Islamic Info

Islamic Info Its ALL about islam....:) islam is best

ہم اس وقت بدترین ذہنیت کا مظاہره کرتے ہیں جب کوئی گمراه انسان راه راست پر آنے کے بعد ہمیں نیکی کی تلقین کرے__اورہم اسکا ...
15/01/2018

ہم اس وقت بدترین ذہنیت کا مظاہره کرتے ہیں جب کوئی گمراه انسان راه راست پر آنے کے بعد ہمیں نیکی کی تلقین کرے__
اور
ہم اسکا ماضی لے کر بیٹھ جائیں____!!

ﺷﮑﺮﻣﯿﮟ ﺍﮐﺜﺮ ﺳﻮﭼﺘﯽ ﮨﻮﮞ ﺭﺏ ﻧﮯ ﻗﺮﺁﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﻨﺪﻭﮞ سے ﯾﮧﮔﻠﮧ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺑﮩﺖ ﮐﻢ ﺷﮑﺮ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ؟ ﺟﺒﮑﮧ ﮐﻮئی آﭖ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﮯ ﺍﭖ ﮐ...
30/11/2017

ﺷﮑﺮ
ﻣﯿﮟ ﺍﮐﺜﺮ ﺳﻮﭼﺘﯽ ﮨﻮﮞ ﺭﺏ ﻧﮯ ﻗﺮﺁﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﻨﺪﻭﮞ سے ﯾﮧ
ﮔﻠﮧ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺑﮩﺖ ﮐﻢ ﺷﮑﺮ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ؟
ﺟﺒﮑﮧ ﮐﻮئی آﭖ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﮯ ﺍﭖ ﮐﯿﺴﮯ ﮨﻮ ؟ ﺗﻮ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻟﻠﻪ ﮐﺎ ﺷﮑﺮ ﮨﮯ. ﯾﻌﻨﯽ ﮨﻢ ﺑﺎﺕ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﺷﮑﺮ ﺗﻮ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﭘﮭﺮ ﮐﯿﺎ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ؟
ﮨﻢ ﺷﮑﺮ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﺩﻝ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﻋﺎﺩﺗﺎ ﮐﺮﺗﮯ
ﮨﯿﮟ ... ﺁئے ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﮑﺮ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ُﺍﻧﺪﺍﺯ..ﻣﯿﺮﯼ ﮔﺎﮌﮬﯽ ﮐﺎ ﺍﯾﮑﺴﯿﻨﮉ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺧﯿﺮ ﮨﮯ ﻧﮧ ..
ﺗﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﺟﻮﺍﺏ ﮐﭽﮫ ﯾﻮﮞ ﺗﮭﺎ. ﺷﮑﺮ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﯾﺎﺭ ﮔﺎﮌﯼ ﺑﻠﮑﻞ ﺗﺒﺎﮦ ﮨﻮگئی ﻧﻘﺼﺎﻥ ﺑﮩﺖ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﭘﺘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻧﺸﻮﺭﻧﺲ ﺩﯾﺘﯽ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ﯾﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﯿﺐ ﺳﮯ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ .. ﺁﻓﺲ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﻟﮓ مسلئہ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﭘﺘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﺑﮭﯽ ﮐﺘﻨﮯ ﺩﻥ ﯾﮧ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﺩﯾﮑﮭﻨﯽ ﮨﮯ۔
ﺍﺏ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﻣﯿﺮﮮ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺍﮎ ﻟﻔﻆ ﺷﮑﺮ ﮐﺎ ﺑﺎﻗﯽ ﭼﺎﺭ
ﺟﻮﺍﺏ ﮔﻠﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺣﺎﻻﻧﮑﮧ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﮐﮩﺘﯽ ﮐﮧ ﺭﺏ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺟﺎﻥ
ﺑﭽﺎئی ﺍﺱ ﮐﺎ ﺑﮩﺖ ﮐﺮﻡ ﮨﮯ ﮐﻮئی ﺑﮍﺍ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺍ۔
ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﺎﻝ ﮐﺎ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﺗﻮ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﮔﺎﮌﯼ ﮐﺎ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ﺍﺱ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﮐﯽ ﺷﮑﺮ ﮔﺰﺍﺭ ﮨﻮﮞ
ﻣﯿﮟ ﺻﺤﯿﺢ ﻭ ﺳﻼﻣﺖ ﮨﻮﮞ ﯾﮧ ﺗﻮ ﻣﻌﺠﺰﮦ ﮨﮯ .. ﭼﻠﻮ ﺍﺱ ﺑﮩﺎﻧﮯ
ﮐﭽﮫ ﺩﻥ ﮈﺭﺍﺋﯿﻮﻧﮓ ﺳﮯ ﭼﮭﭩﯽ ﻣﻞ ﮔﺌﯽ. ﭨﺮﯾﻔﮏ ﮐﻮ ﺑﻮﺟﮫ ﺳﮯ
ﮐﭽﮫ ﺩﻥ ﺁﺯﺍﺩ ﮨﻮگئی. ﭨﯿﮑﺴﯽ ﺳﮯ ﻣﺰﮮ ﺳﮯ ﺁﺅﮞ ﮔﯽ ﺟﺎﺅﮞ ﮔﯽ
ﻣﮕﺮ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ کاُ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻏﻠﻂ ﮨﮯ ﮨﻢ ﻧﻌﻤﺖ ﮐﯽ ﻗﺪﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ
ﺍﺳﭙﺘﺎﻝ ﺑﮭﺮﮮ ﭘﮍﮮ ﮨﯿﮟ ﺟﻮُﺣﺎﺩﺛﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﮧ
ﻣﻔﻠﻮﺝ ﮨﻮﮐﺮ ﺑﺴﺘﺮ ﮐﮯ ﮨﻮﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻣﮕﺮ ﮨﻢ ﻗﺪﺭ ﺍﻭﺭ ﺷﮑﺮ
ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺟﺐ ﻧﻌﻤﺖ ﮐﯽ ﻗﺪﺭ ﻧﮩﯿﮟ ہوﮔﯽ ﺷﮑﺮ ﻣﮑﻤﻞ
ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﺗﮏ ﮨﻢ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ
ﮔﮯ ﻧﻌﻤﺖ ﮐﯽ ﻗﺪﺭﻧﮩﯿﮟ ﺁﺋﮯﮔﯽ ... ﯾﮧ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺳﯽ ﻣﺜﺎﻝ ﮨﮯ. ﮨﻢ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﺑﺪﻟﻨﺎ ﮨﻮﮔﺎ۔ ﺟﺐ ﮨﯽ ﮨﻢ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﮐﻮ ﺭﺍﺿﯽ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ .

