27/08/2025
اخلاق بھی ایک رزق ہے
زندگی کے سفر میں ہم روزانہ طرح طرح کے لوگوں سے ملتے ہیں۔ کوئی ایسا ملتا ہے جس کے لہجے کی نرمی دل کو چھو جاتی ہے، اور کوئی ایسا بھی ملتا ہے جس کی سختی اور تلخی دیر تک ذہن پر بوجھ بن کر رہتی ہے۔ ایسے ہی تجربات نے مجھے سوچنے پر مجبور کیا کہ واقعی اخلاق بھی ایک الگ ہی رزق ہے، جو ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتا۔
ہم عام طور پر رزق کو صرف دولت، زمین، جائیداد اور کھانے پینے کی اشیاء تک محدود کر دیتے ہیں۔ لیکن اگر گہرائی میں جھانکا جائے تو رزق کی ایک بڑی قسم انسان کے رویے اور اس کے اخلاق میں بھی چھپی ہوئی ہے۔ جس طرح کسی کو زیادہ دولت ملتی ہے اور کسی کو کم، اسی طرح اچھے اخلاق بھی اللہ کی عطا ہیں جو صرف نصیب والوں کو ملتے ہیں۔
ہماری سوسائٹی میں دولت مند ہونا بڑی کامیابی سمجھا جاتا ہے، لیکن یہ حقیقت ہے کہ بد اخلاق دولت مند سے زیادہ قیمتی ایک خوش اخلاق غریب انسان ہے، جس کے پاس شاید دکھانے کو کچھ نہیں مگر بات کرنے کا ڈھنگ ایسا ہے کہ دلوں کو فتح کر لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آقا ﷺ نے فرمایا:
"تم میں سب سے بہتر وہ ہے جس کے اخلاق سب سے بہتر ہیں۔"
بد اخلاقی انسان کے مرتبے کو گرا دیتی ہے۔ آپ نے بھی ایسے بہت سے لوگوں کو دیکھا ہوگا جو بظاہر کامیاب ہیں، لیکن ان کی گفتگو اور رویے نے ان کی شخصیت کو کھوکھلا بنا دیا ہے۔ ایسے لوگ وقتی طور پر طاقتور دکھائی دیتے ہیں مگر درحقیقت وہ دلوں میں اپنی عزت کھو بیٹھتے ہیں۔
اخلاق ایک ایسا خزانہ ہے جو نہ صرف انسان کو دوسروں کے دلوں میں جگہ دیتا ہے بلکہ معاشرے میں امن و محبت کی فضا قائم کرتا ہے۔ یہ دولت انوکھے انداز میں بڑھتی ہے۔ جتنا آپ دوسروں پر خرچ کریں گے، اتنا ہی یہ آپ کے پاس زیادہ ہو جائے گی۔
آخری بات یہ ہے کہ دولت، شہرت اور عہدہ سب وقتی ہیں، مگر اخلاق وہ سرمایہ ہے جو انسان کو دنیا میں بھی عزت دلاتا ہے اور آخرت میں بھی سرخرو کرتا ہے۔ اس لیے اپنے اخلاق کو سنوارنا ہی اصل کامیابی ہے، کیونکہ یہی وہ رزق ہے جو قسمت والوں کو ملتا ہے۔
تحریر : قاضی نوید