ضیاء الامت فاونڈیشن کوہسار

Call Directions Website

ضیاء الامت فاونڈیشن کوہسار فیضان حضور ضیاء الامت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازھری

یومِ اساتذہ: استاد کا احترام یا اجتماعی منافقت؟تحریر پروفیسر ملک مبشر حسین اعوان پرنسپل بیکن مائنڈ ایجوکیشن سسٹم اسلام آ...
05/10/2026

یومِ اساتذہ: استاد کا احترام یا اجتماعی منافقت؟
تحریر پروفیسر ملک مبشر حسین اعوان
پرنسپل بیکن مائنڈ ایجوکیشن سسٹم اسلام آباد

ہر سال یومِ اساتذہ آتا ہے۔ سوشل میڈیا پر استاد کی عظمت کے قصیدے شروع ہو جاتے ہیں۔ خوبصورت پوسٹر بنتے ہیں، پھول پیش کیے جاتے ہیں، تقریریں ہوتی ہیں، ’’استاد قوم کا معمار ہے‘‘ جیسے جملے دہرائے جاتے ہیں اور چند گھنٹوں کے لیے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اس معاشرے میں استاد سے زیادہ محترم کوئی شخص نہیں۔

مگر اگلی صبح حقیقت پھر دروازے پر کھڑی ہوتی ہے۔

وہی استاد کم تنخواہ کے ساتھ کلاس روم میں داخل ہوتا ہے، وہی استاد مہنگائی سے لڑتا ہے، وہی استاد اپنے بچوں کی فیس ادا کرنے کے لیے پریشان ہوتا ہے، وہی استاد انتظامیہ کے دباؤ، والدین کی توقعات اور معاشرتی بے اعتنائی کے درمیان اپنے شاگردوں کا مستقبل سنوارنے کی کوشش کرتا ہے۔

یہ کیسا احترام ہے جو صرف ایک دن یاد آتا ہے؟

اگر استاد واقعی قوم کا معمار ہے تو پھر اس کی اپنی زندگی کی بنیادیں اتنی کمزور کیوں ہیں؟

یہ سوال صرف حکومت سے نہیں، والدین سے بھی ہے، تعلیمی اداروں سے بھی ہے، معاشرے سے بھی ہے اور خود ہم سب سے بھی ہے۔

ہم استاد سے چاہتے ہیں کہ وہ ہمارے بچے کو علم دے، تہذیب دے، اخلاق دے، نظم و ضبط سکھائے، کردار بنائے، اس کی کمزوریاں دور کرے اور اسے کامیاب انسان بنائے۔ لیکن جب استاد کے حق کی بات آتی ہے تو ہمارے رویے بدل جاتے ہیں۔ بچے کی مہنگی کتاب قابلِ قبول ہے، مہنگی یونیفارم قابلِ قبول ہے، موبائل اور دیگر سہولیات قابلِ قبول ہیں، مگر استاد کی مناسب اجرت پر سوال اٹھنے لگتا ہے۔

ہم نے تعلیم کو بھی ایک عجیب کاروباری منطق میں قید کر دیا ہے:
بچے پر خرچ سرمایہ کاری ہے، استاد پر خرچ اخراجات!

یہ سوچ صرف استاد کی توہین نہیں، تعلیم کی توہین ہے۔

استاد بھی انسان ہے۔ اس کے گھر میں بھی چولہا جلتا ہے۔ اس کے بچے بھی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ اسے بھی بیماری آتی ہے، بجلی کا بل آتا ہے، کرایہ دینا ہوتا ہے، سفر کا خرچ اٹھانا ہوتا ہے اور اپنے خاندان کے مستقبل کی فکر ہوتی ہے۔ لیکن معاشرہ اس سے ایسی قربانی مانگتا ہے جیسے استاد کی اپنی کوئی ضرورت ہی نہ ہو۔

سب سے افسوس ناک رویہ بعض تعلیمی اداروں کا ہے، جہاں استاد کو ’’تعلیمی کارکن‘‘ سے زیادہ ایک ایسے ملازم کے طور پر دیکھا جاتا ہے جس سے کم سے کم معاوضے میں زیادہ سے زیادہ کام لیا جائے۔

کلاس پڑھاؤ، کاپیاں چیک کرو، امتحانات لو، ریکارڈ بناؤ، رپورٹس تیار کرو، تقریبات میں ڈیوٹی دو، والدین کو جواب دو، نتائج بہتر کرو، داخلے بڑھاؤ، ادارے کی تشہیر کرو؛ لیکن جب استاد اپنے حق کی بات کرے تو اسے یاد دلایا جاتا ہے کہ ’’آپ تو قوم کے معمار ہیں!‘‘

کیا خوبصورت جملہ ہے!

جس معاشرے میں کسی کے استحصال کو چھپانے کے لیے اس کی عظمت کے قصیدے پڑھے جانے لگیں، وہاں مسئلہ صرف معاشی نہیں رہتا، اخلاقی بھی بن جاتا ہے۔

والدین کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ بچے کی تعلیمی ناکامی پر فوراً استاد کٹہرے میں کھڑا کر دیا جاتا ہے، لیکن بچے کی تربیت، گھر کے ماحول، موبائل کے بے قابو استعمال، مطالعے سے دوری اور والدین کی اپنی عدم توجہی پر سوال نہیں اٹھایا جاتا۔

استاد کو بچے کی ہر خامی کا ذمہ دار قرار دینا آسان ہے؛ اپنے حصے کی ذمہ داری قبول کرنا مشکل۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ بچہ صرف اسکول سے تعلیم نہیں لیتا؛ وہ گھر، اسکول اور معاشرے کے مجموعی ماحول سے شخصیت حاصل کرتا ہے۔

استاد اکیلا قوم نہیں بنا سکتا۔

استاد راستہ دکھا سکتا ہے، مگر گھر کو بھی اس راستے پر چلنا ہوگا۔ استاد تربیت کر سکتا ہے، مگر معاشرے کو بھی اپنے رویے سے وہی اقدار دکھانا ہوں گی۔ استاد کتاب دے سکتا ہے، مگر زندگی کو بھی کتاب کے اصولوں کی تصدیق کرنا ہوگی۔

اور ہاں، استاد کو بھی اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا۔

استاد ہونا محض نوکری نہیں، ایک امانت ہے۔ اگر استاد علم کے بجائے صرف حاضری پوری کرے، کردار کے بجائے صرف نصاب مکمل کرے، سوال اٹھانے کے بجائے رٹا لگوائے اور اپنے پیشے کو صرف تنخواہ کا ذریعہ سمجھ لے تو اسے بھی اپنے منصب کا احتساب کرنا ہوگا۔

استاد کے حقوق کی بات کا مطلب یہ نہیں کہ استاد احتساب سے بالاتر ہے۔

اصل انقلاب تب آئے گا جب استاد کو عزت بھی ملے گی اور جواب دہی بھی؛ اختیار بھی ملے گا اور ذمہ داری بھی؛ مناسب معاوضہ بھی ملے گا اور اعلیٰ معیار کی توقع بھی۔

ہمیں یومِ اساتذہ کو رسمی دن بنانے کے بجائے ایک اجتماعی احتساب کا دن بنانا ہوگا۔

اس دن یہ سوال ہونا چاہیے:

