Dawat o Tablegh har ummati ki zimadari

Dawat o Tablegh har ummati ki zimadari Latest update from dawat o tablegh rewand markaz lahore pakistan

17/01/2025

درود شریف پڑھنےکے فضأل

23/11/2024

یقین مانیں اگر ہر پاکستانی روزانہ ایک مرتبہ بھی درود شریف پڑھ لے تو روزانہ 25 کروڑ درود شریف پڑھا جا سکتا ہے کاش کہ ایسا ہو جائے۔
میرے اس میسیج کوپڑھنےوالے تمام دوستوں سے عاجزانہ درخواست ہے کہ اگر روزانہ زیادہ نہیں پڑھ سکتے تو کم از کم 10 مرتبہ تو کوئی سا بھی درود شریف پڑھاکریں۔
10 مرتبہ درود پاک پڑھنے میں تھوڑاسا وقت لگتاہے لیکن جب آپ ایسا کریں گے تو انشاءاللہ ہر دن آپ کو 10 مرتبہ پڑھے گئے درود پاک پر فخر بھی ہو گا اور روزانہ سو نیکیاں بھی ملیں گی اور اللہ پاک عزوجل کی طرف سے سو رحمتیں بھی ملیں گی سوگناہ معاف ہونگے اور سو درجات بلند ہونگے اور یُوں آہستہ آہستہ درود پاک پڑھنے کی عادت بھی بن جائےگی۔

جزاکم اللہ خیًرا

ماشاءاللہ لکی مروت تبلیغی اجتماع کے لئے تاریخوں کا اعلان کر دیا گیا ہےاجتماع انشاءاللہ 27 ، 28 ، 29 ستمبر 2024 (جمعہ ، ہ...
26/09/2024

ماشاءاللہ لکی مروت تبلیغی اجتماع کے لئے تاریخوں کا اعلان کر دیا گیا ہے
اجتماع انشاءاللہ 27 ، 28 ، 29 ستمبر 2024 (جمعہ ، ہفتہ ، اتوار) کو منعقد ھوگا۔
27 ستمبر بروز جمعہ نماز عصر سے شروع ہو کر 29 ستمبر بروز اتوار صبح دعا ہوگی انشاءاللہ

Follow For More...

25/09/2024

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

*کہ اللہ تعالیٰ (قیامت کے دن)اس شخص سے پوچھے گا جسے دوزخ کا سب سے ہلکا عذاب کیا گیا ہوگا۔ اگر دنیا میں تمہاری کوئی چیز ہوتی تو کیا تو اس عذاب سے نجات پانے کے لیے اسے بدلے میں دے سکتا تھا؟ وہ شخص کہے گا کہ جی ہاں اس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جب تو آدم کی پیٹھ میں تھا تو میں نے تجھ سے اس سے بھی معمولی چیز کا مطالبہ کیا تھا (روز ازل میں) کہ میرا کسی کو بھی شریک نہ ٹھہرانا، لیکن (جب تو دنیا میں آیا تو) اسی شرک کا عمل اختیار کیا۔*

*صحیح البخاری:3334*

*قصص الانبیاءؑ و صحابہ اکرامؓ*سلسلہ: ⏜°✮⋟◉-- 05*اللہ کے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السّلام*(حصہ اول)حضرت ابراہیم علیہ السّلا...
18/07/2024

*قصص الانبیاءؑ و صحابہ اکرامؓ*

سلسلہ: ⏜°✮⋟◉-- 05

*اللہ کے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السّلام*
(حصہ اول)

حضرت ابراہیم علیہ السّلام، اللہ کے جلیل القدر اور مقرّب ترین پیغمبروں میں سے ایک ہیں، جنہیں خلیل اللہ یعنی’’ اللہ کے دوست‘‘ کے خطاب سے نوازا گیا۔ حضرت نوح علیہ السّلام کے بعد، آپ ؑ وہ پہلے نبی ہیں، جنھیں اللہ تعالیٰ نے توحید کی دعوت پھیلانے کے لیے مبعوث فرمایا۔حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے عراق، مِصر، شام، فلسطین سے لے کر عرب کی صحرائی وادیوں تک توحید کی دعوت عام کی۔ پھر اپنے مشن کی تکمیل کے لیے سرزمینِ عرب میں اپنے بڑے بیٹے، حضرت اسماعیل علیہ السّلام، شام و فلسطین میں دوسرے بیٹے، حضرت اسحاق علیہ السّلام اور مشرقی اُردن میں اپنے بھتیجے، حضرت لوط علیہ السّلام کو مقرّر فرمایا۔اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں 69 مقامات پر حضرت ابراہیم علیہ السّلام کا ذکر کیا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السّلام کے آباءواجداد عرب سے ہجرت کر کے ’’بابل‘‘میں آباد ہو گئے تھے، وہیں آپ ؑ کی ولادت ہوئی۔آپ ؑ کے والد کا نام ’’تارخ‘‘تھا، لیکن’’ آزر‘‘ کے نام سے مشہور ہوئے۔حضرت ابراہیم علیہ السّلام کی پیدائش کے وقت آزر کی عُمر 75سال تھی۔ حضرت ابراہیم علیہ السّلام کے علاوہ آزر کے دو بیٹے اور تھے، ایک کا نام ناحور اور دوسرے کا حاران تھا۔ حاران کا انتقال آزر کی زندگی ہی میں ہو گیا تھا۔حاران کا ایک بیٹا تھا، جس کا نام ’’لوط ؑ‘‘تھا۔لوط ؑ نے باپ کے انتقال کے بعد اپنی زندگی کا بیش تر حصّہ چچا، حضرت ابراہیم علیہ السّلام کے ساتھ گزارا، یہاں تک کہ اللہ ربّ العزّت نے حضرت لوط علیہ السّلام کو بھی نبوّت سے سرفراز فرمایا۔حضرت ابراہیم علیہ السّلام کے والد، آزر کا پیشہ بُت تراشی اور بُت فروشی تھا۔

بابل پر نمرود کی حکم رانی

بابل اور اُس کے آس پاس کے علاقوں پر نمرود کی بادشاہی تھی، جو ایک بہت طاقت وَر،متکبّر،جابر اور بُت پرست حکم ران تھا۔کہتے ہیں سر پر تاج سب سے پہلے نمرود ہی نے پہنا تھا۔ یہ بہ زورِ طاقت رعایا سے اپنی پرستش کرواتا تھا۔ ایک مرتبہ اس نے عجیب و غریب خواب دیکھا کہ آسمان پر ایک بڑا، روشن اور خُوب صورت ستارہ نمودار ہوا، جس کی روشنی اتنی تیز تھی کہ اُس نے آسمان پر چمکتے چاند اور لاکھوں ستاروں کی روشنی کو ماند کر دیا۔ صبح ہوئی، تو نمرود نے شہر کے تمام بڑے کاہنوں اور نجومیوں کو دربار میں طلب کر کے اپنا خواب سُنایا اور تعبیر مانگی۔ نجومیوں نے تعبیر بتائی کہ اس شہر میں عن قریب ایک ایسا بچّہ پیدا ہونے والا ہے جو عظیم بادشاہ کے زوال کا باعث بنے گا اور ہمارے خدائوں کے مقابلے میں ایک خدا اور اس کے دین کا پرچار کرے گا۔ نجومیوں کی اس خبر نے نمرود کو سخت پریشان کر دیا۔چناں چہ اُس نے فوری حکم جاری کیا کہ جو بھی بچّہ پیدا ہو، اُسے فوری قتل کر دیا جائے۔بادشاہ کے حکم پر عمل درآمد شروع کر دیا گیا اور بابل کی سرزمین نوزائیدہ بچّوں کے خون سے سُرخ ہو گئی۔

