Suffa Online Islamic School

Suffa Online Islamic School We provide online services of teaching Holy Quran with proper Tajweed and Translation etc.

19/06/2025

روح کی تسکین

The Story of Prophet Ibrahim and the Great SacrificeA long time ago, there lived a kind and faithful Prophet named Proph...
23/05/2025

The Story of Prophet Ibrahim and the Great Sacrifice

A long time ago, there lived a kind and faithful Prophet named Prophet Ibrahim (peace be upon him). Allah loved him very much and tested him in many ways to see how strong his faith was.

Prophet Ibrahim had a beloved son named Prophet Ismail (peace be upon him). One night, Prophet Ibrahim saw a dream. In the dream, he was sacrificing his son Ismail for the sake of Allah.

Prophet Ibrahim knew that dreams of Prophets are true and come from Allah. So, he went to his son and said:

"My dear son, I saw in a dream that I must sacrifice you. What do you think?"

Little Prophet Ismail replied with great courage:

"Dear father, do as Allah has commanded. You will find me patient, God willing."

Prophet Ibrahim was very sad but also full of faith. He took his son to a quiet place, far away in the hills. On the way, the devil tried to stop them and make them disobey Allah, but Prophet Ibrahim and Prophet Ismail threw stones at him and chased him away.

When they reached the place, Prophet Ibrahim tied a cloth over his eyes so he wouldn’t see his son’s face and feel too sad. He then took a knife and tried to follow Allah’s command.

But just as he tried to sacrifice his son—a miracle happened! Allah replaced Prophet Ismail with a beautiful ram, and a voice called out:

"O Ibrahim, you have fulfilled the dream. This was a test, and you passed it. We reward those who do good."

Prophet Ismail was safe, and they both thanked Allah. This amazing event teaches us the importance of obedience, sacrifice, and trust in Allah.

Every year, Muslims around the world celebrate Eid al-Adha to remember the great sacrifice of Prophet Ibrahim and Prophet Ismail, and they offer animals like sheep, goats, or cows in remembrance.

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کی کہانیبہت پہلے کی بات ہے، ایک نیک اور سچے نبی تھے، جن کا نام حضرت ابراہیم علیہ السل...
23/05/2025

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کی کہانی

بہت پہلے کی بات ہے، ایک نیک اور سچے نبی تھے، جن کا نام حضرت ابراہیم علیہ السلام تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنا نبی بنایا اور بہت ساری آزمائشوں میں ڈالا تاکہ وہ ثابت کریں کہ وہ اللہ سے کتنا پیار کرتے ہیں۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ایک بیٹے تھے، جن کا نام حضرت اسماعیل علیہ السلام تھا۔ وہ بہت فرمانبردار اور پیارے بیٹے تھے۔ ایک دن حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے حضرت اسماعیل کو اللہ کی راہ میں قربان کر رہے ہیں۔

حضرت ابراہیم جانتے تھے کہ نبی کا خواب سچا ہوتا ہے، اور یہ اللہ کا حکم ہے۔ انہوں نے حضرت اسماعیل علیہ السلام سے کہا:
"بیٹا! میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں تمہیں اللہ کے لیے قربان کر رہا ہوں۔ تمہاری کیا رائے ہے؟"

حضرت اسماعیل علیہ السلام نے کہا:
"ابا جان! جو اللہ کا حکم ہے، آپ وہی کیجیے۔ ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔"

حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے کو لے کر قربانی کے لیے چل دیے۔ راستے میں شیطان آیا اور ان کو بہکانے لگا، مگر حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل نے اس کی بات نہیں مانی اور اس پر کنکریاں مار کر بھگا دیا۔

جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو قربان کرنے کے لیے لٹایا اور آنکھوں پر پٹی باندھی، تو جیسے ہی چھری چلائی، اللہ تعالیٰ نے ایک معجزہ فرمایا! حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ ایک خوبصورت دنبہ آگیا، اور حضرت اسماعیل علیہ السلام صحیح سلامت کھڑے تھے!

