Qazi Naveed Ul Islam

Qazi Naveed Ul Islam Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Qazi Naveed Ul Islam, 250, F. Block, Satellite Town Rwp, Rawalpindi.

27/08/2025

اخلاق بھی ایک رزق ہے

زندگی کے سفر میں ہم روزانہ طرح طرح کے لوگوں سے ملتے ہیں۔ کوئی ایسا ملتا ہے جس کے لہجے کی نرمی دل کو چھو جاتی ہے، اور کوئی ایسا بھی ملتا ہے جس کی سختی اور تلخی دیر تک ذہن پر بوجھ بن کر رہتی ہے۔ ایسے ہی تجربات نے مجھے سوچنے پر مجبور کیا کہ واقعی اخلاق بھی ایک الگ ہی رزق ہے، جو ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتا۔

ہم عام طور پر رزق کو صرف دولت، زمین، جائیداد اور کھانے پینے کی اشیاء تک محدود کر دیتے ہیں۔ لیکن اگر گہرائی میں جھانکا جائے تو رزق کی ایک بڑی قسم انسان کے رویے اور اس کے اخلاق میں بھی چھپی ہوئی ہے۔ جس طرح کسی کو زیادہ دولت ملتی ہے اور کسی کو کم، اسی طرح اچھے اخلاق بھی اللہ کی عطا ہیں جو صرف نصیب والوں کو ملتے ہیں۔

ہماری سوسائٹی میں دولت مند ہونا بڑی کامیابی سمجھا جاتا ہے، لیکن یہ حقیقت ہے کہ بد اخلاق دولت مند سے زیادہ قیمتی ایک خوش اخلاق غریب انسان ہے، جس کے پاس شاید دکھانے کو کچھ نہیں مگر بات کرنے کا ڈھنگ ایسا ہے کہ دلوں کو فتح کر لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آقا ﷺ نے فرمایا:
"تم میں سب سے بہتر وہ ہے جس کے اخلاق سب سے بہتر ہیں۔"

بد اخلاقی انسان کے مرتبے کو گرا دیتی ہے۔ آپ نے بھی ایسے بہت سے لوگوں کو دیکھا ہوگا جو بظاہر کامیاب ہیں، لیکن ان کی گفتگو اور رویے نے ان کی شخصیت کو کھوکھلا بنا دیا ہے۔ ایسے لوگ وقتی طور پر طاقتور دکھائی دیتے ہیں مگر درحقیقت وہ دلوں میں اپنی عزت کھو بیٹھتے ہیں۔

اخلاق ایک ایسا خزانہ ہے جو نہ صرف انسان کو دوسروں کے دلوں میں جگہ دیتا ہے بلکہ معاشرے میں امن و محبت کی فضا قائم کرتا ہے۔ یہ دولت انوکھے انداز میں بڑھتی ہے۔ جتنا آپ دوسروں پر خرچ کریں گے، اتنا ہی یہ آپ کے پاس زیادہ ہو جائے گی۔

آخری بات یہ ہے کہ دولت، شہرت اور عہدہ سب وقتی ہیں، مگر اخلاق وہ سرمایہ ہے جو انسان کو دنیا میں بھی عزت دلاتا ہے اور آخرت میں بھی سرخرو کرتا ہے۔ اس لیے اپنے اخلاق کو سنوارنا ہی اصل کامیابی ہے، کیونکہ یہی وہ رزق ہے جو قسمت والوں کو ملتا ہے۔

تحریر : قاضی نوید

اینٹوں کے نیچے چھپی مخلوق – ہمارا دشمن نہیں دوست!اکثر ہم نے بچپن میں اینٹ یا لکڑی اٹھائی تو نیچے سے ایک چھوٹا سا سرمئی ر...
25/08/2025

اینٹوں کے نیچے چھپی مخلوق – ہمارا دشمن نہیں دوست!