حضرت ابراہیم علیہ السّلام کی ولادت

ابھی بادشاہ کے فرمان کو کچھ ہی وقت گزرا تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السّلام کی ولادت کا وقت قریب آ گیا۔ آزر اور اُن کی بیوی کو اپنی اولاد کا خون کسی صُورت قبول نہ تھا،لہٰذا دونوں نے اُسے چُھپ کر پالنے کا فیصلہ کر لیا اور بچّے کی پیدائش سے پہلے ہی بابل کے پہاڑوں کے درمیان ایک غار تلاش کر لیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السّلام کی والدہ نے اس غار میں بچّے کو جنم دیا اور بچّے کو اللہ کے سُپرد کر کے گھر واپس آگئیں۔ والدہ باقاعدگی سے چُھپتے چُھپاتے غار میں جاتیں اور بچّے کو دودھ پلا کر واپس آ جاتیں۔ کچھ ہی عرصے بعد آپ بڑے ہو گئے، تو والدین گھر لے آئے۔

آزر کے بُت اور حضرت ابراہیمؑ

حضرت ابراہیم علیہ السّلام کو اللہ تعالیٰ نے بچپن ہی سے صراطِ مستقیم پر رکھا تھا اور اپنا رسول منتخب کر لیا تھا۔ قرآنِ کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے’’اور ہم نے ابراہیمؑ کو پہلے ہی سے ہدایت دی تھی اور ہم اُن (کے حال)سے واقف تھے۔‘‘(سورۃ الانبیاء51:)حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے والد کو بُت تراشتے اور اُن کو پوجتے دیکھا، تو اُن سے سوال کیا،یہ کیا ہیں؟ والد نے کہا کہ’’ یہ ہمارے خدا ہیں۔‘‘ حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے تعجّب سے کہا’’ یہ کیسے خدا ہیں کہ جن کو آپ پتھر کے ٹکڑوں سے تراش رہے ہیں۔‘‘ایک دن والد نے اُنہیں ایک ٹوکرے میں بہت سے بُت رکھ کر دیئے کہ اُنہیں بازار جا کر بیچ آئو۔والد کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ٹوکرا لے کر بازار پہنچ گئے اور آواز لگائی’’ اے لوگو!آئو اور اپنے اِن خدائوں کو خرید لو، جو تم کو نفع پہنچا سکتے ہیں اور نہ نقصان۔‘‘ لوگ جمع ہوتے، اپنے خدائوں کے بارے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی گفتگو کو تعجّب سے سُنتے اور آگے بڑھ جاتے۔ بازار جانے کا یہ سلسلہ کئی دن تک جاری رہا۔ جب ایک بُت بھی نہ بِکا، بلکہ لوگوں نے حضرت ابراہیم علیہ السّلام کی شکایتوں کے انبار لگا دیئے، تو آزر نے اُنہیں بازار بھیجنا بند کر دیا۔

معبودِ حقیقی کی جستجو اور نظامِ کائنات پر غور و تدبّر

اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السّلام کو بچپن ہی میں رُشد و ہدایت اور عقلِ سلیم عطا فرمائی تھی۔ وہ جب چھوٹے تھے، تو حیران ہو کر سوچتے تھے کہ اپنے ہاتھوں سے تراشے پتھر کے ٹکڑے ہمارے معبود کیسے ہو سکتے ہیں؟اُنہیں اس معبودِ حقیقی کی تلاش تھی، جس نے کُل کائنات کو بنایا ہے۔ دن، رات اسی جستجو اور فکر میں رہتے۔ پھر باری تعالیٰ نے اُنہیں کائنات کی کچھ اور چیزوں کا بھی مشاہدہ کروایا۔قرآنِ پاک میں ارشاد ہے’’اور ہم ابراہیمؑ کو آسمانوں اور زمین کے عجائبات دِکھانے لگے تاکہ وہ خُوب یقین کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔یعنی جب رات نے اُن کو (پردۂ تاریکی سے)ڈھانپ لیا تو (آسمان میں) ایک ستارہ نظر آیا۔کہنے لگے’’ یہ میرا پروردگار ہے۔‘‘جب وہ غائب ہو گیا، تو کہنے لگے کہ’’ مجھے غائب ہو جانے والے تو پسند نہیں۔‘‘پھر جب چاند کو چمکتے دیکھا، تو کہنے لگے’’ یہی میرا پروردگار ہے‘‘، لیکن جب وہ بھی چُھپ گیا، تو بول اٹھے کہ’’ اگر میرا پروردگار مجھے سیدھا راستہ نہیں دِکھائے گا، تو مَیں اُن لوگوں میں سے ہو جائوں گا، جو بھٹک رہے ہیں۔‘‘پھر جب صبح سورج کو دیکھا کہ وہ آسمان پر جگمگا رہا ہے، تو کہنے لگے’’ میرا پروردگار یہ ہے،یہ سب سے بڑا ہے،‘‘ مگر جب وہ بھی غروب ہو گیا، تو کہنے لگے’’ لوگو!جن چیزوں کو تم اللہ کا شریک بناتے ہو، مَیں اُن سے بے زار ہوں۔یہ ڈوبنے اور غائب ہونے والے میرا ربّ نہیں ہو سکتے۔وہ کوئی اور ہی ہستی ہے جس نے اِن سب کو پیدا کیا ہے،جو کُل کائنات کا مالک اور خالق ہے۔مَیں نے سب سے یک سُو ہو کر اپنی ذات کو اُس کی طرف متوجّہ کر لیا ہے،جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور مَیں مُشرکوں میں سے نہیں ہوں۔‘‘(سورۂ انعام 75-79:)

