28/12/2025
پورے ایک سال کے صبر کے بعد یہ بات کہنا ناگزیر ہو گئی ہے کہ جب افغان مہاجر پشاور آئے تو اہلِ پشاور نے انہیں بحیثیت مسلمان کھلے دل سے پناہ دی۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دکانوں، گھروں اور حتیٰ کہ قبرستانوں کی زمینوں پر ناجائز قبضے شروع ہو گئے۔
ہمارے آبائی قبرستان، مقبرہ سید باز علی شاہ المعروف چمبہ پیر، نوتھیہ صدر کے ایک کونے میں ایک مرلہ سے بھی کم زمین پر ایک مسجد تعمیر کرنے کی اجازت دی گئی تھی ہمارے خاندان کے بزرگ سید منور شاہ بخاری نے۔ تاہم بعد ازاں اس نیکی کا اجر اس طرح دیا گیا کہ قبرستان کے راستوں کو تین اطراف سے غیر قانونی طور پر چھوٹے چھوٹے کچے پکے گھروں کی تعمیر کے ذریعے بند کر دیا گیا۔ مسجد کے نام پر ایک بڑا محراب بنا کر قبرستان کے روڈ کی طرف موجود دروازہ بند کیا گیا اور اس کے باہر ایک دکان قائم کر دی گئی۔
اسی طرح عقب سے قبرستان کی زمین پر خفیہ طور پر قبضہ کیا گیا، جہاں اردگرد کے گھروں کی پچھلی دیواروں میں لنٹر ڈال کر اور پانی کے پائپ گزار کر زمین کو ہڑپ کیا گیا۔ جب ہوس و حرص کو اس پر بھی سکون نہ ملا تو مسجد کے نام پر جنگِ آزادی کے شہداء کی قبریں مسمار کر کے ان کے اوپر مسجد کا غسل خانہ تعمیر کر دیا گیا۔
گزشتہ دو تین برسوں سے بعض لوگ جان بوجھ کر اور بعض لاعلمی میں شہداء اور سادات کی قبروں پر کھڑے ہو کر نماز ادا کرتے اور انجامِ خیر کی دعائیں مانگتے رہے ہیں۔
آج یہی افغان مہاجرین پاکستانی قبائلی ایجنسیوں کے جعلی ڈومیسائل بنوا کر بڑے افسر، وکیل اور جج بن چکے ہیں، جن کا پیشہ زمینوں پر قبضہ کرنا بن گیا ہے۔ ان کی اولادیں قبروں پر قابض ہیں مگر خود کو سادات کے شجرے سے جوڑنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ یہ افغان مہاجرین اب باقاعدہ قبضہ مافیا کا حصہ بن چکے ہیں اور انہی میں سے بعض مذہبی انتہاپسندی پھیلانے کے لیے مساجد کے امام بنے بیٹھے ہیں۔
پٹوار خانوں اور محافظ خانوں کے پٹواری، جن میں سے کئی اب گرداور بن چکے ہیں، اس سنگین جرم میں مکمل طور پر شریک ہیں اور خود ان ناجائز اقدامات کو تقویت دے رہے ہیں۔ انہیں جھوٹ بولتے ہوئے کوئی شرم محسوس نہیں ہوتی، کیونکہ اس ساری کہانی کی بنیاد ہی نسل در نسل جھوٹ پر قائم ہے۔
ان شاء اللہ، وقت کے ساتھ ساتھ ایک ایک شخص کو نہ صرف بے نقاب کیا جائے گا بلکہ قانون کے کٹہرے میں بھی کھڑا کیا جائے گا۔
اب خاموشی نہیں۔ اب نشاندہی ہو گی۔ ہر ملوث شخص کو بے نقاب کیا جائے گا۔