Qari Toqeer Ahmed Sultani

Qari Toqeer Ahmed Sultani Male

26/12/2023

‏*مہمان کے لیے ڈنڈا*
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی دُور اُفتادہ دیہات میں ایک معزز مہمان آیا۔ بڑی آؤ بھگت ہوئی۔ گاؤں کا گاؤں اُس کے سامنے بچھا جا رہا تھا۔ کھانے کا وقت آیا تو انواع و اقسام کی نعمتیں اُس کے سامنے دسترخوان پر لا کر چُن دی گئیں۔ ساتھ ہی ایک بڑی سی سینی میں ایک لمبا سا اور موٹا سا ڈنڈا بھی لا کر رکھ دیا گیا۔ مہمان نعمتیں دیکھ کر تو خوش ہوا مگر ڈنڈا دیکھ کر ڈر گیا۔ سہمے ہوئے لہجے میں پوچھا: ’’آپ لوگ یہ ڈنڈا کس لیے لائے ہیں؟‘‘۔
میزبانوں نے کہا: ’’بس یہ ہماری روایت ہے۔ بزرگوں کے زمانے سے چلی آ رہی ہے۔ مہمان آتا ہے تو اُس کے آگے کھانے کے ساتھ ساتھ ڈنڈا بھی رکھ دیتے ہیں‘‘۔
مہمان کی تسلی نہ ہوئی۔ اُسے خوف ہوا کہ کہیں یہ تمام ضیافت کھانے کے بعد ڈنڈے سے ضیافت نہ کی جاتی ہو۔ اُس نے پھر تفتیش کی:
’’پھر بھی، اس کا کچھ تو مقصد ہوگا۔ کچھ تو استعمال ہوگا۔ آخر صرف مہمان کے آگے ہی ڈنڈا کیوں رکھا جاتا ہے؟‘‘۔
میزبانوں میں سے ایک نے کہا: ’’اے معزز مہمان! ہمیں نہ مقصد معلوم ہے نہ استعمال۔ بس یہ بزرگوں سے چلی آنے والی ایک رسم ہے۔ آپ بے خطر کھانا کھائیے‘‘۔
مہمان نے دل میں سوچا: ’’بے خطر کیسے کھاؤں؟ خطرہ تو سامنے ہی رکھا ہوا ہے‘‘۔
پھر اس نے اعلان کردیا: ’’جب تک آپ لوگ یہ نہیں بتائیں گے کہ آپ کے یہاں بزرگوں کے زمانے سے مہمان کے دسترخوان پر ڈنڈا کیوں رکھا جاتا ہے، کیڑے کو پتھر میں رزق پہنچانے والے کی قسم! میں آپ کا ایک لقمہ بھی نہیں کھاؤں گا‘‘۔
اب تو پورے گاؤں میں کھلبلی مچ گئی کہ مہمان نے کھانے سے انکار کر دیا ہے۔ گاؤں کے ایک بزرگ بلائے گئے۔ انہوں نے سارا ماجرا سنا اور دسترخوان پر رکھا ہوا ڈنڈا دیکھا تو برس پڑے:
’’ارے کم بختو! تم نے اتنا بڑا ڈنڈا لا کر رکھ دیا؟ اِسے کم کرو۔ ہمارے بزرگ مہمان کے سامنے اتنا بڑا ڈنڈا نہیں رکھتے تھے‘‘۔
ڈنڈا فی الفور آری سے کاٹ کر دو تین فٹ کم کر دیا گیا۔ مگر مہمان پھر بھی مطمئن نہیں ہوا۔ اسے اپنے سوال کا جواب درکا ر تھا۔ اب ایک نسبتاً زیادہ بزرگ بلائے گئے۔ انہوں نے بھی سارا ماجرا سنا۔ انہوں نے بھی ڈنڈا ناپ کر دیکھا۔ اور انہوں نے بھی اعتراض کیا:
’’ڈنڈا اب بھی بڑا ہے۔ ہمارے بزرگ تو مہمانوں کے آگے ایک چھوٹی سی پتلی سی ڈنڈی رکھا کرتے تھے‘‘۔
مذکورہ بزرگ کے کہنے پر باقی ماندہ ڈنڈا کاٹ کر اور چھیل کر ایک چھوٹی سی ڈنڈی بنا دیا گیا۔ گو کہ اب ڈنڈے کا سائز اور جسامت خطرے سے باہر ہوگئی تھی، مگر مہمان کا تجسس برقرار رہا۔ اب تک آنے والے بزرگوں نے صرف سائز اور خطرات ہی کم کیے تھے۔ اس کا استعمال اور اس کا مقصد کوئی نہ بتا سکا تھا۔ مہمان اب بھی کھانا زہر مار کرنے پر تیار نہ ہوا۔ اب ڈھونڈ ڈھانڈ کر گاؤں کا ایک ایسا بزرگ ڈنڈا ڈولی کرکے لایا گیا جس کے سر کے بال ہی نہیں بھنویں تک سفید ہو چکی تھیں۔ محتاط سے محتاط اندازے کے مطابق بھی بزرگ کی عمر ۹۹ سال سے کم نہ ہوگی۔ سجھائی بھی کم دیتا تھا۔ جب انھیں ڈنڈے کی شکل و صورت اور اس کا سائز تفصیل سے بتایا گیا تو وہ بھڑک کر اپنی لاٹھی ڈھونڈنے لگے۔ چیخ کر بولے: ’’ارے عقل کے اندھو! ہمارے بزرگ مہمان کے سامنے ایک چھوٹی سی پیالی میں ایک ننھا منا سا تنکا رکھا کرتے تھے، تاکہ اگر مہمان کے دانتوں کی ریخوں میں گوشت کا کوئی ریزہ پھنس جائے تو وہ خلال کرکے اسے نکال باہر کرے‘‘۔
زندگی کے کسی بھی شعبے میں کوئی نئی بات، کوئی بدعت، شروع تو خلال کے تنکے ہی سے ہوتی ہے، مگر پھر اس کے پیروکار اسے بڑھا کر لمبا سا اور موٹا سا ڈنڈا بنا دیتے ہیں اور اس پر بھی مطمئن نہیں ہوتے.

