07/06/2025
بسم اللہ الرحمان الرحیم.
لَنْ یَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَ لَا دِمَآؤُهَا وَ لٰـكِنْ یَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْؕ-كَذٰلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْؕ-وَ بَشِّرِ الْمُحْسِنِیْنَ
اللہ کے ہاں ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں اورنہ ان کے خون، البتہ تمہاری طرف سے پرہیزگاری اس کی بارگاہ تک پہنچتی ہے ۔ اسی طرح اس نے یہ جانور تمہارے قابو میں دیدئیے تا کہ تم اس بات پر اللہ کی بڑائی بیان کرو کہ اس نے تمہیں ہدایت دی اور نیکی کرنے والوں کو خوشخبری دیدو۔
تفسیر: صراط الجنان
{لَنْ یَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَ لَا دِمَآؤُهَا: اللہ کے ہاں ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں اورنہ ان کے خون۔}
*شانِ نزول:* دورِجاہلیّت کے کفار اپنی قربانیوں کے خون سے کعبہ معظمہ کی دیواروں کو آلودہ کرتے تھے اور اسے قرب کا سبب جانتے تھے،جب مسلمانوں نے حج کیا اور یہی کام کرنے کا ارادہ کیا تواس پر یہ آیت ِکریمہ نازل ہوئی اور ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہرگز نہ ان کی قربانیوں کے گوشت پہنچتے ہیں اورنہ ان کے خون، البتہ تمہاری طرف سے پرہیزگاری اس کی بارگاہ تک پہنچتی ہے اور قربانی کرنے والے صرف نیت کے اِخلاص اور تقویٰ کی شرائط کی رعایت کر کے اللہ تعالیٰ کو راضی کر سکتے ہیں ۔(مدارک، الحج، تحت الآیۃ: ۳۷، ص۷۴۰)
اچھی نیت اور اِخلاص کے بغیر نیک عمل مقبول نہیں
اس آیت سے معلوم ہوا کہ جو نیک عمل اچھی نیت اور ا خلاص کے بغیر کیا جائے وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مقبول نہیں۔ نیت و اِخلاص کی اہمیت بیان کرتے ہوئے امام محمد غزالی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’اہلِ دل لوگوں پر ایمانی بصیرت اور انوارِ قرآن کی وجہ سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ اَبدی سعادت تک رسائی کے لئے علم اور عبادت ضروری ہےچنانچہ علم والوں کے علاوہ تمام لوگ ہلاک ہونے والے ہیں اور عمل کرنے والوں کے علاوہ تمام علماء ہلاک ہونے والے ہیں اور مخلص لوگوں کے علاوہ تما م عمل کرنے والے بھی ہلاک ہونے والے ہیں جبکہ مخلص لوگوں کو بھی بڑا خطرہ ہے(کیونکہ انہیں اپنے خاتمے اور اپنے بارے میں اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر کا علم نہیں ) اورنیت کے بغیر عمل محض مشقت اور اخلاص کے بغیر نیت ریاکاری ہے اور یہ منافقت کے لئے کافی اور گناہ کے برابر ہے جبکہ صداقت کے بغیر اخلاص گرد و غبار کے ذرّات ہیں کیونکہ ہر وہ عمل جو اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کے ارادے سے کیا جائے اور اس میں نیت خالص نہ ہو تواس کے بارے میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے:
’’وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰهُ هَبَآءً مَّنْثُوْرًا‘‘(فرقان:۲۳)
ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور انہوں نے جو کوئی عمل کیا ہوگا ہم اس کی طرف قصد کرکے باریک غبار کے بکھرے ہوئے ذروں کی طرح (بے وقعت) بنادیں گے جو روشندان کی دھوپ میں نظر آتے ہیں ۔
تو جو شخص نیت کی حقیقت سے واقف نہ ہو ا س کی نیت کیسے صحیح ہو گی؟ یا جس کی نیت درست ہو وہ اخلاص کی حقیقت سے آگاہ ہوئے بغیر مخلص کیسے ہو گا؟ یا وہ شخص جو صداقت کے مفہوم سے آگاہی نہ رکھتا ہو وہ اپنے نفس سے صداقت کا مطالبہ کیسے کرے گا؟ لہٰذا جو شخص اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا ارادہ رکھتا ہو اس کی سب سے پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ نیت کا علم حاصل کرے تاکہ اسے نیت کی معرفت حاصل ہو ،پھر صداقت اور اخلاص کی حقیقت سے آگاہ ہو کر عمل کے ذریعے نیت کو صحیح کرے کیونکہ بندے کی نجات اور چھٹکارے کا وسیلہ یہی دو باتیں (صداقت اور اخلاص) ہیں ۔
احیاء علوم الدین، کتاب النیۃ والاخلاص والصدق، ۵ / ۸۶)۔
دعا گو : صاحبزادہ حسن محمود قاضی چشتی ڈھوک قاضیاں شریف راولپنڈی۔