ڈیجیٹل دار الافتاء

ڈیجیٹل دار الافتاء شرعی سوال و جواب

21/04/2026

آپکے مسائل اور اُن کا حل:

دین سیکھنا اور آگے سکھانا بے حد ضروری اور دنیا اور آخرت کی بھلائیاں حاصل کرنے کے لیے فائدہ مند ہے۔ ان گروپس میں آپکے شرعی سوالوں کے جواب اور خوابوں کی تعبیر بتائی جائے گی۔

Group 2
https://chat.whatsapp.com/LEZdKkhIMUI9iZT39Ph3ai

Group 3
https://chat.whatsapp.com/Ki2nzXU7xKOK3IwfXbsxqy

Group 4 https://chat.whatsapp.com/GPWr8ifplrL2v3fT73Zy53?mode=gi_t

01/01/2026

مسجد میں حجامہ لگانا:

مسجد میں حجامہ لگانا درست نہیں۔ اس لیے کہ اس میں قصداً خون نکالا جاتا ہے، اور جسم سے بہنے والا خون چونکہ نجس ہے اور مسجد میں قصداً نجاست لے کر آنا جائز نہیں۔ چاہے کوئی چٹائی وغیرہ بچھائی جائے یا نہیں۔

موسوعۃ فقہیۃ کویتیۃ میں ہے:

"ويجب أن ينزه المسجد عن الحجامة فيه ."

(الموسوعة الفقهية الكويتية، احتجام، الحكم الإجمالي، ج2، ص69، ط: دارالسلاسل - الكويت)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"فلو طاف وعلى ثوبه نجاسة أكثر من الدرهم لا يلزمه شيء بل يكره لإدخال النجاسة ‌المسجد. اهـ."

( رد المحتار على الدر المختار، ‌‌كتاب الحج، 2/ 469، ط: سعيد)

فقط والله أعلم

02/04/2023

مسئلہ #1002

موضوع:
حلال و حرام

سوال:
کیا بطخ اور خرگوش کھانا حلال ہے؟

جواب:
جی ہاں، دونوں حلال ہیں.

فقط واللّٰه اعلم
#بطخ

02/04/2023

مسئلہ #335

موضوع: طلاق

عنوان:
طلاق کے بارے میں صرف سوچنے اور نیت کرنے سے طلاق نہیں ہوتی

سوال:
ایک شخص عام دنوں میں ٹھیک رہتا ہے، البتہ کچھ دن ایسے آجاتے ہیں کہ جب وہ ہر ہر بات میں طلاق کا سوچتا ہے، ان دنوں اٹھتے بیٹھتے اسے طلاق کی سوچیں آتی ہیں، البتہ اس شخص نے کبھی طلاق کے صریح یا کنائی الفاظ زبان سے ادا نہیں کیے اور نہ ہی لکھے ہیں۔ انہی دنوں میں اس کے ساتھ مندرجہ ذیل واقعات پیش آئےہیں، برائے مہربانی ان کا شرعی حکم بتا دیں۔

1۔وہ شخص پانی پی رہا تھا اور اس نے دل ہی دل میں سوچا کہ اگر میں نے اگلا گھونٹ لیا تو میری بیوی کو طلاق یا میری بیوی مجھ پر طلاق، اسی سوچ میں اس نے اگلا گھونٹ پی لیا۔ کیا اس سے طلاق واقع ہو گئی؟ اگر اگلے گھونٹ کے ساتھ اس نے طلاق کی نیت بھی کر لی تو کیا طلاق ہوگئی؟ جب کہ منہ سے کچھ نہیں بولا۔

2۔اسی طرح وہ شخص چل رہا تھا کہ اچانک اس نے سوچا کہ اگلا قدم لیا تو بیوی کو طلاق، اسی سوچ میں گم اگلا قدم لیتا ہے۔ کیا اس سے طلاق واقع ہو گئی؟ اگر اگلے قدم کے ساتھ اس نے طلاق کی نیت بھی کر لی تو کیا طلاق ہو گئی؟ جب کہ منہ سے کچھ نہیں بولا۔

3۔وہ شخص اپنے دوست سے بات کر رہا تھا کہ فہد تم بہت اچھے انسان ہو، اچانک اس کو یہ سوچ آجاتی ہے کہ اگر دوبارہ ایسا بولا توبیوی کو طلاق، اسی سوچ میں وہ یہ الفاظ دوبارہ بول دیتا ہے۔ کیا اس سے طلاق واقع ہو گئی؟ اگر دوبارہ بولنے کے ساتھ اس نے طلاق کی نیت بھی کر لی کیا طلاق ہو گئی؟ جب کہ منہ سے بولا "فہد تم بہت اچھے انسان ہو"۔