( احمد حاطب صدیقی صاحب کی تحریر '' مہمان کے لیے ڈنڈا'' سے ماخوذ)

23/11/2023

سائنس کی نظر میں 😥
تدفین کے ایک دن بعد یعنی ٹھیک 24 گھنٹے بعد انسان کی آنتوں میں ایسے کیڑوں کا گروہ سرگرم عمل ہو جاتا ہے جو مردے کے پاخانہ کے راستے سے نکلنا شروع ہو جاتا ہے،
ساتھ نا قابل برداشت بدبو پھیلنا شروع کرتا ہے،
جوکہ در اصل اپنے ہم پیشہ کیڑوں کو دعوت دیتے ہیں۔

یہ اعلان ہوتے ہی بچھو اور تمام کیڑے مکوڑے انسان کے جسم کی طرف حرکت کرنا شروع کر دیتے ہیں اور انسان کا گوشت کھانا شرو ع کر دیتے ہیں۔

تدفین کے 3 دن بعد سب سے پہلے ناک کی حالت تبدیل ہونا شرو ع ہو جاتی ہے۔
6 دن بعد ناخن گرنا شرو ع ہو جاتے ہیں۔
9 دن کے بعد بال گرنا شرو ع ہو جاتے ہیں۔
انسان کے جسم پر کوئی بال نہیں رہتا اور پیٹ پھولنا شروع ہو جاتا ہے۔
17 دن بعد پیٹ پھٹ جاتا ہے اور دیگر اجزاء باہر آنا شرو ع ہو جاتے ہیں۔
60 دن بعد مردے کے جسم سے سارا گوشت ختم ہو جاتا ہے۔ انسان کے جسم پر بوٹی کا ایک ٹکڑا باقی نہیں رہتا۔
90 دن بعد تمام ہڈیاں ایک دوسرے سے جدا ہونا شرو ع ہو جاتی ہیں۔
ایک سال بعد ہڈیاں بوسیدہ ہو جاتی ہیں،
اور بالآخر جس انسان کو دفنایا گیا تھا اس کا وجود ختم ہو جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔
۔
تو میرے دوستوں غرور، تکبر، حرص، لالچ، گھمنڈ، دشمنی، حسد، بغض، جلن، عزت، وقار، نام، عہدہ، بادشاہی،
یہ سب کہاں جاتا ہے؟
سب کچھ خاک میں مل جاتا ہے

انسان کی حیثیت ہی کیا ہے؟
مٹی سے بنا ہے، مٹی میں دفن ہو کر مٹی ہو جاتا ہے۔
پانچ یا چھ فٹ کا انسان قبر میں جا کر بےنام ونشان ہو جاتا ہے۔۔۔
دنیا میں اکڑ کر چلنے والا،
اپنے آپ کو طاقت ور سمجھنے والا
دوسروں کو حقیر سمجھنے والا
دنیا پر حکومت کرنے والا
قبر میں آتے ہی اس کی حیثیت، صرف "مٹی" رہ جاتی ہے

