24/07/2023
عبدالستار ایدھی مرحوم سے ایک بار کسی نے پوچھا
آپ نے ہزاروں لاوارث لاشیں دفنائیں، کبھی کسی لاش کی حالت دیکھ کر رونا آیا۔۔۔۔۔۔۔؟؟
انہوں نے آنکھیں بند کر کے گہری سوچ میں غوطہ زن ہوتے ہوئے کہا، ایک مرتبہ میرے رضاکار ایک صاف ستھری لاش لے کر آئے جو تازہ انتقال کئے بوڑھے مگر کسی پڑھے لکھے اور کھاتے پیتے گھرانے کی لگ رہی تھی، اس کے سفید چاندی جیسے بالوں میں سلیقے سے کنگھی کی ہوئی تھی۔ دھوبی کے دھلے ہوئے سفید اجلے کلف لگے سوٹ میں اس کی شخصیت بڑی باوقار لگ رہی تھی۔
اُس لاش کو میں غور سے دیکھ رہا تھا کہ، میرے رضاکار نے کراچی کے ایک پوش علاقے کا نام لے کر کہا، کہ یہ لاش فلاں بنگلے کے باہر پڑی تھی، ہم جونہی بنگلے کے سامنے پہنچے تو ایک ٹیکسی میں سوار فیملی جو شاید ہمارا ہی انتظار کر رہی تھی اس میں سے ایک نوجوان برآمد ہوا،
اور جلدی سے ایک لفافہ ہمیں تھماتے ہوئے بولا، یہ میرے والد ہیں اور یہ تدفین کے اخراجات ہیں، ان کو اچھی طرح غسل دے کر ان کی تدفین کر دینا۔
اتنے میں ٹیکسی سے آواز آئی، تمھاری تقریر میں فلائٹ نکل جائے گی جانو، یہ سنتے ہی نوجوان پلٹا اور مزید کوئی بات کیے ٹیکسی میں سوار ہو گیا، اور ٹیکسی فراٹے بھرتی ہوئی آنکھوں سے اوجھل ہو گئی۔
ایدھی صاحب بولے "اس لاش کے متعلق جان کر مجھے بہت دکھ ہوا، اور مزید کہا کہ میں اس بد قسمت شخص کی جانب دیکھنے لگا تو مجھے ایسے لگا جیسے وہ بازو پھیلائے مجھے درخواست کر رہا ہو کہ ایدھی صاحب ساری لاوارث لاشوں کے وارث آپ ہوتے ہیں، مجھ بد قسمت کے وارث بھی آپ بن جائیں، میں نے فوراً فیصلہ کیا کہ اس لاش کو غسل بھی میں دوں گا اور تدفین بھی خود کروں گا، ایدھی صاحب نے غمگین لہجے میں کہا کہ، جونہی میں غسل دینے لگا تو اس اجلے جسم کو دیکھ کر میں سوچ میں پڑ گیا کہ جو شخص اپنی زندگی میں اس قدر معتبر اور حساس ہو گا، اس نے اپنی اولاد کی پرورش میں کیا ناز و نعم نہ اٹھائے ہوں گے ۔ ۔ ؟
مگر اولاد کے پاس اپنے والد کی تدفین کا وقت بھی نہ تھا۔
اور یہ کہتے ہوئے اس دن عبداستار ایدھی صاحب انسانیت کی ڈوبتی ناوٗ پر رو پڑے ۔ ۔
(اففف ہے جدید دور پر)