اکثر ہم نے بچپن میں اینٹ یا لکڑی اٹھائی تو نیچے سے ایک چھوٹا سا سرمئی رنگ کا رینگنے والا کیڑا نکلتا دیکھا۔ بظاہر یہ اتنا معمولی اور حقیر لگتا تھا کہ ہم نے کھیل ہی کھیل میں اسے مسل ڈالا۔ مگر آج جب سائنسی تحقیق کی روشنی میں اس کی حقیقت کھلتی ہے تو انسان صرف یہی کہہ سکتا ہے: "سبحان اللہ! اللہ کی ہر مخلوق حکمت سے خالی نہیں۔"

یہ چھوٹا سا جاندار دراصل “Woodlouse” یا عام زبان میں لکڑی کا کیڑا کہلاتا ہے۔ یہ کیڑا نہیں بلکہ جھینگوں اور کیکڑوں کا قریبی رشتہ دار ہے جو نمی اور تاریکی میں رہتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی خدمت یہ ہے کہ یہ زمین اور انسان کے لیے قدرتی بائیو فلٹر ہے۔

اللہ کے حکم سے یہ اپنی خوراک اور جسمانی نظام کے ذریعے زمین کی تہہ میں موجود خطرناک بھاری دھاتوں کو جذب کرتا ہے، جن میں سیسہ (Lead)، مرکری (Mercury)، اور کیڈمیم (Cadmium) شامل ہیں۔ یہ دھاتیں اگر زمین کے پانی میں شامل ہو جائیں تو انسانی صحت کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہو سکتی ہیں۔ لیکن یہ بظاہر معمولی سا جاندار ان کو اپنے جسم میں محفوظ کر لیتا ہے اور یوں ہمارے زیرِ زمین پانی کو پینے کے قابل رکھتا ہے۔

اس کے علاوہ یہ سڑتی ہوئی لکڑی، پتے اور نامیاتی فضلہ کھا کر مٹی میں ملاتا ہے اور یوں زمین کی زرخیزی بڑھا دیتا ہے۔ گویا یہ چھوٹا سا جاندار فطرت کا صفائی کا عملہ بھی ہے اور زمین کا قدرتی محافظ بھی۔

بدقسمتی سے ہم لاعلمی میں اسے اپنا دشمن سمجھ کر مار ڈالتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ہمارا سب سے بڑا دوست ہے، جو نہ صرف ہمارے ماحول کو محفوظ کرتا ہے بلکہ آئندہ نسلوں کے لیے صاف پانی کی ضمانت بھی بنتا ہے۔

کاش ہم اپنی روزمرہ زندگی میں ان چھوٹی چھوٹی مخلوقات کی اہمیت کو سمجھیں اور ان کو نقصان پہنچانے کے بجائے ان کی حفاظت کریں۔ کیونکہ اللہ کی زمین پر موجود کوئی بھی چیز فضول نہیں، بس ہمیں دیکھنے والی آنکھ اور سوچنے والا دل چاہیے۔

25/08/2025

مظلوم کی آہ اور اللہ کی عدالت

اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ دنیا میں سب کچھ طاقت اور دولت کے زور پر حاصل کیا جا سکتا ہے۔ کمزور کی آہ اور مظلوم کی فریاد کو وہ محض ایک کمزور آواز سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ وہی کمزور جب اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کر دیتا ہے تو پھر زمین و آسمان کی کوئی طاقت اسے دبائے نہیں رکھ سکتی۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا یہ قول دل کے دروازے پر دستک دیتا ہے:
"ہمیشہ کوشش کرو کہ کوئی تمہارے حق میں اپنا معاملہ اللہ پر نہ چھوڑے۔"

یہ الفاظ محض نصیحت نہیں بلکہ ایک تنبیہ ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم نے کسی کا حق دبا لیا، کسی کی امانت لوٹ لی، کسی کے ساتھ ظلم کیا اور وہ بے بسی کے عالم میں تمہیں کچھ کہہ نہ سکا لیکن اس نے دل ہی دل میں اللہ کو گواہ بنا کر معاملہ اس کے سپرد کر دیا، تو پھر سمجھ لو کہ تم نے اپنی بربادی پر دستخط کر دیے۔