کیا ہمارے استاد کو باعزت روزگار حاصل ہے؟

کیا اسے اس کی محنت کے مطابق معاوضہ مل رہا ہے؟

کیا اسے کلاس روم میں عزت اور انتظامیہ میں آواز حاصل ہے؟

کیا والدین اسے شریکِ تربیت سمجھتے ہیں یا صرف اپنے بچے کے نتائج کا ذمہ دار؟

کیا تعلیمی ادارے استاد کو سرمایہ سمجھتے ہیں یا خرچ؟

اور سب سے بڑھ کر:

کیا ہم واقعی استاد کا احترام کرتے ہیں یا صرف استاد کے نام کا احترام کرتے ہیں؟

کیونکہ احترام کا سب سے بڑا ثبوت تالیاں نہیں، انصاف ہے۔

پھول نہیں، حقوق ہیں۔

تقریریں نہیں، عمل ہے۔

اگر ہم استاد کو قوم کا معمار کہتے ہیں تو پھر اس معمار کو معاشی ملبے کے نیچے دبانا بند کرنا ہوگا۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ استاد نسلیں سنوارے تو پہلے ہمیں استاد کی زندگی سنوارنی ہوگی۔

اور اگر ہم نے استاد کو مسلسل بے توقیری، کم اجرت، غیر یقینی روزگار اور غیر ضروری دباؤ کے حوالے کیے رکھا تو یاد رکھیے، ہم صرف ایک استاد کو نہیں توڑ رہے؛ ہم آنے والی نسلوں کے کردار، علم اور مستقبل کو کمزور کر رہے ہیں۔

یومِ اساتذہ منانے کا سب سے انقلابی طریقہ یہ ہے کہ استاد کو ایک دن کے لیے نہیں، پورے سال کے لیے انسان سمجھا جائے۔

کیونکہ جس معاشرے میں استاد مجبور ہو جائے، وہاں تعلیم کمزور ہوتی ہے؛
تعلیم کمزور ہو تو کردار کمزور ہوتا ہے؛
اور کردار کمزور ہو جائے تو قومیں صرف عمارتیں بناتی ہیں، تاریخ نہیں۔

ضیاءُ القرآن — قرآن فہمی کی ایک روشن روایتتحریر: پروفیسر ملک مبشر حسین اعوانپرنسپل، الصراط اسلامک انسٹیٹیوٹ اسلام آبادقر...
05/10/2026

ضیاءُ القرآن — قرآن فہمی کی ایک روشن روایت

تحریر: پروفیسر ملک مبشر حسین اعوان
پرنسپل، الصراط اسلامک انسٹیٹیوٹ اسلام آباد

قرآنِ مجید اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب ہے، جو قیامت تک انسانیت کے لیے ہدایت، فکر، کردار اور زندگی کی رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔ ہر دور میں اہلِ علم نے اپنے عہد کی علمی ضرورتوں اور فکری تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے قرآنِ کریم کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی۔ برصغیر کی علمی تاریخ میں تفسیرِ قرآن کی ایک نہایت روشن روایت قائم کرنے والوں میں حضور ضیاءُ الامت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ علیہ کا نام نمایاں حیثیت رکھتا ہے، اور اس روایت کا سب سے درخشاں مظہر “ضیاءُ القرآن” ہے۔

ضیاءُ القرآن محض آیات کے ترجمے اور الفاظ کی تشریح کا مجموعہ نہیں، بلکہ قرآنِ کریم کے پیغام کو علمی گہرائی، روحانی تاثیر اور عصری شعور کے ساتھ سمجھنے اور سمجھانے کی ایک جامع کوشش ہے۔ حضور ضیاءُ الامت نے تفسیر لکھتے ہوئے اس حقیقت کو پیشِ نظر رکھا کہ قرآن صرف پڑھنے کی کتاب نہیں بلکہ سمجھنے، غور کرنے، عمل کرنے اور زندگی کو اس کی روشنی میں ڈھالنے کی کتاب ہے۔

ان کی علمی شخصیت کی تشکیل ایک طویل اور متنوع علمی سفر سے ہوئی تھی۔ دینی علوم کی ابتدائی تعلیم، عربی و فارسی کا مطالعہ، حدیث و فقہ کی تحصیل، مرادآباد کا علمی ماحول، پنجاب یونیورسٹی کی جدید تعلیم اور پھر جامعہ الازہر مصر سے وابستگی نے ان کے اندر ایک ایسی علمی وسعت پیدا کی جس میں روایت اور تحقیق، قدیم علوم اور عصری فکر، نص اور استدلال ایک دوسرے سے مربوط ہو گئے۔ یہی علمی پس منظر بعد میں ان کی تفسیر کے مزاج میں نمایاں نظر آتا ہے۔

ضیاءُ القرآن کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس میں قرآنِ کریم کو محض ایک محدود علمی موضوع کے طور پر نہیں دیکھا گیا بلکہ انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں سے جوڑ کر سمجھایا گیا ہے۔ عقیدہ ہو یا عبادت، اخلاق ہو یا معاشرت، سیاست ہو یا معیشت، فرد کی اصلاح ہو یا اجتماعی زندگی کی تعمیر، قرآن کے پیغام کو زندگی کے حقیقی مسائل سے مربوط کرنے کی کوشش نظر آتی ہے۔

حضور ضیاءُ الامت کی تفسیر میں زبان و بیان کی خوب صورتی بھی اپنی جگہ ایک نمایاں وصف ہے۔ مشکل علمی مباحث کو ایسی رواں اور شگفتہ اردو میں بیان کیا گیا ہے کہ قاری علمی گفتگو کے ساتھ ساتھ ایک ادبی لطف بھی محسوس کرتا ہے۔ آیات کے مفہوم کی وضاحت میں عربی لغت، حدیث، فقہ، سیرت اور سابقہ تفسیری روایت سے استفادہ کرتے ہوئے ایسا اسلوب اختیار کیا گیا ہے جو عام قاری اور سنجیدہ طالبِ علم دونوں کے لیے یکساں طور پر مفید بن جاتا ہے۔

قرآن فہمی کی اصل روح صرف یہ جان لینا نہیں کہ آیت کا لفظی مفہوم کیا ہے، بلکہ یہ سمجھنا بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے کیا چاہتے ہیں۔ حضور ضیاءُ الامت کی تفسیر کا امتیاز یہی ہے کہ وہ آیت کے مفہوم سے قاری کو اس کے عملی تقاضے تک لے جانے کی کوشش کرتی ہے۔ یوں تفسیر ایک علمی مطالعہ رہنے کے بجائے تربیت اور اصلاح کا ذریعہ بن جاتی ہے۔

ضیاءُ القرآن میں سیرتِ رسولِ اکرم ﷺ سے گہرا تعلق بھی نمایاں ہے۔ قرآنِ کریم کے بہت سے احکام اور تعلیمات کی عملی تصویر حیاتِ طیبہ میں سامنے آتی ہے، اس لیے حضور ضیاءُ الامت نے قرآن کے پیغام کو سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کی روشنی میں سمجھنے کی اہمیت کو ملحوظ رکھا۔ یہی قرآنی اور سیرتی ربط ان کے تفسیری اسلوب کو ایک خاص روحانی تاثیر عطا کرتا ہے۔