جس نے خود کو حقیر جانا وھی بلند مرتبہ کا حامل ھوا ____________حضرت شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ پانی کا ایک...
30/11/2017

جس نے خود کو حقیر جانا وھی بلند مرتبہ کا حامل ھوا ____________
حضرت شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ پانی کا ایک ننھا سا قطرہ بادل سے ٹپکا اور دریا میں آن گرا اس ننھے قطرے نے جب دریا کی وسعت اور گہرائی کا اندزاہ کیا تو اسے اپنی ﺫات نہایت حقیر محسوس ھوئی وہ سوچنے لگا کہ اتنے بڑے دریا کے مقابلے میں بھلا میری کیا ہستی ھے میں تو کسی شمار میں نہیں آتا باقی بھی رھا تو کیا اور فنا بھی ھو گیا تو کیا ? قطرے نے یہ تمام باتیں نہایت عجز و انکساری سے سوچی تھیں ایک صدف نے اسے منہ کھول کر اپنے اندر کر لیا اور پھر اس کی پرورش کر کے اسے ایک قیمتی موتی بنا دیا _ یقنا" اسے یہ اعزاز و مرتبہ اس لیے حاصل ھوا کہ اس نے خود کو حقیر جانا اور جس نے خود کو حقیر جانا وھی بلند مرتبہ کا حامل ھوا _
___________مقصود بیان
حضرت شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ اس حکایت میں عجزو انکساری کے متعلق بیان کرتے ہیں جو عاجزی کے ساتھ رھتا ھے وہ یقنا" اللہ عزوجل کے قرب کا حقدار ٹھیرتا ھے اور عاجزی اللہ عزوجل کو بہت پسند ھے معراج کی شب حضوری نبی کریم صلی اللہ عیلہ والہ وسلم جو تحفہ اللہ عزوجل کی بارگاہ میں لے کر گۓ وہ عاجزی کا تحفہ ھی تھا