تصور کیجیے ایک مزدور کی جو دن بھر محنت کرتا ہے مگر مالک اسے پوری اجرت نہیں دیتا۔ وہ غریب شخص شاید احتجاج نہ کر سکے لیکن اس کی آنکھوں سے نکلا ہوا ایک آنسو آسمان کی طرف اٹھتا ہے اور اللہ کی بارگاہ میں جا کر انصاف کی فریاد کرتا ہے۔ یا پھر ایک بہن جو وراثت میں اپنا حصہ مانگتے مانگتے تھک جاتی ہے اور آخر کار ہاتھ اٹھا کر کہہ دیتی ہے: "یا اللہ! میرا حق تجھ پر چھوڑتی ہوں۔" وہ لمحہ ظالم کے لیے عذاب کا پیغام لے کر آتا ہے۔

ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے کسی عمل کی وجہ سے کہیں کوئی شخص ایسا تو نہیں کر رہا کہ اپنا حق اللہ کے حوالے کر دے؟ کیونکہ اگر ایسا ہے تو پھر ہماری دنیا کی کوئی چالاکی، کوئی سفارش اور کوئی طاقت ہمیں نہیں بچا سکتی۔

اصل کامیابی یہ ہے کہ ہم لوگوں کے دل جیتیں، نہ کہ ان کے حقوق دبائیں۔ انصاف، نرمی اور دیانت وہ راستے ہیں جو اللہ کے ہاں عزت دلاتے ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری زندگی سکون اور برکت سے بھری رہے تو ہمیں دوسروں کے ساتھ ایسا برتاؤ کرنا ہوگا کہ وہ ہمارے خلاف اللہ کی عدالت میں مقدمہ نہ لے جائیں بلکہ دعا دیں۔

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں فرمایا:
"اور ظالموں کا خیال نہ کرنا کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں ہم اس سے غافل ہیں۔ ہم ان کو صرف اس دن کے لیے ٹالے جا رہے ہیں جس دن آنکھیں پتھرا جائیں گی۔"
(سورۃ ابراہیم: 42)

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"اتَّقُوا دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ، فَإِنَّهَا لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ"
(صحیح بخاری)

ترجمہ:
"مظلوم کی دعا سے بچو، کیونکہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا۔"

آئیے آج ہم عہد کریں کہ اپنے ہر معاملے میں انصاف کریں گے، کمزور کا سہارا بنیں گے اور کسی کو یہ موقع نہیں دیں گے کہ وہ بے بسی میں اللہ کو ہمارے خلاف گواہ بنا کر کھڑا کر دے۔ کیونکہ مظلوم کی دعا اور ظالم کے خلاف فریاد براہِ راست اللہ کی عدالت میں جاتی ہے—اور وہاں سے انصاف ٹلتا نہیں

تحریر : قاضی نوید

25/08/2025

*دعا کی خوشبو*
کبھی کبھی زندگی میں ایسے لمحے آتے ہیں جب دل اچانک خوشی سے بھر جاتا ہے۔ نہ کوئی بڑی کامیابی ملی ہوتی ہے، نہ کوئی خواب پورا ہوا ہوتا ہے، لیکن دل پر سکون کی ایسی بارش برستی ہے جس کی کوئی وجہ سمجھ نہیں آتی۔ ایسے لمحوں میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول یاد آتا ہے:

"جب تم بغیر کسی وجہ سے خوشی محسوس کرو تو یقین کر لو کہ کوئی کہیں ناکوئی تمہارے لیے دعا کر رہا ہے۔"

