25/07/2026
تحریر : پروفیسر ملک مبشر حسین اعوان
ڈائریکٹر بیکن مائنڈ ایجوکیشن سسٹم اسلام آباد
وقت نے جب بھی آزمایا ہے، اُن کی نسبت و
تربیت نے رنگ دکھایا ہے
تاریخِ اسلام میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو صرف اپنے زمانے کی ضرورت نہیں ہوتیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک روشن چراغ بن جاتی ہیں۔ ان کی زندگی علم و عمل، اخلاص و محبت، فکر و بصیرت اور تربیت و کردار کا ایسا حسین امتزاج ہوتی ہے جس کے اثرات ان کے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد بھی نسل در نسل منتقل ہوتے رہتے ہیں۔ ایسی ہی عظیم، نابغۂ روزگار اور ہمہ جہت شخصیت حضرت ضیاء الامت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی ہے، جن کی نسبت سے وابستہ ہونے والے افراد کے لیے یہ نسبت محض ایک روحانی تعلق نہیں بلکہ ایک مکمل تربیتی نظام، ایک فکری ورثہ اور ایک عملی ذمہ داری بھی ہے۔
وقت انسانوں کو آزماتا ہے۔ کبھی حالات کی سختی سے، کبھی مشکلات کی یلغار سے، کبھی فتنوں کے ہجوم سے اور کبھی مفادات کے دباؤ سے۔ ایسے مواقع پر انسان کی اصل تربیت سامنے آتی ہے۔ جو تربیت صرف الفاظ تک محدود ہو، وہ آزمائش کی پہلی آندھی میں بکھر جاتی ہے، لیکن جو تربیت دل و کردار میں اتر جائے، وہ انسان کو حالات کے سامنے ثابت قدم رکھتی ہے۔ حضرت ضیاء الامت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی نسبت اور تربیت سے وابستہ افراد کی زندگیوں میں یہی حقیقت نمایاں نظر آتی ہے کہ وقت نے جب بھی آزمایا ہے، اُن کی نسبت و تربیت نے اپنا رنگ دکھایا ہے۔
حضرت ضیاء الامت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنے علمی و روحانی سفر میں قرآن و سنت کی محبت، عشقِ رسول ﷺ، شریعت کی پاسداری، طریقت کی پاکیزگی، اخلاقِ حسنہ، خدمتِ دین اور انسانیت کی خیر خواہی کو بنیادی اہمیت دی۔ ان کی شخصیت میں علم کی گہرائی بھی تھی اور روحانیت کی روشنی بھی؛ فقہ و شریعت کا شعور بھی تھا اور تصوف و تزکیہ کی لطافت بھی۔ یہی جامعیت ان کی تربیت کا امتیاز بنی۔
ان کی مجلس میں بیٹھنے والا صرف علم حاصل نہیں کرتا تھا بلکہ اپنے آپ کو پہچاننے کا ہنر بھی سیکھتا تھا۔ ان کی گفتگو میں صرف الفاظ نہیں ہوتے تھے بلکہ ایک پیغام ہوتا تھا؛ ان کے عمل میں صرف ظاہری نظم نہیں بلکہ باطن کی پاکیزگی کی دعوت ہوتی تھی۔ وہ اپنے وابستگان کو محض کسی شخصیت سے عقیدت کا درس نہیں دیتے تھے بلکہ انہیں دین کے ساتھ مضبوط تعلق، قرآن و سنت سے وابستگی اور کردار کی تعمیر کی طرف متوجہ کرتے تھے۔
یہی وجہ ہے کہ آج جب مختلف آزمائشیں ہمارے معاشرے کو گھیر رہی ہیں، جب فکری انتشار بڑھ رہا ہے، جب سوشل میڈیا کے شور میں سنجیدہ علم کی آواز دب رہی ہے، جب مادیت انسان کے دل کو اپنی طرف کھینچ رہی ہے اور جب نئی نسل کے سامنے بے شمار فکری چیلنجز موجود ہیں، ایسے وقت میں حضرت ضیاء الامت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی نسبت سے وابستہ افراد کے کردار اور عمل کا امتحان بھی ہوتا ہے۔
یہ نسبت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ علم صرف کتابوں میں نہیں ہونا چاہیے بلکہ کردار میں بھی نظر آنا چاہیے۔ محبت صرف زبان پر نہیں بلکہ عمل میں بھی ظاہر ہونی چاہیے۔ عقیدت صرف محفلوں تک محدود نہیں بلکہ زندگی کے فیصلوں میں بھی نمایاں ہونی چاہیے۔ اور تربیت کا اصل ثبوت یہی ہے کہ انسان تنہائی میں بھی وہی رہے جو وہ لوگوں کے سامنے نظر آتا ہے۔
حضرت ضیاء الامت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی تربیت کا ایک نمایاں پہلو یہ تھا کہ دین کو زندگی سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ دین عبادات کے ساتھ معاملات کا بھی نام ہے، علم کے ساتھ اخلاق کا بھی نام ہے، محبت کے ساتھ ذمہ داری کا بھی نام ہے۔ ایک سچا وابستہ وہ ہے جو اپنے کردار سے اپنی نسبت کی گواہی دے۔
آج اگر کسی شاگرد، مرید، عقیدت مند یا وابستہ شخص کے کردار میں دیانت، اخلاص، علم کی محبت، بڑوں کا احترام، چھوٹوں سے شفقت، حق گوئی، خدمتِ خلق اور دین کی سربلندی کا جذبہ نظر آتا ہے تو یہ دراصل اس تربیت کی جھلک ہے جس کی بنیاد حضرت ضیاء الامت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ جیسے مربی نے رکھی تھی۔
