت سے جڑی ہوئی بھی ہے اور زمانے کے سوالات سے باخبر بھی۔

آج ان کے وابستگان کے لیے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اس نسبت کا حق ادا کیا؟ کیا ہماری گفتگو، ہمارے معاملات، ہماری تعلیمی و دینی خدمات اور ہماری اجتماعی زندگی میں اس تربیت کی جھلک دکھائی دیتی ہے؟ کیا ہم اختلاف کے باوجود اخلاق قائم رکھتے ہیں؟ کیا ہم علم کے ساتھ عمل کو بھی اہمیت دیتے ہیں؟ کیا ہم دین کی خدمت کو ذاتی مفاد پر ترجیح دیتے ہیں؟

اگر جواب ہاں میں ہے تو بلاشبہ یہ نسبت زندہ ہے اور تربیت اپنا رنگ دکھا رہی ہے۔

اور اگر کہیں کمی ہے تو ہمیں دوسروں کو دیکھنے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا، کیونکہ عظیم بزرگوں کی نسبت کا تقاضا صرف یہ نہیں کہ ہم ان کا نام محبت سے لیں، بلکہ اصل تقاضا یہ ہے کہ ہم ان کے چھوڑے ہوئے علمی، روحانی اور اخلاقی ورثے کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ حضرت ضیاء الامت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی نسبت کو صرف یادگار تقریبات، سالانہ اجتماعات اور محبت بھرے تذکروں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ ان کی فکر، تعلیم، کردار اور تربیت کو نئی نسل تک منتقل کیا جائے۔ مدارس، مساجد، تعلیمی اداروں اور معاشرتی زندگی میں ان کے علمی و تربیتی پیغام کو زندہ رکھا جائے تاکہ آنے والی نسلیں بھی اس نور سے فیض یاب ہو سکیں۔

حقیقت یہی ہے کہ عظیم شخصیات دنیا سے رخصت ہو جاتی ہیں، مگر ان کی تربیت یافتہ نسلیں ان کے مشن کو زندہ رکھتی ہیں۔ وقت گزرتا رہتا ہے، حالات بدلتے رہتے ہیں، آزمائشیں نئی شکلوں میں سامنے آتی رہتی ہیں، مگر سچی نسبت اور پختہ تربیت انسان کو ہر دور میں ثابت قدم رکھتی ہے۔

وقت نے جب بھی آزمایا ہے، اُن کی نسبت و تربیت نے رنگ دکھایا ہے۔

یہ صرف ایک جملہ نہیں بلکہ ایک حقیقت، ایک احساس اور ایک ذمہ داری ہے۔ یہ اُن تمام دلوں کی آواز ہے جنہوں نے حضرت ضیاء الامت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی نسبت سے علم، محبت، ادب، اخلاص اور خدمت کا سبق پایا۔ اب وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اس نسبت کو صرف اپنے سینوں میں محفوظ نہ رکھیں بلکہ اپنے کردار، اپنی نسلوں اور اپنی خدمات کے ذریعے اسے زندہ رکھیں۔

کیونکہ بزرگوں کی نسبت کا اصل ثبوت یہ نہیں کہ ہم ان کا نام کتنی محبت سے لیتے ہیں، بلکہ اصل ثبوت یہ ہے کہ جب وقت ہمیں آزمائے تو ہمارے کردار سے اُن کی تربیت بولے۔

حضور ضیاءُ الامت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت علامہ صاحبزادہ پروفیسر ریاض محمود صاحب کی برمنگھم...
24/07/2026

حضور ضیاءُ الامت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت علامہ صاحبزادہ پروفیسر ریاض محمود صاحب کی برمنگھم میں 1985ء کی ایک یادگار اور تاریخی تصویر۔

یہ تصویر علم، روحانیت اور محبتِ رسول ﷺ سے وابستہ دو عظیم شخصیات کی ایک حسین یاد کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے، جو آج بھی اہلِ محبت کے دلوں میں عقیدت و محبت کے جذبات تازہ کر دیتی ہے۔

حضور ضیاءالامّت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ علیہ: ایک مثالی استاد کے دس روشن اوصافپروفیسر ملک مبشر حسین اعوا...
23/07/2026