ان کی تفسیر کا ایک اور اہم پہلو اعتدال ہے۔ قرآن فہمی میں افراط و تفریط دونوں سے بچتے ہوئے انہوں نے اہلِ سنت کی علمی روایت، فقہی اصول اور معتبر تفسیری ذخیرے سے استفادہ کیا۔ وہ نہ تو قرآن کو صرف فلسفیانہ مباحث میں محدود کرتے ہیں اور نہ اسے محض سطحی وعظ کا موضوع بناتے ہیں؛ بلکہ علمی تحقیق اور روحانی تربیت کے درمیان ایک متوازن راستہ اختیار کرتے ہیں۔

ضیاءُ القرآن کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہ ایک ایسے عالمِ دین کی کاوش ہے جو صرف مفسر ہی نہیں تھا بلکہ فقہ، حدیث، سیرت، قانون اور جدید علمی مباحث سے بھی واقف تھا۔ اسی وسیع علمی پس منظر نے انہیں قرآن کے پیغام کو مختلف زاویوں سے دیکھنے اور قاری کے سامنے اس کے مفاہیم کو زیادہ جامع انداز میں پیش کرنے کی صلاحیت عطا کی۔

حضور ضیاءُ الامت کا یہ کارنامہ ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ قرآن فہمی ایک مسلسل سفر ہے۔ ہر نسل کو قرآن سے اپنا تعلق مضبوط کرنا، اس کے پیغام کو سمجھنا اور اپنے عہد کے مسائل میں اس کی رہنمائی تلاش کرنا ہوگی۔ تفسیر کی کتابیں اس سفر میں چراغ کی مانند ہوتی ہیں؛ وہ قاری کو متنِ قرآن کے قریب لے جاتی ہیں، اس کے معانی کے دروازے کھولتی ہیں اور فکر و عمل کی نئی سمتیں دکھاتی ہیں۔

ضیاءُ القرآن اسی روشن روایت کا ایک معتبر چراغ ہے۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ قرآن کو سمجھنے کے لیے صرف الفاظ جان لینا کافی نہیں؛ اس کے لیے علم بھی چاہیے، بصیرت بھی، ادب بھی، اخلاص بھی اور زندگی کو قرآن کے سانچے میں ڈھالنے کا عزم بھی۔

حضور ضیاءُ الامت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر کے ذریعے قرآنِ کریم کو صرف کتابِ تلاوت نہیں بلکہ کتابِ ہدایت، کتابِ فکر اور کتابِ زندگی کے طور پر پیش کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ضیاءُ القرآن محض ایک تفسیر نہیں، قرآن فہمی کی ایک روشن علمی و فکری روایت ہے؛ ایسی روایت جو قاری کو آیت سے معنی، معنی سے فکر، فکر سے عمل اور عمل سے کردار تک لے جانے کی دعوت دیتی ہے۔

تصویر کہانی ۔۔۔۔14۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حضور ضیاءالامت غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کی یہ نادر تصویر 1970 کے عشرے کی م...
04/10/2026

تصویر کہانی ۔۔۔۔14
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حضور ضیاءالامت غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کی یہ نادر تصویر 1970 کے عشرے کی معلوم ہو رہی ہے لیکن حتمی تاریخ معلوم نہیں ۔اس تصویر میں حضور ضیاءالامت رحمتہ اللہ علیہ نے سفید رنگ کا لباس زیب تن کر رکھا اور تہبند باندھی ہوئ ہے۔تہبند ہمارے پنجاب کے پہناوے کا ایک لازمی جزو ہوا کرتا تھا اس تصویر سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے بھی ایک عرصہ تک یہ پہناوا اختیار کیے رکھا۔اپ کے گلے میں کافی سارے ہار نظر ا رہے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تصویر کسی خاص موقع پر بنائ گی۔سب سے پہلے تصویر میں موجود بزرگوں کا تعارف پیش کرتا پوں۔(بائں سے دائیں)ایک وجیہ اور بارعب شخصیت کے مالک
ڈاکٹر پیر زادہ محبوب شاہ صاحب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موجود ہیں۔اپ حضرت امیر السالکین حضرت پیر امیر شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے پوتے ،حضرت پیر فتح شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے لخت جگر اور حضور ضیاءالامت رحمتہ اللہ علیہ کے چچازاد بھائی تھے۔حضور غازی اسلام حضرت پیر محمد شاہ رحمۃ اللہ علیہ کی صاحبزادی اور حضور ضیاءالامت کی ہمشیرہ آپکے عقد میں تھیں۔اپ ایک بارعب اور دبنگ شخصیت کے مالک تھے۔اپ علیگ تھے اور ایم بی بی ایس کرنے کے بعد محکمہ صحت میں اعلی انتظامی عہدوں پر فائز رہے اور کئ بڑے ہسپتالوں کے انتظامی سربراہ بھی رہے۔اپ علاقے کے متمول زمیندار تھے۔حضور ضیاء الامت سے بےپناہ محبت کرتے اور تمام معاملات میں آپکے ممد و معاون ہوتے ۔اپکی شخصیت ایک الگ مضمون کی متقاضی ہے ۔اپکئ بانہوں میں (غالبا)پیرایوب شاہ صاحب ہیں جنکا گھر دارالعلوم محمدیہ غوثیہ کے بلکل سامنے تھا ۔ڈاکٹر پیرزادہ صاحب کے ساتھ
ڈاکٹر پیر غلام حیدر شاہ صاحب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نظر آرہے ہیں ۔اپ حضور ضیاءالامت کے برادر اصغر تھے۔اپ بھی ایم بی بی ایس کرنے کے بعد شعبہ طب سے منسلک ہوے آپکے ہاتھوں میں اللہ کریم نے شفا کے خزانے رکھے ہوے تھے۔اپ کافی عرصہ شاہ پور ہسپتال میں تعینات رہے "بسم اللہ"آپکا تکیہ کلام تھا ۔لوگ اپکو ڈاکٹر بسم اللہ بھی کہتے تھے ۔اپ طبعاً دھیمے مزاج کے مالک تھے ۔اپکے محاسن کو اس مختصر مضمون میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ان دونوں بزرگوں کے درمیان کالی داڑھی والی شخصیت پیر مختار احمد ضیاء صاحب کی ہے۔جو بعد میں خلیفہ مجاز ہوے۔ڈاکٹر پیر غلام حیدر شاہ صاحب کے ساتھ پیر محمد محسن شاہ صاحب (عالم بچپن)میں دکھائی دے رہے ہیں۔حضور ضیاء الامت کے دائیں ہاتھ پر حضور قبلہ پیر محمد امین الحسنات شاہ صاحب موجود ہیں ۔انکے عقب میں حضور ضیاءالامت کے بھانجے پیرزادہ احمد جنید شاہ صاحب نظر ا رہے ہیں ۔پہلی صف میں ہی حضرت پیر محمد حفیظ البرکات شاہ صاحب عین عالم شباب میں دکھائی دے رہے ہیں جبکہ اس قطار کے آخر میں حضور ضیاءالامت کے خادم میاں طاسین کھڑے ہیں۔۔دوسری صف میں بابو غلام مرتضی صاحب ،انکے ساتھ میرے والد گرامی حضرت مولانا میاں محمد سعید اسعد صاحب اور کچھ دیگر لوگ بھی کھڑے ہیں۔یہ تصویر دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ کے مرکزی گیٹ میں بنائ گئی ۔اس کے عقب میں دربار عالیہ حضرت امیر السالکین دکھائی دے رہا ہے ۔اس تصویر میں بائں جانب "گول کمرہ"کی گیلری نظر ا رہی ہے۔یہ کمرہ حضرت قبلہ حافظ محمد خان نوری کے زیر استعمال رہتا تھا۔جبکہ گیلری کے ساتھ منسلک دوسرا کمرہ وقتا فوقتاً مختلف احباب کے استعمال میں رہا۔یہ گیلری حضور ضیاءالامت کے زوق تعمیر کا خوبصورت اظہار تھی۔اسکے بیرونی جانب دیدہ زیب ڈیزائن بنے ہوے تھے۔اس کی جالیوں کا ڈیزائن بڑی نفاست سے بنایا گیا تھا یہ پھولدار ڈیزائن اپنی مثال آپ تھا۔اس گیلری کے تین بڑے بڑے ستون تھے ۔درمیانی ستون بہت نمایاں تھا۔اس کی تعمیری چمک کبھی بھی مانند نہ پڑی۔جمعرات والے دن اس گیلری میں سٹوو (تیل سے چلنے والا چولہا)رکھ دیے جاتے اور طلبہ خود کوکنگ بھی کرتے ۔اس تصویر کی دوسری جانب ایک کمرہ نظر ا رہا ہے۔یہ کچھ عرصہ بطور استقبالیہ استعمال ہوتا رہا پھر سے ماہنامہ ضیائے حرم کے دفتر میں تبدیل کر دیا گیا اور انہدام تک یہ ضیاء حرم کا دفتر ہی رہا۔دارالعلوم کا گیٹ خوبصورت لیکن سادہ ڈیزائن کا بنا ہوا تھا۔اس پر سبز رنگ کا پینٹ کیا گیا تھا۔گیٹ کے اوپر دھاری دار نوکیلے کانٹے لگاے گئے تھے۔گیٹ کے دونوں ستون بڑے دیدہ زیب تھے۔انکے ٹاپ پر چار دھاروں والا بارک ڈیزائن بنا ہوا تھا۔یوں تو حضور ضیاءالامت کا ہر تعمیراتی کام اپنی مثال آپ تھا لیکن تمام کاموں میں ایک قدر مشترک تھی کہ وہ ایک مکمل پراجیکٹ ہوتا تھا کسی کام میں بھی ادھورے پن کا شائبہ تک نہ تھا۔اس مین گیٹ کے اندر لان کیسے تھے؟مہان خانہ کیسے بنایا گیا تھا؟مہمان خانے میں "بابا باقر"کا کیا کردار تھا؟طلبا کو متوجہ کرنے اور چھٹی کا اعلان کرنے والی گھنٹی کی کہاں لٹکائ جاتی تھی اور اسے بجانے کا کیا پروٹوکول تھ؟یہ سب باتیں کسی اگلی پوسٹ میں
جن دوستوں کے پاس اس سے منسلک کوئ واقعہ یا تصویر ہو تو کمنٹس میں ضرور بیان کریں
میاں محمد نعیم الدین
بھیرہ شریف ضلع سرگودھا
3 اکتوبر 2024 بروز جمعرات

دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف کی قدیمی عمارت، دارالمطالعہ۔
04/10/2026

دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف کی قدیمی عمارت، دارالمطالعہ۔

عدالت کے منصب پر ایک عالمِ دینتحریر: پروفیسر ملک مبشر حسین اعوانپرنسپل، الصراط اسلامک انسٹیٹیوٹ اسلام آبادحضور ضیاءُ الا...
03/10/2026

عدالت کے منصب پر ایک عالمِ دین

تحریر: پروفیسر ملک مبشر حسین اعوان
پرنسپل، الصراط اسلامک انسٹیٹیوٹ اسلام آباد

حضور ضیاءُ الامت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی محض ایک عالمِ دین، مفسر، سیرت نگار اور روحانی پیشوا کی زندگی نہیں تھی، بلکہ وہ ان اہلِ علم میں سے تھے جنہوں نے دینی بصیرت کو عملی زندگی کے مختلف میدانوں میں بروئے کار لا کر ایک منفرد علمی و فکری روایت قائم کی۔ ان کی شخصیت کا ایک نہایت اہم اور تاریخی پہلو ان کا عدالتی سفر ہے، جہاں ایک صاحبِ شریعت عالمِ دین نے عدالت کے منصب کو علم، فقہ، انصاف اور آئینی ذمہ داری کے ساتھ نبھایا۔

حضور ضیاءُ الامت کی علمی تشکیل ایک طویل اور کثیرالجہتی سفر کا نتیجہ تھی۔ ابتدائی دینی تعلیم سے لے کر عربی و فارسی، مرادآباد میں حدیث کی تحصیل، پنجاب یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم اور پھر جامعہ الازہر مصر میں اسلامی قانون کے اعلیٰ مطالعے تک ان کی علمی شخصیت مختلف مراحل سے گزری۔ یہی وجہ تھی کہ جب وہ عدالتی منصب پر فائز ہوئے تو ان کے پاس صرف فقہی معلومات نہیں تھیں بلکہ اسلامی قانون کے اصول، جدید تعلیم کا شعور اور عصرِ حاضر کے قانونی تقاضوں کو سمجھنے کی صلاحیت بھی موجود تھی۔ ان کی شخصیت میں قدیم علمی روایت اور جدید قانونی فکر کا ایک منفرد امتزاج پیدا ہو چکا تھا۔

پاکستان میں اسلامی قوانین کے آئینی جائزے کے لیے وفاقی شرعی عدالت کا قیام ایک اہم آئینی پیش رفت تھی۔ 1980ء کی آئینی ترمیم کے بعد وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ میں شریعت اپیلیٹ بینچ کا آئینی نظام سامنے آیا، جس کا مقصد قوانین کو قرآن و سنت کے اسلامی احکام کی روشنی میں جانچنے کے لیے ایک مخصوص عدالتی ڈھانچہ فراہم کرنا تھا۔ آئین کے تحت شریعت اپیلیٹ بینچ میں سپریم کورٹ کے مسلمان ججوں کے ساتھ علماء کو بھی شامل کرنے کی گنجائش رکھی گئی، تاکہ اسلامی قانون کے تخصص رکھنے والے اہلِ علم عدالتی غور و فکر میں براہِ راست شریک ہوں۔

اسی تاریخی پس منظر میں حضور ضیاءُ الامت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ علیہ جون 1981ء میں وفاقی شرعی عدالت کے جج مقرر ہوئے۔ یہ تقرری محض ایک انتظامی عہدہ حاصل کرنا نہیں تھی بلکہ ان کے طویل علمی سفر کا ایک ایسا مرحلہ تھا جہاں ان کی فقہی بصیرت اور اسلامی قانون سے گہری وابستگی قومی عدالتی نظام کے ساتھ براہِ راست منسلک ہو گئی۔

