10/05/2026
تحفظ ختم نبوتﷺ مختصر کورس
سبق نمبر 2:
"قادیانیوں سے ہمارے بنیادی اختلافات"
(حصہ دوم)
اجرائے نبوت کا قادیانی عقیدہ:
قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ رسول اللہﷺ کے بعد شرعی اور غیر شرعی نبوت کا دروازہ بند ہے صرف ظلی نبوت کا دروازہ کھلا ہے اور ظلی نبوت بھی صرف ایک شخص کو مل سکتی ہے۔
عقیدہ ختم نبوت پر ہمارا یعنی مسلمانوں کا اور قادیانیوں کا اصل اختلاف یہ ہے کہ ہمارا عقیدہ تو یہ ہے کہ نبیوں کی تعداد حضورﷺ کے تشریف لانے سے مکمل ہوئی۔
جبکہ قادیانی کہتے ہیں کہ نبیوں کی تعداد نعوذ باللہ مرزا غلام احمد قادیانی کے آنے سے مکمل ہوئی۔ہم حضورﷺ کو نبوت کی عمارت کی آخری اینٹ مانتے ہیں جبکہ قادیانی نعوذ باللہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبوت کی عمارت کی آخری اینٹ مانتے ہیں۔
ہم کہتے ہیں کہ حضورﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں بن سکتا جبکہ قادیانی کہتے ہیں کہ نعوذ باللہ مرزا غلام احمد قادیانی کے بعد کوئی نبی نہیں بن سکتا۔
قادیانیوں کے نزدیک نبیوں کی اقسام:
قادیانیوں کے نزدیک نبیوں کی تین اقسام ہیں۔
1)شرعی نبی:
قادیانیوں کے نزدیک جو نبی شریعت لے کر آئے وہ شرعی نبی کہلاتا ہے۔
2)غیر شرعی نبی:
قادیانیوں کے نزدیک جو نبی شریعت کے بغیر آئے وہ غیر شرعی نبی کہلاتا ہے۔
3)ظلی نبی:
قادیانیوں کے نزدیک جو نبی رسول اللہﷺ کی پیروی کر کے نبی بنتا ہے وہ ظلی نبی کہلاتا ہے۔
قادیانیوں کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ شرعی اور غیر شرعی نبوت کا دروازہ بند ہے صرف ظلی نبوت کا دروازہ کھلا ہے اور ظلی نبوت صرف ایک شخص کو مل سکتی ہے۔
حوالہ نمبر 1:
قادیانیوں کے دوسرے خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود نے لکھا ہے:
"میں نبیوں کی تین اقسام مانتا ہوں۔ایک جو شریعت لانے والے ہوں،دوسرا جو شریعت نہیں لائے لیکن ان کو نبوت بلاواسطہ ملتی ہے اور کام وہ پہلی امت کا ہی کرتے ہیں۔جیسے سلیمان و زکریا اور یحییٰ علیہم السلام اور ایک جو نہ شریعت لائے اور نہ ان کو بلاواسطہ نبوت ملتی ہے لیکن وہ پہلے نبی کی اتباع سے نبی ہوتے ہیں۔"
(قول فیصل: صفحہ 12،مندرجہ انوار العلوم جلد 2 صفحہ277)
حوالہ نمبر 2:
مرزا بشیر احمد نے لکھا ہے:
"اس جگہ یاد رہے کہ نبوت مختلف نوع پر ہے اور آج تک نبوت تین قسم پر ظاہر ہوچکی ہے۔
(1) تشریعی نبوت :ایسی نبوت کو مسیح موعود نے حقیقی نبوت سے پکارا ہے۔
(2) وہ نبوت جس کیلئے تشریعی یا حقیقی ہونا ضروری نہیں،ایسی نبوت حضرت مسیح موعود کی اصطلاح میں مستقل نبوت ہے۔
(3) ظلی اور امتی نبی : حضور ﷺ سے مستقل اور حقیقی نبوتوں کا دروازہ بند ہوگیا اور ظلی نبوت کا دروازہ کھولاگیا۔"
(مسئلہ کفر و اسلام کی حقیقت: صفحہ 31)
حوالہ نمبر 3:
مرزا بشیر احمد نے لکھا ہے:
"اس جگہ یہ یاد رہے کہ آج تک نبوت تین قسم پر ظاہر ہو چکی ہے اول تشریعی نبوت جس کی دو موٹی مثالیں موسیٰؑ کی نبوت اور نبوت محمدیہؐ ہیں ایسی نبوتوں کو مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے حقیقی نبوت کے نام سے پکارا ہے۔دوئم وہ نبوت جس کے لئے تشریعی یعنی حقیقی ہونا ضروری نہیں بلکہ صرف اتنا ضروری ہے کہ وہ بلا واسطہ جناب باری تعالیٰ کی طرف سے ملے جیسے عیسیٰ یحییٰ داؤد سلیمان اور ذکریا علیہم السلام کی نبوتیں یہ لوگ گو موسیٰؑ کی شریعت کے پابند تھے اور ان کا مشن صرف تورات کی اشاعت تھا لیکن تاہم انہوں نے موسیٰؑ کی اتباع کی وجہ سے نبوت نہیں پائی کیونکہ تورات کی تعلیم بوجہ خصوصیات زمانی اور مکانی اس درجہ کی نہ تھی کہ اس پر کاربند ہونے کی وجہ سے کوئی شخص نبوت کا درجہ پاسکے بلکہ ایک حد تک تورات انسان کو چلاتی تھی اور پھر جس کو اللہ تعالیٰ نے نبوت کا درجہ دینا ہوتا تھا اسے براہ راست بلند کر کے نبوت عطا کی جاتی تھی ایسی نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی از ناقل) کی اصطلاح میں مستقل نبوت ہے۔"
(کلمتہ الفصل:صفحہ 112,113)
حوالہ نمبر 4:
قادیانیوں کے دو فرقوں یعنی لاہوری فرقے اور محمودی فرقے کے درمیان 1937ء میں تفصیلی مباحثہ ہوا تھا جس میں قادیانیوں کے محمودی فرقے کی طرف سے اپنا درج ذیل عقیدہ بتایا گیا تھا۔
"انبیائے کرام علیہم السلام دو قسم کے ہوتے ہیں :(1) تشریعی (2) غیر تشریعی۔پھر غیر تشریعی بھی دو قسم کے ہوتے ہیں:(1)براہ راست نبوت پانے والے۔(2) نبی تشریعی کی اتباع سے نبوت حاصل کرنے والے۔۔۔۔۔۔۔۔آنحضرت ﷺ کے پیشتر صرف پہلی دو قسم کے نبی آتے تھے۔"
(مباحثہ راولپنڈی: صفحہ 175)
قادیانیوں کے نزدیک آخری نبی کون؟:
قادیانی مرزا غلام احمد قادیانی کو آخری نبی سمجھتے ہیں۔ذیل میں چند حوالے پیش خدمت ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ قادیانی مرزا غلام احمد قادیانی کو نبوت کی عمارت کی آخری اینٹ اور آخری نبی سمجھتے ہیں۔
حوالہ نمبر 1:
مرزا بشیر الدین محمود نے لکھا ہے:
"آنحضرتﷺ کی شان ہی ایسی ہے کہ آپ کے ذریعے سے نبوت حاصل ہو سکتی ہے۔آپ نے رحمتہ اللعالمین ہو کر رحمت کے دروازے کھول دیئے ہیں اس لئے اب ایک انسان ایسا نبی ہوسکتا ہے جو کئی پہلے انبیاء سے بھی بڑا ہو مگر اس صورت میں کہ آنحضرتﷺ کا غلام ہو۔"
(انوار العلوم: جلد 30 صفحہ 127)
(انوار خلافت: صفحہ 67)
حوالہ نمبر 2:
مرزا بشیر الدین محمود نے لکھا ہے:
"ہم اس امت میں صرف ایک ہی نبی کے قائل ہیں۔آئیندہ کا حال پردہ غیب میں ہے۔اسکی نسبت ہم کچھ کہ نہیں سکتے آئیندہ کے متعلق ہر ایک خبر پیشگوئی کا رنگ رکھتی ہے اس پر بحث کرنا انبیاء کا کام ہے نہ ہمارا۔پس ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ اس وقت تک اس امت میں کوئی اور شخص نبی نہیں گزرا۔کیونکہ اس وقت تک نبی کی تعریف کسی اور انسان پر صادق نہیں آتی۔"
(انوار العلوم :جلد 2 صفحہ 461)
حوالہ نمبر 3:
مرزا بشیر الدین محمود نے لکھا ہے:
"حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی از ناقل) نے اس امت میں اپنے سے پہلے کسی اور شخص کے نبی ہونے سے قطعی انکار کیا ہے پس جب مسیح موعود کہتا ہے کہ امت محمدیہ میں اس وقت تک صرف میں ہی ایک شخص ہوں جو نبی کہلانے کا مستحق ہوں۔"
(انوار العلوم: جلد 2 صفحہ 547)