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"اے ابراہیم! تم نے خواب سچ کر دکھایا۔ ہم نیک لوگوں کو ایسے ہی انعام دیتے ہیں۔"

یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہمیں اللہ کے حکم پر ہمیشہ عمل کرنا چاہیے اور صبر و قربانی کا جذبہ رکھنا چاہیے۔

اسی یاد میں ہر سال عید الاضحیٰ منائی جاتی ہے، اور مسلمان جانوروں کی قربانی کرتے ہیں۔

کہانی: بڑا بت اور کلہاڑاایک دن کی بات ہے...ایک شہر کے لوگ پتھر کے بتوں کو "خدا" مانتے تھے۔ وہ ان کے آگے جھکتے، ان سے دعا...
15/05/2025

کہانی: بڑا بت اور کلہاڑا

ایک دن کی بات ہے...
ایک شہر کے لوگ پتھر کے بتوں کو "خدا" مانتے تھے۔ وہ ان کے آگے جھکتے، ان سے دعائیں مانگتے۔ لیکن ان بتوں میں نہ جان تھی، نہ زبان۔

اسی شہر میں رہتے تھے حضرت ابراہیم علیہ السلام۔

وہ سوچتے تھے:

> "یہ کیسے خدا ہیں؟ جو خود نہ سن سکتے، نہ بول سکتے، نہ کسی کو بچا سکتے!"

اللہ نے حضرت ابراہیم کو نبی بنایا۔ انہوں نے لوگوں کو سمجھایا، مگر کسی نے نہ سنا۔

پھر ایک دن...
شہر کے سب لوگ خوشی منانے باہر گئے۔ حضرت ابراہیم چپکے سے مندر میں گئے۔
ان کے ہاتھ میں ایک کلہاڑا تھا۔

انہوں نے سب چھوٹے بت توڑ دیے۔

صرف سب سے بڑے بت کو چھوڑا —
اور کلہاڑا اسی کے کندھے پر رکھ دیا!

جب لوگ واپس آئے تو غصے سے چیخ پڑے:

> "ہمارے بتوں کو کس نے توڑا؟!"

سب نے کہا:

> "یہ کام ابراہیم نے کیا ہوگا!"

حضرت ابراہیم علیہ السلام سے پوچھا گیا:

> "یہ سب کیوں توڑا؟"

حضرت ابراہیم نے کہا:

> "یہ کام تو بڑے بت نے کیا ہوگا! کلہاڑا اسی کے پاس ہے، اس سے پوچھ لو!"

لوگ شرمندہ ہوئے، مگر خاموش رہے۔
انہیں سمجھ آ گیا کہ بت کچھ نہیں کر سکتے۔

لیکن ان کا بادشاہ نمرود بہت غصے میں آیا۔

اس نے کہا:

> "ابراہیم کو آگ میں جلا دو!"

بہت بڑی آگ جلائی گئی۔
حضرت ابراہیم کو آگ میں پھینکا گیا...

مگر اللہ نے فرمایا:

> "اے آگ! ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا!"

آگ ٹھنڈی ہو گئی!
حضرت ابراہیم علیہ السلام بچ گئے!

سب حیران رہ گئے۔
یہ اللہ کی نشانی تھی — جو سچوں کو بچاتا ہے!

Story: The Big Idol and the AxeOnce upon a time...There was a city where people worshipped idols made of stone.They woul...
15/05/2025

Story: The Big Idol and the Axe

Once upon a time...

There was a city where people worshipped idols made of stone.
They would bow before them, pray to them, and bring them gifts.
But those idols could not hear, speak, or do anything.

In that same city lived Prophet Ibrahim (Abraham), peace be upon him.

He used to think:

> "How can these stones be gods? They can’t talk, walk, or help anyone!"
Allah chose Ibrahim as a prophet.
He tried to explain to the people, but they didn’t listen.
Then one day...
Everyone left the city for a big festival.
Prophet Ibrahim stayed behind and quietly went to the temple.

He was holding an axe.

He smashed all the small idols into pieces...
..but he left the biggest idol standing.

He then hung the axe on the big idol’s shoulder!

Later, when the people came back and saw the broken idols, they were shocked and angry:

> "Who did this to our gods?!"
Some said:

> "We heard a young man named Ibrahim speaking against them..."

They brought Prophet Ibrahim and asked:

> "Did you do this to our gods?"

Prophet Ibrahim calmly replied:
> "The big idol did it! Look, the axe is on his shoulder! Ask him if he can speak!"

Everyone became quiet.
They knew the idol couldn’t talk.

They felt embarrassed — but they still didn’t believe.

