وَالسّٰبِقُوۡنَ السّٰبِقُوۡنَ'-

وَالسّٰبِقُوۡنَ السّٰبِقُوۡنَ'- Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from وَالسّٰبِقُوۡنَ السّٰبِقُوۡنَ'-, Religious organisation, Punjab, Rawalpindi.

05/01/2026

قـرآن ہڈیوں، پتھروں، پتوں پر لکھا گیا تھا!اِس نظریہ کا رد دوطرح سے کیا جاسکتا ہے
1- قــــرآنی نصوص کے ذریعے ۔ 2 اُن تمام روایات پر بحث کے ذریعے ۔۔۔
جبکہ میں تو روایات کو دیکھنا بھی پسند نہیں کرتا اِس لئے کہ اُس کی حیثیت ہی کچھ نہیں ، ہاں لیکن ! قـــــرآن سے ثبوت فراہم کر سکتا ہوں کہ اوّل روز سے ہی قـــــرآن کتابی شکل میں لکھا جاتا رہا اور وہ بھی عام کاغذ پر نہیں بلکہ ہرن کی کھال کی جھلی کے بنے ہوئے کاغذ پر جو قیمتی سرکاری دستاویزات کے لئے استعمال ہوتا ہے جِسے (Parchment ) کہتے ہیں ۔ چنانچہ اللّٰه اس آیت کئی جگہ مختلف چیزوں کی قسم کھا رہا ہے ۔ پہلے کوہِ طور کی قسم کھائی پھر اِس کتاب کی قسم کھا رہا ہے
آیت ملاحظہ ہو:
{ وَالطُّوۡرِ ﴿1﴾ وَ کِتٰبٍ مَّسۡطُوۡرٍ ﴿2﴾( سورۃ طور کی آیات 2-1 ) ۔۔۔
اور ہمیں قسم ہے اُس کتاب کی جو سطروں میں لکھی گئی ہے ہرن کی کھال کی جھلی پر ( رق ) یہ جھلی سرکاری تحریر کے لئے استعمال ہوتی تھی ۔
اور عربوں میں تحریری میثاق کا عام رواج تھا اِسی لئے لین دین کے لئے بھی تحریری کتابت کی تاکید کی ہے اللّٰه نے ۔
[ اِذَا تَدَایَنۡتُمۡ بِدَیۡنٍ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی فَاکۡـتُبُوۡہُ : 2/282 ۔
کہ وہ معاہدہ لکھ لیا کرو ۔ اور اُس زمانے میں انجیل اور تورات باقاعدہ کتابی شکل موجود تھیں تو کیا قرآن کے لئے ہی کاغذ نہ مل رہا تھا ؟
دوسری جگہ قرآن کا نام لیکر کہ رہا ہے کہ
[ اِنَّهٗ لَقُرۡاٰنٌ کَرِیۡمٌ : فِیۡ کِتٰبٍ مَّکۡنُوۡنٍ : (۔ 56 کی 77-78 ) یقیناً یہ قرآن لکھا گیا ہے محفوظ کتاب میں ۔ جیسے جیسے اور جتنا نازل ہوتا جاتا تھا سینوں میں بھی محفوظ ہوتا جا رہا تھا اور ہرن کی کھال کی جھلی کے کاغذ پر بھی ۔۔۔۔ ہر دو طرح سے محفوظ ہوتا جارہا تھا ۔
غیر مسلموں کی شہادت ۔۔۔ چنانچہ Sir John Hamilton کی سربراہی میں ایک Encyclopedia تیار ہوا تھا 11 جلدوں میں ۔۔۔ اُس میں چیپٹر قرآن میں لکھا ہے ۔
( یہ کتاب محمد کی زندگی میں ا اُنہی کی زیرِ نگرانی ضبط تحریر میں آگئی تھی اور صحابیوں نے اُسے حفظ بھی یاد کیا تھا اور یہ سلسلہ آج تک جوں کا توں بغیر کسی ایک حرف کے تغیر کے چلتا چلا آ رہا ہے ۔ تحریری بھی اور زبانی بھی ۔
Universal Encyclopedia Chapter Quran

اور تو اور شیعہ محقق ( فاضل الشیخ محمد حسین الکاشف ) اپنی مشہور کتاب۔[ اصل الشیعة واصولها ] میں لکھتے ہیں ۔۔۔
وہ کتاب جو اِس وقت مسلمین کے ہاتھوں میں ہے یہ وہی ھدایت نامہ ہے جِسے اللّٰه نے معجزہ بنا کر نازل کیا اُس میں رتی بھر کوئی کمی بیشی نہیں ہوئی جو لوگ اُس میں تحریف کے قائل ہیں وہ سخت خطا کار ہیں ( صفحہ 63 ) ۔