لہٰذا انسان کو اپنی ابدی اور ہمیشہ کی زندگی کو خوبصورت اور پرسکون بنانے کے لئے ہرلمحہ فکر کرنی چاہیئے،
اللہ کو یاد کرنا چاہیئے،
ہر نیک عمل اور عبادت میں اخلاص پیدا کرنا چاہیئے
اور
خاتمہ بالخیر کی دعا کرنی چاہیئے۔۔۔!
اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارا خاتمہ ایمان پر کرے اور کلمہ طیبہ نصیب کرے آمین 😢😭

06/11/2023

ایکـــــــــــــــ نوجــــــــــوان نے اپنے دادا جان سے پوچھا....!!!🌿

دادا جان آپ لوگـــــــــــــــ پہلے کیسے رھتے تھے.....؟

نہ لائیٹــــــــــ🌿

نہ جہـــــــــاز🌿

نہ انٹـــــــــــرنیٹ🌿

نہ کمپیـــــــــوٹر🌿

نہ فـــــــــــــــلم🌿

نہ ٹـــــــــی وی🌿

نہ اے ســـــی🌿

نہ گــــــــاڑی 🌿

نہ فـــــــــون🌿

دادا جان نے جــــــــــواب دیا....!!!

جیســــــــے تم لوگـــــــــــــــ ابھی رہ رہے ہو🌿

نہ قـــــــــــــــرآن💔🌿

نہ دیــــــــن💔🌿

نہ اســـــــــلام💔🌿

نہ نمـــــــــــــــاز💔🌿

نہ روزہ💔🌿

نہ شــــــفقت💔🌿

نہ احتـــــــــــــــرام💔🌿

نہ ادبـــــــــــ💔🌿

نہ اخــــــــلاق💔🌿

نہ شــــــــــــرم💔🌿

نہ حیــــــــا💔🌿

بس فـــــرق صرفـــــــــــــــ اتنا ہے کہ ہم دنیا سے بے خبــــــر تھے😶🌿

اور آپ دین سے بـــــــے خبـــــــر ہو💔🌿

*_تـــلخ مگـــــــــــر حقیقت😓_*

06/11/2023

برقعے میں لپٹی چہرے پر نقاب لیے ایک مسلمان عورت فرانس کی ایک سپر مارکیٹ میں خریداری کر رہی تھی، ٹرالی میں مطلوبہ سامان ڈالنے کے بعد وہ کیش کاونٹر کی طرف ادائیگی کیلئے بڑھی ۔ ایک چست لباس پہنے ہوئے سیلز گرل جو اپنے نقش ونگار سے عرب لگ رہی تھی۔اس نے حجاب میں لپٹی اس عورت کو ایک حقارت کی نظر سے دیکھا اور بڑبڑاتے ہوئے اس کا حساب بنانے لگی۔ حجاب میں لپٹی عورت خاموش کھڑی تھی لیکن اس کی خاموشی سیلز گرل کیلئے مزید جنجھلاہٹ کا باعث بنی۔ بولی۔ پہلے کیا کم مسائل ہیں فرانس میں ہم مسلمانوں کیلئے روز ایک نئی مصیبت کھڑی ہوتی ہے، تمہارا یہ نقاب ہی تو ان مسائل کی جڑ ہے۔ ہم یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ ہم یہاں تجارت یا سیاحت کیلئے آتے ہیں، دین کی اشاعت اور اسلاف کی تاریخ بیان کرنے نہیں۔ اگر تم اتنی ہی دیندار ہو تو واپس جاو اپنے وطن اور جیسے چاہو رہو۔ ہماری جان چھوڑو پرده دار خاتون نے اپنا پرس کاونٹر پر رکھا اور اپنے چہرے سے نقاب ہٹادیا۔ نیلی آنکھیں، سنہرے بال۔۔یورپی نقوش۔ کہنے لگی، میں خاندانی فرانسیسی ہوں، یہ فرانس تمہارا نہیں، میرا وطن ہے، پر میرا دین اسلام ہے۔ بات اور کچھ نہیں ہے، بات صرف یہ ہے کہ تم نے اپنے دین کو بیچ دیا ہے اور میں نے اسے خرید لیا ہے۔۔