وقت کی آزمائش انسان کے دعووں کو پرکھتی ہے۔ خوشحالی میں ہر شخص مخلص دکھائی دے سکتا ہے، لیکن مشکل وقت میں ثابت قدم رہنا ہی اصل تربیت کا ثبوت ہے۔ جب حالات مخالف ہوں اور انسان حق کا دامن نہ چھوڑے، جب مشکلات بڑھ جائیں مگر اخلاق نہ بدلیں، جب مخالفت ہو مگر زبان سے شرافت نہ جائے، جب اختیار ملے مگر عاجزی باقی رہے، جب شہرت آئے مگر اخلاص کم نہ ہو، تو سمجھ لینا چاہیے کہ کسی عظیم مربی کی تربیت نے اپنا اثر دکھایا ہے۔
حضرت ضیاء الامت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی نسبت کا اصل حسن بھی یہی ہے کہ یہ انسان کو شخصیت پرستی نہیں بلکہ کردار سازی کی طرف لے جاتی ہے۔ یہ نسبت انسان کو علم کی طرف بلاتی ہے، مگر ایسا علم جو عمل پیدا کرے؛ یہ روحانیت کی طرف لے جاتی ہے، مگر ایسی روحانیت جو اخلاق سنوارے؛ یہ محبت سکھاتی ہے، مگر ایسی محبت جو انسان کو اللہ تعالیٰ اور رسولِ اکرم ﷺ کی اطاعت کے قریب لے جائے۔
ان کی علمی میراث، بالخصوص قرآن فہمی اور سیرتِ طیبہ کے حوالے سے ان کی عظیم خدمات، آج بھی اہلِ علم اور عام مسلمانوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔ ان کی تصانیف اور ان کا علمی اسلوب اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ انہوں نے دین کو عصرِ حاضر کے تقاضوں کے ساتھ سمجھانے کی بھرپور کوشش کی۔ ان کے علمی کام نے ایک ایسی نسل کی فکری تربیت میں کردار ادا کیا جو روایت سے جڑی ہوئی بھی ہے اور زمانے کے سوالات سے باخبر بھی۔
آج ان کے وابستگان کے لیے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اس نسبت کا حق ادا کیا؟ کیا ہماری گفتگو، ہمارے معاملات، ہماری تعلیمی و دینی خدمات اور ہماری اجتماعی زندگی میں اس تربیت کی جھلک دکھائی دیتی ہے؟ کیا ہم اختلاف کے باوجود اخلاق قائم رکھتے ہیں؟ کیا ہم علم کے ساتھ عمل کو بھی اہمیت دیتے ہیں؟ کیا ہم دین کی خدمت کو ذاتی مفاد پر ترجیح دیتے ہیں؟
اگر جواب ہاں میں ہے تو بلاشبہ یہ نسبت زندہ ہے اور تربیت اپنا رنگ دکھا رہی ہے۔
اور اگر کہیں کمی ہے تو ہمیں دوسروں کو دیکھنے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا، کیونکہ عظیم بزرگوں کی نسبت کا تقاضا صرف یہ نہیں کہ ہم ان کا نام محبت سے لیں، بلکہ اصل تقاضا یہ ہے کہ ہم ان کے چھوڑے ہوئے علمی، روحانی اور اخلاقی ورثے کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ حضرت ضیاء الامت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی نسبت کو صرف یادگار تقریبات، سالانہ اجتماعات اور محبت بھرے تذکروں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ ان کی فکر، تعلیم، کردار اور تربیت کو نئی نسل تک منتقل کیا جائے۔ مدارس، مساجد، تعلیمی اداروں اور معاشرتی زندگی میں ان کے علمی و تربیتی پیغام کو زندہ رکھا جائے تاکہ آنے والی نسلیں بھی اس نور سے فیض یاب ہو سکیں۔
حقیقت یہی ہے کہ عظیم شخصیات دنیا سے رخصت ہو جاتی ہیں، مگر ان کی تربیت یافتہ نسلیں ان کے مشن کو زندہ رکھتی ہیں۔ وقت گزرتا رہتا ہے، حالات بدلتے رہتے ہیں، آزمائشیں نئی شکلوں میں سامنے آتی رہتی ہیں، مگر سچی نسبت اور پختہ تربیت انسان کو ہر دور میں ثابت قدم رکھتی ہے۔
وقت نے جب بھی آزمایا ہے، اُن کی نسبت و تربیت نے رنگ دکھایا ہے۔
یہ صرف ایک جملہ نہیں بلکہ ایک حقیقت، ایک احساس اور ایک ذمہ داری ہے۔ یہ اُن تمام دلوں کی آواز ہے جنہوں نے حضرت ضیاء الامت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی نسبت سے علم، محبت، ادب، اخلاص اور خدمت کا سبق پایا۔ اب وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اس نسبت کو صرف اپنے سینوں میں محفوظ نہ رکھیں بلکہ اپنے کردار، اپنی نسلوں اور اپنی خدمات کے ذریعے اسے زندہ رکھیں۔
کیونکہ بزرگوں کی نسبت کا اصل ثبوت یہ نہیں کہ ہم ان کا نام کتنی محبت سے لیتے ہیں، بلکہ اصل ثبوت یہ ہے کہ جب وقت ہمیں آزمائے تو ہمارے کردار سے اُن کی تربیت بولے۔