والد سے مناظرہ

خلعتِ نبوّت سے سرفراز ہونے کے بعد، حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے سب سے پہلے اپنے والد کو توحید کی دعوت دی۔اس سلسلے میں اُن کا اپنے والد سے کیا مناظرہ ہوا؟اسے قرآنِ پاک کی سورۂ مریم میں یوں بیان کیا گیا ہے’’اور جب (ابراہیمؑ)نے اپنے والد سے کہا کہ’’ ابّا! ایسی چیزوں کو کیوں پوجتے ہو، جو سُن سکتی ہیں اور نہ دیکھ سکتی ہیں اور نہ ہی آپ کے کچھ کام آ سکتی ہیں۔ابّا!مجھے ایسا علم ملا ہے، جو آپ کو نہیں ملا۔ تو (آپ)میرے ساتھ ہو جایئے، مَیں آپ کو سیدھی راہ پر چلا دوں گا۔اے میرے ابّا!شیطان کی پوجا نہ کیجیے۔بے شک، شیطان اللہ کا نافرمان ہے۔ابّا! مجھے ڈر لگتا ہے کہ آپ کو اللہ کا عذاب نہ آ پکڑے، تو آپ شیطان کے ساتھی ہو جائیں گے۔‘‘(سورۂ مریم42-45:)حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے ادب و احترام کے تقاضوں کو پوری طرح ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے نہایت محبّت اور پیار سے باپ کو توحید کے بارے میں آگاہ فرمایا، لیکن مشرک باپ نے اس نرمی اور پیار کے جواب میں نہایت درشتی اور سختی سے بیٹے سے کہا،تُو اگر میرے معبودوں کی مخالفت کرنے سے باز نہ آیا، تو یاد رکھ میں تجھ سے بہت سختی سے پیش آئوں گا۔قرآنِ کریم میں ہے’’(آزر)نے کہا کہ اے ابراہیم! کیا تُو میرے معبودوں سے برگشتہ ہے؟ اگر تُو باز نہ آیا، تو میں تجھے سنگسار کر دوں گا اور (تُو)ہمیشہ کے لیے مجھ سے دُور ہو جا۔ (اس موقعے پر ابراہیم ؑنے)السّلام علیکم کہا(اور کہا کہ)مَیں آپ کے لیے اپنے پروردگار سے بخشش طلب کروں گا۔بے شک وہ مجھ پر مہربان ہے۔‘‘ (سورۂ مریم 46-47:)

مشرکین کی عید اور بُتوں کی تباہی

حضرت ابراہیم علیہ السّلام کی قوم کا عید کا دن قریب آیا، تو پوری قوم شہر سے باہر جا کر عید کی خوشیاں منانے کی تیاریوں میں مصروف ہو گئی۔ لوگوں نے حضرت ابراہیم علیہ السّلام کو بھی ساتھ چلنے کی دعوت دی، لیکن اُنھوں نے ساتھ جانے سے انکار کردیا۔دراصل، وہ کسی ایسے ہی موقعے کی تلاش میں تھے کہ جب کوئی نہ ہو اور وہ سب سے بڑے عبادت خانے میں رکھے بُتوں کو مسمار کر سکیں۔چناں چہ لوگوں نے عید کی صبح سب سے پہلے اپنے بُتوں کو سجایا، پھر حسبِ روایت اُن کے آگے طرح طرح کے کھانے سجائے۔اُن میں رواج تھا کہ میلے سے واپس آ کر اس کھانے کو بڑے احترام سے کھاتے تھے۔اس کام سے فارغ ہو کر سب لوگ شہر سے باہر میلے میں چلے گئے، تو حضرت ابراہیم علیہ السّلام کلہاڑا لیے بُت خانے میں داخل ہو گئے۔قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ’’حضرت ابراہیم علیہ السّلام (چُھپتے چُھپاتے)اُن کے معبودوں کے پاس گئے اور فرمانے لگے’’ تم کھاتے کیوں نہیں؟ تمہیں کیا ہو گیا ہے؟تم بولتے کیوں نہیں؟‘‘پھر اُن کو دائیں ہاتھ سے مارنا اور توڑنا شروع کر دیا۔‘‘(سورۂ الصٰفٰت91-93: )جب تمام بُت توڑ دیئے، تو آپ ؑنے کلہاڑا بڑے بُت کے کندھے پر لٹکا دیا اور گھر واپس آ گئے۔شام کو لوگ خوشی خوشی میلے سے واپس آئے اور بُتوں کے پاس پہنچے تاکہ کھانا تناول کریں، لیکن وہاں کا تو منظر ہی ہیبت ناک تھا۔سب بُت اوندھے پڑے تھے۔یہ منظر دیکھ کر وہ غصّے سے پاگل ہو گئے۔اُن میں سے بہت سوں کو یقین تھا کہ یہ کام ابراہیم علیہ السّلام ہی نے کیا ہو گا۔قرآنِ پاک میں یوں ارشاد فرمایا گیا ہے’’لوگوں نے کہا کہ’’ ہم نے ایک نوجوان کو ان کا ذکر کرتے ہوئے سُنا ہے، اُسے ابراہیم کہتے ہیں۔‘‘چناں چہ حضرت ابراہیم علیہ السّلام کو بُلایا گیا۔ جب آپ ؑآئے، تو مشرکوں نے کہا’’ اے ابراہیم ؑ! ہمارے معبودوں کے ساتھ تم نے کیا ہے؟‘‘ابراہیم علیہ السّلام نے کہا’’ یہ ان کے بڑے بُت نے کیا ہو گا، اگر وہ بولتے ہوں، تو ان سے پوچھ لو۔‘‘ اُنہوں نے اپنے دِل میں غور کیا، تو آپس میں کہنے لگے’’ بے شک ہم ہی ظالم ہیں، پھر (شرمندہ ہو کر) سَر نیچے کرلیا اور بولے’’ تم جانتے ہو کہ یہ بولتے نہیں ہیں۔ ‘‘(ابراہیم علیہ السّلام نے) کہا’’ پھر تم اللہ کو چھوڑ کر کیوں ایسی چیزوں کو پوجتے ہو، جو تمہیں کچھ فائدہ دے سکیں اور نہ نقصان۔تُف ہے تم پر اور جن کو تم اللہ کے سِوا پوجتے ہو اُن پر،کیا تم عقل نہیں رکھتے؟ (سورۃ الانبیاء60-67:)

بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق

بُتوں کو توڑنے کا عمل نمرود اور اُس کی قوم کے نزدیک ناقابلِ معافی جرم تھا، لہٰذا اُنھوں نے فیصلہ کیا کہ حضرت ابراہیم علیہ السّلام کو اتنی سخت اور عبرت ناک سزا دی جائے کہ آئندہ کسی کو بُتوں کی بے حرمتی کی ہمّت نہ ہو۔ چناں چہ نمرود کے حکم پر خندق کھودی گئی، پھر قوم کے ہر فرد نے اس کام کو مقدّس سمجھتے ہوئے اس میں لکڑیاں جمع کرنی شروع کیں،یہاں تک کہ اگر کسی کا کوئی کام رُکا ہوا تھا تو اس نے منّت مانگی کہ’’ کام ہو جائے، تو ابراہیم( علیہ السّلام) کو جلانے کے لیے لکڑی کا گٹّھا دوں گا۔‘‘خندق کے بَھر جانے کے بعد اس میں آگ روشن کر دی گئی۔پھر ایک منجنیق بنائی گئی، جس کے ذریعے حضرت ابراہیم علیہ السّلام کو رسیّوں سے جکڑ کر آگ میں پھینک دیا گیا۔اس موقعے پر حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے کہا’’ ہمیں اللہ ہی کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے۔‘‘ (بخاری شریف)حضرت ابنِ عبّاسؓ اور سعید بن جبیرؒ سے مروی ہے کہ اُس وقت بارش والا فرشتہ اضطراب اور پریشانی کے عالم میں کہہ رہا تھا کہ’’ کب مجھے حکم ملے اور بارش برسائوں؟‘‘ لیکن اللہ کا حکم (بلا واسطے کے)زیادہ تیز تھا یعنی اللہ نے خود ہی آگ کو حکم فرما دیا۔ (قصص الانبیاء۔ابن کثیر)آگ گل و گل زار بن گئی۔ قرآنِ کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے’’ ہم نے کہا اے آگ! ابراہیم ؑپر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا۔‘‘(سورۃ الانبیاء69:)مروی ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السّلام، حضرت ابراہیم علیہ السّلام کے ساتھ تھے اور آپ ؑکی جبینِ اطہر (پیشانی)سے پسینہ پونچھ رہے تھے اور اس پسینے کے علاوہ اُنھیں اور کوئی تکلیف نہیں پہنچی۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السّلام کے والد کے کہے ہوئے کلمات میں سب سے اچھے کلمات وہ ہیں، جو اُس نے اپنے بیٹے کو آگ کے اندر دیکھ کر کہے تھے ’’اے ابراہیم! تیرا پروردگار، بہترین پروردگار ہے۔‘‘حضرت منہال بن عمرؒو سے مروی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السّلام اس آگ میں چالیس یا پچاس دن ٹھہرے اور اُنہوں نے فرمایا کہ’’ مَیں نے ان دنوں سے اچھی زندگی نہیں گزاری اور میری تمنّا رہی کہ میری پوری زندگی اسی کی طرح ہو جائے۔‘‘ (قصص الانبیاء۔ابن کثیر)

آگ پر چھپکلی کی پھونکیں

حضرت اُمّ ِ شریکؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے چھپکلی کے مارنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ یہ ابراہیم علیہ السّلام پر (جلنے والی آگ کو) پھونک مار رہی تھی۔‘‘(بخاری،مسلم،ابنِ ماجہ)مسند احمد میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اکرمﷺ نے فرمایا’’چھپکلی کو مارو، کیوں کہ وہ ابراہیم علیہ السلام پر آگ کو پھونکیں مار رہی تھی۔‘‘راوی کہتے ہیں کہ پھر سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بھی ان کو مارتی تھی

WhatsApp Group Invite

17/07/2024

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

رات ہوچکی ہے۔ سونے کا وقت ہے۔ رات کےوقت کاایک اہم عمل سورۃ الم السجدہ (یہ سورۃ 21 ویں پارے میں ہےاور سورۃ کا نمبر 32 ہے) اور سورہ الملک (یہ سورۃ 29 ویں پارے میں ہے اور سورۃ کا نمبر 67ہے ) پڑھنا ہے۔
جو بھی ہر رات ان دونوں سورتوں کو پڑھےگا وہ عذاب قبر سے محفوظ رہے گا۔
ان دونوں مبارک سورتوں میں مجموعی طور پر ساٹھ آیات ہیں یعنی ہرسورۃ میں تیس تیس آیات ہے۔ان سورتوں کے پڑھنے میں دس منٹس سے بھی کم وقت لگتاہے۔
لیکن فائدہ بہت زیادہ ہے۔
تو بھائی کون کون آج سے ہر رات کو یہ دونوں سورتیں پڑھےگا؟

18/04/2024

"مبین" والی آیة کےورد کے ذریعے مقاصد میں کامیابی کاوظیفہ
ویسے تو وظائف کی کتابوں میں سینکڑوں وظائف ایسے ہیں جو مجرب ہیں
انمیں سے ایک عمل حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمہ اللہ نے لکھا ہے وہ یہ کہ !

قرآن مجید میں 106 لفظ "مبین" یعنی
آیات "مبین" ہیں اگر اسکا ورد کیا جائے اور مقاصد میں کامیابی کی دعا کی جائے تو ان شاء اللہ 100 فیصد کامیابی ہوگی...

جدہ میں ایک خاتون نے شکایت کی کہ انکے ایک رشتہ دار نے انکے ساٹھ ہزار ریال ناجائز لے رکھے ہیں اب وہ واپسی کرنے کا نام نہیں لیتا...
تو عاجز نے انہیں آیات مبین کے ختم کا کہا...
انہوں نے فقیر سے مطالبہ کردیا کہ
آپ تلاش کردیں میں پڑھ لوں گی..
احقر اسی دن مدنی مسجد کراچی (تبلیغی مرکز) گیا تاکہ یہ کتابچہ خریدا جاسکے لیکن معلوم ہوا کہ ایسا کتابچہ موجود نہیں..
تب بندہ نے خود ہی ھمت کی اور تین دن کی مسلسل محنت کے بعد قرآن میں سے لفظ مبین والی 106 آیات تلاش کرلیں...

افادہ عام کے لئے وہ آیات تحریر کی جارہی ہیں...
فیس بک،واٹس ایپ گروپوں پر سب کو سینڈ کریں..
جزاک اللہ خیرا...

بسم الله الرحمن الرحيم....

1) يَا أَيُّهَا النَّاسُ كُلُوا مِمَّا فِي الْأَرْضِ حَلَالًا طَيِّبًا وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ ۚ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ
( البقرة 168)

2) يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافةً وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ ۚ إِنَّهُ عَدُوٌّ مُّبِينٌ
(البقرة 208)

3) لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْ أَنْفُسِهِمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُ الْكِتَاب َوَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ
(ال عمران164)

4)يَا أَهْلَ الْكِتَابِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيرًا مِّمَّا كُنتُمْ تُخْفُونَ مِنَ الْكِتَابِ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ ۚ قَدْ جَاءَكُم مِّنَ اللَّهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُّبِينٌ (المائدة 15)

ُ5) وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَاحْذَرُوا ۚ فَإِن تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُوا أَنَّمَا عَلَىٰ رَسُولِنَا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ
(92 المائدة﴾

