06/02/2026
امام بارگاہ حضرت خدیجۃ الکبریٰ سلام اللہ علہیا، ترلائی، اسلام آباد خود کش دھماکہ
پھر وقت کے یزید نے للکارا ہے
وقت کا یزید لعین اپنا کردار کمینگی میں ادا کرئے گا۔ اور رسمِ شبیری علہیم السلام ادا ہم نے کرنی ہے۔
یہ ایک واقعہ نہیں ہے۔ بلکہ ہمیں وقت کے امام ع کے ظہور کے قریب کرنے کی ایک وجہ ہے۔ لیکن اب وقت دعا کا شائد گزر چکا ہے اور عمل کا ہے۔ ہمیں اپنے عمل سے ثابت کرنا ہے کہ ہم وقت کے یزید کے ہر وار کو کمر پر نہیں بلکہ سینے پر سہنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔
ترلائی امام بارگاہ حضرت خدیجۃ الکبریٰ سلام اللہ علہیا سانحہ ہے۔ اور ہم اس سانحے سے نمٹنا ٹھیک اسی طرح جانتے ہیں جس طرح ہمارا حوصلہ ڈھوک سیداں، بری امام اور اس جیسے دیگر سانحات سے کم نہیں ہو سکا۔
ایک نئے عزم کے ساتھ ہمیں کرنا کیا چاہیے؟
1۔ فوری طور پر ترلائی کلاں امام بارگاہ کے ساتھ مسنلک ہوں، رابطہ استوار کریں اور جہاں جیسے جتنی ہو سکتی ہے مدد فراہم کریں۔
2۔ جو احباب ہسپتالوں میں موجود ہیں، یا قریب ہیں، خون دینے جائیں، اور نہ بھی دے سکیں تو اس موقع پر ایک سٹریچر کو بھی دھکیل کر آگے لے جائیں تو یہ مدد بھی کافی ہے۔
3۔ اپنی مقامی امام بارگاہوں کا تحفظ یقینی بنائیں۔
4۔ رضا کار ایسے چاہیے جو شہید ہونے سے گھبرائیں نہیں۔ اور گیٹ پر کھڑے ہوتے ہوئے جناب عباس علمدار علیہ السلام کے پہرے کو یاد رکھیں۔
5۔ اپنی مقامی امام بارگاہوں کا تحفظ ایسے کریں جیسے اپنے گھروں کا کرتے ہیں۔ اور اس کے حوالے سے چاہے آپ کسی کو جانتے ہی کیوں نا ہوں باقاعدہ تلاشی کے بعد داخلے کی اجازت دیں۔
6۔ بانیان، متولیان کا کردار انتہائی اہم ہے۔ اور ان کا ساتھ دینا ہم سب کا فرض ہے۔ سیکیورٹی کے حوالے سے بانیان اور متولیان قریب موجود پولیس چوکی یا تھانے سے ہر جمعہ کو ایک باوردی محافظ کی تحریری ضمانت لیں اور اس حوالے سے پڑھے لکھے افراد باقاعدہ ایک گروپ کی صورت میں سیکیورٹی اداروں کے پاس جائیں۔
ہماری بارگاہیں اگر محفوظ نہیں ہوں گے تو ہماری عزاداری پر بھی کاری ضرب لگے گی۔
اس سانحے کو ایک سبق کے طور پر لیں اور حفاظتی اقدامات یقینی بنائیں۔
جاری کردہ
سادات کاظمیہ اڈیالہ، راولپنڈی