وفاقی شرعی عدالت میں ان کی ذمہ داری کا بنیادی تعلق اس وسیع تر آئینی تصور سے تھا کہ ملک کے قوانین کو اسلامی احکام کی روشنی میں پرکھا جائے۔ اس منصب پر ایک عالمِ دین کی موجودگی اس اعتبار سے بھی اہم تھی کہ قانونی دفعات کی تعبیر کے ساتھ ساتھ قرآن و سنت، فقہ اسلامی اور اصولِ شریعت کے علمی پہلو بھی عدالتی غور و فکر کا حصہ بنتے تھے۔ وفاقی شرعی عدالت کو کسی قانون کو اسلامی احکام سے متصادم قرار دینے کا اختیار حاصل تھا، اور اس نظام میں علماء کی شمولیت اسلامی قانونی اصولوں کی تخصصی تفہیم کے لیے اہم سمجھی گئی۔

حضور ضیاءُ الامت کا اگلا اہم عدالتی مرحلہ سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بینچ سے وابستہ ہونا تھا۔ دستیاب تحقیقی حوالوں کے مطابق 7 اکتوبر 1982ء کو انہوں نے سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بینچ میں خدمات کا آغاز کیا اور اپنی وفات تک اس عدالتی ذمہ داری سے وابستہ رہے۔

شریعت اپیلیٹ بینچ کا کردار نہایت اہم تھا۔ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلوں کے خلاف اپیلیں اسی آئینی نظام کے تحت سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بینچ کے سامنے آتی تھیں۔ آئین میں اس بینچ کے لیے سپریم کورٹ کے مسلمان ججوں کے ساتھ علماء کی شمولیت کی جو گنجائش رکھی گئی، اس کا مقصد یہ تھا کہ اعلیٰ ترین عدالتی سطح پر اسلامی قانون کے پیچیدہ مسائل پر قانونی اور شرعی دونوں زاویوں سے غور کیا جا سکے۔

یہاں حضور ضیاءُ الامت کی شخصیت اپنی پوری معنویت کے ساتھ سامنے آتی ہے۔ ایک طرف وہ قرآنِ کریم کے مفسر تھے، دوسری طرف سیرتِ رسول ﷺ کے عظیم مصنف؛ ایک طرف فقہ و حدیث کے عالم تھے، دوسری طرف جدید قانونی و عدالتی نظام سے واقف تھے۔ چنانچہ شریعت اپیلیٹ بینچ میں ان کی موجودگی اس علمی امتزاج کی عملی صورت تھی جس میں نصوصِ شرعیہ، فقہی اصول، قانونی استدلال اور عدالتی تقاضے ایک ہی فکری دائرے میں جمع ہو جاتے ہیں۔

ان کے رفیقِ کار مفتی محمد تقی عثمانی نے بھی اپنے ایک یادداشت نما مضمون میں بیان کیا ہے کہ سپریم کورٹ کے اس شریعت اپیلیٹ بینچ میں جسٹس محمد افضل زلہ، جسٹس نسیم حسن شاہ اور جسٹس شیخ رفیق الرحمن کے ساتھ حضرت پیر محمد کرم شاہ الازہری اور خود انہیں عالم ججوں کی حیثیت سے شامل کیا گیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی ذکر کیا کہ مختلف مسائل میں اختلافِ رائے کے باوجود باہمی علمی احترام برقرار رہا۔

یہ پہلو حضور ضیاءُ الامت کی عدالتی شخصیت کو سمجھنے کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اختلافِ رائے عدالت کی کمزوری نہیں بلکہ عدالتی تحقیق کا لازمی حصہ ہے، بشرطیکہ اختلاف دلیل کے دائرے میں رہے۔ ایک عالمِ دین جب اعلیٰ عدالت میں بیٹھتا ہے تو اس کے سامنے صرف یہ سوال نہیں ہوتا کہ قانون کیا کہتا ہے، بلکہ یہ سوال بھی ہوتا ہے کہ شریعت کے اصول اس معاملے کو کس زاویے سے دیکھتے ہیں، فقہی روایت میں اس کی بنیاد کیا ہے، نصوصِ شرعیہ سے اس کی رہنمائی کیسے حاصل ہوتی ہے اور موجودہ قانونی نظام میں اس کی تعبیر کس طرح کی جائے۔

حضور ضیاءُ الامت کے عدالتی سفر کی اہمیت اسی مقام پر مزید واضح ہوتی ہے کہ انہوں نے اپنے علمی سرمایے کو عدالت کی چار دیواری تک محدود نہیں رکھا، بلکہ عدالت کے منصب کو بھی علم و تحقیق کے ایک میدان کے طور پر برتا۔ ان کی شخصیت ہمیں یہ تصور دیتی ہے کہ عالمِ دین کا دائرۂ کار صرف درس گاہ، مسجد یا مدرسہ نہیں؛ اگر وہ عصرِ حاضر کے تقاضوں سے واقف ہو تو وہ قانون، عدالت، تعلیم اور ریاستی اداروں میں بھی اپنے علم کے ذریعے رہنمائی فراہم کر سکتا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں حضور ضیاءُ الامت کا عدالتی کردار ان کے پورے علمی سفر سے جڑ جاتا ہے۔ مرادآباد کی حدیث کی درس گاہ سے لے کر الازہر کے علمی ماحول تک، فقہ و تفسیر کے مطالعے سے لے کر تصنیف و تدریس تک، اور پھر وفاقی شرعی عدالت سے سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بینچ تک، ان کی زندگی کا ہر مرحلہ ایک دوسرے سے مربوط دکھائی دیتا ہے۔ عدالت کی کرسی ان کی علمی زندگی سے الگ کوئی واقعہ نہیں تھی بلکہ ان کے علم کی عملی آزمائش اور قومی سطح پر اس کے استعمال کا ایک اہم باب تھی۔

حضور ضیاءُ الامت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ علیہ 7 اپریل 1998ء کو اس دنیا سے رخصت ہوئے، مگر ان کا علمی اور عدالتی سفر آج بھی اس سوال کو زندہ رکھتا ہے کہ ایک عالمِ دین جدید ریاست کے قانونی نظام میں کیا کردار ادا کر سکتا ہے؟ ان کی زندگی کا جواب یہ ہے کہ جب دینی علم گہری فقہی بصیرت، عصری شعور، اخلاقی ذمہ داری اور انصاف کے احساس کے ساتھ جمع ہو جائے تو عالمِ دین محض ماضی کا وارث نہیں رہتا، بلکہ اپنے عہد کے پیچیدہ مسائل میں رہنمائی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

حضور ضیاءُ الامت کی عدالتی زندگی دراصل علم اور عمل کے اسی ربط کی داستان ہے۔ وہ عدالت میں صرف ایک جج کی حیثیت سے نہیں بیٹھے تھے؛ ان کے ساتھ ایک طویل علمی روایت، فقہ و شریعت کا سرمایہ، قرآن و سنت کی روشنی اور ایک عالمِ دین کی ذمہ داری بھی موجود تھی۔ یہی وہ پہلو ہے جو ان کے عدالتی منصب کو ان کی پوری علمی و روحانی زندگی کا ایک باوقار اور تاریخی باب بنا دیتا ہے۔