میں اگر روایات کو مانتا ہوتا تو روایات پر ایسی جرح کرتا کہ خطا کاروں کو لگ پتہ جاتا لیکن اب میں روایات پربات کرنا بھی گناہ سمجھتا ہوں ۔ اور نہ اُس کی ضرورت ہے ۔ اِس لئے کہ روایت پر جرح اِس لئے کی جاتی ہے کہ ثابت ہو سکے کہ آیا یہ بات رسول نے کہی بھی تھی یا نہیں ؟
لیکن اسلام کا Structure یہ ہے کہ [ قرآن بطور مرمننٹ آئین ۔۔ اور اسکے ذیلی قوانین جو وقت کا رسول طے کریگا اپنی موجودہ { مجلس شوریٰ ۔Legislature Assembly } کے ذریعے
( شَاوِرۡہُمۡ فِی الۡاَمۡرِ ۔۔3/159 ) ۔
وہ بحیثیت By-laws صرف اپنے دور کے لوگوں کے لئے ہوں گے ۔ بعد والوں کے لئے نہیں ۔ کیونکہ پرمننٹ صرف کلام الٰہی ہوتا ہے
{ لَا تَبْدِیْلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ : 10/64} اور دین کے نصاب میں رسول کے اقوال نہیں چلیں گے وہ صرف اللّٰه کے احکام چلیں گے
{ اِنِ الۡحُكۡمُ اِلَّا لِلّٰهِ : ‌12/40 اور 18/26 ] ۔
لہٰذا اللّٰه کے دین میں اِس وقت کے رسول کے نفاذی اقوال ۔۔۔۔
اگر ثابت بھی ہو جائیں تو وہ آج کے دور کے لئے قابلِ قبول نہیں ۔
لہٰذا کسی حدیث پر پھر فنی بحث کرنا ہی لا یعنی ہے ۔
باقی یہ کہ عمر نے لکھا فلاں نے جلا دیا اُس نے یہ کہا اُس نے وہ کیا یہ سب دو نمبری ہے ۔ ہمارے لئے دین صرف قرآن ہے جو محفوظ ہے اللّٰه کی Intervention سے جس میں کوئی تحریف نہیں کر سکتا ۔۔۔۔ اور قرآن نہ کسی [ ابو بکر، عمر ، عثمان ، علی وغیرہ ]۔ کو جانتا ہے نہ ہمیں ضرورت ہے جاننے کی ۔ نہ بحث کرنے کی ۔ اگر یہ کردار ہوں گے تب ہمیں کچھ لینا دینا نہیں اور اگر نہ ہوئے تب کچھ نہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اے ایس انصاری

بہت بہت شکریہ جناب !لیکن میرے بھائی بس یہ روائتی باتیں ہیں پہلی بات تو یہ کہ بھلائی عالمی طلب کی جاتی ہے شخصی نہیں، سب ک...
01/01/2026

بہت بہت شکریہ جناب !
لیکن میرے بھائی بس یہ روائتی باتیں ہیں پہلی بات تو یہ کہ بھلائی عالمی طلب کی جاتی ہے شخصی نہیں، سب کے بھلے میں ہی بھلا ہے ۔ دوسرے یہ کہ خیالوں خیالوں میں کوئی تبدیلی نہیں آتی دن تو سارے اللّٰه کے بنائے ہوئے ہیں ایک جیسے ہی ہیں اُن میں خیر اور شر کے رنگ تو انسان بھرتا ہے۔۔
کل اور آج میں کیا تبدیلی آجائیگی جب تک انسان خود نہ بدلے ؟
دیکھیں اللّٰه کا قانون یہ ہے ۔
1-{ وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقۡتَتَلُوۡا :2/253 } اللّٰه ہی اگر خود سے کرنا چاہتا تو تم کبھی ایک دوسرے کو قتل نہ کیا کرتے ۔

2-{ وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَکُمۡ اُمَّةً وَّاحِدَۃً :5/48 }اگر اللّٰه ہی خود سے کرنا چاہتا تو تم سب کو ایک امت بنا دیتا اختلافات ہی ختم ۔