6)إِذْ قَالَ اللَّهُ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ اذْكُرْ نِعْمَتِي عَلَيْكَ وَعَلَىٰ وَالِدَتِكَ إِذْ أَيَّدتُّكَ بِرُوحِ الْقُدُسِ تُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلًا ۖ وَإِذْ عَلَّمْتُكَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَالتَّوْرَاةَ وَالْإِنجِيلَ ۖ وَإِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّينِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ بِإِذْنِي فَتَنفُخُ فِيهَا فَتَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِي ۖ وَتُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ بِإِذْنِي ۖ وَإِذْ تُخْرِجُ الْمَوْتَىٰ بِإِذْنِي ۖ وَإِذْ كَفَفْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَنكَ إِذْ جِئْتَهُم بِالْبَيِّنَاتِ فَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْهُمْ إِنْ هَٰذَا إِلَّا سِحْرٌ مُّبِينٌ (110المائدة﴾

7)وَلَوْ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ كِتَابًا فِي قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوهُ بِأَيْدِيهِمْ لَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ هَٰذَا إِلَّا سِحْرٌ مُّبِينٌ (7 الأنعام﴾

8)مَنْ يُصْرَفْ عَنْهُ يَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَهُ وَذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْمُبِينُ ﴿١٦ الأنعام﴾

9)وَعِندَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ ۚ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ۚ وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُّبِينٍٍ ﴿59 الأنعام﴾

10)وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لِأَبِيهِ آزَرَ أَتَتَّخِذُ أَصْنَامًا آلِهَةً ۖ إِنِّي أَرَاكَ وَقَوْمَكَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ
﴿74 الأنعام﴾

11)وَمِنَ الْأَنْعَامِ حَمُولَةً وَفَرْشًا ۚ كُلُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ ۚ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌٌ
﴿142 الأنعام﴾

12)فَدَلَّاهُمَا بِغُرُورٍ ۚ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْآتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفَانِ عَلَيْهِمَا مِن وَرَقِ الْجَنَّةِ ۖ وَنَادَاهُمَا رَبُّهُمَا أَلَمْ أَنْهَكُمَا عَن تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَأَقُل لَّكُمَا إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِينٌ
﴿22 الأعراف﴾

13)قَالَ الْمَلَأُ مِنْ قَوْمِهِ إِنَّا لَنَرَاكَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ
﴿60 الأعراف﴾

14)فَأَلْقَىٰ عَصَاهُ فَإِذَا هِيَ ثُعْبَانٌ مُبِينٌ
﴿107 الأعراف﴾

15)أَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوا مَا بِصَاحِبِهِمْ مِنْ جِنَّةٍ إِنْ هُوَ إِلَّا نَذِيرٌ مُبِينٌ ﴿184 الأعراف﴾

16)أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا أَنْ أَوْحَيْنَا إِلَىٰ رَجُلٍ مِّنْهُمْ أَنْ أَنذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِندَ رَبِّهِمْ ۗ قَالَ الْكَافِرُونَ إِنَّ هَٰذَا لَسَاحِرٌ مُّبِينٌ
﴿2 يونس﴾

17)وَمَا تَكُونُ فِي شَأْنٍ وَمَا تَتْلُو مِنْهُ مِنْ قُرْآنٍ وَلَا تَعْمَلُونَ مِنْ عَمَلٍ إِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُودًا إِذْ تُفِيضُونَ فِيهِ ۚوَمَا يَعْزُبُ عَنْ رَبِّكَ مِنْ مِثْقَالِ ذَرَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَلَا أَصْغَرَ مِنْ ذَٰلِكَ وَلَا أَكْبَرَ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ
﴿61 يونس﴾

18)فَلَمَّا جَاءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوا إِنَّ هَٰذَا لَسِحْرٌ مُبِينٌ ﴿76 يونس﴾

19)وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا
وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُبِين
ٍ ﴿6 هود﴾

20)وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا ۗ وَلَئِن قُلْتَ إِنَّكُم مَّبْعُوثُونَ مِن بَعْدِ الْمَوْتِ
لَيَقُولَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ هَٰذَا إِلَّا سِحْرٌ مُبِين
ٌ ﴿7 هود﴾

21)وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوْمِهِ إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُبِينٌ ﴿25 هود﴾

22)وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَىٰ بِآيَاتِنَا وَسُلْطَانٍ مُبِينٍ
﴿96 هود﴾

23)الر تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ ﴿١ يوسف﴾

24)قَالَ يَا بُنَيَّ لَا تَقْصُصْ رُؤْيَاكَ عَلَىٰ إِخْوَتِكَ فَيَكِيدُوا لَكَ كَيْدًا ۖ إِنَّ الشَّيْطَانَ لِلْإِنْسَانِ عَدُوٌّ مُبِينٌ
﴿5 يوسف﴾

25)اذْ قَالُوا لَيُوسُفُ وَأَخُوهُ أَحَبُّ إِلَىٰ أَبِينَا مِنَّا
وَنَحْنُ عُصْبَةٌ إِنَّ أَبَانَا لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ
﴿8 يوسف﴾

26)وَقَالَ نِسْوَةٌ فِي الْمَدِينَةِ امْرَأَتُ الْعَزِيزِ تُرَاوِدُ فَتَاهَا عَن نَّفْسِهِ ۖ قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا إِنَّا لَنَرَاهَا فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ﴿30 يوسف﴾

27)قَالَتْ رُسُلُهُمْ أَفِي اللَّهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ يَدْعُوكُمْ لِيَغْفِرَ لَكُمْ مِنْ ذُنُوبِكُمْ وَيُؤَخِّرَكُمْ إِلَى ٰأَجَلٍ مُسَمًّى ۚ قَالُوا إِنْ أَنْتُمْ إِلَّا بَشَرٌ مِثْلُنَا
تُرِيدُونَ أَنْ تَصُدُّونَا عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ آبَاؤُنَا فَأْتُونَا بِسُلْطَانٍ مُبِينٍ ﴿10 ابراهيم﴾

28)الر تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ وَقُرْآنٍ مُبِينٍ ﴿1 الحجر﴾

29)إِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَأَتْبَعَهُ شِهَابٌ مُبِينٌ
﴿18 الحجر﴾

30)فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ وَإِنَّهُمَا لَبِإِمَامٍ مُبِينٍ ﴿79 الحجر﴾

31)وَقُلْ إِنِّي أَنَا النَّذِيرُ الْمُبِينُ ﴿89 الحجر﴾

32)خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ نُطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُبِين
ٌ ﴿4 النحل﴾

33)وَقَالَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا لَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا عَبَدْنَا مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ نَحْنُ وَلَا آبَاؤُنَا وَلَا حَرَّمْنَا مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ ۚ كَذَٰلِكَ فَعَلَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۚ
فَهَلْ عَلَى الرُّسُلِ إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ (35 النحل﴾