05/11/2023

واپڈا کے کرشمے 👇👇👇😯😁

میں رکشے سے اس حسینہ کے گھر کے باہر اترا
گھر کیا تھا ایک محل تھا ڈیفینس کراچی میں۔ مین گیٹ کھلا تھا میں اندر داخل ہو گیا۔ تقریبا 250 میٹر کا ڈراہیو وے تھے جس کے اردگرد خوبصورت لان تھے۔ جن میں بہت سے خوبصورت پھول مہک رہے تھے۔ مجھے یوں لگا میں کسی بادشاہ کے دربار میں۔ چل رہا ہوں۔ مین گھر پر پہنچا تو ایک نوکر نے مجھے ریسیو کیا اور ڈراہنگ روم تک لے گیا۔ جتنے ایریا میں یہ ڈراہنگ روم تھا اتنی جگہ پر دس فیملیز کا گھر بنا لیتے تھے ہم۔ قالین اتنی دبیز اور نرم تھی کے یوں لگتا تھا میں ہواؤں میں چل رہا ہوں۔ ایک خوبصورت سے صوفے پر بیٹھ گیا میں
رکشے پر آنے کی وجہ سے میرے کپڑوں کی استری شدید خراب ہو چکی تھی اور یہ شان و شوکت دیکھ کر میرے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔
تھوڑی دیر میں کمرے میں ایک ملازمہ جوس کا گلاس لیکر داخل ہوئ۔ وہ اتنی خوبصورت تھی کہ میری نظریں اس کے جسم پر گڑ گئ۔ اس نے چست لباس پہنا تھا۔ ۔ ہاتھوں میں تھاما جوس کا گلاس میرے سامنے ٹیبل پر رکھا اور کہا "میڈم ا رہی ہیں کچھ دیر میں" اور چلی گئ۔ وہ واپس جاتے ہوے اور بھی خوبصورت لگی۔
میں نے جوس کی کچھ چسکیاں لیں۔ بہت لذیذ جوس تھا لیکن مجھے یہ نہ پتہ چلا کس پھل کا ہے۔ شاہد وہ پھل میں نے زندگی میں کبھی کھایا بھی نہ تھا۔
تھوڑی دیر بعد وہ حسینہ کمرے میں داخل ہوی۔ اس نے سلیپنگ سوٹ پہنا تھا۔ اس کے چہرے پر بیزاری تھی۔ مگر وہ بلا کی خوبصورت لگ رہی تھی۔ ریشمی سا لباس اس کے چکنے جسم پر پھسل رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں نیند کی خماری تھی شاہد۔ اور چال بھی ایسی تھی جیسے تین بوتل ووڈکا پی چکی ہے۔ وہ میرے سامنے بیٹھی اور کہا "اسد تم نے میری زندگی عذاب کر دی۔ ہر وقت میرے پیچھے پڑے رہتے ہو۔ اسی لیے تمھیں گھر بلایا۔ میرے امی ابو سے بات کر لو۔ وہ تمھیں سیدھا کر دیں گے اور میری جان تم جیسے ٹھرکی آدمی سے چھوٹ جاے گی" وہ غرور سے اٹے لہجے میں بات کر رہی تھی۔
میرے چہرے پر شرمندگی ہی شرمندگی تھی۔ اسی وقت اس کے امی ابو کمرے میں داخل ہوے۔ انکل آنٹی کی بڑی ہی gracefull personality تھی۔ وہ بہت مہذب نظر ا رہے تھے۔ مگر ان کے چہرے پر بھی دبا دبا غصہ تھا۔
وہ میرے سامنے والے صوفے پر بیٹھے۔
انکل نے بولنا شروع کیا جب کہ آنٹی مسلسل مجھے گھور رہی تھیں۔ " بیٹا غریب تو آپ شکل سے ہی لگتے ہو اس لیے پوچھنے کی ضرورت نہیں۔ ہم آپ کے ساتھ rude بھی نہیں ہونا چاہتے۔ مگر اپنی اوقات تو دیکھ لیتے۔ لنڈے کے کپڑے اور جوتے پہن کر ہمارے گھر ا گئے ہو۔ ہماری بیٹی نے کراچی سے MBBS کیا پھر اب امریکہ سے سپیشلاہزیشں کر کے واپس آی ہے۔ مہینے کا چھ سات لاکھ کماتی ہے اور اتنی ہی ہم اسے پاکٹ منی دیتے تب جا کر اس کا گزارہ ہوتا۔ تم نے اس کا رشتہ مانگنے کا کیسے سوچ لیا"
اگر آپ اس وقت میرے جسم کو کاٹتے تو خون کی ایک بوند نہ نکلتی کیوں کہ شرمندگی سے میرا خون خشک ہو گیا تھا۔ میرے چہرے پر ایسی شرمندگی تھی جیسے میں کوی اچھوت ہوں. میں نے ہکللاتے ہو لرزتی آواز میں بات شروع کی
"انکل میری اوقات تو کچھ نہیں میں تو بس واپڈا میں میٹر ریڈر ہوں" اتنا سننا تھا کہ انکل نے فوری میری بات کاٹی اور آگے بڑھھ کر مجھے گلے لگاتے ہوے کہا
"بیٹا نکاح آج شام ہی کر لو بارات کل لے آنا"
واپڈا کی کتاب "واپڈا کے کرشمے ننگی تاراں اکڑے کھمبے" سے اقتباس 👉😟😯😁