حضور ضیاءالامّت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ علیہ: ایک مثالی استاد کے دس روشن اوصاف
پروفیسر ملک مبشر حسین اعوان
ڈائریکٹر بیکن مائنڈ ایجوکیشن سسٹم اسلام آباد
حضور ضیاء اُمّت، جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ علیہ کی تصویر پر نظر پڑتی ہے تو ایک ایسی باوقار، پُرسکون اور متین شخصیت سامنے آتی ہے جس کے چہرے سے علم کی گہرائی، فکر کی پختگی، اخلاص کی روشنی اور روحانی عظمت جھلکتی ہے۔ یہ محض ایک جلیل القدر عالم کی تصویر نہیں، بلکہ ایک ایسے مربی، معلم اور استادِ کامل کی عکاسی ہے جس نے علم کو زندگی، فکر کو کردار اور تعلیم کو خدمتِ امت سے جوڑ دیا۔

آپ کی استادی کا کمال یہ تھا کہ آپ کے ہاں درس صرف کتاب کے صفحات تک محدود نہ تھا؛ آپ ذہن بناتے، فکر سنوارتے، کردار تعمیر کرتے اور انسان کو اس کے مقصدِ زندگی سے آشنا کرتے تھے۔ آپ کی شخصیت میں استاد کے وہ تمام اوصاف ایک حسین توازن کے ساتھ جمع تھے جو ایک نسل کو صرف تعلیم یافتہ نہیں بلکہ صاحبِ علم، صاحبِ کردار اور صاحبِ بصیرت بناتے ہیں۔

۱۔ نبوی فکر — تعلیم کا روحانی مرکز

آپ کی فکر کا سرچشمہ قرآن و سنت اور اسوۂ رسولِ اکرم ﷺ تھا۔ آپ کی تعلیم میں علم محض ذہنی مشق نہیں بلکہ زندگی کو سنتِ نبوی ﷺ کے سانچے میں ڈھالنے کا ذریعہ تھا۔ آپ اپنے طلبہ کو کتاب پڑھانے کے ساتھ یہ شعور بھی عطا کرتے تھے کہ علم کا اصل مقصد انسان کے اندر خیر، تقویٰ، محبت اور خدمت کا جذبہ پیدا کرنا ہے۔ آپ کی شخصیت میں فکرِ نبوی ﷺ محض ایک نظریہ نہیں بلکہ ایک زندہ طرزِ زندگی کی صورت میں جلوہ گر تھی۔

۲۔ اخلاص کی فکر — علم کی بنیاد

آپ کی علمی زندگی کا سب سے روشن وصف اخلاص تھا۔ آپ نے علم کو شہرت کا وسیلہ نہیں، دین کی امانت اور امت کی خدمت کا ذریعہ سمجھا۔ آپ کی تدریس میں جو تاثیر تھی، وہ محض الفاظ کی فصاحت سے نہیں بلکہ دل کی سچائی اور نیت کی پاکیزگی سے پیدا ہوتی تھی۔ آپ نے اپنے عمل سے یہ سبق دیا کہ جب علم اخلاص کے ساتھ پیش کیا جائے تو وہ صرف ذہنوں کو نہیں، دلوں کو بھی بدل دیتا ہے۔

۳۔ علمی وسعت کی فکر — محدودیت سے بلند ایک جامع نظر

آپ کی علمی شخصیت کسی ایک شعبے یا ایک محدود دائرے تک محصور نہ تھی۔ قرآن، حدیث، فقہ، سیرت، تاریخ، عربی ادب، تصوف اور عصرِ حاضر کے فکری مسائل—آپ کی علمی بصیرت نے ان تمام میدانوں کو اپنے اندر سمیٹ رکھا تھا۔ آپ اپنے شاگردوں کو بھی تنگ نظری سے نکال کر وسیع علمی افق عطا کرتے تھے، تاکہ وہ دین کو گہرائی کے ساتھ بھی سمجھیں اور وسعتِ نظر کے ساتھ بھی۔

۴۔ تحقیق کی فکر — علم کو دلیل کی قوت عطا کرنا

آپ کی علمی زندگی تحقیق، تدبر اور استدلال کی روشن مثال تھی۔ آپ کسی مسئلے کو سطحی انداز میں قبول کرنے کے بجائے اس کے پس منظر، دلائل اور مصادر تک پہنچنے کی جستجو رکھتے تھے۔ آپ نے اپنے طلبہ میں بھی تحقیق کا ذوق پیدا کیا اور انہیں یہ شعور دیا کہ حقیقی عالم وہ ہے جو علم کو محض نقل نہ کرے بلکہ اسے سمجھنے، پرکھنے اور دلیل کے ساتھ پیش کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو۔