34)فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ الْمُبِينُ ﴿٨٢ النحل﴾

35)وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّهُمْ يَقُولُونَ إِنَّمَا يُعَلِّمُهُ بَشَرٌ
لسَانُ الَّذِي يُلْحِدُونَ إِلَيْهِ أَعْجَمِيٌّ وَهَٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُبِينٌ ﴿103 النحل﴾

36)أَسْمِعْ بِهِمْ وَأَبْصِرْ يَوْمَ يَأْتُونَنَا ۖ لَٰكِنِ الظَّالِمُونَ الْيَوْمَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ ﴿38 مريم)

37)قَالَ لَقَدْ كُنْتُمْ أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمْ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ
﴿54 الأنبياء﴾

38){وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ عَلى حَرْفٍ فَإِنْ أَصابَهُ خَيْرٌ اطْمَانَّ بِهِ وَإِنْ أَصابَتْهُ فِتْنَةٌ انْقَلَبَ عَلى وَجْهِهِ خَسِرَ الدُّنْيا وَالآخرةَ ذلِكَ هُوَ الْخُسْرانُ الْمُبِينُ..
ُ ﴿١١ الحج﴾

39)قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا أَنَا لَكُمْ نَذِيرٌ مُبِينٌ
﴿49 الحج﴾

40)ثُمَّ أَرْسَلْنَا مُوسَىٰ وَأَخَاهُ هَارُونَ بِآيَاتِنَا وَسُلْطَانٍ مُبِينٍ ﴿45 المؤمنون﴾

41)لَّوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بِأَنفُسِهِمْ خَيْرًا وَقَالُوا هَٰذَا إِفْكٌ مُّبِينٌ (12 النور)

42) يَوْمَئِذٍ يُوَفِّيهِمُ اللَّهُ دِينَهُمُ الْحَقَّ
وَيَعْلَمُونَ أَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِينُ ﴿٢٥ النور﴾

43)قُلْ أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ ۖ فَإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيْكُم مَّا حُمِّلْتُمْ ۖ وَإِنْ تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا وَمَا عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ ﴿٥٤ النور﴾

44)تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ ﴿٢ الشعراء﴾

45)قَالَ أَوَلَوْ جِئْتُكَ بِشَيْءٍ مُبِينٍ ﴿30 الشعراء﴾

46)فَأَلْقَىٰ عَصَاهُ فَإِذَا هِيَ ثُعْبَانٌ مُبِينٌ ﴿32 الشعراء﴾

47)تَاللَّهِ إِنْ كُنَّا لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ﴿97 الشعراء﴾

48)إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ مُبِينٌ ﴿115 الشعراء﴾

49)بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُبِينٍ {195 الشعراء}

50)طس تِلْكَ آيَاتُ الْقُرْآنِ وَكِتَابٍ مُبِينٍ ﴿1 النمل﴾

51)فَلَمَّا جَاءَتْهُمْ آيَاتُنَا مُبْصِرَةً قَالُوا هَٰذَا سِحْرٌ مُبِين
(13 النمل﴾

52)وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ ۖ وَقَالَ يَاأَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّيْرِ وَأُوتِينَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ ۖ
إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِينُ ﴿١٦ النمل﴾

53)لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذَابًا شَدِيدًا أَوْ لَأَذْبَحَنَّهُ أَوْ لَيَأْتِيَنِّي بِسُلْطَانٍ مُبِينٍ ﴿21 النمل﴾

54)وَمَا مِنْ غَائِبَةٍ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ ﴿75 النمل﴾

55)فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ إِنَّكَ عَلَى الْحَقِّ الْمُبِينِ
﴿٧٩ النمل﴾

56)تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ ﴿٢ القصص﴾

57)وَدَخَلَ الْمَدِينَةَ عَلَىٰ حِينِ غَفْلَةٍ مِّنْ أَهْلِهَا فَوَجَدَ فِيهَا رَجُلَيْنِ يَقْتَتِلَانِ هَٰذَا مِن شِيعَتِهِ وَهَٰذَا مِنْ عَدُوِّهِ ۖ فَاسْتَغَاثَهُ الَّذِي مِن شِيعَتِهِ عَلَى الَّذِي مِنْ عَدُوِّهِ فَوَكَزَهُ مُوسَىٰ فَقَضَىٰ عَلَيْهِ ۖ قَالَ هَٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ
إِنَّهُ عَدُوٌّ مُضِلٌّ مُبِينٌ ﴿15 القصص﴾

58) فَأَصْبَحَ فِي الْمَدِينَةِ خَائِفًا يَتَرَقَّبُ فَإِذَا الَّذِي اسْتَنصَرَهُ بِالْأَمْسِ يَسْتَصْرِخُهُ ۚ قَالَ لَهُ مُوسَىٰ إِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُبِينٌ ﴿18 القصص﴾

59) انَّ الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لَرَادُّكَ إِلَىٰ مَعَادٍ ۚ
قُلْ رَبِّي أَعْلَمُ مَنْ جَاءَ بِالْهُدَىٰ وَمَنْ هُوَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ (85 القصص﴾

60)وَإِن تُكَذِّبُوا فَقَدْ كَذَّبَ أُمَمٌ مِّن قَبْلِكُمْ وَمَا عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ ﴿١٨ العنكبوت﴾

61)وَقَالُوا لَوْلَا أُنزِلَ عَلَيْهِ آيَاتٌ مِّن رَّبِّهِ ۖ قُلْ إِنَّمَا الْآيَاتُ عِندَ اللَّهِ وَإِنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ مُّبِينٌ (50 العنكبوت)

62) هَٰذَا خَلْقُ اللَّهِ فَأَرُونِي مَاذَا خَلَقَ الَّذِينَ مِن دُونِهِ ۚ بَلِ الظَّالِمُونَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ﴿11 لقمان﴾

63)وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَا تَأْتِينَا السَّاعَةُ ۖ قُلْ بلَىٰ وَرَبِّي لَتَأْتِيَنَّكُمْ عَالِمِ الْغَيْبِ ۖ لَا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ وَلَا أَصْغَرُ مِنْ ذَٰلِكَ وَلَا أَكْبَرُ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ ﴿3 سبإ﴾

64)قُلْ مَن يَرْزُقُكُم مِّنَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ قُلِ اللَّهُ
وَإِنَّا أَوْ إِيَّاكُمْ لَعَلَىٰ هُدًى أَوْ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ
﴿24 سبإ﴾

65) وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ قَالُوا مَا هَٰذَا إِلَّا رَجُلٌ يُرِيدُ أَن يَصُدَّكُمْ عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ آبَاؤُكُمْ وَقَالُوا مَا هَٰذَا إِلَّا إِفْكٌ مُّفْتَرًى ۚ وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِلْحَقِّ لَمَّا جَاءَهُمْ إِنْ هَٰذَا إِلَّا سِحْرٌ مُبِينٌ ﴿43 سبإ﴾