05/11/2023

ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﺍﯾﮏ ﭼﻮﺭ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺍ ﮐﻤﺮﮮ ﮐﺎ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﻮﻻ ﺗﻮ ﻣﺴﮩﺮﯼ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﺑﻮﮌﮬﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﺳﻮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﮐﮭﭧ ﭘﭧ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍٓﻧﮑﮫ ﮐﮭﻞ ﮔﺌﯽ ﭼﻮﺭ ﻧﮯ ﮔﮭﺒﺮﺍ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻟﯿﭩﮯ ﻟﯿﭩﮯ ﺑﻮﻟﯽ ﺑﯿﭩﺎ ﺗﻢ ﺷﮑﻞ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﺍﭼﮭﮯ ﮔﮭﺮﺍﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﻮ، ﯾﻘﯿﻨﺎً ﺣﺎﻻﺕ ﺳﮯ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺍﺱ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﭘﺮ ﻟﮓ ﮔﺌﮯ ﮨﻮ۔ ﭼﻠﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﺍﻟﻤﺎﺭﯼ ﮐﮯ ﺗﯿﺴﺮﮮ ﺧﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺗﺠﻮﺭﯼ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺭﺍ ﻣﺎﻝ ﮨﮯ ﺗﻢ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﻭﮦ ﻟﮯ ﺟﺎﻧﺎ۔ ﻣﮕﺮ ﭘﮩﻠﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺁﮐﺮ ﺑﯿﭩﮭﻮ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺑﮭﯽ ﺍﺑﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﺧﻮﺍﺏ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺫﺭﺍ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﻌﺒﯿﺮ ﺗﻮ ﺑﺘﺎ ﺩﻭ
ﭼﻮﺭ ﺍﺱ ﺑﻮﮌﮬﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﺭﺣﻤﺪﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﺷﻔﻘﺖ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ۔ ﺑﮍﮬﯿﺎ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺧﻮﺍﺏ ﺳﻨﺎﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﺎ ’’ ﺑﯿﭩﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺻﺤﺮﺍ ﻣﯿﮟ ﮔﻢ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﮨﻮﮞ ۔ ﺍﯾﺴﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﭼﯿﻞ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺁﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ 3 ﺩﻓﻌﮧ ﺯﻭﺭ ﺯﻭﺭ ﺳﮯ ﺑﻮﻻ ﻣﺎﺟﺪ ۔ ۔ ﻣﺎﺟﺪ ۔ ۔ ﻣﺎﺟﺪ !!! ﺑﺲ ﭘﮭﺮ ﺧﻮﺍﺏ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮫ ﮐﮭﻞ ﮔﺌﯽ۔ ﺫﺭﺍ ﺑﺘﺎﻭٔ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮐﯿﺎ ﺗﻌﺒﯿﺮ ﮨﻮﺋﯽ؟
ﭼﻮﺭ ﺳﻮﭺ ﻣﯿﮟ ﭘﮍ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﺗﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﺳﮯ ﺑﮍﮬﯿﺎ ﮐﺎ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺑﯿﭩﺎ ﻣﺎﺟﺪ ﺍﭘﻨﺎ ﻧﺎﻡ ﺯﻭﺭ ﺯﻭﺭ ﺳﮯ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺍﭨﮫ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺪﺭ ﺁﮐﺮ ﭼﻮﺭ ﮐﯽ ﺧﻮﺏ ﭨﮭﮑﺎﺋﯽ ﻟﮕﺎﺋﯽ۔ ﺑﮍﮬﯿﺎ ﺑﻮﻟﯽ ’’ ﺑﺲ ﮐﺮﻭ ﺍﺏ ﯾﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﯿﮯ ﮐﯽ ﺳﺰﺍ ﺑﮭﮕﺖ ﭼﮑﺎ۔ ‘‘ ﭼﻮﺭ ﺑﻮﻻ ’’ ﻧﮩﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﺭﻭ ﺗﺎﮐﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺁﺋﻨﺪﮦ ﯾﺎﺩ ﺭﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﭼﻮﺭ ﮨﻮﮞ ﺧﻮﺍﺑﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻌﺒﯿﺮ ﺑﺘﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﻧﮩﯿﮟ😀😀

05/11/2023



لڑکی نے کہا ہم غریب ہیں اور میرے والد ابھی شادی کا خرچہ نہیں اٹھا سکتے😢😢😢
آور
میں اپنے والدین کا بہت احترام کرتی ہوں میں فرار کی بجائے مر جانا پسند کروں گی.

لیکن آپ میرے ماں باپ سے بات کر سکتے ہیں، باقی وہ جیسا کہیں گے ویسا ہی ہوگا.

لڑکے نے کہا "مجھے کیا پریشانی ہوگی" مییں نے کون سی جہیز کی ڈیمانڈ رکھنی ہے.

آپ کہہ رہی ہیں تو میں آپکے ماں باپ سے بات کر لوں گا،

لڑکا اس کےگھر جاتاہے اور لڑکی کے والدین سے بات کرتا ہے.

لڑکی کے والد نے کہا میرے پاس تو صرف 1000 روپے ہی پڑے ہیں،

میں شادی کیسے کروں، لڑکے نے کہا شادی تو ہزار روپے میں بھی ہو جاتی ہے ...

لڑکی کے باپ نے کہا کہ وہ کیسے؟

لڑکے نے کہا کہ تم کل میرے ساتھ چلنا.

اگلے دن لڑکا آتا ہے اور کہتا کہ آپ اپنے خاندان کے خاص خاص اراکین کو لے کر میرے ساتھ چلیے.

وہ سب اس کی گاڑی میں بیٹھ جاتے ہیں تھوڑی دور جا کر ایک مٹھائی کی دوکان کے سامنے لڑکا گاڑی روکتا هے ...

اور کہتا ہے پاپاجی آپ کو دو کلو اچھی سی میٹھائی لے آیئے.

وہ میٹھائی لے آتے ہیں اس کے بعد لڑکا کورٹ کے سامنے گاڑی روکتا هے اور کورٹ میں لڑکی کے ساتھ شادی کی رجسٹریشن کرواتا ہے.

لڑکا کہتا ہے والد صاحب ہو گئی شادی، اب آپ میٹھائی بانٹ دیجئے اور ہو گئی ایک ہزار کی مٹھائی میں شادی.

آپ کا اور کوئی خرچہ نہیں ہوگا، لڑکی کے والد کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں.

لیکن ایک مہینے بعد ہی لڑکے کی سڑک حادثے میں موت ہو جاتی ہے.

لڑکی حادثہ والی جگہ پر جاتی ہے، لیکن مردہ جسم (ڈیڈ باڈی) کو دیکھ کر بے ہوش ہو جاتی ہے ..

لڑکے کا پوسٹ مارٹم ہوتا ہے اور (مردہ جسم) ڈیڈ باڈی اور خون سے لت پت کپڑے گھر آ جاتے ہیں ...

لڑکے کا جنازہ ادا کر دیا جاتا ہے.

لڑکی نے وہ خون سے سنے کپڑے دھوبی کو دھونے کے ليے دیے.

دھوبی نے کہا .. 'میڈم یہ کپڑے پھینک دیجئے.

یہ بیکار ہو گئے ہیں

لیکن لڑکی نے کہا تم رہنے دو ...

میرے پاس یہ کپڑے ان کی یاد کے طور پر رہیں گے، میں یہ کپڑے کسی کو نہیں دوں گی.

لڑکی نے کپڑے خود دھوئے لیکن خون کے داغ نہیں گئے.

لڑکی سو گئی، خواب میں لڑکی کو ایک بڑھيا نظر آئی.

لڑکی ڈر کر اٹھ جاتی ہے، اگلے دن لڑکی نے کپڑے پھر دھوئے.

لیکن داغ نہیں گئے، رات کو لڑکی کو پھر وہی خوفناک چہرے والی بڑھيا نظر آئی.