The king, Ni**od, was very angry.
He said:

> "Burn Ibrahim in a big fire!"

So they built a huge fire — so hot that birds couldn’t fly over it.
Then they threw Prophet Ibrahim into the fire...

But Allah said:

> "O fire, be cool and safe for Ibrahim

The fire cooled down!
Prophet Ibrahim came out safe and unharmed!

Everyone was amazed.
It was a great sign from Allah — that He protects those who believe in Him.

قوم عاد کا قصہ۔ ( قرآنی تناظر میں)قوم عاد کا قصہ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر بیان ہوا ہے، خصوصاً سورہ الاعراف، سورہ ہو...
14/05/2025

قوم عاد کا قصہ۔ ( قرآنی تناظر میں)
قوم عاد کا قصہ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر بیان ہوا ہے، خصوصاً سورہ الاعراف، سورہ ہود، سورہ الشعراء، سورہ فُصِّلت، اور سورہ الحاقہ میں۔ یہ قوم ایک قدیم عرب قوم تھی جسے اللہ تعالیٰ نے ان کی سرکشی، کفر، اور نافرمانی کی وجہ سے ہلاک کر دیا۔ ذیل میں قوم عاد کا قصہ قرآنی تناظر میں پیش کیا جا رہا ہے:

قوم عاد کون تھی؟

قوم عاد حضرت نوح علیہ السلام کے بعد آئی۔ ان کا علاقہ احقاف (یعنی ریتیلے ٹیلوں کی سرزمین) تھا، جو موجودہ یمن اور عمان کے درمیان واقع تھا۔ یہ قوم جسمانی طور پر بہت طاقتور، بلند قامت اور تعمیرات میں ماہر تھی۔ انہوں نے بڑے بڑے محلات اور ستونوں والے محلات بنائے تھے.

حضرت ہود علیہ السلام کی بعثت:

اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کی طرف حضرت ہود علیہ السلام کو نبی بنا کر بھیجا، جو خود انہی میں سے تھے۔ انہوں نے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی اور شرک، ظلم اور سرکشی سے باز آنے کا حکم دیا۔

قرآنی حوالہ:

> "وَإِلَىٰ عَادٍ أَخَاهُمْ هُودًا ۚ قَالَ يَـٰقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَـٰهٍ غَيْرُهُ"
(الاعراف: 65)
"اور (ہم نے) عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا۔ اس نے کہا: اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔"

قوم عاد کی سرکشی:

قوم عاد نے حضرت ہود علیہ السلام کی بات نہ مانی، اور ان کا مذاق اڑایا۔ وہ اپنی طاقت اور مال و دولت پر غرور کرنے لگے، اور کہنے لگے:

> "مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً"
(فصلت: 15)
"ہم سے زیادہ طاقتور کون ہے؟"

اللہ کا عذاب:

جب قوم عاد نے حضرت ہود علیہ السلام کو جھٹلایا، تو اللہ تعالیٰ نے ان پر ایک خوفناک عذاب بھیجا۔ پہلے قحط اور خشک سالی آئی، پھر ایک زبردست آندھی آئی جو سات راتیں اور آٹھ دن تک چلتی رہی۔

قرآنی حوالہ:

> "وَأَمَّا عَادٌ فَأُهْلِكُوا۟ بِرِيحٍۢ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ"
(الحاقہ: 6)
"اور عاد کو ایک تیز و تند آندھی کے ذریعے ہلاک کیا گیا۔"

> "تُدَمِّرُ كُلَّ شَىْءٍۢ بِأَمْرِ رَبِّهَا"
(الاحقاف: 25)
"جو ہر چیز کو اپنے رب کے حکم سے تباہ کر دیتی تھی۔"

عبرت کا پیغام:

قوم عاد کے انجام کو قرآن میں عبرت کے طور پر پیش کیا گیا ہے تاکہ آنے والی قومیں سبق سیکھیں:

> "فَأَمَّا عَادٌۭ فَٱسْتَكْبَرُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ بِغَيْرِ ٱلْحَقِّ... فَأَخَذَهُمُ ٱللَّهُ بِذَنبِهِمْ فَصَيَّرَهُمْ جُثَثًۭا"
(غافر: 31)
"عاد نے زمین میں ناحق تکبر کیا... تو اللہ نے انہیں ان کے گناہ کی وجہ سے پکڑ لیا اور وہ لاشیں بن کر رہ گئے۔"

The Story of the People of ʿĀd — With Qur'anic Verses1. A Powerful NationThe People of ʿĀd were very strong. They lived ...
14/05/2025

The Story of the People of ʿĀd — With Qur'anic Verses

1. A Powerful Nation

The People of ʿĀd were very strong. They lived in a land of sand hills and built great buildings.