3- { لَوۡ شَآءَ اللّٰهُ لَجَمَعَهُمۡ عَلَی الۡهُدٰی :6/35۔اگر اللّٰه ہی خود سے کرنا چاہتا تو تم سب کو ھدایت پر لگا دیتا

4-[ وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ مَاۤ اَشۡرَکُوۡا :6/107 ] اگر اللّٰه ہی خود سے چاہتا تو تم میں سے کوئی شرک نہ کرتا ۔

5-{ وَلَوۡ شَآءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنۡ فِی الۡاَرۡضِ کُلُّهُمۡ جَمِیۡعًا :10/99} اگر اللّٰه ہی خود سے چاہتا تو روئے زمین کے تمام لوگ مومن ہوتے۔

لیکن اللّٰه کبھی کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ قوم خود نہ بدلنا چاہے 13/11 ۔اور یہ قوم اب راکھ کا ڈھیر بن گئی ہے ، گٹر کی گند بن گئی ہے اب عذاب الٰہیہ کی منتظر رہے ۔

جو لوگ تبدیلی لانے میں اپنی سی Effort کر رہے ہیں اللّٰه کے عذاب سے اِن شاءاللّٰه محفوظ رہیں گے ( اعراف 163--164 ) ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اے ایس انصاری

19/10/2025

پہلے سائل کا سوال سن لیں
پھر مرزا صاحب کا بیان سنیں
پھر میں ایک چھوٹا سا سوال رکھوں گا صرف مرزا صاحب کے لئے نہیں بلکہ تمام مذاہب کے جید علماء کے لئے مرزا صاحب تو بے چارے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگے ہوئے ایک عام آدمی ہے ۔
سائل نے پوچھا تھا کہ ۔
کیا حوا کو آدم کی پسلی سے بنایا گیا؟؟؟
سائل نے قرآن کی رُو سے جواب مانگا تھا ۔ مرزا صاحب قرآن کو چھوڑ کر فوراً بخاری مسلم پر آگئے ۔ کہ پسلی کا ذکر بخاری مسلم میں ہے۔
اور پھر کہنے لگے کہ سورۃ نساء کا اسٹارٹ ہی اُس سے ہو رہا ہے کہ ۔
( ہم نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا پھر اُسی سے اُس کا جوڑا پیدا کیا 4/1 ) ۔
پھر سائل نے پوچھا کہ پسلی کا ذکر قرآن میں ہے تو فوراً اُن کو چپ لگ گئی۔ کہ پسلی کو چھو ڑیں ۔
اب اُس آیت 4/1 کو سامنے رکھ کر ہم سوال کرتے ہیں کہ
{ خَلَقَكُمۡ مِّنۡ نَّفۡسٍ وَّاحِدَةٍ ۔۔۔ اُس نے تمہیں ایک "" نفس"" سے پیدا کیا ( کُمْ )جمع کی ضمیر آئی ہے ۔۔تمہیں، یعنی ہم سب کو ۔۔۔ ایک نفس سے ( کسی حوا کو نہیں ) ۔ پھر آگے ۔۔۔
وَّ خَلَقَ مِنۡهَا زَوۡجَهَا ۔۔۔۔ اور پھر اُسی ایک "" نفس""سے اُس نفس کا جوڑا پیدا کیا ۔۔۔ اور وہ نفس [ آدم ] نہیں تھا اِس لئے کہ نفس بطور مونث آیا ہے { منها } آیا ہے { منه } نہیں اور آگے بھی ضمیر مونث آئی { زوجها } اُس مونث نفس کا جوڑا ۔ { زوجه } نہیں ۔
تو آدم کا تو اُس آیت میں دور دور تک پتہ نہیں ہے ۔
لہٰذا مرزا صاحب پہلے تو یہ گتھی سلجھائیں اُسی آیت میں ابھی اور بہت سی گتھیاں ہیں جو آپ نے سلجھانی ہیں نشاندھی ہم کریں گے ۔
واضح رہے آیت اپنے معنیٰ میں صاف ہے اور دیگر تمام آیات سے ہم آہنگ ہے ۔۔ گتھی تو اسے تمنے بنایا ہے ۔
فی الحال اُس [ زوجه اور زوجھا ] کا مسئلہ حل کریں ۔
چیلینج ہے تمام جید علماء کو جو دراصل علماء ہیں ہی نہیں ۔۔ اور نہ صرف علماء کو بلکہ اُن تمام لوگوں کو جو اُن کو ( معزز علماء کرام ) سمجھتے ہیں کہ اُن سے جواب لیکر دیں ۔ آپ سب کی بھی ذمہ داری بنتی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔ اے ایس انصاری

⚖️؛-- بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ !🥇(  الحـــــق  )  کیـــــــا ہے ؟ حق ۔۔ کا مادہ ہے [  ح- ق - ق ] "ض" سے ۔۔...
13/12/2024

⚖️؛-- بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ !

🥇( الحـــــق ) کیـــــــا ہے ؟
حق ۔۔ کا مادہ ہے [ ح- ق - ق ] "ض" سے ۔۔۔۔ اُس کے بنیادی معنیٰ ہیں { کسی چیز یا بات کا مد مقابل کے ہاں بھی ثابت یا مطابق ہونا } ۔
یہ حق کے اصل معنیٰ ہیں ، اُس کے علاوہ بھی ذیلی معنیٰ تو کئی ایک ہیں ۔

الحـــــق ۔۔ ایسا حق کہ مدِمقابل یا تو مان جائے یا بھاگ جائے اُس کے پاس Arguments کرنے کے لئے کچھ نہ ہو ۔۔
جہاں دلائل حجتیں چل سکتی ہوں وہ بات
" تنازع " کہلاتی ہے ، اور تنازعات اِس طرح پبلک میں ڈسکس نہیں کئے جاتے ۔۔
اسلامک گورنمنٹ میں یہ ریفر کئے جاتے ہیں مرکز میں رسول کے پاس ۔۔۔
{ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ : 4/59 } گورنمنٹ کے پاس ایک پورا سسٹم ہوتا ہے نیٹ ورک ہوتا ہے تنازعات حل کرنے کا اور پبلک کو تعلیم دینے کا ۔

وہاں علم کو Base سے شروع کیا جاتا ہے تنازعات ہوتے ہی نہیں ہیں ۔ اور نہ تنازع کرنے کی اجازت ہوتی ہے ۔ تنازعات تو ہے ہی جہالت کی پیداوار ۔
وہاں لسانیات اور لغویات دونوں کی تعلیم دی جاتی ہے پھر تنازع کھڑا ہی نہیں ہوتا ۔ لسانیات اور لغویات کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔ یہ ہمیں مصر کی جامعہ میں جاکر پتہ چلا ۔ ( گوگل ) سے علم نہیں ملتا اھلِ علم کو راہنمائی مل جاتی ہے ۔
عام آدمی جب علمی گہرائی کو جانتا نہیں ہے تو اللّٰه اُسے Preach کرنے کاحکم کیوں دیگا ؟

اگر وہ یہ کام کریگا تو تنازعات ہی کھڑے ہوں گے ۔۔ لہٰذا عام آدمی کو اُس سے پرہیز کرنا چاہئے ۔۔
دیکھیں کہ اللّٰه نے عام آدمی کو دعوت دینے کا جو حکم لگایا ہے وہ [ الحـــق ] کی دعوت دینے کا لگایا ہے ، پورے قرآن کا نہیں ، ( وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ : 103/3) عام آدمی برابر وصیت کرے دوسروں کو " الحـــق " کی ۔
اور ( الحـــق ) کی کوالٹی یہ بتائی ہے کہ جب
" الحـــق" آجاتا ہے تو باطل بھاگ جاتا ہے ۔۔ کیونکہ باطل کے پاس اُس وقت صرف دو آپشنز ہی ہوتے ہیں یا تو مان لے یا بھاگ جائے ۔ آرگومینٹس کا آپشن نہیں ہوتا ۔ اِس لئے کہ آرگومینٹس کرنے کی صلاحیت دونوں فریق کے ہاس نہیں ہوتی ۔ اور الحـــق آرگومینٹس کا محتاج بھی نہیں ہوتا ۔
ارگومینٹس اھلِ علم کر سکتے ہیں اور { العلم} کہتے ہی اُسے ہیں جو Base سے اُٹھا ہو ۔
جڑ سے چلا ہو ۔
دیکھیں علم کِسے کہتے ہیں ۔ عیسیٰ علیہ السلام کہتے ہیں اللّٰه سے
( تَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِیْ وَ لَاۤ اَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِكَ : 5/116 ) تو علم رکھتا ہے جو کچھ میرے باطن میں ہے اور میں علم نہیں رکھتا جو کچھ تیرے باطن میں ہے ۔
یعنی تو میری شروعات سے واقف ہے میں تیری شروعات سے واقف نہیں ۔
اُس Basic knowledge کو علم کہتے ہیں۔۔