۵۔ حکمت کی فکر — علم کو دلوں تک پہنچانے کا ہنر

آپ کی تدریس میں علم کے ساتھ حکمت کا حسین امتزاج تھا۔ آپ پیچیدہ علمی نکات کو ایسی سلاست، شائستگی اور بصیرت کے ساتھ بیان کرتے کہ مشکل بات بھی آسان محسوس ہونے لگتی۔ آپ جانتے تھے کہ استاد کا کمال صرف زیادہ جاننے میں نہیں بلکہ اس علم کو مناسب اسلوب اور حکمت کے ساتھ منتقل کرنے میں ہے۔ یہی حکمت آپ کے درس کو محض علمی گفتگو کے بجائے ایک مؤثر تربیتی تجربہ بنا دیتی تھی۔

۶۔ تربیت کی فکر — علم سے انسان سازی تک

آپ کے نزدیک استاد صرف کتاب پڑھانے والا نہیں بلکہ انسان بنانے والا ہوتا ہے۔ آپ نے اپنے شاگردوں کے ذہنوں کو علم سے اور دلوں کو اخلاق سے آراستہ کیا۔ آپ کی تعلیم میں ادب، کردار، تقویٰ، تحمل اور ذمہ داری بنیادی حیثیت رکھتے تھے۔ آپ چاہتے تھے کہ طالب علم جب درس گاہ سے نکلے تو اس کے پاس صرف معلومات نہ ہوں بلکہ ایک ایسا کردار بھی ہو جو اس کے علم کی گواہی دے۔

۷۔ اعتدال کی فکر — فکر و عمل میں توازن

آپ کی شخصیت کا ایک نمایاں وصف اعتدال اور توازن تھا۔ آپ نے دین کو افراط و تفریط سے پاک، متوازن اور جامع انداز میں پیش کیا۔ اختلافِ رائے میں شائستگی، علمی گفتگو میں وسعتِ قلبی اور مسائل کے حل میں حکمت و مصلحت—یہ سب آپ کے فکری مزاج کا حصہ تھے۔ آپ کی استادی نے یہ سکھایا کہ علم انسان کو سخت مزاج نہیں بلکہ صاحبِ بصیرت، منصف اور متوازن بناتا ہے۔

۸۔ زمانہ شناسی کی فکر — عصر کو سمجھنے والی بصیرت

آپ ماضی کے علمی ورثے کے امین ہونے کے ساتھ اپنے عہد کے تقاضوں سے بھی پوری طرح آگاہ تھے۔ آپ نے محسوس کیا کہ زمانہ بدل رہا ہے، سوالات بدل رہے ہیں اور فکری چیلنجز نئی صورتیں اختیار کر رہے ہیں؛ چنانچہ دینی علم کو عصرِ حاضر کے سوالات سے مکالمہ کرنا ہوگا۔ آپ نے اپنے طلبہ کو یہ شعور دیا کہ ایک عالمِ دین کے لیے اپنے زمانے کو سمجھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا اپنے علمی ورثے سے وابستہ رہنا۔

۹۔ مسلسل سیکھنے کی فکر — علم کا سفر کبھی ختم نہیں ہوتا

آپ کی زندگی علم کی مسلسل جستجو کا ایک روشن استعارہ تھی۔ آپ نے یہ ثابت کیا کہ عظمتِ علم کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کے آخری لمحے تک طالبِ علم رہے۔ مطالعہ، تحقیق، غور و فکر اور علمی اضافہ آپ کی شخصیت کا مستقل حصہ تھا۔ آپ کی ذات اپنے شاگردوں کو خاموشی سے یہ پیغام دیتی تھی کہ جو شخص سیکھنا چھوڑ دیتا ہے، اس کی علمی ترقی بھی وہیں رک جاتی ہے۔

۱۰۔ خدمتِ امت کی فکر — علم کی آخری منزل

آپ کی تمام علمی، تدریسی، تحقیقی اور فکری کاوشوں کا آخری مقصد خدمتِ امت تھا۔ آپ نے علم کو معاشرے سے کٹ کر رہنے کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ اسے اصلاحِ معاشرہ، بیداریِ فکر اور رہنمائیِ امت کا وسیلہ بنایا۔ آپ کی تصانیف، تفاسیر، سیرت نگاری، تدریسی خدمات اور علمی جدوجہد اس حقیقت کی گواہ ہیں کہ آپ کے نزدیک عالم کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے علم کو انسانیت کی بھلائی اور امت کی رہنمائی کے لیے وقف کر دے۔