Qur'an (Ash-Shuʿarā 26:128-129):

أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ آيَةً تَعْبَثُونَ (128)
وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ (129)

Translation:
"Do you build on every high place a symbol (of pride) for no reason? And do you make fine buildings as if you will live forever?

2. Worshiping Idols

Even though Allah gave them many blessings, they worshiped idols instead of Allah.

Qur'an (Al-Aʿrāf 7:65):

وَإِلَىٰ عَادٍ أَخَاهُمْ هُودًا ۚ قَالَ يَـٰقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَـٰهٍ غَيْرُهُ

Translation:
"And to the people of ʿĀd, We sent their brother Hūd. He said, 'O my people, worship Allah; you have no god other than Him.'"

3. Pride and Arrogance
They were very proud and thought no one could defeat them.

Qur'an (Fuṣṣilat 41:15):

فَأَمَّا عَادٌۭ فَٱسْتَكْبَرُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ بِغَيْرِ ٱلْحَقِّ وَقَالُوا۟ مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً

Translation:
"As for ʿĀd, they were arrogant in the land without right, and said, 'Who is mightier than us in strength?'"

4. The Warning

Prophet Hūd warned them to worship Allah and be thankful. But they did not listen.

Qur'an (Hūd 11:50-51):

يَـٰقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَـٰهٍ غَيْرُهُۥۚ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا مُفْتَرُونَ (50)
يَـٰقَوْمِ لَآ أَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا ۚ إِنْ أَجْرِىَ إِلَّا عَلَى ٱلَّذِى فَطَرَنِىٓ ۚ أَفَلَا تَعْقِلُونَ (51)

Translation:
"O my people! Worship Allah; you have no deity other than Him. You are only inventing lies. I ask no reward from you for this. My reward is only from the One who created me. Will you not understand?"

5. The Terrible Wind

When they rejected the message, Allah sent a strong, deadly wind.

Qur'an (Al-Ḥāqqah 69:6–7):

وَأَمَّا عَادٌۭ فَأُهْلِكُوا۟ بِرِيحٍۢ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍۢ (6)
سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍۢ وَثَمَـٰنِيَةَ أَيَّامٍۢ حُسُومًۭا فَتَرَى ٱلْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَىٰ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍۢ (7)

Translation:
"And as for ʿĀd, they were destroyed by a screaming, furious wind, which He imposed on them for seven nights and eight days without break. You would see the people fallen as if they were hollow trunks of palm trees."

6. A Lesson for Us

Prophet Hūd and the believers were saved. The rest were destroyed. This story teaches us:

Always worship Allah alone.

Never be proud or arrogant.

Listen to Allah's messengers.

Qur'an (Al-Aʿrāf 7:72):

فَأَنجَيْنَـٰهُ وَٱلَّذِينَ مَعَهُۥ بِرَحْمَةٍۢ مِّنَّا وَقَطَعْنَا دَابِرَ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَـٰتِنَا

Translation:
"So We saved him (Hūd) and those with him by Our mercy, and We cut off the roots of those who denied Our signs."
#قرآنيات

The Story of Prophet Nuh (A.S.)(Based on the Qur'an)After Prophet Adam (A.S.), people slowly forgot the message of Tawhe...
06/05/2025

The Story of Prophet Nuh (A.S.)

(Based on the Qur'an)

After Prophet Adam (A.S.), people slowly forgot the message of Tawheed (oneness of Allah). They began worshipping idols named Wadd, Suwa’, Yaghuth, Ya’uq, and Nasr (Surah Nuh: 23). These idols were made in honor of righteous people, but later generations turned them into gods.

To guide people back to Allah, He sent Prophet Nuh (A.S.), the first messenger sent to mankind after Adam.

He preached for 950 years.

Arabic Ayah:
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوْمِهِ فَلَبِثَ فِيهِمْ أَلْفَ سَنَةٍ إِلَّا خَمْسِينَ عَامًا
Surah Al-‘Ankabut (29:14)

Translation:
“And We certainly sent Noah to his people, and he remained among them a thousand years minus fifty years...”