03/10/2026
قدیم دینی علوم اور جدید تعلیمحضور ضیاءُ الامت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ علیہ کا تعلیمی نظریہتحریر: پروفیسر...
03/10/2026

قدیم دینی علوم اور جدید تعلیم

حضور ضیاءُ الامت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ علیہ کا تعلیمی نظریہ

تحریر: پروفیسر ملک مبشر حسین اعوان
پرنسپل، الصراط اسلامک انسٹیٹیوٹ اسلام آباد

تعلیم کسی قوم کی صرف ضرورت نہیں ہوتی، اس کی فکری سمت کا تعین بھی کرتی ہے۔ قومیں صرف عمارتوں، سڑکوں اور صنعتوں سے ترقی نہیں کرتیں؛ ان کی اصل ترقی اس وقت شروع ہوتی ہے جب ان کے پاس ایسا تعلیمی تصور موجود ہو جو انہیں اپنی تہذیبی شناخت سے بھی جوڑے اور زمانے کے بدلتے ہوئے تقاضوں سے بھی ہم آہنگ رکھے۔

برصغیر کی علمی تاریخ میں حضور ضیاءُ الامت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت اس اعتبار سے نہایت اہم دکھائی دیتی ہے کہ ان کے علمی سفر میں دینی علوم کی گہری روایت بھی موجود تھی اور عصری تعلیم کا شعور بھی۔ ان کے نزدیک قدیم دینی علوم اور جدید تعلیم ایک دوسرے کے حریف نہیں تھے؛ دونوں کو صحیح مقصد اور درست سمت کے ساتھ انسان کی علمی و اخلاقی تعمیر کا ذریعہ بنایا جا سکتا تھا۔

حضور ضیاءُ الامت رحمۃ اللہ علیہ نے خود علم کے مختلف سرچشموں سے استفادہ کیا۔ ابتدائی دینی تعلیم کے ساتھ رسمی و عصری تعلیم حاصل کی، عربی و فارسی علوم سے فیض پایا، مرادآباد میں درسِ حدیث کی تکمیل کی، پنجاب یونیورسٹی سے بی اے کیا اور پھر جامعہ الازہر کے علمی ماحول سے وابستہ ہوئے۔ ان کا اپنا علمی سفر اس بات کی عملی شہادت تھا کہ ایک مسلمان طالب علم دینی روایت سے مضبوط تعلق برقرار رکھتے ہوئے جدید علمی دنیا سے بھی استفادہ کر سکتا ہے۔

ان کے تعلیمی تصور میں سب سے بنیادی بات یہ تھی کہ تعلیم انسان کو اس کی شناخت سے محروم نہ کرے۔

جدید علوم حاصل کرنا ضروری ہو سکتا ہے، لیکن اگر تعلیم انسان کو اپنی تہذیب، اخلاق، دینی اقدار اور روحانی ورثے سے کاٹ دے تو ترقی یک رُخی ہو جاتی ہے۔ اسی طرح اگر دینی تعلیم زمانے کے بدلتے ہوئے حالات، نئے علمی مباحث اور معاشرتی ضروریات سے بے خبر ہو جائے تو اس کے عملی اثرات محدود ہو سکتے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ علم کے دونوں دھاروں کو ایک دوسرے کی ضد بنانے کے بجائے ان کے درمیان ایک بامعنی ربط پیدا کیا جائے۔

قدیم دینی علوم انسان کو وحی، اخلاق، عبادت، حلال و حرام، ذمہ داری اور مقصدِ حیات کا شعور دیتے ہیں، جبکہ جدید علوم اسے کائنات، معاشرے، ٹیکنالوجی، معیشت، انتظام اور بدلتی ہوئی دنیا کو سمجھنے کے نئے ذرائع فراہم کرتے ہیں۔

ایک طرف دل کی تربیت ہو اور دوسری طرف ذہن کی وسعت؛ ایک طرف اقدار کی مضبوطی ہو اور دوسری طرف زمانے کی نبض سے واقفیت—یہ امتزاج ایک متوازن شخصیت کی بنیاد بن سکتا ہے۔

حضور ضیاءُ الامت رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت میں یہی توازن نمایاں نظر آتا ہے۔ ان کے علمی ذوق میں قرآن و حدیث کی گہرائی بھی تھی، عربی زبان و ادب کا شعور بھی، فقہی بصیرت بھی اور جدید علمی ماحول سے واقفیت بھی۔ یہی جامع علمی مزاج بعد میں ان کی تدریس، تصنیف، ادارہ سازی اور دیگر علمی خدمات میں بھی جھلکتا رہا۔

ان کا تصورِ تعلیم محض اسناد پیدا کرنے کا تصور نہیں تھا۔ ان کے نزدیک تعلیم کا مقصد ایسا انسان تیار کرنا تھا جو علم رکھتا ہو، مگر علم کے ساتھ شعور بھی؛ جس کے پاس دلیل ہو، مگر دلیل کے ساتھ اخلاق بھی؛ جس کی نظر جدید دنیا پر ہو، مگر قدم اپنی تہذیبی اور دینی بنیاد پر مضبوطی سے قائم ہوں۔

یہاں سے تعلیم اور تربیت کا رشتہ بھی سامنے آتا ہے۔

اگر جدید تعلیم انسان کو صرف ہنر دے مگر اخلاق نہ دے تو اس ہنر کا رخ درست سمت میں رہنا ضروری نہیں۔ اگر دینی تعلیم انسان کو اقدار تو دے مگر دنیا کے بدلتے ہوئے تقاضوں کو سمجھنے کی صلاحیت نہ دے تو وہ معاشرتی میدان میں اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ کردار ادا نہیں کر پائے گا۔

اس لیے ایک متوازن تعلیمی نظام میں علم، اخلاق، ہنر اور شعور چاروں کا امتزاج ضروری ہے۔

حضور ضیاءُ الامت رحمۃ اللہ علیہ کی تصانیف اور علمی خدمات بھی ان کے وسیع تر علمی مزاج کی عکاسی کرتی ہیں۔ ضیاء القرآن میں قرآنِ کریم کے پیغام کو تفہیم کے انداز میں پیش کرنا ہو یا ضیاء النبی ﷺ میں سیرتِ رسولِ اکرم ﷺ کے مختلف پہلوؤں کو بیان کرنا، ان کا مقصد علمی روایت کو زندہ رکھتے ہوئے اسے موجودہ قاری کے لیے قابلِ فہم اور مؤثر بنانا بھی تھا۔

آج جب دنیا تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، تعلیم کے ذرائع بدل رہے ہیں، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ذرائع اور نئی ٹیکنالوجی انسانی زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کر رہی ہے، ایسے میں یہ سوال مزید اہم ہو گیا ہے کہ ہماری تعلیم کا مرکز کیا ہو؟

