Khatam e nabuwat-saw movement

Khatam e nabuwat-saw movement Khatm-e-Nubuwwat is an international, religious, preaching and reform organization of Islamic Millat
www.facebook.com/amtknsaw

10/05/2026

حوالہ نمبر 4:

قادیانیوں کے سرکاری اخبار الفضل میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے یوں لکھا گیا ہے:

"آپ کا سوال ہے کہ غیر احمدیوں کو کافر جاننے کے باوجود پھر ہم دوسرے مسلمانوں کو کیوں مسلمان یا مسلم کہتے ہیں۔اس کا جواب یہ ہے کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلعم پر ایمان لانے والے لوگوں کی نسبت یہ لفظ بولا ہے۔(بلکہ مسلمانوں سے پہلی امتوں کو بھی حضرت ابراہیم نے مسلمان کہا ہے ھو سمکم المسلمین)اور حضرت صاحب (مرزا قادیانی از ناقل)کی آمد سے بیشتر واقعی اور بلاشبہ ہم مسلمانوں کے ہر ایک فرقے کو مسلمان ہی کہتے تھے۔اور جائز طور پر ایسا کہ سکتے تھے۔لیکن جب آخری نبی اور مامور من اللہ کا ظہور ہوا۔اور آخر وہ وقت آگیا کہ دودھ کو پانی سے الگ کیا جاوے۔تو اب دو فریق مختلف بن گئے۔یعنی مومن اور کافر۔حضرت صاحب (مرزا قادیانی از ناقل) کو ماننے والے مومن ٹھہرے اور محمد رسول اللہ صلعم اور دیگر انبیاء کی جماعتیں جنہوں نے اس آخری نبی کو نہ مانا کافر قرار پائیں۔"

(الفضل:8 جون 1914ء صفحہ 14)

حوالہ نمبر 5:

قادیانیوں کے رسالے تشہیذ الاذہان کے 27 مارچ1914ء کے شمارے میں لکھا ہے:

"اس امت میں نبی صرف ایک ہی آسکتا ہے جو مسیح موعود ہے۔اور قطعاً کوئی نہیں آسکتا۔جیسا کہ دیگر احادیث پر نظر کرنے سے یہ امر محقق ہو چکا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف مسیح موعود کا نام نبی اللہ رکھا ہے اور کسی کو یہ نام ہرگز نہیں دیا۔"

(تشہیذ الاذہان: صفحہ 32 شمارہ 27 مارچ 1914)

حوالہ نمبر 6:

مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھا ہے:

"چودھویں خصوصیت یسوع مسیح میں یہ تھی کہ وہ باپ کے نہ ہونے کی وجہ سے بنی اسرائیل میں سے نہ تھا مگر باایں ہمہ موسوی سلسلہ کا آخری پیغمبر تھا۔جو موسی کے بعد چودھویں صدی میں پیدا ہوا۔ایسا ہی میں بھی خاندان قریش میں سے نہیں ہوں اور چودھویں صدی میں مبعوث ہوا ہوں اور سب سے آخر میں ہوں۔"

(تذکرة الشہادتین: صفحہ 33مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 35)

تحفظ ختم نبوتﷺ مختصر کورسسبق نمبر 2:"قادیانیوں سے ہمارے بنیادی اختلافات"(حصہ دوم)اجرائے نبوت کا قادیانی عقیدہ:قادیانیوں ...
10/05/2026

تحفظ ختم نبوتﷺ مختصر کورس

سبق نمبر 2:

"قادیانیوں سے ہمارے بنیادی اختلافات"

(حصہ دوم)

اجرائے نبوت کا قادیانی عقیدہ:

قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ رسول اللہﷺ کے بعد شرعی اور غیر شرعی نبوت کا دروازہ بند ہے صرف ظلی نبوت کا دروازہ کھلا ہے اور ظلی نبوت بھی صرف ایک شخص کو مل سکتی ہے۔