Despite his long efforts, most of the people rejected him. He invited them with patience and love:

Arabic Ayah:
قَالَ رَبِّ إِنِّي دَعَوْتُ قَوْمِي لَيْلًا وَنَهَارًا
Surah Nuh (71:5)

Translation:
“He said, ‘My Lord, indeed I invited my people night and day.’”

They mocked him and refused to listen. Only a few poor people believed in him. When they kept denying, Prophet Nuh (A.S.) prayed:

Arabic Ayah:
رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا
Surah Nuh (71:26)

Translation:
“My Lord, do not leave upon the earth from among the disbelievers an inhabitant.”

Allah instructed him to build an Ark (ship):

Arabic Ayah:
وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا
Surah Hud (11:37)

Translation:
“And construct the ship under Our observation and Our inspiration...”

The people mocked him while he built the Ark. When the time came, water gushed from the earth and rain poured from the sky. The flood began. Prophet Nuh (A.S.) took the believers and a pair of every animal onto the Ark.

His son, who refused to believe, tried to escape by climbing a mountain.

Arabic Ayah:
قَالَ سَآوِي إِلَىٰ جَبَلٍ يَعْصِمُنِي مِنَ الْمَاءِ ۚ قَالَ لَا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ إِلَّا مَنْ رَّحِمَ
Surah Hud (11:43)

Translation:
“[His son] said, ‘I will take refuge on a mountain to protect me from the water.’ [Nuh] said, ‘There is no protector today from the decree of Allah except for whom He gives mercy.’”

The son drowned, and all disbelievers were destroyed. The Ark rested on Mount Judi after the flood.

Moral Lesson:

Patience, truthfulness, and trust in Allah will always be rewarded, no matter how long it takes. Allah supports the sincere and destroys arrogance and falsehood.

حضرت نوح علیہ السلام کا قصہ (قرآنی سیاق و سباق کے ساتھ)اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کو ایک ایسی قوم کی طرف نبی بن...
06/05/2025

حضرت نوح علیہ السلام کا قصہ (قرآنی سیاق و سباق کے ساتھ)

اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کو ایک ایسی قوم کی طرف نبی بنا کر بھیجا جو شرک، بت پرستی اور ظلم میں ڈوب چکی تھی۔

دعوتِ توحید:
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوْمِهِ فَقَالَ يَـٰقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَـٰهٍ غَيْرُهُۥ ۖ إِنِّىٓ أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
(سورۃ الأعراف: 59)
ترجمہ:
"اور ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تو اس نے کہا: اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، مجھے تم پر بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے۔

دعوت کا طریقہ اور قوم کی ضد:
قَالَ رَبِّ إِنِّى دَعَوْتُ قَوْمِى لَيْلًۭا وَنَهَارًۭا۝ فَلَمْ يَزِدْهُمْ دُعَآءِىٓ إِلَّا فِرَارًۭا
(سورۃ نوح: 5–6)
ترجمہ:
"نوح نے کہا: اے میرے رب! میں نے اپنی قوم کو رات دن بلایا، مگر میری دعوت نے ان کے فرار میں ہی اضافہ کیا۔"

اللہ تعالیٰ سے دعا:
رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى ٱلْأَرْضِ مِنَ ٱلْكَـٰفِرِينَ دَيَّارًا
(سورۃ نوح: 26)
ترجمہ:
"اے میرے رب! زمین پر کافروں میں سے کسی کو بھی زندہ باقی نہ چھوڑ۔"

کشتی کی تعمیر اور حکمِ الٰہی:
وَٱصْنَعِ ٱلْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا
(سورۃ ہود: 37)
ترجمہ:
"اور ہماری نگرانی اور وحی کے مطابق کشتی بنا۔"

سفرِ کشتی:
فَقُلْنَا ٱحْمِلْ فِيهَا مِن كُلٍّۢ زَوْجَيْنِ ٱثْنَيْنِ وَأَهْلَكَ إِلَّا مَن سَبَقَ عَلَيْهِ ٱلْقَوْلُ...
(سورۃ ہود: 40)
ترجمہ:
"تو ہم نے کہا: اس میں ہر قسم کا جوڑا دو دو، اپنے گھر والوں کو (سوائے اُن کے جن کے بارے میں فیصلہ ہو چکا) سوار کر لے..."