حاصلِ کلام

حضور ضیاء اُمّت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ علیہ کی تصویر میں نظر آنے والا پُروقار سکون، دراصل ایک ایسی شخصیت کی علامت ہے جس کے اندر نبوی فکر کی روشنی، اخلاص کی پاکیزگی، علمی وسعت کی گہرائی، تحقیق کی جستجو، حکمت کی دانائی، تربیت کی فکر، اعتدال کی خوب صورتی، زمانہ شناسی کی بصیرت، مسلسل سیکھنے کا شوق اور خدمتِ امت کا جذبہ ایک ساتھ جلوہ گر تھا۔

آپ کی استادی کا کمال یہ تھا کہ آپ نے علم کو فکر دیا، فکر کو حکمت دی، حکمت کو کردار دیا اور کردار کو خدمتِ امت کی منزل عطا کی۔ یہی وہ جامعیت ہے جو حضور ضیاء اُمّت رحمۃ اللہ علیہ کو صرف ایک استاد نہیں بلکہ استادِ کامل، مربیِ نسل اور معمارِ فکر کے مقام پر فائز کرتی ہے۔

آپ کی علمی میراث آج بھی یہ صدا دیتی ہے کہ ایک حقیقی استاد وہ نہیں جو صرف کتاب ختم کر دے؛ حقیقی استاد وہ ہے جو اپنے شاگرد کے اندر علم کی طلب، فکر کی وسعت، کردار کی پختگی اور امت کی خدمت کا جذبہ پیدا کر دے۔ حضور ضیاء اُمّت رحمۃ اللہ علیہ کی پوری زندگی اسی مثالی استادی کی ایک روشن اور تابندہ تصویر تھی۔

تصویر کہانی نمبر 46۔سورس۔۔۔سوشل میڈیا پیج تصویر کا سال۔۔۔1984 تا 1986۔تفصیلات بشکریہ ۔۔۔۔۔سہیل اختر خان نیازی ۔علامہ جاو...
20/07/2026

