18/05/2026
گدڑی میں چھپا لال
****************************************************
اللہ تعالٰی بھلا کریں میرے پیارے دوست اور شاگرد جناب نوید احمد ملک کا ، جنہوں نے اس عظیم شخصیت سے ملوایا۔۔۔۔
یہ وہ وقت تھا جب میری زندگی کی دو اہم شخصیات موت و حیات کی کشمکش میں تھیں۔۔۔۔یار لوگوں کا تیر نشانے پہ لگا۔۔۔۔گھر کا ہر فرد پریشان ، نہ کھانے کی پرواہ ، نہ پینے کی احتیاج ، نہ رات کا پتہ ، نہ دن کا احساس۔۔۔۔کہاں کہاں کی خاک نہ چھانی مگر مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی۔۔۔۔جون ، جولائی کی گرمی ، شیطنت کا ننگا ناچ ، شیطان کے آلہ کاروں کی فوج ظفر موج ، سن 2000ء کا وسط اور زندگی تلبیس ابلیس کا شکار۔۔۔۔۔خود کشی ، زہر ، گولی ، ٹریفک حادثہ۔۔۔کچھ سمجھ نہیں آتا تھا۔
عزیزم نوید احمد ملک صبا کا جھونکا بن کر آئے اور اس عظیم شخص سے ملوایا۔۔۔۔استاد محترم حضرت مولانا محمد شریف ہزاروی دامت برکاتہم نے گاڑی بھی دی ، زادراہ بھی دیا ، اپنے بھتیجے قاری محمد نذیر اور سرکاری گن مین شفقت محمود کو ساتھ بھیجا۔۔۔۔
اس شفیق و مہربان شخص نے مہربانی کی ، ساتھ چلے ، صرف قرآن مجید پڑھا اور سنایا۔۔۔۔شیطان کا طلسم ٹوٹا ، مردہ جسموں میں جان آئی۔۔۔۔خزاں نے اپنا بوریا بستر لپیٹا ، بہار مسکرا کے آگے بڑھی ، غموں کی جگہ خوشیوں نے لی ، آنسوؤں کی جگہ مسکراہٹوں نے آ بسیرا کیا۔۔۔۔سب نے سکھ کا سانس لیا۔۔۔۔رب تعالٰی کے حضور سجدہ ریز ہوئے ، شکرانہ کے نوافل پڑھے۔
کہاں سن 2000ء اور آج 2026ء۔۔۔۔۔جب بھی شیطانی چکر چلا ، یہ مہربان شخصیت ہمارے ہاں پہنچی ، نہ دن دیکھا ، نہ رات۔۔۔۔نہ سردی کی پرواہ ، نہ گرمی کی فکر۔۔۔۔بغیر ہمارے کہے ، دل میں خیال آیا اور گھر سے نکل کھڑے ہوئے۔۔۔۔میرے گردوں کا آپریشن ہوا ، طبیعت اتنی خراب کہ بچنے کی کوئی امید نہیں تھی ، علماء ، طلباء ، میرے دوست ، شاگرد ، رشتہ دار ، محلے دار ۔۔۔جو بھی عیادت کیلئے آیا ، روتا ہوا اٹھ کے گیا ، بظاہر بچنے کی کوئی امید نہیں۔ مہنگے سے مہنگا علاج ہو رہا ہے ، مگر ۔۔۔۔۔۔تدبیر کیا تھی اور تقدیر نے کیا رنگ دکھایا ، ایک دن دوپہر کو دروازے پہ دستک ہوئی ، بچوں نے باہر جا کر دیکھا تو یہی مشفق و مہربان شخصیت کھڑی تھی۔۔۔۔فرمانے لگے دل سخت بے چین تھا بار بار اورنگ زیب کا خیال آ رہا تھا ، سوچا جا کے مل ہی آؤں ، مجھے دیکھا آنکھوں میں آنسو آ گئے۔۔۔قرآن مجید کی تلاوت شروع کر دی ، انداز ایسا کہ پورا گھر گونج اٹھا بلکہ جھوم اٹھا۔۔۔۔میری طبیعت میں بہتری آنے لگی۔اللہ تعالٰی نے کرم فرمایا پھر سے تازہ دم ہو گیا۔۔۔۔۔
بیماری کی شدت ایسی تھی کہ ملتان کے ایک دشمن جان کو کسی نے بتلایا تو اس نے بھی فون کر کے خیریت دریافت کی اور حوصلہ بڑھایا ، مجھے اتنی خوشی ہوئی کہ زاروقطار رونے لگا کہ چلو شکر ہے کسی بہانے تو اس کمبخت نے یاد کیا۔۔۔۔۔۔
اس شفیق شخصیت کے مجھ ناچیز پہ اتنے احسانات ہیں کہ میں دنیا میں ان کا بدلہ چکا ہی نہیں سکتا۔اللہ تعالٰی اپنی شان کے مطابق انھیں اجر عظیم سے نوازیں۔۔۔۔
گذشتہ دنوں ایک معاملہ میں پریشانی تھی وٹس ایپ پہ میسج کیا ، رات ڈیڑھ بجے جواب دیا کہ میں صبح دس بجے تمہارے پاس ہوں گا ، پریشان کیوں ہوتے ہو۔۔۔۔اللہ بھلا کرے وقت پہ تشریف لائے ، دعاؤں سے نوازا اور ظہر کے بعد واپس تشریف لے گئے ، عمر 71 سال مگر چاق و چوبند ، چست و توانا۔۔۔۔وہی گلا ، قرآن مجید پڑھتے ہیں تو سماں باندھ دیتے ہیں۔۔۔۔آواز کی گھن گرج جیسی 26 سال پہلے تھی ویسی ہی آج بھی ہے۔۔۔۔نہ کوئی طمع ، نہ لالچ ، نہ کوئی پروٹوکول اور نہ ہی کوئی نخرہ۔۔۔نمود و نمائش اور کروفر سے کوسوں دور۔۔۔۔۔انتہائی مخلص و بے لوث شخصیت ، ان کا نام نامی اسم گرامی ہے ۔۔۔۔شیخ یونس علی ضیاء۔۔۔۔۔اللہ تعالٰی صحت و عافیت کے ساتھ سلامت رکھیں۔۔۔آمین