30/11/2017

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ،،،،
بہلول نے حضرت جنيد بغدادی سےپوچھا شیخ صاحب کھانے کے آداب جانتے ہیں؟
کہنے لگے، بسم اللہ کہنا، اپنے سامنے سے کھانا، لقمہ چھوٹا لینا، سیدھے ہاتھ سے کھانا، خوب چبا کر کھانا، دوسرے کے لقمہ پر نظر نہ کرنا، اللہ کا ذکر کرنا، الحمدللہ کہنا، اول و آخر ہاتھ دھونا۔
بہلول نے کہا، لوگوں کے مرشد ہو اور کھانے کے آداب نہیں جانتے اپنے دامن کو جھاڑا اور وہا ں سے اٹھ کر آگے چل دیئے۔
شیخ صاحب بھی پیچھے چل دیئے، مریدوں نے اصرار کیا، سرکار وہ دیوانہ ہے لیکن شیخ صاحب پھر وہاں پہنچے پھر سلام کیا۔
بہلول نے سلام کا جواب دیا اور پھر پوچھا کون ہو؟ کہا جنید بغدادی جو کھانے کے آداب نہیں جانتا۔ بہلول نے پوچھا اچھا بولنے کے آداب تو جانتے ہوں گے۔
جی الحمدللہ، متکلم مخاطب کے مطابق بولے، بےموقعہ، بے محل اور بےحساب نہ بولے، ظاہر و باطن کا خیال رکھے۔ بہلول نے کہا کھانا تو کھانا، آپ بولنے کے آداب بھی نہیں جانتے، بہلول نے پھر دامن جھاڑا اورتھوڑا سا اور آگے چل کر بیٹھ گئے۔
شیخ صاحب پھر وہاں جا پہنچے سلام کیا۔
بہلول نے سلام کا جواب دیا، پھر وہی سوال کیا کون ہو؟
شیخ صاحب نے کہا، جنید بغدادی جو کھانے اور بولنے کے آداب نہیں جانتا۔ بہلول نے اچھا سونے کے آداب ہی بتا دیں؟
کہا نماز عشاء کے بعد، ذکر و تسبیح، سورہ اور وہ سارے آداب بتا دیئے جو روایات میں ذکر ہوئے ہیں۔ بہلول نے کہا آپ یہ بھی نہیں جانتے، اٹھ کر آگے چلنا ہی چاہتے تھے کہ شیخ صاحب نے دامن پکڑ لیا اور کہا جب میں نہیں جانتا تو بتانا آپ پر واجب ہے۔
بہلول نے کہا جو آداب آپ بتا رہے ہيں وہ فرع ہیں اور اصل کچھ اور ہے، اصل یہ ہے کہ جو کھا رہے ہیں وہ حلال ہے یا حرام، لقمہ حرام کو جتنا بھی آداب سے کھاؤ گے وہ دل میں تاریکی ہی لائےگا نور و ہدایت نہیں، شیخ صاحب نے کہا جزاک اللہ۔
بہلول نے کہا کلام میں اصل یہ ہے کہ جو بولو اللہ کی رضا و خوشنودی کیلئے بولو اگر کسی دنیاوی غرض کیلئے بولو گے یا بیھودہ بول بولو گے تو وہ وبال جان بن جائے گا۔
سونے میں اصل یہ ہے کہ دیکھو دل میں کسی مؤمن یا مسلمان کا بغض لیکر یا حسد و کینہ لیکر تو نہیں سو رہے، دنیا کی محبت، مال کی فکر میں تو نہیں سو رہے،کسی کا حق گردن پر لیکر تو نہيں سو رہے...!

10/11/2017

Jumma Mobarak To All Members
Stay Blessed..

زنا کیا ہے؟اس کی کتنی قسمیں ‘ کون کون سی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں ‘ایسا انکشاف جس نے سب کو ہلاکررکھ دیا**اگر مرد ایک ایسی ...
07/11/2017