علم کی شروعات تو ہیں اختتام کوئی نہیں ۔
اب ہم چند حوالوں سے بتائیں گے کہ قرآن میں ( الحــــق ) کِسے کہتے ہیں ؟

1 ـ-ـ-ـ-ـ-ـ-ـ-ـ 🏅 الحــــق !!
مثال کے طور پر ۔۔ احادیث کے رد کے لئے ۔
{ ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَیْبَ فِیْهِ هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَ : 2/2 }
اُس آیة کو آپ کھول کر رکھ دیں مدِ مقابل کے سامنے ۔
کہ شک سے بالاتر اور ھدایت کی کتاب تو ایک ہی ہے اُس آیة کی رو سے ۔ اب آپ بتائیں کہ اُسے مانتے ہیں یا نہیں ؟

آپ بتائیں کہ کیا اُس کے کچھ دوسرے معنیٰ بھی ہو سکتے ہیں یا نہیں ؟
آپ بتائیں کہ اگر اُس آیة کو مان لیا جائے تو دوسری کتابوں کا اسٹیٹس کیا بنتا ہے ؟

وہ یا تو مانے گا یا بھاگ جائیگا ۔

2- یہ بات بغیر دلائل دئے ہر وہ شخص جو اللّٰه پر قرآن پر ایمان رکھتا ہے وہ مانتا ہے کہ ۔۔۔
اللّٰه نہ بھولتا ہے ، نہ غلطی کرتا ہے اور ہر ہر لفظ کو ناپ تول کر رکھتا ہے ۔ اُس کے دلائل بھرے پڑے ہیں لیکن اُنکی ضرورت ہی نہیں ۔
ہر شخص اُس حقیقت کو بے چوں چرا تسلیم کرتا ہے ۔
اب آپ اُن کے سامنے یہ دلیل رکھیں کہ ۔۔۔

اللّٰه نے تو ہر جگہ اطاعت رسول رکھی ہے کسی ایک جگہ بھی [ اطاعت کرو حدیث کی یا اطاعت کرو کتاب کی ] نہیں رکھا کیوں ؟

کیا اللّٰه غلطی کرتا رہا ؟ الفاظ چن نے میں کچھ غلطی ہوگئی جو آپ کو درست کرنی پڑ رہی ہے ؟
نیز : کیا کسی بھی طرح حدیث کو رسول یا رسول کو حدیث کہ سکتے ہیں ؟
مدِ مقابل کے پاس اُس کا کوئی جواب نہیں ہوگا کیونکہ یہ ( الحـــق ) ہے ۔
ارگومینٹس کرنے لئے کچھ بھی نہیں ہے یا تو مانیگا یا بھاگ جائیگا ۔

3 - نبی کی ذات کی نہ اطاعت ہے نہ اتباع ، اتباع صرف وحی کی ہے اور وحی ذات سے
الگ مختلف چیز ہے ۔

{ اِنْ ضَلَلْتُ فَاِنَّمَآ اَضِلُّ عَلٰى نَفْسِىْ : 34/50 }

آیة آپ سلیقے سے رکھیں ۔۔ مدِ مقابل کے پاس کوئی دلیل نہیں اُسے رد کرنے کی ،
بس آپ اُسے پیش کرنے کا مینر سیکھ لیں ۔

یہ ایک ایک آیة ایک پہاڑ کا وزن رکھتی ہیں ۔ پورے قرآن کا چیمپین بننے کی ضرورت نہیں ۔

یہ ہیں وہ حق کے دلائل جنہیں عام آدمی بھی رکھ سکتا ہے ایک ایک آیت کی گہرائی کو اچھی طرح سمجھ لیں سیکھ لیں ۔ اور پھر پورے وثوق کےسے مدِ نقابل کے سامنے رکھیں ۔

پورے قرآن پر دسترس تو دیوانے کا خواب ہے ۔

یہ علوم کی یونیورسٹی ہے ۔ اسلامی گورنمنٹ ہوگی تو اُس کے علوم کے جواہر پارے کھلیں گے ۔
مجھ میں اور آپ میں اگر کوئی تفاوت ہوگا بھی تو صرف Ratio کا ہوگا اسٹیج کا نہیں ۔

