11/03/2026
#فطرانہ
سارا سال بغیر سوچے سمجھے انٹرنیٹ پیکجز لگاتے رہتے ہیں، کبھی یہ نہیں سوچتے کہ کتنے پیسے خرچ ہو رہے ہیں۔
مگر جب فطرانہ ادا کرنے کا وقت آتا ہے تو بار بار مولوی سے پوچھتے ہیں:
“فطرانہ کتنے روپے ہے؟”
حقیقت یہ ہے کہ جس چیز پر دل چاہے خرچ کر دیتے ہیں، لیکن جب غریب کا حق ادا کرنا ہو تو حساب شروع ہو جاتا ہے۔
یاد رکھیں، فطرانہ کوئی احسان نہیں بلکہ ایک فرض اور حق ہے جو ہمیں خوش دلی سے ادا کرنا چاہیے۔