زنا کیا ہے؟اس کی کتنی قسمیں ‘ کون کون سی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں ‘ایسا انکشاف جس نے سب کو ہلاکررکھ دیا*
*اگر مرد ایک ایسی عورت سے صحبت ، ہم بستری کرے جو اس کی بیوی نہیں ہے تو، یہ زنا کہلاتا ہے، ضروری نہیں کی ساتھ سونے کو ہی زنا کہتے ہیں، بلکہ چھونا بھی زنا ایک حصہ ہے اور کسی پرائی عورت کو دیکھنا آنکھوں کا زنا ہے.ذنا کو اسلام میں ایک بہت بڑا گناہ شمار کیا گیا ہے، اور اسلام نے ایسا کرنے والو کی سزا دنیا میں ہی رکھی ہے. اور مرنے کے بعد اللہ اس کی سخت سزا دے گا۔زنا کے بارے میں کچھ حدیث اور قرآن کی آیت دےكھيےحضرت محمد (صلی الله عليه وسلم) نے فرمایا مومن (مسلم) ہوتے ہوئے تو کوئی زنا کر ہی نہیں سکتا(بخاری شریف) الله قرآن میں فرماتا ہے اور (دیکھو) زنا کے قریب بھی نہ جانا، کورس وہ بے حیائی ہے اور بری راہ ہے(القرآن)ذنا کی سزا اور عذاب: اگر زنا کرنے والے شادی شدہ ہو تو کھلے میدان میں پتھر مارمار کر مار ڈالا جائے اور اگر کنوارے ہو تو 100 کوڑے مارے مارے جائے. (بخاری شریف)ج کل دیکھنے میں آیا ہے کی اس گناہ میں بهت سے لوگ شامل ہیں،
خاص کر کے اس بازار میں جہاں
عورتیں اور مرد جاتے ہیں کس کا ہاتھ کس کو لگ رہا ہے کہا لگتا ہے کچھ معلوم نہیں ہوتا، چاہے لڑکا ہو یا لڑكيا اور پھر اس گناہ کو کرنے کے بعد اپنے دوستوں کو بڑی شان سے سناتے ہیں، بلکہ ان کو بھی ایسا کرنے کی رائے دیتے ہیں۔اگر کوئی اکیلے لڑکے یا لڑکی کوئی غلط کام کرتا ہے تو اس کا گناہ اس کے ماں باپ کو بھی ملتا ہے کیونکہ انہوں نے ان کی جلدی شادی نہیں کی جس کی وجہ سے وہ غلط کام کرنے لگے،اور شادی کی عمر ہونے کے بعد بھی ماں باپ ان کی شادی نہ کرے تو اللہ ناراض ہوجاتا ہے اور ان کے گھر کی برکت ختم ہوجاتی اور اللہ ان ماں باپ سے قیامت کے دن حساب مانگے گا۔اور ایک جگہ اللہ نے قرآن میں فرمایا کی پاک دامن لڑکیاں، پاک دامن لڑكو کے لئے ہیں،اسكا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ کو اچھی ہیں تو اللہ آپ کو بھی اچھی بیوی یا دولہا ديگا اور خراب ہیں تو سمجھ لیجیے۔ زنا ایک ایسا عمل ہے جس سے نسیان، ایڈز ، کینسر جیسی موذی بیماریاں پھیلتی ہیں۔زنا سے انسان کا دل مردہ ہوجاتا ہے جبکہ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ جب دل مردہ ہوگیا تو پھر اس کے دل سے اسلام کی روشنی ختم ہوجاتی ہے جس سے وہ ایمان سے خالی ہوجاتا ہے ۔ انسان جو بھی غلط کام کرتا ہے اس کی قیمت اس کے بچوں، ماں یا بہن کو اس دنیا میں ہی ادا کرنی پڑتی ہے،امام شافعی رحمتہ الله کہتے ہیں کے زنا ایک قرض ہے، اگر تو اس قرض لے گا تو تیرے گھر سے یعنی تیری بہن , بیٹی سے وصول کیا جائے گا۔دوستو اس کبیرہ گناہ کی اور بھی سزائیں ہیں، لہذا خود بھی بچو اور اپنے دوستوں کو بھی بچائیں
۔اگر آپ نے اپنے جنسی قصہ آپ کے دوست‘ سہیلی کو سنایا اور اس کے دل میں بھی ایسا کرنے کی بات آ گئی اور اس نے وہ کام کر لیا تو اس کا گناہ آپ کو بھی ملے گا، کیونکہ آپ نے ہی اس کو غلط راستہ دکھایا ہے .اور آپ کے دوست آگے بھی جتنے لوگو کو غلط راستہ دکھائیں گے ان سب کا گناہ اپكےكھاتے میں آئے گا۔سب كے گھر میں اکثر، بہن، بیٹی، ماں ہیں، اگر آپ دوسرے کی طرف تاک جھانک کرو گے تو آپ کا گھر بھی محفوظ نہیں رہے گا،الله ہم سب کو اس بڑے گناہ سے بچائے۔اج آپ اس میسیج اگر کسی 1 کو بھی اسٹاک کردیں تو آپ سوچ بھی نہیں سکتے کتنے لوگ "اللہ" سے توبہ کر لیں گے الحديث: -جب تم اپنے بستر پر جاؤ تو سرا فاتح اور سورہ اخلاص کو پڑھ لیا کرو، تو موت کے علاوہ ہر چیز سے بے خوف ہو جاؤ گے ۔وه دن قریب ہے جب آسمان پہ صرف ایک ستاراهوگا. توبہ کا دروازہ بند کر دیا جائے گا.قران کے حروف مٹ جائیں گے۔سورج زمین کے بالکل پاس آ جائے..
اللہ پاک ہمیں ہدایت دے اور معاف فرمائے آمین

06/11/2017
⚠بیوی کی بہن⚠یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ بیوی کی بہن کے لئے ہمارے معاشرے میں لفظ "سالی" مستعمل ہے۔۔۔۔لفظ اگرچہ کچھ مناسب نہ...
04/11/2017