میں بھی ابھی علم کی پہلی اسٹیج پر ہی ہوں آپ بھی ! ابھی تو شروعات ہے 75 فیصد زندگی تو جہالت میں گزار دی ،
انسان کی جدوجہد دیکھ کر وہ اپنے بندوں کو راہنمائی دیتا ہے نوازتا ہے ۔ یہی اُس کی سنت ہے ۔
چلیں امید کرتا ہوں کہ ( الحــق ) کی کچھ وضاحت دینے میں کامیاب رہا ہوں گا ۔ ایک ایک آیت کے چیمپین بنیں ۔۔
اِس طرح پہنچایا جاتا ہے ( الحق ) وہ سعودی کا وزیر ( فرحان المالکی ) کہتا ہے کہ ایک آیت سیکھنے میں ایک سال بھی لگ سکتا ہے میرے پاس اُس کی ویڈیو موجود ہے ، یہ ہوتے ہیں اھلِ علم ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔ اے ایس انصاری

مجھے نہیں معلوم کہ قرآن کے خلاف سازشیں کرنے والے کون لوگ یا کتنے ہیں، اور اُن کے نام کیا ہیں ۔لیکن اُنکے مکر وفریب کو ال...
01/11/2024

مجھے نہیں معلوم کہ قرآن کے خلاف سازشیں
کرنے والے کون لوگ یا کتنے ہیں، اور اُن کے نام کیا ہیں ۔
لیکن اُنکے مکر وفریب کو اللّٰه خوب جانتا ہے ۔

اور جھوٹ بولتے ہوئے فرما رہے ہیں کہ انصاری نے کہا ہے کہ ( قرآن کی کمپین چلا کر اصل قرآن کی حفاظت اھلِ قرآن کریں گے )

الفاظ بدل کر بیانیہ بدل دیا۔ لوگ میرے الفاظ اور اُن کے الفاظ ٹیلی کرکے دیکھ سکتے ہیں میں نے کہا تھا [ اصل کی پہچان یہ ہے کہ اصل حفظ ہوجاتا ہے جعلی حفظ نہیں ہوتا ]

حفاظت ہم کریں گے یہ میں نے کب کہا ہے ؟

دو نمبر قرآن کو تلف کرنے کی بات کی ہے اصل تو سینوں میں محفوظ ہے ہم کیا حفاظت کریں گے ۔۔
اُسی طرح کے جھوٹ کئی جگہ اُنہوں نے بولے ہیں ۔۔۔ جو لوگ اللّٰه کی آیات کا سودا کرکے غلاظت کھا رہے ہوں اُن کے لئے جھوٹ بولنا تو معمولی سی بات ہے ۔
قرآن کی حفاظت پر بہت سی آیات ہیں اُن
میں سے میں صرف 2 کے حوالے دے رہا ہوں ۔

اور زیرِ بحث صرف ایک تیسری آیت لاوں گا 41/42 --- 15/9 ۔۔۔۔
{ بَلْ هُوَ آیاتٌ بَیِّناتٌ فِی صُدُورِ الَّذِینَ أُوتُوا الْعِلْمَ : 29/49 }
بلکہ یہ آیات بینات تو جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے اُن کے سینوں میں محفوظ ہیں ۔

تو مسٹر جھوٹے ! میرے پاس یہ قرآن ہے جس کو میرے اللّٰه نے سینوں میں محفوظ کیا ہے یہ آج تک جوں کا توں چلتا چلا آرہا ہے ۔ مشہور
Orientalist , Hortwing Hirschfeld
لکھتا ہے کہ
( قرآن آج تک جوں کا توں چلتا چلا آرہا ہے جیسا کہ محمد نے لکھوا کر دیا تھا ۔
New rsearches into the composition and axegesis of the Quran .
اُسی طرح
Universal Encyclopedia Chept . Quran بھی نکال کر دیکھو ۔
یہ حفص اور ورش کی بکواس تو آپ جیسے فراڈیوں کی ہے ۔۔ اللّٰه نے اپنی کتاب میں ایسی کوئی خبر نہیں دی ۔۔ اور یہ کسی پرنٹنگ پریس کی حفاظت کا محتاج بھی نہیں ۔۔۔
اور بکواس بند کریں چیلینج قبول کریں ۔۔۔