عقیدہ ختم نبوت پر ہمارا یعنی مسلمانوں کا اور قادیانیوں کا اصل اختلاف یہ ہے کہ ہمارا عقیدہ تو یہ ہے کہ نبیوں کی تعداد حضورﷺ کے تشریف لانے سے مکمل ہوئی۔

جبکہ قادیانی کہتے ہیں کہ نبیوں کی تعداد نعوذ باللہ مرزا غلام احمد قادیانی کے آنے سے مکمل ہوئی۔ہم حضورﷺ کو نبوت کی عمارت کی آخری اینٹ مانتے ہیں جبکہ قادیانی نعوذ باللہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبوت کی عمارت کی آخری اینٹ مانتے ہیں۔

ہم کہتے ہیں کہ حضورﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں بن سکتا جبکہ قادیانی کہتے ہیں کہ نعوذ باللہ مرزا غلام احمد قادیانی کے بعد کوئی نبی نہیں بن سکتا۔

قادیانیوں کے نزدیک نبیوں کی اقسام:

قادیانیوں کے نزدیک نبیوں کی تین اقسام ہیں۔

1)شرعی نبی:

قادیانیوں کے نزدیک جو نبی شریعت لے کر آئے وہ شرعی نبی کہلاتا ہے۔

2)غیر شرعی نبی:

قادیانیوں کے نزدیک جو نبی شریعت کے بغیر آئے وہ غیر شرعی نبی کہلاتا ہے۔

3)ظلی نبی:

قادیانیوں کے نزدیک جو نبی رسول اللہﷺ کی پیروی کر کے نبی بنتا ہے وہ ظلی نبی کہلاتا ہے۔

قادیانیوں کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ شرعی اور غیر شرعی نبوت کا دروازہ بند ہے صرف ظلی نبوت کا دروازہ کھلا ہے اور ظلی نبوت صرف ایک شخص کو مل سکتی ہے۔

حوالہ نمبر 1:

قادیانیوں کے دوسرے خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود نے لکھا ہے:

"میں نبیوں کی تین اقسام مانتا ہوں۔ایک جو شریعت لانے والے ہوں،دوسرا جو شریعت نہیں لائے لیکن ان کو نبوت بلاواسطہ ملتی ہے اور کام وہ پہلی امت کا ہی کرتے ہیں۔جیسے سلیمان و زکریا اور یحییٰ علیہم السلام اور ایک جو نہ شریعت لائے اور نہ ان کو بلاواسطہ نبوت ملتی ہے لیکن وہ پہلے نبی کی اتباع سے نبی ہوتے ہیں۔"

(قول فیصل: صفحہ 12،مندرجہ انوار العلوم جلد 2 صفحہ277)

حوالہ نمبر 2:

مرزا بشیر احمد نے لکھا ہے:

"اس جگہ یاد رہے کہ نبوت مختلف نوع پر ہے اور آج تک نبوت تین قسم پر ظاہر ہوچکی ہے۔
(1) تشریعی نبوت :ایسی نبوت کو مسیح موعود نے حقیقی نبوت سے پکارا ہے۔
(2) وہ نبوت جس کیلئے تشریعی یا حقیقی ہونا ضروری نہیں،ایسی نبوت حضرت مسیح موعود کی اصطلاح میں مستقل نبوت ہے۔
(3) ظلی اور امتی نبی : حضور ﷺ سے مستقل اور حقیقی نبوتوں کا دروازہ بند ہوگیا اور ظلی نبوت کا دروازہ کھولاگیا۔"

(مسئلہ کفر و اسلام کی حقیقت: صفحہ 31)

حوالہ نمبر 3:

مرزا بشیر احمد نے لکھا ہے:

"اس جگہ یہ یاد رہے کہ آج تک نبوت تین قسم پر ظاہر ہو چکی ہے اول تشریعی نبوت جس کی دو موٹی مثالیں موسیٰؑ کی نبوت اور نبوت محمدیہؐ ہیں ایسی نبوتوں کو مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے حقیقی نبوت کے نام سے پکارا ہے۔دوئم وہ نبوت جس کے لئے تشریعی یعنی حقیقی ہونا ضروری نہیں بلکہ صرف اتنا ضروری ہے کہ وہ بلا واسطہ جناب باری تعالیٰ کی طرف سے ملے جیسے عیسیٰ یحییٰ داؤد سلیمان اور ذکریا علیہم السلام کی نبوتیں یہ لوگ گو موسیٰؑ کی شریعت کے پابند تھے اور ان کا مشن صرف تورات کی اشاعت تھا لیکن تاہم انہوں نے موسیٰؑ کی اتباع کی وجہ سے نبوت نہیں پائی کیونکہ تورات کی تعلیم بوجہ خصوصیات زمانی اور مکانی اس درجہ کی نہ تھی کہ اس پر کاربند ہونے کی وجہ سے کوئی شخص نبوت کا درجہ پاسکے بلکہ ایک حد تک تورات انسان کو چلاتی تھی اور پھر جس کو اللہ تعالیٰ نے نبوت کا درجہ دینا ہوتا تھا اسے براہ راست بلند کر کے نبوت عطا کی جاتی تھی ایسی نبوت حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی از ناقل) کی اصطلاح میں مستقل نبوت ہے۔"

(کلمتہ الفصل:صفحہ 112,113)

حوالہ نمبر 4:

قادیانیوں کے دو فرقوں یعنی لاہوری فرقے اور محمودی فرقے کے درمیان 1937ء میں تفصیلی مباحثہ ہوا تھا جس میں قادیانیوں کے محمودی فرقے کی طرف سے اپنا درج ذیل عقیدہ بتایا گیا تھا۔

"انبیائے کرام علیہم السلام دو قسم کے ہوتے ہیں :(1) تشریعی (2) غیر تشریعی۔پھر غیر تشریعی بھی دو قسم کے ہوتے ہیں:(1)براہ راست نبوت پانے والے۔(2) نبی تشریعی کی اتباع سے نبوت حاصل کرنے والے۔۔۔۔۔۔۔۔آنحضرت ﷺ کے پیشتر صرف پہلی دو قسم کے نبی آتے تھے۔"

(مباحثہ راولپنڈی: صفحہ 175)

قادیانیوں کے نزدیک آخری نبی کون؟:

قادیانی مرزا غلام احمد قادیانی کو آخری نبی سمجھتے ہیں۔ذیل میں چند حوالے پیش خدمت ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ قادیانی مرزا غلام احمد قادیانی کو نبوت کی عمارت کی آخری اینٹ اور آخری نبی سمجھتے ہیں۔

حوالہ نمبر 1:

مرزا بشیر الدین محمود نے لکھا ہے:

"آنحضرتﷺ کی شان ہی ایسی ہے کہ آپ کے ذریعے سے نبوت حاصل ہو سکتی ہے۔آپ نے رحمتہ اللعالمین ہو کر رحمت کے دروازے کھول دیئے ہیں اس لئے اب ایک انسان ایسا نبی ہوسکتا ہے جو کئی پہلے انبیاء سے بھی بڑا ہو مگر اس صورت میں کہ آنحضرتﷺ کا غلام ہو۔"

(انوار العلوم: جلد 30 صفحہ 127)
(انوار خلافت: صفحہ 67)

حوالہ نمبر 2:

مرزا بشیر الدین محمود نے لکھا ہے:

"ہم اس امت میں صرف ایک ہی نبی کے قائل ہیں۔آئیندہ کا حال پردہ غیب میں ہے۔اسکی نسبت ہم کچھ کہ نہیں سکتے آئیندہ کے متعلق ہر ایک خبر پیشگوئی کا رنگ رکھتی ہے اس پر بحث کرنا انبیاء کا کام ہے نہ ہمارا۔پس ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ اس وقت تک اس امت میں کوئی اور شخص نبی نہیں گزرا۔کیونکہ اس وقت تک نبی کی تعریف کسی اور انسان پر صادق نہیں آتی۔"

(انوار العلوم :جلد 2 صفحہ 461)

حوالہ نمبر 3:

مرزا بشیر الدین محمود نے لکھا ہے:

"حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی از ناقل) نے اس امت میں اپنے سے پہلے کسی اور شخص کے نبی ہونے سے قطعی انکار کیا ہے پس جب مسیح موعود کہتا ہے کہ امت محمدیہ میں اس وقت تک صرف میں ہی ایک شخص ہوں جو نبی کہلانے کا مستحق ہوں۔"

(انوار العلوم: جلد 2 صفحہ 547)

تحفظ ختم نبوتﷺ مختصر کورسسبق نمبر 1:"قادیانیوں سے ہمارے بنیادی اختلافات"(حصہ اول)قادیانیوں سے ہمارے تین بڑے بنیادی اختلا...
08/05/2026

تحفظ ختم نبوتﷺ مختصر کورس

سبق نمبر 1:

"قادیانیوں سے ہمارے بنیادی اختلافات"

(حصہ اول)

قادیانیوں سے ہمارے تین بڑے بنیادی اختلافات ہیں۔

1) عقیدہ ختم نبوتﷺ
2)رفع و نزول سیدنا عیسٰیؑ
3)ظہور مہدی

1) عقیدہ ختم نبوتﷺ

ہمارے نزدیک نبیوں کی دو اقسام ہیں۔
1)شرعی نبی
2)غیر شرعی نبی

تشریعی نبی:

تشریعی نبی اللہ تعالیٰ کا منتخب کردہ وہ بندہ ہوتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ اپنا پیغام لوگوں تک پہنچانے کے لئے منتخب کرتے ہیں اور ساتھ شریعت،کتاب یا صحیفے دئیے جاتے ہیں۔

غیر تشریعی نبی:

غیر تشریعی نبی اللہ تعالیٰ کا منتخب کردہ وہ بندہ ہوتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ اپنا پیغام لوگوں تک پہنچانے کے لئے منتخب کرتے ہیں اور وہ اپنے سے پہلے تشریعی نبی یا رسول کی شریعت کو پھیلاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے دنیا میں سب سے پہلے سیدنا آدمؑ کو پیدا فرمایا۔حضرت آدمؑ نہ صرف پہلے انسان تھے بلکہ پہلے نبی اور رسول بھی تھے۔آدمؑ کے بعد اللہ تعالٰی نے دنیا میں بہت سے نبی بھیجے۔

ایک حدیث میں ذکر ہے:

عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ الْبَاھْلِیِّ ؓ،قَالَ: قَالَ اَبُوْ ذَرٍّ ؓ:یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! کَمْ وَفّٰی عِدَّۃُ الْاَنْبِیَائِ؟ قَالَ:مِائَۃُ اَلْفٍ وَ اَرْبَعَۃٌ وَ عِشْرُوْنَ اَلْفًا، اَلرُّسُلُ مِنْ ذٰلِکَ ثَلَاثُ مِائَۃٍ وَخَمْسَۃَ عَشَرَ جَمًّا غَفِیْرًا۔

سیدنا ابو امامہ باہلی ؓ سے مروی ہے کہ سیدنا ابوذر ؓ نے کہا:اے اللہ کے رسول! انبیاء کی تعداد کتنی تھی؟آپﷺ نے فرمایا:ایک لاکھ چوبیس ہزار،ان میں تین سو پندرہ رسول تھے،جم غفیر تھا۔

(مسند احمد:حدیث نمبر 22644)

اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی بھیجے ہیں جن میں سے شریعت لانے والے رسول 315 تھے۔

نبوت کے جس سلسلے کا آغاز حضرت آدمؑ سے ہوا تھا۔اس کا اختتام ہمارے آقا و مولا حضرت محمدﷺ پر ہوا۔آپ کو خاتم النبیینﷺ کا تاج پہنایا گیا اور دین کو کامل و مکمل کر کے نبوت کے سلسلے کو آپﷺ پر ہمیشہ کے لئے ختم کردیا گیا۔رسول اللہﷺ کی نبوت اتنی کامل ہے کہ جس میں قیامت تک کسی نئے نبی کی نہ ہی گنجائش ہے اور نہ ہی ضرورت ہے۔اس لئے رسول اللہﷺ کے بعد قیامت کی صبح تک نہ کسی کو تشریعی نبوت دی جائے گی اور نہ ہی کسی کو غیر تشریعی نبوت دی جائے گی۔یعنی رسول اللہﷺ کے بعد نبیوں کی تعداد میں کسی ایک نبی یا رسول کا اضافہ نہیں ہوگا۔اسی عقیدے کو عقیدہ ختم نبوتﷺ کہا جاتا