اس نے کہا یہ داغ ایسے نہیں جانے والے.

ایسا کچھ ہفتوں تک چلتا رہا.

لڑکی کے ليے سونا مشکل ہو گياایک دن لڑکی کے گھر کی گھنٹی بجی .....

لڑکی نے دروازہ کھولا ......

تو

تو

لڑکی ڈر کے مارے چیخ پڑی ........

وہی خواب میں نظر آنے والی بڑھيا اس کے سامنے کھڑی تھی ....

اس نے کہا، ڈرو نہیں بیٹی، میں جانتی ہوں کہ تم لباس کے داغ سے پریشان ہو، لیکن وہ داغ ایسے نہیں جانے والے کیونکہ ......

بنیادی طور پر آپ واشنگ پاؤڈر ہی غلط استعمال کر رہی ہیں یہ لو



اس سے داغ ضرور چلے جائیں گے

اور

وہ بڑھيا بنا پیسے لیئے ہی چلی جاتی ہے.

لڑکی نے ان کپڑوں کو (سرف ایکسل) سے دھویا تو داغ ایک دم سے چلے گئے.

تو داغ دور کرنے کے ليے

> سرف ایکسل<

استعمال کیجئے.

غور سے پڑھنے کا بہت بہت شکریہ🙏🙏🙏🙏🙏

05/11/2023

ایک دفعہ کا ذکر ہے، ایک گاؤں میں ایک لڑکا رہتا تھا، بشیر. بہت نالائق اور نکھٹو طبیعت کا تھا...
اس کے اسکول میں استاد اور استانیاں اس سے نالاں رہتے تھے اور ساتھی مذاق اڑاتے تھے.
ایک دن، بشیر کی اماں اسکول آئیں اور استانی جی سے اپنے پیارے بیٹے کی پڑھائی پر بات کرنا چاہی.
استانی جی تو بھری بیٹھی تھیں. بشیر کی بے وقوفی اور پڑھائی میں غیر دلچسپی کی داستانیں بغیر لگی لپٹی رکھے، اس کی اماں کو سنا ڈالیں. کہ یہ اتنا نالائق ہے کہ اگر اسکا باپ زندہ ہوتا اور بینک کا مالک بھی ہوتا تب بھی اس کو نوکری پہ نا رکھوا پاتا.
بیوہ ماں پر سکتہ طاری ہو گیا. بغیر کچھ کہے، اپنے پیارے بیٹے کا ہاتھ پکڑا اور اسکول سے چلی گئی. نہ صرف اسکول، بلکہ وہ گاؤں بھی چھوڑ کر شہر چلی آئی.
وقت گزرتا گیا، گاؤں بڑھ کر قصبہ بن گیااور 25 سال گزر گئے. اسکول کی استانی جی کو دل میں شدید درد محسوس ہوا.
ہسپتال میں داخل کرایا لیکن درد بڑھتا رہا اور سب لوگوں نے، قریب بڑے شہر کے اچھے ہسپتال میں اوپن ہارٹ سرجری کا مشورہ دیا.
سب کے مشورے سے وہ شہر چلی آئیں اور سرجری کروالی. آپریشن کامیاب رہا اور انھیں کمرے میں لے جا یا گیا.
بیہوشی کی ادویات کے زیر اثر، انھوں نے آنکھ کھولی تو سامنے ایک خوبصورت نوجوان مسکراتا نظر آیا.
اسے پہچاننے کی کوشش کرتے ہوتے یکدم انکا رنگ نیلا پڑنے لگا انھوں نے انگلی سے ڈاکٹر کی طرف اشارہ کرکے کچھ کہنا چاہا لیکن شاید مصنوعی آکسیجن بند ہو چکی تھی.......
ڈاکٹر خوفزدہ اور پریشان ہو گیا اور اس نے آگے بڑھ کر انھیں سنبھالنے کی کوشش کی. لیکن استانی جی نے لمحوں میں ہی دم توڑ دیا.
ڈاکٹر کی آنکھوں میں آنسو تھے. وہ پلٹا تو دیکھا کہ ہسپتال کے بھنگی، بشیر نے، وینٹی لیٹر کا پلگ نکال کر اپنے ویکیوم کلینر کا پلک لگا دیا تھا.......
اب آپ اگر یہ سمجھ رہے تھے کہ خوبصورت ڈاکٹر وہی سادہ اور بے وقوف سا لڑکا، بشیر، تھا جس کی ماں نے اس کا ہا تھ پکڑ کر روتے ہوئے گاؤں چھوڑا تھا اور شہر آکر اس کو ڈاکٹر بنوا دیا تھا، تو پلیز جاگ جائیں.....
انڈین فلموں کے اثر سے باہر آجائیں.
حقیقی زندگی میں بشیر، بشیر ہی رہتا ہے.😜