وقت اور جگہ مقرر کریں ہم اُس قرآن کے 10 حافظ لیکر آتے ہیں جو اللّٰه کی طرف سے سینوں میں محفوظ ہے ۔۔ تو اُن سے مختلف قرآن کے حافظ اُس کے آدھے لے آئیں اگر لا سکتے ہیں تو ؟
اور اپنا وہ ورش والا نسخہ بھی ساتھ ہی لیکر آئیں ۔۔۔۔ بولیں کب لیکر آ رہے ہیں ؟ اگر لے آئے تو میری سزا آپ اختیار میں ۔
اور اگر نہیں لاسکا خالی ہاتھ آ گئے تو پھر اپنی سزا بھی خود ہی مقرر کر لیں ۔
۔۔۔۔۔
اور لوگوں کو چاہئے کہ فتنہ کو پہچانیں کب پہچانیں گے ؟ یہ کیسا ایمان ہے آپ لوگوں کا
کہ ابھی تک قرآن کا اسٹیٹس ہی معلوم نہیں ہوسکا ،کسی کے ذرا سے بہکانے سے بھٹکنے لگ جاتے ہیں ۔
اللّٰه کی کتاب کو مشکوک قرار دینے کی کوشش کرنے والے جھٹلانے والے جتوں کو تو انسان کا مقام دینا ہی نہیں چاہئے ،
۔۔۔۔ اے ایس انصاری

01/11/2024

یہ حفص قرآن کیا ہوتا ہے ۔۔۔ اور ورش قرآن کیا ہوتا ہے ؟ جو اعتراض کرنے والا یہ نکتہ اُٹھا رہا ہے ؟
صرف اصل قرآن اور جعلی قرآن ہوتا ہے ۔۔

اور اُس کی پہچان یہ ہے کہ اصل حفظ ہو جاتا ہے جعلی حفظ نہیں ہوتا کوئی اُس کا حافظ لاکر دکھا دیں نہیں لا سکتا ۔
یہ جعلی قران دشمنوں نے لانچ کیا ہے ایرانی اماموں کی لکھی ہوئی روایات کی رو سے ۔۔ اہلِ قرآن کو چاہئے کہ اصلی قرآن اور جعلی
قرآن کی اصطلاح استعمال کریں اور جعلی

قرآن کو تلف Waste کرنے کی کمپین چلائیں ۔ حفص اور ورش کی یہ اصطلاح استعمال کرکے تو آپ دو نمبری کرنے والوں کی حوصلہ افزائی فرما رھے ہیں / رہی ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔ اے ایس انصاری
https://www.facebook.com/share/p/1GMtJYoinS/
۔۔۔۔۔
https://www.facebook.com/share/p/13taxcgFq3/

26/10/2024

۔۔۔ وصل ۔۔ معنیٰ ہیں مل جانا جڑ جانا۔
۔۔۔ وسل ۔۔ معنیٰ بھی جڑ جانا مل جانا ۔
فرق یہ کہ "وسل " میں رغبت کے ساتھ
اُس تک پہنچ کر اُس سے جڑ جانا ہے ۔۔

اے وہ لوگو جنہوں نے معاشرے میں امن قائم کردیا ( پاؤر ملنے پر کہیں تمہارا تقویٰ نہ جاتا رہے ) اللّٰه کا تقویٰ اختیار کئے رہو اور اللّٰه کی طرف جڑے رہنے کی راہیں کھوجتے رہو ۔

عموماً حکومت اور طاقت ملنے کے بعد
انسان میں خباثتیں جنم لینے لگتی ہیں ۔
------ اے ایس انصاری

سعید صاحب !غلطی تو ہو سکتی ہے لیکن یہاں ہے نہیں ۔۔آپ کا فرمانا کہ ( رسول اِس وقت بھی رسول تھا جب کوئی ( معه ) نہیں تھا ۔...
17/10/2024