ختمِ نبوت — قرآن، حدیث اور عقل سے ثابت📖 قرآن:> "مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ ا...
25/09/2025

ختمِ نبوت — قرآن، حدیث اور عقل سے ثابت

📖 قرآن:

> "مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ"
(الاحزاب: 40)
☝️ صاف اعلان: محمد ﷺ اللہ کے رسول اور آخری نبی ہیں۔
🕌 حدیث:
رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:
"لَا نَبِيَّ بَعْدِي"
(صحیح بخاری و صحیح مسلم)

✅ عقل کی دلیل:

اگر ہر زمانے میں نیا نبی آتا تو دین کبھی مکمل نہ ہوتا۔
اللہ نے قرآن میں فرمایا
> "اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ" (المائدہ: 3)
آج دین مکمل کر دیا گیا۔ جب دین مکمل ہے تو نئے نبی کی کوئی ضرورت نہیں۔
✨ ہدایت کا سلسلہ جاری ہے:
قرآن و سنت قیامت تک زندہ ہیں۔
علماء وارث الانبیاء ہیں۔
اولیاء و صالحین کے ذریعے ایمان والوں کو نور ملتا رہتا ہے۔

جو یہ کہے کہ نبوت بند ہوئی تو ہم اندھیرے میں رہ گئ
اسے کہو
"ہم اندھیرے میں نہیں، سورج کے نیچے ہیں — اور یہ سورج محمد ﷺ کی نبوت ہے، جو قیامت تک چمکتا رہے گا۔" 🌞

03/09/2024

بخيل څوک دى؟

پيغمبر ﷺ وفرمايل:
بخيل هغه څوک دى، د چا په حضور کي چي زه ياد شم او پر ما باندي درود ونه وايي.

سنن ترمذي، ٣٥٤٦

03/09/2024

ګرمي او يخ

پيغمبر ﷺ وفرمايل:
د (دوزخ) اور خپل رب ﷻ ته شکايت وکړ، "اې زما ربه! زما مختفلي برخي يو او بل خوري." نو الله اجازه ورکړه چي دوې ساوي واخلي، يوه په ژمي او بله په دوبي کي، همدا دليل دى چي تاسو (د هوا) سخته ګرمي او ډېر يخ احساسوى.

صحيح بخاري، ٣٢٦٠

03/09/2024

ربيع بن أنس رحمه اللّٰه وايي:
داللّٰهﷻ سره د مینې نښه د اللّٰهﷻ ډیر ذکر کول دي،
ځکه څوک چې له کوم شي سره مینه لري هغه ډیر زیات یادوي.

مدارج السالكين:(١٦٣/٢)

27/06/2024

رسـول الله{ﷺ} فـرمـایــلي:

کـله چې تاســې د مـریـض پـوښـتنې ته ورشـئ نـو مـریض (ناروغ) ته ووایه چې ماتـه دُعا وکـړه
ځکه چې د مریض دُعا د ملائکو د دُعا په شان ده.

[رواه ابن ماجه: ۱۵۰۱]

27/06/2024

څلورو شیانو سره رزق زیاتېږي

تهجد لمونځ کول ،
استغفار ډېر وئیل ،
صدقه کول ،
سهار او ماښام د الله ﷻ ذکر کول.

23/02/2024

پيغمبر ﷺ وفرمايل:
ژمى د مؤمن پسرلى دى.
شپې يې اوږدې دي د عبادت لپاره او
ورځي يې لنډي دي د روژې لپاره.

[مسند احمد، 11716

Address

Peshawar

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Khatam e nabuwat-saw movement posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Khatam e nabuwat-saw movement:

Share