تصویر کہانی نمبر 46۔
سورس۔۔۔سوشل میڈیا پیج
تصویر کا سال۔۔۔1984 تا 1986۔
تفصیلات بشکریہ ۔۔۔۔۔سہیل اختر خان نیازی ۔علامہ جاوید اقبال کھارا ۔
مقام ۔۔۔۔بھور شریف ۔۔ضلع میانوالی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حضور ضیاءالامت حضرت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ علیہ کا خانوادہ بھور شریف سے بہت قریبی تعلق تھا ۔اپ 1980 سے لیکر 1986 تک مختلف سالوں میں خواجہ فتح محمد بھوری رحمتہ اللہ علیہ کے عرس مبارک کے سلسلہ میں مختلف اجتماعات میں شرکت کے لیے تشریف لے جاتے رہے۔زیر نظر تصاویر انہی ماہ و سال کی ہیں۔ اس درگاہ کے چشم و چراغ صاحبزادہ فتح اللہ صاحب بھیرہ شریف میں زیر تعلیم بھی رہے یوں اس تعلق کو مزید گہرائی ملی۔۔ان میں سے ایک تصویر 1984 کی ہے جب آپ عرس مبارک کی تقریبات میں شرکت کے لیے تشریف لائے ۔اور دوسری تصویر 1986 کی ہے جب اپ عرس کی تقریبات میں خطاب کے لیے تشریف لے گئے اور کلیدی خطاب فرمایا ۔حضرت خواجہ محمد صدیق صاحب حضور ضیاءالامت کا استقبال کر رہے ہیں اور پیچھے حضرت خواجہ خیر محمد صاحب کھڑے ہیں
دوسری تصویر میں حضور ضیاءالامت درمیان میں تشریف فرما ہیں خواجہ محمد صدیق رحمت اللہ علیہ ان کے دائیں بیٹھے ہیں اور بائیں جانب خواجہ محمد صدیق صاحب کے بڑے صاحبزادے صاحبزادہ میاں غلام محمد تشریف فرما ہیں ۔
یہ دونوں تصاویر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موسم سرما کی لگ رہی ہیں۔حضور ضیاءالامت نے سفید رنگ کا ایک اونی سویٹر زیب تن کر رکھا ہے۔اونی سویٹر میں آپکی تصاویر بہت کم ہیں۔سردیوں عام طور پر آپ گرم کوٹ،گرم واسکٹ یا گرم چادر استعمال کرتے تھے۔موسم سرما کی ایک گرم ٹوپی اپکو بہت محبوب تھی لیکن اس تصویر میں آپ نے سفید چشتی ٹوپی پہن رکھی ہے۔تصویر میں باقی لوگوں نے بھی گرم کپڑے ،سویٹر اور گرم ٹوپیاں پہن رکھی ہیں ۔
جس تصویر میں آپ کار سے اتر رہے ہیں اس میں
حضرت خواجہ محمد صدیق
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گاڑی سے اترتے ہی حضور ضیاءالامت کا پرجوش استقبال کر رہے ہیں ۔ایک بھرپور معانقہ دونوں طرف کے محبت بھرے جزبوں کا عکاس ہے۔۔انکے عقب میں حضور ضیاءالامت کے خادم جناب مولانا مختار احمد مجاھد بھی کھڑے ہیں۔جس گاڑی سے آپ اتر رہے ہیں اس کا رنگ سرخی مائل ہے۔اور آپ عقبی نشست کے بجاے فرنٹ سیٹ سے اتر رہے ہیں ۔حضور ضیاء الامت عام طور پر انگلی نشست پر ہی تشریف فرما ہوتے جبکہ عقبی نشست پر میرے والد گرامی حضرت علامہ مولانا میاں محمد سعید اسعد رحمتہ اللہ اور انکے ہمراہ ایک اور خادم اگر موجود ہوتا تو وہ بیٹھتا۔جب آپ عدالت کی پرچم والی گاڑی پر سوار ہوتے تو پھر آپ عقبی نشست پر تشریف فرما ہوتے اور میرے والد گرامی فرنٹ سیٹ پر بیٹھتے اس تصویر میں فرنٹ سے اتر رہے رہے ہیں
دوسری تصویر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عرس مبارک کی محفل کی ہے ۔حضور ضیاء الامت درمیان میں تشریف رکھتے ہیں۔اپکے دائیں جانب خواجہ محمد صدیق رحمتہ اللہ جبکہ بائیں جانب خواجہ محمد صدیق صاحب کے بڑے صاحبزادے میاں غلام محمد صاحب بیٹھے ہیں
یہ تصویر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محض ایک استقبالیہ لمحہ کی تصویر نہیں بلکہ محبت، عقیدت، احترام اور روحانی وابستگی کا ایک دل آویز منظر پیش کرتی ہے۔
یہ کسی رسمی استقبال کا منظر نہیں، بلکہ قلب و روح کی قربت کی ایک خوبصورت تصویر ہے۔ حضور ضیاءالامت اپنی گاڑی سے اترتے ہی خواجہ محمد صدیق صاحب کو محبت بھری آغوش میں سمیٹے ہوئے ہیں۔ اس معانقے میں تصنع نہیں، بلکہ شفقت، اپنائیت اور خلوص کی وہ گرمی محسوس ہوتی ہے جو برسوں کی روحانی نسبت کا حاصل ہوتی ہے۔
قریب کھڑے افراد کے چہروں پر خوشی، ادب اور انتظار کی ملی جلی کیفیت نمایاں ہے۔ ہر نگاہ حضور ضیاءالامت کے استقبال کو اپنے لیے سعادت سمجھ رہی ہے۔ کسی کے ہاتھ خدمت کے لیے آمادہ ہیں، کوئی خاموشی سے یہ منظر اپنے دل میں محفوظ کر رہا ہے، اور کوئی عقیدت سے سر جھکائے کھڑا ہے۔
پس منظر میں عمارت کے ستون اور محرابی نقش و نگار اس تصویر کو ایک دینی و روحانی فضا عطا کر رہے ہیں،
اس تصویر کی سب سے مؤثر جھلک وہ معانقہ ہے جس میں الفاظ کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے برسوں کی دعائیں، محبتیں اور روحانی تعلق ایک ہی لمحے میں سمٹ آئے ہوں۔ یہ گلے ملنا صرف دو افراد کا ملاپ نہیں بلکہ دل سے دل، نسبت سے نسبت اور محبت سے محبت کے رشتے کی تجدید ہے۔