4۔اسی طرح وہ شخص کلمے کا ورد کر رہا تھا اور یہی سوچ ذہن میں آجاتی ہے کہ اگر دوبارہ کلمہ پڑھا تو بیوی کو طلاق، اسی سوچ میں گم اس کے منہ سے کلمہ (کلمہ طیبہ)نکل جاتا ہے۔ کیا اس سے طلاق واقع ہو گئی؟ اگر کلمے کے ساتھ اس نے طلاق کی نیت بھی کر لی تو کیا طلاق ہوگئی؟

اسی طرح کسی بھی چیز کو دیکھ کروہ شخص یہ سوچ لیتا ہے کہ اگر یہ کام دوبارہ ہوا تو میری بیوی کو طلاق، مثلاً اگر چلتی گاڑی کا ٹائر آگے گیا یا کسی شخص نے ہاتھ دوبارہ ہلایا۔ کیا اس سے طلاق واقع ہو گئی؟ اگر اگلا بندہ ہاتھ ہلا لے یا اسکے ساتھ اس نے طلاق کی نیت بھی کر لی کیا طلاق ہو گئی؟ جب کہ منہ سے کچھ نہیں بولا۔

آج اسی شخص نے اپنی بیوی کو میسج میں ایک کارٹون بھیجا جو پستول سے گولیاں چلا رہا تھا، میسج بھیجنے کے بعداس کو ذہن میں خیال آیا کہ کارٹون کی ہر گولی کے ساتھ بیوی کو طلاق کے الفاظ، یہ خیال میسج بھیجنے کے بعد آیا، کیا اس خیال سے کچھ ہوا؟ اگر اس خیال کے ساتھ نیت بھی شامل ہوتی تو کیا طلاق ہو جاتی؟ جب کہ میسج میں ایک کارٹون بھیجا جو پستول سے گولیاں چلا رہا تھا۔ نہ تو طلاق کے صریح الفاظ نہ ہی کنائی الفاظ، البتہ یہ سب دل میں سوچا۔

اب اس شخص کو کیا کرنا چاہیے؟ اسے نہیں یاد کہ کب اس نے سوچ کے ساتھ طلاق کی نیت بھی کی ہے اور کب صرف سوچا ہے۔

جواب:
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً مذکورہ شخص نے طلاق کے کوئی الفاظ ادا نہیں کیے ہیں تو اس شخص کے صرف طلاق کے بارے میں سوچنے سے اور اسی طرح بغیر الفاظ کے صرف طلاق کی نیت کرنے سے اس کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، کیوں کہ طلاق کے واقع ہونے کے لیے ضروری ہے کہ کوئی ایسا لفظ ادا کیا جائے جو صراحۃً یا کنایۃً طلاق کے معنی پر دلالت کرتا ہو۔

نیز مذکورہ شخص کے متعلق سوال سے معلوم ہوتا ہےکہ اسے وساوس کا مرض لاحق ہے، لہذا اسے اپنے علاج کی طرف توجہ دینی چاہیے۔ وساوس کے مریض کے لیے پہلا کام تو یہ ہے کہ جس بارے میں وسوسہ لاحق ہو، اسے نظر انداز کر کے آگے بڑھے اور خود کو کسی کام میں مصروف کرے، خاص کر کے وساوس سے بچنے کی جو دعائیں ہیں یعنی"أعوذ بالله من الشيطن الرجيم"، سورۃ الناس، سورۃ الفلق یا پھر پانچویں کلمہ کا ورد کرتا رہے،تاوقتیکہ وساوس ختم ہوجائیں۔

ردالمختار میں ہے:

"(قوله: و ركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية فخرج الفسوخ على ما مر...وبه ظهر أن من تشاجر مع زوجته فأعطاها ثلاثة أحجار ينوي الطلاق و لم يذكر لفظًا لا صريحًا و لا كنايةً لايقع عليه، كما أفتى به الخير الرملي وغيره."

(كتاب الطلاق، ج:3، ص:230، ط:سعيد)

فقط والله اعلم
#طلاق

01/04/2023

مسئلہ #1005

موضوع: طہارت/پاکیزگی

عنوان:
روزے کی حالت میں حیض آجانے کا حکم

سوال:
حالتِ روزہ میں عورت کو بعد از ظہر حیض آجائے تو روزے کا کیا حکم ہے؟

جواب:
روزے کی حالت میں اگر مغرب سے پہلے پہلے کسی بھی وقت عورت کو حیض آجائے تو اس کی وجہ سے روزہ فاسد ہوجائے گا، اور پاک ہونے کے بعد اس روزے کی قضا رکھنا لازم ہوگا، جو عورت حیض و نفاس کی حالت میں ہو، اسے کھانا پینا چاہیے، یعنی روزہ داروں کی مشابہت کی وجہ سے تنہائی میں بھی بھوکی پیاسی نہ رہے۔