کشتی کی روانگی:
وَقَالَ ٱرْكَبُوا۟ فِيهَا بِسْمِ ٱللَّهِ مَجْر۪ىٰهَا وَمُرْسَىٰهَآ ۚ إِنَّ رَبِّى لَغَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ
(سورۃ ہود: 41)
ترجمہ:
"اور نوح نے کہا: اس میں سوار ہو جاؤ، اللہ کے نام سے ہی اس کا چلنا اور ٹھہرنا ہے، بے شک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔"

طوفان کا اختتام:
وَقِيلَ يَـٰٓأَرْضُ ٱبْلَعِى مَآءَكِ وَيَـٰسَمَآءُ أَقْلِعِى وَغِيضَ ٱلْمَآءُ وَقُضِىَ ٱلْأَمْرُ وَٱسْتَوَتْ عَلَى ٱلْجُودِىِّ ۖ وَقِيلَ بُعْدًۭا لِّلْقَوْمِ ٱلظَّـٰلِمِينَ
(سورۃ ہود: 44)
ترجمہ:
"اور کہا گیا: اے زمین! اپنا پانی نگل لے، اور اے آسمان! تھم جا۔ اور پانی خشک کر دیا گیا، اور کام پورا کر دیا گیا، اور کشتی جودی پر ٹھہر گئی۔"

سبق (Moral Lesson):
اللہ پر ایمان، صبر، اور مسلسل دعوتِ حق انسان کو فلاح تک پہنچاتی ہے، اور حق کا انکار کرنے والوں کا انجام ہمیشہ ہلاکت ہوتا ہے۔

حضرت آدم علیہ السلام اور ابلیس کا قصہ (قرآنی سیاق و سباق میں)اللہ تعالیٰ نے زمین پر خلیفہ بنانے کا ارادہ فرمایا، تو فرشت...
02/05/2025

حضرت آدم علیہ السلام اور ابلیس کا قصہ (قرآنی سیاق و سباق میں)

اللہ تعالیٰ نے زمین پر خلیفہ بنانے کا ارادہ فرمایا، تو فرشتوں سے فرمایا:
"میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔"
(سورۃ البقرہ: 30)

اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو مٹی سے پیدا کیا اور ان میں اپنی روح پھونکی۔ پھر اللہ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کریں۔ سب فرشتوں نے سجدہ کیا، سوائے ابلیس کے۔
"اس نے انکار کیا اور تکبر کیا اور کافروں میں سے ہو گیا۔"
(سورۃ البقرہ: 34)

ابلیس نے اپنے انکار کی وجہ یہ بتائی کہ
"تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور آدم کو مٹی سے۔"
(سورۃ الاعراف: 12)
اس تکبر کی وجہ سے اللہ نے اسے رحمت سے دور کر دیا اور قیامت تک کے لیے ملعون قرار دیا۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم و حوا کو جنت میں رہنے کا حکم دیا، اور صرف ایک درخت کے قریب جانے سے منع فرمایا۔ مگر ابلیس نے چالاکی سے ان کو بہکا دیا اور کہا کہ اگر تم یہ درخت کھاؤ گے تو ہمیشہ کے لیے جنت میں رہو گے۔
"پس شیطان نے ان دونوں کو بہکایا..."
(سورۃ الاعراف: 20)

حضرت آدم اور حوا نے درخت کا پھل کھا لیا، اور ان کی غلطی ظاہر ہو گئی۔ انہوں نے فوراً اللہ سے توبہ کی:
"اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، اگر تو ہمیں معاف نہ کرے اور رحم نہ فرمائے تو ہم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔"
(سورۃ الاعراف: 23)

اللہ نے ان کی توبہ قبول کر لی، لیکن جنت سے زمین پر اتار دیا اور ہدایت کے ساتھ زندگی گزارنے کا حکم دیا۔

سبق (Moral Lesson):
غرور انسان کو تباہ کرتا ہے جیسے ابلیس ہوا، جبکہ توبہ اور عاجزی اللہ کی رحمت کے دروازے کھولتی ہے۔

Address

Saddar
Rawalpindi
46000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Suffa Online Islamic School posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Suffa Online Islamic School:

Share