66)إِنَّا نَحْنُ نُحْيِ الْمَوْتَىٰ وَنَكْتُبُ مَا قَدّمُوا وَآثَارَهُمْ وَكُلَّ شَيْءٍ أَحْصَيْنَاهُ فِي إِمَامٍ مُبِينٍ ﴿١٢﴾

67)وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ ﴿١٧ يس﴾

68)إِنِّي إِذًا لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ﴿24 يس﴾

69)وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ أَنفِقُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ قَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنُطْعِمُ مَن لَّوْ يَشَاءُ اللَّهُ أَطْعَمَهُ
إِنْ أَنْتُمْ إِلَّا فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ﴿47 يس﴾

70)أَلَمْ أَعْهَدْ إِلَيْكُمْ يَا بَنِي آدَمَ أَنْ لَا تَعْبُدُوا الشَّيْطَانَ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ ﴿60 يس﴾

71) وَمَا عَلَّمْنَاهُ الشِّعْرَ وَمَا يَنبَغِي لَهُ ۚإِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ وَقُرْآنٌ مُبِينٌ ﴿69 يس﴾

72)أَوَلَمْ يَرَ الْإِنْسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِنْ نُطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُبِينٌ ﴿77 يس﴾

73)وَقَالُوا إِنْ هَٰذَا إِلَّا سِحْرٌ مُبِينٌ ﴿15 الصافات﴾

74)إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ الْبَلَاءُ الْمُبِينُ ﴿١٠٦ الصافات﴾

75)وَبَارَكْنَا عَلَيْهِ وَعَلَىٰ إِسْحَاقَ ۚ وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِمَا مُحْسِنٌ وَظَالِمٌ لِنَفْسِهِ مُبِينٌ ﴿113 الصافات﴾

76)أَمْ لَكُمْ سُلْطَانٌ مُبِينٌ ﴿156 الصافات﴾

77)إِنْ يُوحَىٰ إِلَيَّ إِلَّا أَنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ مُبِينٌ ﴿70 ص﴾

78)فَاعْبُدُوا مَا شِئْتُمْ مِنْ دُونِهِ قُلْ إِنَّ الْخَاسِرِينَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
أَلَا ذَٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِينُ ﴿١٥ الزمر﴾

79)أَفَمَنْ شَرَحَ اللَّهُ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ فَهُوَ عَلَى نُورٍ مِنْ رَبِّهِ فَوَيْلٌ لِلْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُمْ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ أُولَٰئِكَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ﴿22 الزمر﴾

80)وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَىٰ بِآيَاتِنَا وَسُلْطَانٍ مُبِينٍ
﴿23 غافر﴾

81)وَالْكِتَابِ الْمُبِينِ ﴿٢ الزخرف﴾

82)وَجَعَلُوا لَهُ مِنْ عِبَادِهِ جُزْءًا إِنَّ الْإِنْسَانَ لَكَفُورٌ مُبِينٌ ﴿15 الزخرف﴾

83)أَوَمَنْ يُنَشَّأُ فِي الْحِلْيَةِ وَهُوَ فِي الْخِصَامِ غَيْرُ مُبِينٍ ﴿18 الزخرف﴾

84)بَلْ مَتَّعتُتُ هَٰؤُلَاءِ وَآبَاءَهُمْ حَتَّىٰ جَاءَهُمُ الْحَقُّ وَرَسُولٌ مُبِينٌ ﴿29 الزخرف﴾

85)أَفَأَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ أَوْ تَهْدِي الْعُمْيَ وَمَنْ كَانَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ﴿40 الزخرف﴾

86)وَلَا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطَانُ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ
﴿62 الزخرف﴾

87)وَالْكِتَابِ الْمُبِينِ ﴿٢ الدخان﴾

88)فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ
﴿10 الدخان﴾

89)أَنَّىٰ لَهُمُ الذِّكْرَىٰ وَقَدْ جَاءَهُمْ رَسُولٌ مُبِينٌ
﴿13 الدخان﴾

90)وَأَنْ لَا تَعْلُوا عَلَى اللَّهِ إِنِّي آتِيكُمْ بِسُلْطَانٍ مُبِينٍ
﴿19 الدخان﴾

91)وَآتَيْنَاهُمْ مِنَ الْآيَاتِ مَا فِيهِ بَلَاءٌ مُبِينٌ
﴿33 الدخان﴾

92) فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فَيُدْخِلُهُمْ رَبُّهُمْ فِي رَحْمَتِهِ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْمُبِينُ
﴿٣٠ الجاثية﴾

93) وَإِذَاتُتْلَى عَلَيْهِمْ آَيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ قَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِلْحَقِّ لَمَّا جَاءَهُمْ هَٰذَا سِحْرٌ مُبِين
ٌ ﴿7 الأحقاف﴾

94)) قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِنَ الرُّسُلِ وَمَا أَدْرِي مَا يُفْعَلُ بِي وَلَا بِكُمْ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰ إِلَيَّ وَمَا أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ مُبِينٌ ﴿9 الأحقاف﴾

95)وَمَنْ لَا يُجِبْ دَاعِيَ اللَّهِ فَلَيْسَ بِمُعْجِزٍ فِي الْأَرْضِ وَلَيْسَ لَهُ مِنْ دُونِهِ أَولِيَاءُ أُولَٰئِكَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ﴿32 الأحقاف﴾

96)وَفِي مُوسَىٰ إِذْ أَرْسَلْنَاهُ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ بِسُلْطَانٍ مُبِينٍ ﴿38 الذاريات﴾

97)فَفِرُّوا إِلَى اللَّهِ إِنِّي لَكُمْ مِنْهُ نَذِيرٌ مُبِينٌ
﴿50 الذاريات﴾

98)وَلَا تَجْعَلُوا مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ إِنِّي لَكُمْ مِنْهُ نَذِيرٌ مُبِينٌ ﴿51 الذاريات﴾

99)أَمْ لَهُمْ سُلَّمٌ يَسْتَمِعُونَ فِيهِ فَلْيَأْتِ مُسْتَمِعُهُمْ بِسُلْطَانٍ مُبِينٍ ﴿38 الطور﴾

100)وَإِذْ قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُم مُّصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِن بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ ۖ
فَلَمَّا جَاءَهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ قَالُوا هَٰذَا سِحْرٌ مُبِين
ٌ ﴿6 الصف﴾

101)هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ
وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ﴿2 الجمعة﴾

102)وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسولَ ۚ
فَإِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَإِنَّمَا عَلَىٰ رَسُولِنَا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ
﴿١٢ التغابن﴾

103)قُلْ إِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللَّهِ وَإِنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ مُبِينٌ
﴿26 الملك﴾

104)قُلْ هُوَ الرَّحْمَنُ آمَنَّا بِهِ وَعَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا
فَسَتَعْلَمُونَ مَنْ هُوَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ﴿29 الملك﴾

105)قَالَ يَا قَوْمِ إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُبِينٌ ﴿2 نوح﴾

106)وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ ﴿٢٣ التكوير﴾

ان ایات کے ختم کے بعد جہاں اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے دعا مانگیں وہاں مجھے بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں.