کیا ہم صرف جدید ہنر سکھائیں؟

یا صرف قدیم نصاب پڑھائیں؟

یا پھر ایسا متوازن نظام تشکیل دیں جس میں قرآن و سنت کی رہنمائی، اخلاقی تربیت، زبان و ادب، سائنسی شعور، جدید ٹیکنالوجی اور عملی مہارتیں ایک دوسرے سے مربوط ہوں؟

حضور ضیاءُ الامت رحمۃ اللہ علیہ کے علمی سفر سے ایک اہم اصول سامنے آتا ہے: زمانے سے آگے بڑھنے کے لیے اپنی بنیاد سے پیچھے ہٹنا ضروری نہیں۔

اپنی علمی و تہذیبی شناخت کو محفوظ رکھتے ہوئے جدید علوم سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ بلکہ مضبوط بنیاد ہی انسان کو نئے علمی افق پر اعتماد کے ساتھ قدم رکھنے کی صلاحیت عطا کرتی ہے۔

ایک ایسا طالب علم جو قرآن سے وابستہ ہو، حدیث سے آشنا ہو، اپنی زبان اور تہذیب کو سمجھتا ہو، مگر ساتھ ہی سائنس، ٹیکنالوجی، معاشیات، تحقیق اور جدید دنیا کے تقاضوں سے بھی واقف ہو، وہ اپنے عہد کی زیادہ جامع ضروریات کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہی وہ تعلیمی تصور ہے جس میں ماضی بوجھ نہیں بنتا اور جدیدیت اپنی شناخت نہیں چھینتی؛ ماضی بنیاد فراہم کرتا ہے اور جدید علم افق وسیع کرتا ہے۔

حضور ضیاءُ الامت رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی ہمیں یہ سوچ عطا کرتی ہے کہ تعلیم کا مقصد صرف ماضی کو محفوظ کرنا یا صرف مستقبل کی دوڑ میں شامل ہونا نہیں، بلکہ ماضی کی علمی بصیرت کو ساتھ لے کر مستقبل کی تعمیر کرنا ہے۔

دینی علوم انسان کو بتاتے ہیں کہ اسے کیوں جینا ہے، جدید علوم اسے یہ سمجھنے میں مدد دیتے ہیں کہ بدلتی ہوئی دنیا میں کیسے بہتر زندگی اور بہتر معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ جب یہ دونوں پہلو ایک متوازن نظامِ تعلیم میں جمع ہوتے ہیں تو علم محض معلومات نہیں رہتا، تہذیب اور کردار کی تعمیر کا وسیلہ بن جاتا ہے۔

حضور ضیاءُ الامت رحمۃ اللہ علیہ کا تعلیمی تصور اسی جامعیت کی طرف اشارہ کرتا ہے—ایسا علم جو جڑوں سے وابستہ بھی ہو اور افق شناس بھی؛ ایسا طالب علم جو روایت کا امین بھی ہو اور زمانے کے تقاضوں کا شناسا بھی؛ ایسی تعلیم جو ذہن کو روشن کرے، دل کو سنوارے اور انسان کو معاشرے کے لیے نفع بخش بنا دے۔

آج ہمیں شاید سب سے زیادہ اسی توازن کی ضرورت ہے۔

کیونکہ قومیں اس وقت مضبوط ہوتی ہیں جب ان کے نوجوان اپنے ماضی سے روشنی لیتے ہوئے مستقبل کی طرف بڑھتے ہیں۔

اور یہی حضور ضیاءُ الامت رحمۃ اللہ علیہ کے علمی سفر کا ایک روشن پیغام ہے کہ قدیم دینی علوم ہماری بنیاد ہیں، جدید تعلیم ہمارے افق کو وسعت دیتی ہے، اور دونوں کا حسین امتزاج ایک متوازن، باکردار اور باشعور انسان کی تشکیل کر سکتا ہے۔

02/10/2026

ال یہود کی حفاظت ہے یہ مکہ اور مدینہ پہ حملہ پوری امت مسلمہ یک جان ہے لڑنے کے لئے آل سعود ان۔مقدس مقامات کو ڈھال بنا رہے ہیں ان کو اپنی حکومت کا خطرہ ہے

حضور ضیاءُ الامت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ علیہ کا تربیتی تصورعلم۔کے ساتھ کردار تحریر: پروفیسر ملک مبشر حس...
01/10/2026

حضور ضیاءُ الامت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ علیہ کا تربیتی تصور
علم۔کے ساتھ کردار
تحریر: پروفیسر ملک مبشر حسین اعوان
پرنسپل، الصراط اسلامک انسٹیٹیوٹ اسلام آباد

تعلیم صرف ذہن کو روشن کرنے کا نام نہیں، دل کو سنوارنے کا عمل بھی ہے۔ کتاب انسان کو الفاظ کا شعور دیتی ہے، مگر کردار اسے ان الفاظ کی حرمت نبھانا سکھاتا ہے۔ علم انسان کو یہ بتاتا ہے کہ حق کیا ہے، لیکن کردار اسے حق کے ساتھ کھڑے ہونے کا حوصلہ عطا کرتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں تعلیم محض حصولِ معلومات نہیں رہتی بلکہ تربیت بن جاتی ہے۔

حضور ضیاءُ الامت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ علیہ کی حیاتِ مبارکہ میں علم اور کردار کا یہی حسین امتزاج نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ ان کے نزدیک علم کوئی ایسا خزانہ نہیں تھا جسے صرف ذہن میں جمع کر لیا جائے؛ علم تو ایک امانت تھا، جس کا تقاضا یہ تھا کہ وہ انسان کے اخلاق، معاملات، گفتار اور کردار میں نمایاں ہو۔

ان کے علمی سفر پر نگاہ ڈالی جائے تو ناظرۂ قرآن سے شروع ہونے والی یہ داستان عربی و فارسی کے علوم، مرادآباد کے درسِ حدیث اور جامعہ الازہر کی علمی فضاؤں تک پہنچتی ہے۔ مگر اس سفر کی اصل خوبصورتی صرف علمی منازل میں نہیں، بلکہ اس تربیت میں تھی جو ہر منزل کے ساتھ ان کی شخصیت کو سنوارتی چلی گئی۔

علم بڑھتا گیا تو عاجزی بھی بڑھی، مطالعہ وسیع ہوا تو فکر میں وسعت آئی، علمی مقام بلند ہوا تو ذمہ داری کا احساس بھی گہرا ہوتا گیا۔ یہی علم کی وہ کیفیت ہے جو انسان کو دوسروں سے ممتاز کرنے کے بجائے دوسروں کے لیے نفع بخش بناتی ہے۔

حضور ضیاءُ الامت رحمۃ اللہ علیہ کے تربیتی تصور کا پہلا اہم پہلو یہی تھا کہ علم کردار پیدا کرے۔

ایسا علم جو زبان کو تو دلیل دے مگر لہجے سے شائستگی چھین لے، جو ذہن کو معلومات سے بھر دے مگر دل میں تکبر پیدا کر دے، جو انسان کو دوسروں کی کمزوریاں دکھائے مگر اپنی اصلاح سے غافل کر دے، وہ علم اپنی حقیقی منزل تک نہیں پہنچا۔