یہ تصویر ادبِ صحبت، احترامِ اکابر اور روحانی خانوادوں کی اس روایت کی آئینہ دار ہے جہاں استقبال رسم نہیں بلکہ محبت کا اظہار، اور مصافحہ و معانقہ صرف ملاقات نہیں بلکہ دلوں کے اطمینان اور روحوں کی تازگی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس منظر کو دیکھ کر دل بے اختیار دعا کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسی محبتوں، اخلاص اور روحانی وابستگی کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے۔
دوسری تصویر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں درمیان میں تشریف فرما حضور ضیاءالامت کی شخصیت پہلی ہی نظر میں وقار، انکسار اور سکون کا حسین امتزاج معلوم ہوتی ہے۔۔ سفید داڑھی نورانیت کا احساس پیدا کرتی ہے، جبکہ جھکی ہوئی نگاہیں اس بات کی علامت محسوس ہوتی ہیں کہ ان کی توجہ ظاہری دنیا سے زیادہ باطنی یکسوئی کی طرف ہے۔
ان کا لباس نہایت سادہ، پاکیزہ اور بے تکلف ہے، جس میں کسی ظاہری نمود و نمائش کے بجائے درویشی اور قناعت کی خوشبو محسوس ہوتی ہے۔ دو زانو بیٹھنے کا انداز ادب، خشوع اور مجلس کے احترام کا آئینہ دار دکھائی دیتا ہے۔ ہاتھوں کی باوقار ترتیب اور سر کا ہلکا سا جھکاؤ گویا خاموشی سے یہ پیغام دے رہا ہے کہ اصل بزرگی بلند آواز میں نہیں بلکہ عاجزی، خاموشی اور حسنِ اخلاق میں پوشیدہ ہوتی ہے۔
یوں محسوس ہوتا ہے جیسے حضور ضیاءالامت گفتگو سے زیادہ اپنی خاموشی کے ذریعے تربیت کر رہے ہوں۔ ان کے وجود سے سنجیدگی، تحمل اور قلبی سکون کا ایک ایسا تاثر ابھرتا ہے جو اہلِ مجلس کو بھی خاموش وقار اختیار کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔
یہ تصویر محض چند افراد کی نشست نہیں بلکہ ادب، محبت اور روحانی وابستگی کی ایک پُرسکون محفل کا منظر پیش کرتی ہے۔ قالین پر حلقہ بنا کر بیٹھے ہوئے افراد، سفید عماموں کی سادگی، باوقار خاموشی اور متوجہ چہروں سے محسوس ہوتا ہے کہ یہاں دلوں کی اصلاح، علم کی روشنی یا ذکر و نصیحت کی ایک بابرکت مجلس منعقد ہے۔
مجلس میں موجود ہر چہرہ احترام اور انہماک کا آئینہ دار دکھائی دیتا ہے۔ کسی کے چہرے پر بے چینی نہیں بلکہ ایک خاموش اطمینان اور قلبی سکون نمایاں ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہاں الفاظ سے بڑھ کر کردار بول رہے ہیں اور نگاہوں سے زیادہ دل ایک دوسرے سے ہم کلام ہیں۔
اس منظر کی اصل خوبصورتی اس کی سادگی میں پوشیدہ ہے۔ نہ ظاہری شان و شوکت ہے، نہ تکلف؛ مگر ماحول میں ایک ایسی روحانی لطافت محسوس ہوتی ہے جو اہلِ دل کی محفلوں کا خاصہ ہوتی ہے۔ یہ تصویر اس حقیقت کی یاد دلاتی ہے کہ جب علم، ادب، اخلاص اور بزرگوں کی صحبت یکجا ہو جائیں تو عام سی نشست بھی ایک روحانی گلستان کا منظر پیش کرنے لگتی ہے۔
اس تصویر میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حضور ضیاءالامت نے سفید یا گرے رنگ کی ایک واسکٹ زیب تن کر رکھی ہے۔اوپر والی جیب میں ایک قلم بھی نمایاں نظر آ رہا ہے۔قلم گویا کہ جزو لباس تھا۔اپکی پشت پر ایک بڑا تکیہ پڑا ہوا ہے جس پر سبز رنگ کا کور یا کپڑا چڑھایا گیا ہے۔عام طور پر بزرگ اس تکیہ سے ٹیک لگا کر بیٹھتے ہیں لیکن حضور ضیاءالامت بغیر ٹیک لگاے الرٹ کیفیت میں بیٹھے ہیں۔اپ پیرانہ سالی میں بھی کسی چیز کا سہارا لینا پسند نہیں فرماتے تھے ۔کلاس روم میں دوران تدریس نہ خود سہارا لیتے نہ طلبہ کو سست ہوکر بیٹھنے دیتے بلکہ پشت سیدھی کر کے بیٹھتے ۔۔دورہ حدیث کی کلاس میں آپکا درس کم از کم دو گھنٹوں پر مشتمل ہوتا لیکن کبھی بھی ٹانگیں پسار کر یا ٹیک لگا کر نہ بیٹھتے۔یوں لگتا تھا جیسے آپ نے دوزانو بیٹھنے کی لمبی ریاضت کر رکھی ہو۔
بعض لوگ پشت سیدھی کر کے بیٹھتے ہیں تو انکے انداز میں اکڑ نمایاں ہو جاتی ہے یا چھاتی باہر نکال لیتے ہیں ۔لیکن حضور ضیاءالامت کے انداز نشست میں نہ سستی ہے نہ تکبر ہے۔بلکہ چستی اور عاجزی کا حسین امتزاج ہے۔حضور کی آنکھیں نیم وا نہیں بلکہ مکمل کھلی ہیں اور آپ پوری توجہ سے بیٹھے ہیں ۔اپ ایک لمبا سفر کر کے تشریف لے گئے تھے لیکن آپکے چہرے پر تھکن کے آثار نہیں ۔اپکا چہرہ تر و تازہ اور انداز ایسا کہ جیسے کہ آپ پورے اجتماع کو اپنی آنکھوں کے سامنے رکھ کر بیٹھے ہوں۔
آپکے عقبی دیواروں پر آرائشی قالین اور جاے نماز کے عکس لگے ہوے ہیں ۔اپکے عین سامنے ٹینٹ کا ایک بانس ہے جس پر دو رنگوں کے کاغذ لگا کر اسے خوبصورت بنایا گیا ہے ۔۔۔
یوں معلوم ہوتا ہے میزبانوں نے سارے شوق پورے کیے ہیں اور حضور ضیاءالامت نے بھی شفقت و محبت کی انتہا کر دی ہے۔
اگر کسی دوست کے پاس مزید تصاویر ہوں تو ارسال فرمائیں انکے شکریہ کے ساتھ تصویر کہانی لکھی جاے گی
والسلام
میاں محمد نعیم الدین
ترجمان پیر ہاؤس بھیرہ شریف
20 جولائی 2026 بروز پیر