شکریہ

پرانے وقتوں میں عورت کا اپنے شوہر کا نام لینابہت معیوب سمجھا جاتا تھا۔ایک خاتون کے شوہر کا نام مکھن تھا۔ لہذا لفظ مکھناس...
01/11/2023

پرانے وقتوں میں عورت کا اپنے شوہر کا نام لینا
بہت معیوب سمجھا جاتا تھا۔
ایک خاتون کے شوہر کا نام مکھن تھا۔ لہذا لفظ مکھن
اس نے کبھی اپنی زبان پر نہ لایا تھا۔
ایک دفعہ وہ لسی رڑک رہی تھی ۔ ایک پڑوسن اسکے
پاس آ کر بیٹھ گئی اور اس نے تہیہ کیا کہ آج تو اس سے
شوہر کا نام کہلوا کے رہوں گی 😇😇
جب خاتون نے سارا مکھن اکھٹا کیا تو وہ پیڑا بن کر
ڈولی کے عین وسط میں تیرنے لگا۔۔۔
پڑوسن نے جھٹ سے پوچھا 'یہ لسی کے اوپر کیا تیر رہا ہے'
خاتون نے جواب دیا "یہ منے کے ابا تیر رہے ہیں"🤦🤦🤦

01/11/2023
ایک ریاست کے بادشاہ نے یہ اعلان کروا دیا کہ کل صبح جب میرے محل کا مرکزی دروازہ کھولا جائے گا تب جس شخص نے بھی محل میں جس...
30/10/2023

ایک ریاست کے بادشاہ نے یہ اعلان کروا دیا کہ کل صبح جب میرے محل کا مرکزی دروازہ کھولا جائے گا تب جس شخص نے بھی محل میں جس چیز کو ہاتھ لگا دیا وہ چیز اس کی ہو جائے گی.اس اعلان کو سن کر سب لوگ آپس میں بات چیت کرنے لگے کہ میں تو سب قمتي چیز کو ہاتھ لگاؤں گا.
کچھ لوگ کہنے لگے میں تو سونے کو ہاتھ لگاؤں گا، کچھ لوگ چاندي کو تو کچھ لوگ قیمتی زیورات کو، کچھ لوگ گھوڑوں کو تو کچھ لوگ ہاتھی، کچھ لوگ دودھ دینے والی گائے کو ہاتھ لگانے کی بات کر رہے تھے.جب صبح محل کا مرکزی دروازہ کھلا اور سب لوگ اپنی اپنی من پسند چیزوں کے لئے دوڑے.سب کو اس بات کی جلدی تھی کہ پہلے میں اپنی من پسند چیزوں کو ہاتھ لگا دوں تاکہ وہ چیز ہمیشہ کے لئے میری ہو جاے.بادشاہ اپنی جگہ پر بیٹھا سب کو دیکھ رہا تھا اور اپنے آس پاس ہو رہی بھاگ دوڑ کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا.اسی وقت اس بھیڑ میں سے ایک شخص بادشاہ کی طرف بڑھنے لگا اور آہستہ آہستہ چلتا ہوا بادشاہ کے پاس پہنچ کر اس نے بادشاہ کو چھو لیا.بادشاہ کو ہاتھ لگاتے ہی بادشاہ اس کا ہو گیا اور بادشاہ کی ہر چیز بھی اس کی ہو گئی.جس طرح بادشاہ نے ان لوگوں کو موقع دیا اور ان لوگوں نے غلطیاں کی.

ٹھیک اسی طرح ساری دنیا کا مالک بھی ہم سب کو ہر روز موقع دیتا ہے، لیکن افسوس ہم عقل کے اندھےلوگ بھی ہر روز غلطیاں کرتے ہیں.ہم اللہ کوحاصل کرنے کی بجاےاللہ کی بنائی ہوئی دنیا کی چیزوں کی آرزو کرتے ہیں.لیکن کبھی بھی ہم لوگ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ کیوں نہ دنیا کے بنانے والے مالک کو پا لیا جاے.اگر مالک ہمارا ہو گیا تو اس کی بنائی ہوئی ہر چیز بھی ہماری ہو جائے گی۔

Address

Rawalpindi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Qari Toqeer Ahmed Sultani posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share