کتنی سادہ سی بات ہے، لیکن کتنا گہرا پیغام اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ خوشی ہمیشہ دولت، شہرت یا کامیابی کی مرہونِ منت نہیں ہوتی۔ بعض خوشیاں ایسی ہوتی ہیں جو کسی اور کے خلوص سے جڑی ہوتی ہیں۔ ہو سکتا ہے آپ کا بچپن کا کوئی دوست آپ کو یاد کر کے دعا کر رہا ہو، کوئی والدین اپنی اولاد کے لیے ہاتھ اٹھائے ہوں، یا کوئی اجنبی جس کی آپ نے مدد کی تھی، دل ہی دل میں آپ کے لیے نیک خواہشات بھیج رہا ہو۔ اور یہی وہ نیک تمنائیں ہیں جو روشنی بن کر آپ کے دل میں اترتی ہیں۔

دعا ایک ایسی خوشبو ہے جو نظر نہیں آتی، لیکن محسوس ضرور ہوتی ہے۔ یہ وہ طاقت ہے جو دلوں کو جوڑتی ہے، فاصلے مٹا دیتی ہے اور انسان کو اس کے رب سے قریب کر دیتی ہے۔ سچ کہا گیا ہے کہ دعا تقدیر بدل سکتی ہے۔ لیکن حضرت علیؓ کے اس قول سے یہ حقیقت بھی واضح ہوتی ہے کہ دعا دل کو خوشی دینے کی طاقت بھی رکھتی ہے۔

یہاں ایک اور اہم پہلو بھی ہے جس پر ہمیں غور کرنا چاہیے۔ اکثر ہم صبح صبح اپنے موبائل پر دعاؤں کے پیغامات دیکھ کر جھنجھلا جاتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ یہ فضول عمل ہے یا وقت ضائع کرنے والی بات ہے۔ لیکن ذرا سوچئے، کوئی شخص آپ کے لیے دن کی پہلی ساعت میں دعا بھیج رہا ہے، یہ محض ایک فارورڈ میسج نہیں بلکہ اس کے دل کی محبت اور تعلق کی علامت ہے۔ ایسے لوگوں کا شکریہ ادا کریں، ان سے محبت کریں اور ان کی کاوش کو معمولی نہ سمجھیں۔ کیونکہ یہ دعائیں ہی ہیں جو ہمارے دن کو روشنی اور دل کو سکون بخشتی ہیں۔

ہم اکثر زندگی کی دوڑ میں دوسروں کے لیے دعا کرنا بھول جاتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ لوگ ہمارے لیے دعا کریں، لیکن خود کسی کے لیے وقت نکال کر دعا نہیں کرتے۔ حالانکہ یہ دنیا کا سب سے سستا اور سب سے قیمتی تحفہ ہے۔ ایک دعا کسی کے غم کو کم کر سکتی ہے، کسی کی مشکل آسان کر سکتی ہے اور کسی کے دل میں بے سبب خوشی بسا سکتی ہے۔

آج کے شور اور بے سکونی کے زمانے میں یہ قول ہمیں ایک سبق دیتا ہے کہ خوشیاں صرف ہمارے اپنے اعمال کا نتیجہ نہیں ہوتیں، بلکہ یہ دوسروں کی دعاؤں کا عطیہ بھی ہو سکتی ہیں۔ اگلی بار جب آپ کے دل پر بلاوجہ سکون اور خوشی کی ایک لہر اترے، تو شکر ادا کیجیے۔ کیونکہ کہیں نہ کہیں کوئی شخص آپ کے لیے ہاتھ اٹھائے بیٹھا ہے۔

دعا کو معمولی نہ سمجھیں، یہ محبت اور تعلق کا سب سے انمول اظہار ہے۔ جو لوگ آپ کے لیے صبح سویرے دعائیں بھیجتے ہیں، ان کا شکریہ ادا کریں۔ اور خود بھی دوسروں کے لیے دعا کرنا اپنا معمول بنا لیں، کیونکہ کسی دن آپ کی دعا ہی کسی کے دل میں وہ بے سبب خوشی اتار سکتی ہے جس کا ذکر حضرت علیؓ نے فرمایا۔
تحریر : قاضی نوید

06/01/2022
13/05/2020

Address

250, F. Block, Satellite Town Rwp
Rawalpindi

Telephone

03005172461

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Qazi Naveed Ul Islam posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share