31/03/2024

کچے کا علاقہ ضلع گھوٹکی کا رونتی کچے میں جہاں لوگ جانے سے ڈر رہے ہیں الحمدللہ وہاں بھی ہماری دو سال کی جماعتیں پیدل چل رہی ہی ہے

ساری زندگی دعوت و تبلیغ میں گزارنے والے فرشتہ صفت انسان سوات خواز خیلہ سے تعلق رکھنے والے اسماعیل حاجی صاحب انتقال کر گئ...
25/02/2024

ساری زندگی دعوت و تبلیغ میں گزارنے والے فرشتہ صفت انسان سوات خواز خیلہ سے تعلق رکھنے والے اسماعیل حاجی صاحب انتقال کر گئے ہیں ۔ ۔۔ اللہ تعالٰی جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔۔۔

25/02/2024

پنجاب کےکسی دیہات میں ایک خوبرو قادیانی لڑکی شادی کے لئے ایک فوجی آفیسر کو پیش کی گئی

فوجی آفیسر نے شادی کی حامی بھرنے سےپہلے ایک شرط رکھی کہ وہ کبھی بھی قادیانیت قبول نہیں کرے گا

قادیانیوں نے اس کی شرط مان لی اور لڑکی فوجی آفیسر کے ساتھ روانہ کردی

شادی کےبعد رشتے ناطے میں آنا جانا لگا رہا اور نرمی سےفوجی آفیسر کو مائل بھی کیاجاتا رہا

ایک دن قادیانیوں کے مذہبی رہنماتشریف فرماتھے اور انہوں نے فوجی آفیسر سے کہا کہ آپ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہیں مانتے نہ مانیں

لیکن ہماری ایک بات قبول کیجیۓ آپ استخارہ کریں کہ آیا نبی اکرمﷺ کے بعد کوئی نبی ہے یا نہیں ؟
مرزا غلام احمد قادیانی سچا نبی ہے یا نہیں ؟

فوجی کو زہر پلایاجا رہا تھا مگر اسے پیتے ہوۓ احساس تک نہیں ہوا کہ وہ زہر کا پیالا چڑھا چکا ہے

اس نے استخارہ کرنے کی حامی بھرلی، رات کو استخارہ کیا تو خواب میں نظر آیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نبی بنا ہوا ہے اور اس کے آس پاس لوگ جمع ہیں

صبح اٹھا تو اپنے کیے ہوۓ استخارے کے مطابق قادیانیت پر ایمان لے آیا
محض خود ایمان لاتا تو اتنا مسئلہ نہیں تھا

اس نے باقاعدہ مرزے کی نبوت کی دعوت دینا شروع کردی اور اپنے خاندان کو مرزا قادیانی کا امتی بنا ڈالا

سارے علماء بےبس تھے جو عالم اسے دعوت دیتا تو وہ کہتا میں نے کسی قادیانی کی دعوت پہ مرزے کو نبی نہیں مانا میں نے باقاعدہ استخارہ کیا ہے

اور استخارے میں مجھے قادیانی بطور نبی دکھلایا گیا ہے مجھے از خود خواب دیکھنے کا موقع ملا ہے

جب کوئی بھی عالم اسے دلیل سے مطمئن نہ کر سکا تو وہ تنگ آکر علماء سے ملنا ہی چھوڑ گیا

بالاخر چناب نگر کےجلسے میں مولانا یوسف لدھیانوی شہید تشریف لاۓ ان کا شہرہ تھا

اور یہ فوجی آفیسر اس زعم سے ملنے کو تیار ہوگیا کہ ان کے بڑے مولوی کو بھی دیکھ لیتے ہیں

مولانا سے جب فوجی آفیسر نے اپنا قضیہ بیان کیا کہ وہ کسی کی دعوت یا کسی لالچ میں قادیانی نہیں ہوا بلکہ وہ خود دیکھی ہوئی دلیل سے متاثر ہوکر قادیانی ہوا ہے

استخارہ اللہ سےمشورہ ہے میں نے رب کےساتھ مشورہ کیا جسکا حکم اسلام میں ہےتو اللہ نے مجھے مرزا قادیانی کو نبی دکھلا دیا
اب میں اللہ کی مانوں یا مولویوں کی؟

جو اللہ نےمجھے از خود خواب میں دکھایا وہ چھوڑکر مولویوں کی کیسے مان لوں

مولانا نے اس کا ہاتھ تھاما اور گویا زبان حال سے کہا فی الحال رب کی نہ مان اس درویش مولوی کی مان ، کہ مولوی ہی بتائے گا اصلی رب کیا کہہ رہا ہے۔

مولانا گویا ہوۓ اور کہا؛ جب تم نبی اکرم ﷺ کی ذات میں شک سے گزرے تو مسلمان ہی نہیں رہے

اگر تمہیں یقین کامل ہوتا کہ نبی کریم ﷺ کی ذات ہی آخری نبی ہیں اور کوئی نبی آ ہی نہیں سکتا تو استخارے کے لیے ہرگز تیار نہ ہوتے

جب تم نےاستخارے کی ٹھان لی تو گویا تمہیں شک ہوا کہ سید الابرارﷺ آخری نبی ہیں بھی یا نہیں ؟

جب نبی اکرمﷺ کی ذات کے حوالے سےتم شک سے گزرے تو کافر ہوگئے

نبی کی ذات میں شک کرنا بھی کھلا کفر ہے جونہی تم شک میں مبتلا ہوۓ تو کافر ہو گئے اور حالت کفر میں تمہیں قادیانی ہی نبی نظر آنا تھا

فوجی آفیسر جھوم اٹھا دلیل سن کر اور کھڑا ہوکر مولانا شہید سے لپٹ گیا اسی وقت توبہ کی اور پھر سے مسلمان ہوا

تو ذرا سوچیے ابتداء کہاں سے ہوئی؟ کیسےاسے نبی کریم ﷺ کی ذات کے حوالے سے شک میں ڈالا گیا اور انجام کیا ہوا؟

امام اعظم ابو حنیفہ نے یہی تو کہا تھا کہ بنا کسی دلیل کے ختم نبوت پہ ایمان لے آؤ جو سوال کرے گا وہ کافر ہو جاۓ گا۔

سوال شک کی بنیاد پر کیا جاتا ہے اور نبی اکرم ﷺ کی ذات میں شک کھلا کفر ہے-

عقیدہ ختم نبوت کے رکھوالے زیادہ سے زیادہ شیئر کریں

Address

Peshawar

Telephone

+923435337796

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dawat o Tablegh har ummati ki zimadari posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share