⚠بیوی کی بہن⚠
یہ تو ہم سب جانتے ہیں
کہ بیوی کی بہن کے لئے ہمارے معاشرے میں لفظ "سالی" مستعمل ہے۔۔۔۔
لفظ اگرچہ کچھ مناسب نہیں لگتا
لیکن اسی نام سے بات شروع کرتے ہیں۔۔۔
عموماًبیوی کی بڑی بہنیں شادی شدہ ہوتی ہیں اور اگر غیر شادی شدہ بھی ہوں تو وقت کے ساتھ طبیعت میں سنجیدگی اور بردباری آچکی ہوتی ہے۔۔۔۔
جبکہ بیوی کی چھوٹی بہنیں عمر کے اس مرحلے میں ہوتی ہیں جب زندگی کا ہر رُخ خوبصورت اور ہر موڑ دلکش معلوم ہوتا ہے۔۔۔
ایسے میں بہن کا شادی ہونا اور ایک نئے فرد یعنی بہنوئی کا گھر سے تعلق ہونا بھی ایک منفرد رنگ لئے ہوتا ہے۔۔۔
معاشرے کے عام چلن کی وجہ سے عموماًیہ چھوٹی سالیا ں اپنے بہنوئی سے ہنسی مذاق کی باتیں بھی کرتی ہیں اور اپنے بہنوئی کا خیال بھی بہت رکھتی ہیں۔۔۔
جب کبھی بہن کا اپنے میکے جا نا ہو
تو اکثر یہی سالیاں بہن اور بہنوئی کو بوریت سے بچانے کے لئے ان کو مکمل وقت دیتی ہیں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب مرد کے رُخ سے کچھ بات ہوجائے۔۔۔
ہمارے معاشرے میں ایک محاورہ مشہور ہے۔۔۔
سالی۔۔۔
آدھے گھر والی۔۔۔
اکثر مرد جب اپنے عزیز دوستوں میں بیٹھتے ہیں تو چھوٹی سالیوں کے نام پر ایک عجیب مسکراہٹ ان کے چہرے پر آجاتی ہے احباب بھی ذومعنی جملوں سے اس مسکراہٹ کو مزید گہرا کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔۔۔
یہ حقیقت عجیب صحیح لیکن بہر حال معاشرے میں موجود ہے۔۔۔
اپنے بہنوئی کے اس رُخ سے ان کی سالیاں بھی اکثربے خبر ہوتی ہیں۔۔۔
شوہر یہ بھول جاتا ہے کے اس کی بھی بہنیں ہیں وہ بھی اس رشتے میں ضرور آیئں گیں.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب اسلام کے رُخ سے اس پہلو کو دیکھتے ہیں۔۔۔
اسلام کی رُوح سے بہنوئی سالی کا آپس میں شرعی پردہ ہے۔۔۔
بہنوئی،سالی کا نامحرم ہے اور گھر کے اندر گاہے بگاہے اس کی موجودگی کی وجہ سے اس پردے میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔۔۔
یہ ایسی حقیقت ہے جس سے لڑکی کے ماں باپ بھی آنکھیں بند کئے رکھتے ہیں۔۔۔
اکثر بہنوئی بھی اس پردے کو اپنی ہتک سمجھتے ہیں۔۔۔
اور سالیا ں "ہمارے بہنوئی تو ہمارے بھائی جیسے ہیں" کی سوچ کے ساتھ اس سے صرفِ نظر کرتی ہیں۔۔۔
اور یہ میلان کی خطرناک حد بہنوئی کے علاوہ کسی کے علم میں بھی نہ ہو گی۔۔۔
اور وہ بہنوئی کبھی اپنی بیوی کو بھی اس میلان کانہیں بتائے گا۔۔۔
یہ ایسا خاموش زہر ہے جس سے یا تو وہ مرد واقف ہے یا الله تعالیٰ کی ذات اس کے دل کا حال جانتی ہے۔۔۔
نہ مردوں میں اتنی ایمانی قوت ہے کہ وہ اپنی اس حرکت کو تسلیم کرسکیں۔۔۔
خدارا!اس امتحان میں نہ پڑیں۔۔۔
بیوی کے ماں باپ سے گزارش ہے کہ اپنی دیگر بیٹیوں کو داماد سے شرعی پردہ کروائیں۔۔۔
بیوی کی بہنوں سے گزارش ہے کہ خود ہی پیچھے پیچھے رہا کریں تاکہ بہنوئی کو یہ باور ہو کہ میری سالیاں جھجھک اور شرم والی ہیں۔۔۔
اور مرد حضرات سے گزارش ہے کہ اس نسبی تعلق کے ساتھ مالِ مفت دل ِبے رحم والا معاملہ نہ کریں اور دل کے اندر گھٹیا اور فضول خواہشات پالنے سے گریز کریں۔۔۔
الله تعالیٰ ہمیں اس باریک مسئلے کی حقیقت کا ادراک کرنے والا بنا دے آمین