"وأما في حالة تحقق الحیض و النفاس فیحرم الإمساك؛ لأن الصوم منهما حرام، والتشبه بالحرام حرام". (طحطاوی علی المراقی : ص : ۳۷۰ )

البتہ اس کے برعکس اگر حائضہ عورت دن کا کچھ حصہ گزرنے کے بعد پاک ہوگئی تو اب دن کے بقیہ حصہ میں کھانے پینے سے رُکا رہنا چاہیے۔

’’یجب علی الصحیح، و قیل: یستحب الإمساك ... وعلی حائض و نفساء طهرتا بعد طلوع الفجر‘‘. (مراقی الفلاح : ص : ۳۷۰)

فقط واللّٰه اعلم
#روزہ #رمضان #حیض

31/03/2023

مسئلہ #1004

موضوع: زکوۃ/صدقات

عنوان:
زکوۃ اور صدقہ فطر کے نصاب میں فرق

سوال:
زکوۃ اور صدقہ فطر کے نصاب میں کیا فرق ہے؟

جواب:
صدقہ فطر اور زکوۃ دونوں الگ الگ مستقل مالی عبادتیں ہیں، جس کے لیے الگ الگ نصاب مقرر ہے، بناء بریں کسی ایک کے ادا کرنے سے دوسرا ادا نہیں ہوگا۔

صدقہ فطر کا نصاب مندرجہ ذیل ہے:

صدقہ فطر ہر اس شخص پر (اپنی طرف سے اور زیرِ کفالت نابالغ اولاد کی طرف سے) لازم ہوتا ہے جو عید الفطر کے دن (یکم شوال کی) صبح صادق کے وقت ضرورتِ اصلیہ اور استعمال سے زائد اتنے سامان یا مال کا مالک ہو جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر یا اس سے زائد ہو، خواہ وہ مال نقدی، سونا، چاندی یا مالِ تجارت کی صورت میں نہ ہو، اسی طرح اس کے وجوب کے لیے مال کے اوپر سال گزرنا بھی شرط نہیں ہے۔

زکوۃ کا نصاب مندرجہ ذیل ہے:

جب کہ زکوۃ صرف مالِ نامی پر واجب ہوتی ہے، اور مالِ نامی سے مراد سونا، چاندی، نقدی، مالِ تجارت، سائمہ جانور ہیں، مذکورہ اموال میں سے کسی ایک کے نصاب تک مال پہنچ جائے یا مختلف اموال موجود ہونے کی صورت میں ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت تک نصاب پہنچ جائے اور وہ بنیادی ضرورت سے زائد ہو تو زکوۃ واجب ہوجاتی ہے، اور قمری مہینوں کے اعتبار سے سال پورا ہوجانے پر زکوۃ کی ادائیگی واجب ہوتی ہے۔

فتح القدير لكمال بن الهمام میں ہے:

"(الزكاة واجبة على الحر العاقل البالغ المسلم إذا ملك نصابًا ملكًا تامًّا وحال عليه الحول".

(كتاب الزكاة، ج:3، ص:460، ط:دارالفكر)

فتاوی عالمگیری (الفتاوی الہندیہ) میں ہے:

"وهي واجبة على الحر المسلم المالك لمقدار النصاب فاضلاً عن حوائجه الأصلية، كذا في الاختيار شرح المختار، ولايعتبر فيه وصف النماء، ويتعلق بهذا النصاب وجوب الأضحية، ووجوب نفقة الأقارب، هكذا في فتاوى قاضي خان".

(کتاب الزکوۃ، الباب الثامن في صدقة الفطر ج:1، ص:191، ط: مکتبہ رشیدیہ)

فقط واللّٰه اعلم

#مسائل #رمضان

31/03/2023

مسئلہ #1003

موضوع: طہارت

سوال:
السلام علیکم ورحمتہ اللّٰه وبرکاتہ، مفتی صاحب ایک مسئلہ ہے۔ کیا روزے کی حالت میں زیرِ ناف بال صاف اور ناخن کاٹے جا سکتے ہیں؟

جواب:
جی ہاں، دونوں جائز ہیں۔

فقط و اللّٰه اعلم

#رمضان #روزہ #طہارت

23/04/2022

مسئلہ #206

موضوع: زکوۃ

عنوان: صاحبِ نصاب مسافر کو زکوۃ دینے کا حکم

سوال:
کیا صاحبِ نصاب مسافر کو زکات کی رقم دی جاسکتی ہے؟

جواب:

بسم اللّٰه الرحمٰن الرحیم

صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ شخص شرعاً مسافر ہے اور اس کے پاس نصاب کے بقدر مال موجود ہے، یا اس کی ملکیت میں اپنے مقام پر نصاب کے بقدر مال موجود ہے جو اس کی دسترس میں ہے، یعنی طلب کرنے پر اسے فوری دستیاب ہوسکتا ہے تو ایسی صورت میں اس کے لیے زکات لینا جائز نہیں، اور اگر مذکورہ شخص اپنے مقام پر تو صاحبِ نصاب ہے لیکن سفر کے اندر اس کے پاس نصاب کے بقدر مال نہیں اور جو مال گھر پر ہے وہ اس کی دسترس میں بھی نہیں یعنی طلب کرنے پر فوری طور پر دستیاب نہیں ہو سکتا، تو ایسی صورت میں اس کو زکوۃ کی رقم دی جا سکتی ہے،اس صورت میں اس مسافر کے لئے زکات لینا جائز ہوگا۔

البحر الرائق شرح كنز الدقائق (2/ 260):

"(قوله: وابن السبيل) هو المنقطع عن ماله لبعده عنه والسبيل الطريق فكل من يكون مسافرًا يسمى ابن السبيل، وهو غني بمكانه حتى تجب الزكاة في ماله، ويؤمر بالأداء إذا وصلت إليه يده، وهو فقير يدا حتى تصرف إليه الصدقة في الحال لحاجته، كذا في الكافي."

(کتاب الزکاۃ،باب مصرف الزکاۃ، ط:دارالکتاب الاسلامي بیروت)

فقط واللّٰه اعلم

ڈیجیٹل دار الافتاء، راۓونڈ

06/04/2022

مسئلہ #205

موضوع: رمضان

عنوان: کیا روزے کی نیت سحری کے بعد کی جاسکتی ہے.

سوال: کیا روزے کی نیت سحری کے بعد کی جاسکتی ہے کسی مجبوری کی وجہ سے؟ اگر کی جاسکتی ہے تو کس وقت تک؟ میں نے پڑھا ہے کہ زوال سے پہلے پہلے کرسکتے ہیں، کیا یہ بات ٹھیک ہے؟ براہ کرم ہمیں جواب سے مطلع فرمائیں۔

جواب:
بسم الله الرحمن الرحيم

(۱، ۲):رمضان کا روزہ، نذر معین کا روزہ اور نفل روزہ، ان تین کی نیت سحری کے بعد بھی کرسکتے ہیں اور نیت کا آخری وقت نصف النہار شرعی سے پہلے پہلے ہے، نصف النہار شرعی پر یا اس کے بعد نہیں کرسکتے۔ اور نصف النہار شرعی یہ ہے کہ صبح صادق سے غروب آفتاب تک جتنے گھنٹے اور منٹ ہوتے ہیں، انھیں دو حصوں میں تقسیم کردیا جائے، پہلا حصہ نصف النہار شرعی ہوگا اور اس سے پہلے پہلے نیت کی اجازت ہوگی، مثلاً: راۓونڈ میں آج کی تاریخ میں صبح صادق 4:25 پر اور غروب آفتاب 6:25 پر ہے، دونوں کے درمیان کل 14/ گھنٹے ہیں، یعنی آج کی تاریخ میں رائیونڈ میں اگر 7 گھنٹے بعد ( یعنی 11:25) سے پہلے پہلے روزہ کی نیت کرلی گئی تو وہ معتبر ہوگی اور روزہ ہوجائے گا۔ اور زوال آفتاب اس وقت ہوتا ہے جب سورج بیچ آسمان میں پہنچ کر مغرب کی طرف ڈھلنا شروع کردے اور اس میں نصف دن کا اعتبار طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے اعتبار سے ہوتا ہے، یعنی: دونوں کے درمیان جتنے گھنٹے اور منٹ ہوتے ہوں، ان کو دو حصوں میں تقسیم کردیا جائے، پہلے نصف پر جو وقت ہوتا ہے وہی زوال آفتاب کا وقت ہوتا ہے؛ اس لیے آپ نے کسی کتاب یا رسالہ میں جو زوال آفتاب تک نیت کی گنجائش پڑھی، یہ صحیح نہیں، نیت کا وقت زوال سے کافی پہلے (یعنی:نصف النہار شرعی سے کچھ پہلے) ختم ہوجاتا ہے۔

حوالہ:
فیصح أداء صوم رمضان والنذر المعین والنفل بنیة من اللیل، …… إلی الضحوة الکبری لا بعدھا ولا عندھا اعتباراً لأکثر الیوم (الدر المختار مع رد المحتار، أول کتاب الصوم ۳: ۳۳۸-۳۴۱، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، قولہ: ”إلی الضحوة الکبری“ المراد بھا نصف النھار الشرعي، ……النھار الشرعي من طلوع الفجر إلی الغروب(رد المحتار)۔

فقط واللّٰه اعلم

ڈیجیٹل دار الافتاء، راۓونڈ

Address

Raiwind

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ڈیجیٹل دار الافتاء posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to ڈیجیٹل دار الافتاء:

Share