20/07/2026
درخشاں شخصیات تحریک علم و آدب بھیرہ شریف  نام کمنٹس کریں
19/07/2026

درخشاں شخصیات تحریک علم و آدب بھیرہ شریف نام کمنٹس کریں

علمی روایت کا تسلسل اور علمی مقام کا تحفظ — حضور ضیاءالامت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا نمایاں...
19/07/2026

علمی روایت کا تسلسل اور علمی مقام کا تحفظ — حضور ضیاءالامت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا نمایاں طرۂ امتیاز

تحریر :پروفیسر ملک مبشر حسین اعوان

کسی بھی قوم کی بقا، اس کی تہذیبی شناخت اور فکری استحکام کا راز اس کی علمی روایت کے تسلسل میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ وہ معاشرے جو اپنے علمی ورثے کو محفوظ رکھتے ہیں، اپنے اکابر کی فکر کو زندہ رکھتے ہیں اور علم کو نسل در نسل منتقل کرتے ہیں، وہی تاریخ میں دائمی عزت اور وقار کے مستحق قرار پاتے ہیں۔ اسلامی تاریخ اس حقیقت کی روشن ترین مثال ہے کہ یہاں علم صرف معلومات کا نام نہیں بلکہ امانت، ذمہ داری، کردار اور خدمتِ دین کا عنوان ہے۔

برصغیر کی علمی و دینی تاریخ میں جب ان شخصیات کا ذکر کیا جاتا ہے جنہوں نے علم و تحقیق کے چراغ کو فروزاں رکھا، علمی روایت کو مضبوط کیا اور امت کو فکری رہنمائی عطا کی، تو حضور ضیاءالامت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا اسمِ گرامی نہایت احترام اور عقیدت کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ آپ کی پوری زندگی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ علمی روایت کا تسلسل اور علمی مقام کا تحفظ صرف دعووں سے نہیں بلکہ مسلسل محنت، اخلاص، تحقیق اور کردار سے قائم رہتا ہے۔

حضور ضیاءالامت رحمۃ اللہ علیہ ایک ایسے عالمِ ربانی تھے جنہوں نے اسلاف کے علمی سرمائے کو محض محفوظ رکھنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اسے عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق پیش کیا۔ آپ کے نزدیک علم کا مقصد صرف درسگاہوں تک محدود نہیں تھا بلکہ معاشرے کی اصلاح، امت کی فکری رہنمائی اور محبتِ رسولِ اکرم ﷺ کو دلوں میں راسخ کرنا بھی تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی ہر تصنیف، ہر درس، ہر خطاب اور ہر فیصلہ علم و حکمت کا آئینہ دار نظر آتا ہے۔