04/11/2017

حضرت عبد اللہ بن مبارک فرماتے ہیں کہ میں حج بیت اللہ اور نبی کریم ﷺ کی قبر مبارک کی زیارت کی غرض سے نکلا۔ میں راستے پر جارہا تھا کہ میں نے ایک سایہ دیکھا ۔غور کیا تو وہ ایک بڑھیا تھی جس نے اون کے کپڑے زیب تن کئیے ہوئے تھے (غالباً وہ راستہ بھٹک کر اپنے قافلہ سے بچھڑ گئی تھی ) حضرت عبد اللہ بن مبارک کےساتھ بڑھیا کی مندرجہ ذیل گفتگو ہوئی وہ بڑھیا آپ کے ہر سوال کا جواب قرآ ن کی آیات سے دیتی تھی ۔
عبد اللہ بن مبارک ! میں نے کہا السّلامُ علَیُم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
بڑھیا! سَلامٌ قولاً من ربِ رحیمٍ۔ (مطلب یہ کہ سلام کا جواب تو اللہ تعلی کی طرف سےہے)
عبد اللہ بن مبارک !میں نے پوچھا اللہ تجھ پر رحم کرے تو اس مقام میں کیا کررہی ہے؟
بڑھیا!مَن یضل اللہ فَلا ھَادی لَہ۔ جسے اللہ بھٹکا دے اسے کوئی راہ دکھانے والا نہیں ہے (مطلب یہ کہ میں راستہ بھول گئی ہوں )
عبد اللہ بن مبارک !مجھے پتہ چل گیا کہ وہ راستہ بھٹک گئی ہے میں نے پوچھا کہاں کا ارادہ ہے؟
بڑھیانے کہا! سُبحَانَ الّذِی اَسۡسریٰ بِعبدِہلیلاً مِنَ المَسجِدِ الحَرَامِ اِلی المَسجِدِ الأقصیٰ۔ پاک ہے وہ ذات جس نے سیر کرائی اپنے بندے کو ایک رات مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک(مجھے پتہ چل گیا کہ اس نے حج قضا کیا ہے اور بیت المقدس کا ارادہ رکھتی ہے)۔
عبد اللہ بن مبارک !نے پو چھا آپ کب سے یہاں ہیں؟
بڑھیانے کہا! ثَلَا ثَ لَیَالٍ سَوِیاً۔ برابر تین رات سے۔
عبد اللہ بن مبارک ! میں تیرے پاس کھانے کے لئے کچھ نہین دیکھ رہا ( یعنی کھاتی کیا ہو؟)
بڑھیانے کہا! وَالّذی ھوَ یطعمنی ویسقین۔ اور جو کہ (اللہ تعالیٰ ) مجھے کھلاتا پلا تا ہے۔
عبد اللہ بن مبارک ! تم وضو کس کے ساتھ کرتی ہو؟
بڑھیا! فَلم تجدوا مآءً فتیمموا صعیداً طیباً۔ پھر تم پانی نہ پاؤتو پاک مٹی کا قصد کرو۔(یعنی پانی نہیں ہے تیمم کرتی ہوں)
عبد اللہ بن مبارک ! میں نے کہا کہ میرے پاس کھانا ہے کیا تم کھاؤگی؟
بڑھیا! ثم اتمواالصیام الی الّلیل ۔ پھر تم روزوں کو پورا کرو رات تک۔(یعنی میں روزہ سے ہوں )۔
عبد اللہ بن مبارک ! میں نے کہا یہ تو رمضان کا مہینہ نہیں ہے؟
بڑھیا! ومن تطوع خیراً فان اللہ شاکر علیمٌ۔پھر جو کوئی خوشی سے نیکی کرے تو بے شک اللہ تعالیٰ قدردان اور جاننے والا ہے۔ (یعنی میں نے نفلی روزہ رکھا ہوا ہے)۔
عبد اللہ بن مبارک ! میں نے کہا ہمارے لئےسفر میں افطار مباح ہے۔
بڑھیا! وأن تصومو خیرٌلکم ؕن کنتم تعلمون۔ اور روزہ رکھنا ہی تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔
عبد اللہ بن مبارک ! میں نےکہا تو میرےجیسی گفتگو کیوں نہیں کرتی؟
بڑھیا! ما یلفظ من قولٍ الا لدیہ رقیبٌ عنیدٌ۔ وہ کوئی بات نہیں کرتا مگر اس کے پاس ایک مستعد نگہبا ن ضرور ہو تا ہے۔ (یعنی ہر انسان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرشتے نگہبان ہوتے ہیں اس لئے میں کسی اور زبان میں بات نہیں کرتی بلکہ قرآن کی زبان میں بات کرتی ہوں)
عبد اللہ بن مبارک ! میں نے کہا تو کن لوگوں میں سے ہے؟