علم کی اصل برکت یہ ہے کہ انسان اپنے رب کو پہچانے، اپنی ذمہ داری کو سمجھے، اپنے اخلاق کو سنوارے، اپنے معاملات میں دیانت اختیار کرے اور دوسروں کے لیے آسانی کا سبب بنے۔

اسی لیے حضور ضیاءُ الامت رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی میں تعلیم محض درس گاہ کی چار دیواری تک محدود نظر نہیں آتی۔ ان کے ہاں تعلیم زندگی کی تعمیر کا نام تھی۔ طالب علم کو صرف یہ نہیں سیکھنا چاہیے کہ کتاب میں کیا لکھا ہے؛ اسے یہ بھی سیکھنا چاہیے کہ زندگی میں اسے کیسے برتنا ہے۔

یہاں تربیت کا دوسرا اہم پہلو سامنے آتا ہے: استاد صرف معلم نہیں، مربی بھی ہے۔

معلم سبق پڑھاتا ہے، مربی شخصیت بناتا ہے۔ معلم سوال کا جواب دیتا ہے، مربی زندگی کے سوالات سے نبرد آزما ہونے کا سلیقہ سکھاتا ہے۔ معلم کتاب کے صفحات کھولتا ہے، مربی کردار کے دریچے کھولتا ہے۔

ایک اچھا استاد طالب علم کے ذہن میں علم منتقل کرتا ہے، مگر ایک عظیم مربی اس کے دل میں مقصد پیدا کرتا ہے۔ وہ اپنے قول سے کم اور اپنے عمل سے زیادہ تعلیم دیتا ہے۔ اس کا اخلاق خاموش نصاب بن جاتا ہے، اس کی پابندی وقت کا سبق بن جاتی ہے، اس کی عاجزی علم کا ادب سکھاتی ہے اور اس کی دیانت طالب علم کے لیے عملی نمونہ بن جاتی ہے۔

حضور ضیاءُ الامت رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت میں علم و تربیت کا یہی امتزاج نظر آتا ہے۔ ان کے علمی مقام کے ساتھ ان کی شخصیت کا وقار، متانت، شائستگی اور دینی ذمہ داری کا احساس بھی نمایاں تھا۔ یہی وہ اوصاف ہیں جو کسی عالم کو صرف صاحبِ علم نہیں رہنے دیتے بلکہ اسے صاحبِ کردار بنا دیتے ہیں۔

تربیت کا تیسرا اور شاید سب سے فیصلہ کن پہلو یہ ہے کہ علم عمل اور خدمت میں ڈھل جائے۔

علم اگر کتابوں میں قید رہے تو اس کا دائرہ محدود رہتا ہے، لیکن جب وہ کردار میں اترتا ہے تو معاشرے کو بدلنے کی قوت پیدا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضور ضیاءُ الامت رحمۃ اللہ علیہ کی علمی زندگی تدریس، تصنیف، اصلاح، ادارہ سازی اور دیگر دینی و اجتماعی ذمہ داریوں سے جڑی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔

ان کی تصانیف محض علمی ذخیرے میں اضافہ نہیں کرتیں بلکہ قاری کو قرآن و سنت کے پیغام سے جوڑنے کی کوشش بھی کرتی ہیں۔ ضیاء القرآن ہو یا ضیاء النبی ﷺ، ان علمی خدمات کے پس منظر میں علم کو عام کرنے اور اسے زندگی کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بنانے کا جذبہ نمایاں دکھائی دیتا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں علم اپنی حقیقی تاثیر ظاہر کرتا ہے۔ علم انسان کو اپنے لیے نہیں، دوسروں کے لیے بھی جینا سکھاتا ہے۔ وہ اپنے اندر روشنی پیدا کرنے کے بعد دوسروں کے راستے روشن کرنے کا حوصلہ دیتا ہے۔

آج ہمارا تعلیمی نظام بے شمار معلومات، اسناد اور ڈگریاں فراہم کر رہا ہے، مگر اصل سوال اب بھی وہی ہے: ہم کتنے پڑھے لکھے انسان پیدا کر رہے ہیں اور کتنے باکردار انسان؟

ایک طالب علم اگر اعلیٰ ڈگری حاصل کر لے مگر سچائی سے محروم ہو، تو اس کی تعلیم ادھوری ہے۔ اگر وہ بہت کچھ جانتا ہو مگر والدین کا احترام، استاد کا ادب، وعدے کی پاسداری اور دوسروں کے حقوق کا احساس نہ رکھتا ہو تو اس کے علم کی روشنی ابھی اس کے کردار تک نہیں پہنچی۔

حضور ضیاءُ الامت رحمۃ اللہ علیہ کے تربیتی تصور کی روشنی میں تعلیم کا مقصد ایک ایسے انسان کی تشکیل ہے جس کے ذہن میں علم، دل میں اخلاص، کردار میں شائستگی اور عمل میں خدمت ہو۔

یہی وہ انسان ہے جس کی ضرورت ہر دور کو رہتی ہے۔

آج کے طالب علم کو صرف امتحان کی تیاری نہیں، زندگی کی تیاری بھی چاہیے۔ اسے صرف کتاب کا سبق نہیں، کردار کا سبق بھی چاہیے۔ اسے صرف کامیاب ہونے کا ہنر نہیں، کامیابی کو امانت سمجھنے کا شعور بھی چاہیے۔

اور یہی حضور ضیاءُ الامت رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی کا ایک نہایت قیمتی تربیتی پیغام ہے کہ علم کی تکمیل کردار پر ہوتی ہے، کردار کی خوبصورتی عمل سے ظاہر ہوتی ہے اور عمل کی تاثیر خدمت سے پیدا ہوتی ہے۔

علم وہ چراغ ہے جو ذہن کو روشن کرتا ہے، کردار وہ آئینہ ہے جس میں اس روشنی کا عکس دکھائی دیتا ہے، اور خدمت وہ راستہ ہے جس پر چل کر یہ روشنی دوسروں تک پہنچتی ہے۔

حضور ضیاءُ الامت رحمۃ اللہ علیہ کی حیاتِ مبارکہ ہمیں یہی درس دیتی ہے کہ علم حاصل کرنا عظیم سعادت ہے، مگر علم کو کردار میں ڈھالنا اس سے بھی بڑی ذمہ داری ہے۔

ایسا علم جو کردار نہ بنائے، ابھی تشنۂ تکمیل ہے؛ ایسا کردار جو عمل میں نہ ڈھلے، ابھی ادھورا ہے؛ اور ایسا عمل جو مخلوق کے لیے خیر کا ذریعہ نہ بنے، ابھی اپنی حقیقی منزل تک نہیں پہنچا۔

یہی وہ تربیتی تصور ہے جو حضور ضیاءُ الامت رحمۃ اللہ علیہ کی علمی و عملی زندگی کو آج بھی ہمارے لیے ایک روشن مینار بناتا ہے—ایسا مینار جو صرف راستہ دکھاتا نہیں، بلکہ یہ بھی بتاتا ہے کہ علم کی روشنی کو کردار، عمل اور خدمت کے ذریعے زندگی میں کیسے اتارا جاتا ہے۔

Address

Islamabad
Rawalpindi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ضیاء الامت فاونڈیشن کوہسار posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share