آپ کی شخصیت کا ایک درخشاں پہلو یہ تھا کہ آپ نے علمی وقار کو ہمیشہ تحقیق اور اعتدال کے ساتھ جوڑا۔ اختلاف کے ماحول میں بھی آپ نے شائستگی، دلیل اور علمی دیانت کو اپنا شعار بنایا۔ آپ کی گفتگو میں وزن تھا، تحریر میں گہرائی تھی اور استدلال میں وہ مضبوطی تھی جو برسوں کے مطالعے، تدبر اور اخلاص کا ثمر ہوتی ہے۔

آپ کی علمی خدمات میں "ضیاء القرآن" اور "ضیاء النبی ﷺ" جیسی شاہکار تصانیف آج بھی اہلِ علم کے لیے سرمایۂ افتخار ہیں۔ ان کتابوں میں صرف معلومات نہیں بلکہ تحقیق، عشقِ رسول ﷺ، اعتدالِ فکر اور علمی بصیرت کا حسین امتزاج موجود ہے۔ یہی وہ خصوصیات ہیں جنہوں نے آپ کو اپنے عہد کے ممتاز مفسر، محقق اور مفکر کی حیثیت سے منفرد مقام عطا کیا۔

علمی روایت کا تسلسل صرف کتابوں سے قائم نہیں رہتا بلکہ ایسے اداروں اور شاگردوں سے برقرار رہتا ہے جو اپنے اساتذہ کے علم، فکر اور اخلاق کے امین ہوں۔ حضور ضیاءالامت رحمۃ اللہ علیہ نے اسی حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے تدریس، تربیت اور ادارہ سازی پر خصوصی توجہ دی۔ آپ کے فیض یافتہ علماء آج پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں دین کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ یہ سب آپ کی علمی فکر کے تسلسل اور آپ کی تربیت کی کامیابی کا روشن ثبوت ہیں۔

آپ نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ عالمِ دین کو زمانے کے تقاضوں سے آگاہ ہونا چاہیے، مگر اپنی علمی بنیادوں سے کبھی غافل نہیں ہونا چاہیے۔ یہی اعتدال آپ کی شخصیت کا حسن تھا۔ آپ روایت کے محافظ بھی تھے اور عصری شعور کے حامل بھی۔ آپ ماضی سے وابستہ بھی تھے اور مستقبل پر بھی گہری نظر رکھتے تھے۔ یہی جامعیت آپ کو اپنے معاصرین میں ممتاز کرتی ہے۔

آج جبکہ علم کے نام پر سطحیت، تحقیق کے نام پر جلد بازی اور اظہارِ رائے کے نام پر غیر ذمہ داری عام ہوتی جا رہی ہے، حضور ضیاءالامت رحمۃ اللہ علیہ کی علمی زندگی ہمارے لیے ایک روشن مینار کی حیثیت رکھتی ہے۔ آپ ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ علمی عظمت صرف کثرتِ معلومات میں نہیں بلکہ اخلاص، تحقیق، تحمل، کردار اور خدمتِ دین میں ہے۔

یہی وجہ ہے کہ حضور ضیاءالامت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا نام صرف ایک عظیم مفسر، محدث یا مصنف کے طور پر نہیں لیا جاتا بلکہ ایک ایسی ہمہ جہت علمی شخصیت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جس نے علمی روایت کو نئی زندگی بخشی، علمی وقار کو محفوظ رکھا اور آنے والی نسلوں کے لیے علم و عمل کا ایسا روشن راستہ چھوڑا جس پر چل کر آج بھی ہزاروں علماء، طلبہ اور محققین اپنی علمی پیاس بجھا رہے ہیں۔

اللہ تعالیٰ حضور ضیاءالامت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے درجات مزید بلند فرمائے، ان کی علمی خدمات کو ہمیشہ زندہ و تابندہ رکھے اور ہمیں بھی ان کی علمی دیانت، اخلاص، تحقیق اور خدمتِ دین کے جذبے سے حصہ عطا فرمائے۔ آمین۔

ایک بار زندہ باد کہنا مت بھولیں
19/07/2026

ایک بار زندہ باد کہنا مت بھولیں

19/07/2026

اپنی محبتوں کا اتنا اظہار کریں شئیر اور فالو کرکے کہ میلن کی ریٹننگ نظر آ آئے

Address

Islamabad
Rawalpindi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ضیاء الامت فاونڈیشن کوہسار posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share