بڑھیا! ولا تقف ما لیس لک بہ علِمٌ ان السَمعَ والبصَرَ والفوادَ کلٌّ اولٓئکَ کان عنہ مسؤولاً۔ جو بات تمہیں معلوم نہ ہو اس کے دربے نہ ہو۔بے شک کان، آنکھ اور دل ہر ایک کی بابت اس سے باز پرس ہوگی(یعنی جس بات کا کوئی فائدہ نہیں اس کا مت پوچھو)
عبد اللہ بن مبارک ! میں نے کہا کہ مجھ سے غلطی ہوگئی معاف کیجئے۔
بڑھیا! لا تَثرِیب عَلَیکُمُ الیَومۡ یغفِراللہ لکم۔آج تم پر کوئی ملامت نہٰں اور اللہ تعالیٰ تمہیں بخشے(یعنی میں نےمعاف کیا )
عبد اللہ بن مبارک ! میں نے کہا کیا تمہیں رغبت ہےکہ میری اونٹنی پر سوار ہو کر اپنے قافلے سے جاملو؟
بڑھیا! وما تفعلوا من خیرٍیعلمہ اللہ ۔ اور جو تم نیکی کرتےہو اللہ اسے جانتا ہے (یعنی میرے ساتھ نیکی کروگے تو اجر پاؤگے)
عبد اللہ بن مبارک ! میں نے اپنی اونٹنی بٹھا دی(تاکہ وہ خاتون اس پر سوا ر ہوجائے)
بڑھیا! قل للمؤمنین یغضوا من ابصارہم۔اور اہل ایمان سےکہہ دیجیئے کہ وہ اپنی نگا ہیں نیچی رکھیں۔
فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی آنکھیں پھیر لیں اور میں نے کہا کہ تو سوار ہو جاجب وہ عورت سوار ہونے لگی تو اونٹنی بدک اٹھی جس سے اس خاتون کے کپڑے پھٹ گئے اور اس
بڑھیا! نے کہا وما اصابکم من مصیبۃٍ فبما کسبت ایدیکم تم کو جو مصیبت پہنچتی ہے وہ تمہارے اپنے ہو ہاتھوں کی کمائی ہے (یعنی بڑھیا! نے حضرت عبداللہ بن مبارک کو امداد کے لئے کہا جسے وہ بخوبی سمجھ گئے کہ وہ اونٹنی کو کنٹرول کریں تاکہ وہ خاتون آسانی سے اس پر سوا ر ہوجائے)
عبد اللہ بن مبارک ! نے کہا تو صبر کر تاکہ میں اونٹنی کا گھٹنا باندھوں(حضرت عبداللہ بن مبارکؒ کی ذھانت اور سمجھداری کی داد دیتے ہوئے)
بڑھیا! ففہمنا ھا سلیمان۔ ہم نے سلیمان کو وہ فیصلہ سمجھادیا(یعنی آپ بہت سمجھدار ہیں کہ بات سمجھ گئے ہیں)
عبد اللہ بن مبارک ! پھر میں نے اونٹنی کا پاؤں باندھا اور میں اسے کہا تو سوار ہوجا۔
بڑھیا! نے سوار ہوتے ہوئے یہ آیت پڑھی سُبحان الذی سخرلنا ھذا وما کنا لہ مقرنین وانا الی ربنا لمنقلبون۔ پاک ہے وہ ذات جس نے اس کو ہمارے لئے مسخر کیا اور ہم اس کو قابو میں لانے والے نہ تھے اور بلا شبہ ہم اپنے رب کی طرف لوٹ کر جا نے والے ہیں (یعنی سواری پر سوار ہونے کی دعا اس عورت نے پڑھی)
عبد اللہ بن مبارک ! نےکہا کہ میں نے اونٹنی کی مہار پکڑی اور تیزی سے چلنے لگا اور سیٹی مارنے لگا (یعنی اونٹ کو چلانے کے لئے جو آواز نکالی جاتی ہے)
بڑھیا! واقصد فی مشیک واغضض من صوتک ۔ اپنی چال میں میانہ روی اختیار کرو اور اپنی آواز دھیمی رکھو۔
عبد اللہ بن مبارک ! میں آہست آہستہ چلنے لگا اور شعر پڑھنے شروع کئے۔
بڑھیا! فا قرؤوا ما تیسر من القرآن ۔ پس قرآن پڑھو قرآن میں سےجتنا آسان ہو(یعنی شعر وغیرہ کی بجائے قرآن پڑھو)
عبد اللہ بن مبارک ! میں نے کہا تجھے بہت زیادہ بھلائی عطا کی گئی ہے ۔
بڑھیا! وما یذکر الا اولو الألباب۔ اون نہیں نصیحت پکڑتے مگر عقل والے(یعنی آپ بھی بہت ذھین اور سمجھدار ہیں)
عبد اللہ بن مبارک ! میں تھوڑا سا آگے چلا تو میں نے اس سے پوچھا کیا تیرا خاوندہے؟