سعید صاحب !
غلطی تو ہو سکتی ہے لیکن یہاں ہے نہیں ۔۔
آپ کا فرمانا کہ ( رسول اِس وقت بھی رسول تھا جب کوئی ( معه ) نہیں تھا ۔۔ دلیل ؟
جبکہ میں تو اپنے موقف کی دلیل پیش کر سکتا ہوں اور پہلے بھی یہی دلیل اپنے طویل مضمون میں رکھ چکا ہوں ۔۔ دیکھیں پہلا کام نبی کا ہوتا ہے بحیثیت نبی آپ نے دعوت دی کچھ مومنین صالحین تیار ہوئے اور جب اُنکی تنظیم سازی کا وقت آیا تب اُس نبی کا دوسرا عہدہ متحرک ہوا ۔
( لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَۚ : 3/164 ) یقینا اللّٰه نے احسان کیا مومنین پر کہ اُن میں اُنہیں میں سے ایک رسول لاکھڑا کیا اب یہ اُن پر اللّٰه کی آیات ( تلاوت ) کریگا ۔ پہلے صرف پڑھ کر سنا تھا تھا " قرآة " اب تلاوت کریگا یعنی نافذ بھی کریگا اب Admin کا عہدہ بھی اُسے دے دیا گیا ۔۔ نبی کا انتخاب کرتے وقت اللّٰه ایسے ہی شخص کو چنا کرتا تھا جو رسول کے اوصاف بھی رکھتا ہو ۔۔
اور اُس مشرک معاشرے میں یہ مومنین آکہاں سے گئے ؟ ظاہر ہے اُس سے پہلے نبی کا عہدہ کام کر رہا تھا جو Preach کر رہا تھا ۔
۔۔
محترم میں تو اور بھی بہت سے دلائل دے سکتا ہوں لیکن آپ دیکھیں کہ آپ نے صرف اعتراض جڑ دیا ۔ گویا کہ آپ کا فرما دینا ہی کافی ہے ( نام ہی کافی ہے ) بڑی پرانی Advertisment کا ڈائیلاگ ہے یہ ۔
اچھا آخر میں پوچھنا چاہوں گا کہ وہ دوسرا انصاری کونسا ہے جس کی جھلک آپ نے دیکھی ہے ؟ گویا کہ کوئی بہت بڑی سازش ہے جو آپ نے بھانپ لی ؟ اُس قسم کے الفاظ نئے لوگوں کے لئے بجت Shocking ہوتے ہیں کہ یہ انصاری تو کسی کے ایجنڈے پر کام کر رہا ہے وہ تو اچھا ہوا چودھری سعید صاحب نے پہلے ہی بھانپ لیا اور ہم چوکنا ہوگئے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اے ایس انصاری

16/10/2024

یہ دیکھیں جناب اعلی حضرت مفتی طارق مسعود کیا فر نارہے ہیں ؟
فرما رہے ہیں امی عائشہ کے پاس وہ علم تھا کہ اور کسی کے پاس نہیں اِس لئے صحابہ کرام اُن سے علم سیکھتے تھے ۔
اب کونسا علم تھا جو عائشہ کے پاس تھا نبی پاس نہیں تھے ؟

علم تو دو ہی تھے ایک وحی کا علم قرآن میں دوسرا انتظامی علم جِسے پبلک لاء کہتے ہیں وہ سرکاری طور پر بذریعہ صلوٰۃ ہر شہری کو سکھانا حکومت کی ذمہ داری تھی ۔ یہ کونسا علم سیکھنے جا رہے تھے امی عائشہ سے ؟
پھر یہ بھی خوب کہی کہ لوگ علم سیکھتے تھے پردے کے پیچھے سے ۔۔
آئیں کہتے ہیں کہ وہ پردے کے پیچھے کیا کرتے تھے ؟ { وَ اِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَسْــٴَـلُوْهُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍؕ : 33/53 ) اور جب تم اُن سے کچھ سامان کچھ اشیاء مانگا کرو تو پردے کی پیچھے سے ہی مانگ لیا کرو ۔۔ یہ مہذب معاشرے کے آداب ہیں جو قرآن سکھا رہا ہے ۔۔۔
آئے جھٹ سے پردہ ہٹایا اور گھر میں گھس گئے یہ جاہلانہ طرز ِعمل ہے ۔۔
لیکن اجازت لیکر گھر میں داخل ہو سکتے تھے دیکھیں اُسی آیت میں اُوپر ۔۔۔

[ لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْذَنَ لَكُمْ :
33/53 ۔ تم نبی کے گھر میں بغیر اجازت لئے مت داخل ہوا کرو ۔ ( استئذان ، اجازت Permition ) یہ بھی مہذب معاشرے کا چلن ہے قرآن نے گھر میں داخل ہونے کی ممانعت نہیں کی ہے ۔
اے ملاؤ مفتیو تم ہر بات میں چھل فریب مکاری کیوں کرتے ہو میں نے بہتوں سے پوچھا کوئی نہیں بتا رہا ۔
۔۔۔۔۔۔۔ اے ایس انصاری
https://youtube.com/shorts/zL4CrTbI8ig?si=n8LI852Jb_zl3FaO

Address

Punjab
Rawalpindi
46000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when وَالسّٰبِقُوۡنَ السّٰبِقُوۡنَ'- posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share