بڑھیا! یٰایھاالذین اٰمنوا لَا تسٔلوعَن اَشیاء اِن تبدلکم تسؤکم۔ائے ایمان والو ان اشیاء کے بارے میں سوال نہ کرو کہ اگر تم پر ظاہر کردی جائیں تو تمہیں تکلیف ہو(یعنی اس کا خاوند زندہ نہیں تھا)
عبد اللہ بن مبارک ! فرماتے ہیں کہ پھر میں خاموش ہو گیا یہاں تک کہ میں قافلہ کو پالیا تو میں نے اس عورت سے کہا کہ یہ قافلہ ہے۔ تیرا قافلے میں کوئی ہے؟
بڑھیا! اَلمَالُ والبنوُن زِینتُ الحیٰوۃ الدنیا۔مال اور اولاد دنیاوی زندگی کی زینت ہیں(یعنی قافلے میں میرے بیٹے اور مال ہے)
عبد اللہ بن مبارک ! فرماتے ہیں کہ مجھے معلوم ہوگیا کہ اس کے بیٹے ہیں تو میں نے پوچھا کہ ان کی پہچان کیا ہے؟
بڑھیا! وَعلاماتٍ وَبِالنجم ھم یہتدُونَ۔ اور کچھ اور نشانیاں اور ستاروں سے بھی راستہ معلوم کرے ہیں(یعنی وہ قافلہ کے رہبر یا گائیڈ ہیں)
عبد اللہ بن مبارک ! فرماتے ہیں کہ میں نے عمارات اور خیموں کا ارادہ کیا اور میں نے کہ ایہ خیمے ہیں ان میں کون ہیں۔(یعنی تیرے بیٹوں کے نام کیا ہیں؟تاکہ میں ان کو بلاؤں)
بڑھیا! وَاتّخذ اللہُ اِبراھیمَ خلیلاً۔وکلَّم اللہ موسٰی تکلیماً۔ یا یحیٰ خذِالکتاب بقوۃٍ۔ اللہ نے ابراہیم کو دوست بنایا اور اللہ نے موسٰیؑ سےکلام کیا۔ اے یحیٰ کتاب کو قوت سے پکڑو(یعنی اس کے بیٹوں کے نام ابراہیم،موسیٰ،یحیٰ)
عبد اللہ بن مبارک ! فرماتے ہیں کہ میں نے آواز دی اے ابراہیم! اے موسیٰ! اے یحی! پھر چاند کی طرح کے نوجوان برآمد ہوئے پھر جب بیٹھے تو ۔۔
بڑھیا نے کہا! فَابعثُو اَحَدَکُم بِوَرِقکم ھٰذہٖ اِلی المدِینَۃِ فَلینظر اَیہا اِزکٰی طعاماً فلیأتکم برزقٍ منہُ۔ اپنے میں ایک کو اپنا سکہ دے کر اس شہر بھیجو اور اسے چاہیے کہ وہ دیکھے کہ کونسا کھانا زیادہ پاکیزہ ہے۔(یعنی بڑھیا نے اپنے بیٹوں میں سے ایک کو بہترین کھانا لانے کا حکم دیا)تو ان میں سے ایک لڑکا گیا اس نے کھانا خریدا اور وہ انہوں نے میرے سامنے پیش کیا۔
بڑھیا! کُلُوا وَاشربوا بما اَسلفتم فِی الاَیامِ الخالِیۃ۔ ہنسی خوشی کھاؤ اس کے کام بدلے میں جو تم نے گزشتہ ایام میں کیا (یعنی اس نے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کی مہمان نوازی کی)
عبد اللہ بن مبارک ! (اس بڑھیا کے لڑکوں سے فرمایا ) مجھ پر تمہارا کھانا اس وقت تک حرام ہے جب تک تم مجھے اپنے معاملے کی خبر نہ بتاؤ تو اس بڑھیا کے لڑکوں نے بتلایا کہ یہ ہماری والدہ ہے اور یہ چالیس سال قرآن کی زبان میں ہی گفتگو کرتی ہیں اس خوف کی وجہ سے کہ کہیں مجھ سے کوئی غلط بات نہ نکل جائے جس سے اللہ تعالٰی ناراض ہو جائے ۔ پس پاک وہ ذات جو قادر ہے ہر چیز پر۔
عبد اللہ بن مبارک ! میں نے کہا ذٰلِک فضلُ اللہ یؤتی من یشآءُ واللہ ذُوالفضلِ العظیم۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے وہ جسکو چاہے عطا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل والا ہے۔

MASHAALLAhLike zaror kare
20/10/2017

MASHAALLAh

Like zaror kare

19/05/2017

Address

Peshawar

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Islamic Info posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Islamic Info:

Share