17/01/2026
*حضرت امام حسین علیہ السلام* نے اپنے کلام میں موت کی یاد اور اس سے خوف وہراس نہ رکھنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : '' لَيْسَ شَأْنِي شَأْنُ مَنْ يَخافُ الْمَوْتَ، ما اهْوَنَ الْمَوْتِ عَلى سَبيلِ نَيْلِ الْعِزِّ وَ إِحْياءِ الْحَقِّ، لَيْسَ الْمُوتُ فِي سَبيلِ الْعِزِّ إِلّا حَياةً خالِدَةً وَ لَيْسَتِ الْحَياةُ مَعَ الذُّلِّ إِلّا الْمَوْتَ الَّذِي لا حَياةَ مَعَهُ، افَبِالْمَوْتِ تُخَوِّفُنِي، هَيْهاتَ طاشَ سَهْمُكَ وَ خابَ ظَنُّكَ لَسْتُ اخافُ الْمَوْتَ، انَّ نَفْسِي لَأَكْبَرُ مِنْ ذلِكَ وَ هِمَّتِي لَأَعْلى مِنْ أَنْ أَحْمِلَ الضَّيْمَ خَوْفاً مِنَ الْمَوْتِ وَ هَلْ تَقْدِرُونَ عَلى اكْثَرَ مِنْ قَتْلي؟! مَرْحَباً بِالْقَتْلِ فِي سَبيلِ اللَّهِ، وَ لكِنَّكُمْ لا تَقْدِرُونَ عَلى هَدْمِ مَجْدي وَ مَحْوِ عِزِّي وَ شَرَفِي فَإِذا لا أُبالِي بِالْقَتْلِ».'' ۔ موت سے ڈرنا میری شان نہیں ہے ! عزت تک پہنچنے اور حق کو زندہ کرنے میں مرنا کس قدر آسان ہے ؟ ! جی ہاں ، عزت اور سربلندی کے راستہ میں مرنے سے ہمیشہ کی زندگی مل جاتی ہے ! اور ذلت کی زندگی موت کے علاوہ کچھ نہیں۔ کیا تم مجھے موت سے ڈراتے ہو ؟ ھیھات ! تمہاراہدف بیکار گیا اور تمہارا خیال بیہودہ ہے ! میں وہ نہیں ہوں جو موت سے ڈرے ، میری روح بہت بڑی اور میری ہمت اس سے کہیں زیادہ ہے کہ میں موت کے ڈر سے ظلم و ستم کو قبول کرلوں ۔ کیا تم قتل کرنے سے زیادہ کچھ کر سکتے ہوو ؟ ! خدا کی راہ میں قتل ہونا بھی سعادت ہے ! لیکن تم میری عظمت، عزت اور شرافت کو نابود نہیں کرسکتے اور جب ایسا ہے تو مجھے قتل ہونے کا کوئی ڈر نہیں ہے !
موت کی یاد انسان کی تربیت کرتی ہے ۔ اگر موت نہ ہوتی تو زندگی کرنا بہت مشکل تھا ،بلکہ موت کی یاد خدا کی بزرگ نعمت ہے ۔ موت کی یاد سے اپنے نفس کوذلیل کیا جاسکتا ہے '' و ذللہ بذکر الموت'' ۔ موت کی یاد کے ذریعہ اس پر قابو رکھو ۔ اس صورت میں غفلت اور غرور کے پردے انسان کی آنکھوں اور دل پر نہیں پڑتے ۔ امام علیہ السلام بہت ہی صراحت کے ساتھ شہادت اور بہشت کی طرف پروار کرنے کی خبر دیتے ہیں اور آپ کے اصحاب موت کے شوق میں گریہ فرماتے ہیں اور خوشحال ہوجاتے ہیں ،تاریخ کربلا میں یہ باعظمت لمحات شرافت مندانہ زندگی کو قائم کرتے ہیں اور یہ وہی درس ہے جو امام حسین علیہ السلام نے عاشورا کے روز کربلا کے میدان میں سب کو دیا ہے -
گلدستہ سورۃ فاتحہ
احباب ایک بار سورہ فاتحہ تین مرتبہ سورت الاخلاص تلاوت کرکے اپنے گزشتگان/مرحومین سمیت شہید کی برسی کے موقع پر بلندئ درجات کے لیے ہدیہ/ایصال ثواب کردیں۔
*✨بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ✨*
*الْحَمْدُ للّهِ رَبِّ الْعَالَمِين الرَّحْمنِ الرَّحِيم*ِ
*الْحَمْدُ للّهِ رَبِّ الْعَالَمِين*َ *الرَّحْمنِ الرَّحِيم*ِ *مَالِكِ يَوْمِ الدِّين*ِ *إِيَّاكَ نَعْبُدُ وإِيَّاكَ نَسْتَعِين اهدِنَا الصِّرَاطَ المُستَقِيمَ* *صِرَاطَ الَّذِينَ أَنعَمتَ عَلَيهِمْ غَيرِ المَغضُوبِ عَلَيهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ.*
🌹🍃🌹🍃🌹🍃🌹
*✨بِسمِِ اللّهِ الرَّحْمنِ الرَّحیمِ✨*
*قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ* *اللَّهُ الصَّمَدُ* *لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ* *وَلَمْ یَکُن لَّهُ کُفُوًا أَحَد*ٌ
✨3مرتبہ ✨
🌹🍃🌹🍃🌹🍃🌹
اللهُـمِّ اغْفِـرْ لَهُ وَارْحَمْـه ، وَعافِهِ وَاعف عَنْـه ، وَأَكْـرِمْ نُزُلَـه ، وَوَسِّـعْ مُدْخَـلَه ، وَاغْسِلْـهُ بِالْمـاءِ وَالثَّـلْجِ وَالْبَـرَدْ ، وَنَقِّـهِ مِنَ الْخطـايا كَما نَـقّيْتَ الـثَّوْبُ الأَبْيَـضُ مِنَ الدَّنَـسْ ، وَأَبْـدِلْهُ داراً خَـيْراً مِنْ دارِه ، وَأَهْلاً خَـيْراً مِنْ أَهْلِـه ، وَزَوْجَـاً خَـيْراً مِنْ زَوْجِه ، وَأَدْخِـلْهُ الْجَـنَّة ، وَأَعِـذْهُ مِنْ عَذابِ القَـبْر وَعَذابِ النّـار.
آمــــــــــــــــــين يا رب العالمين.
مرحومین کے لئے جو سورہ الحمد اور سورۂ توحید پڑھی جاتی ہے اُس کی بنیاد اس بات پر ہے کہ چونکہ سورہ الحمد کی تلاوت کا ثواب قرآن کے دو تہائی تلاوت کے ثواب کے برابر ہے اور سورہ توحید کا ثواب ایک تہائی قرآن مجید کی تلاوت کے برابر ہے تو مجموعی طور پر ایک قرآن کے تلاوت کرنے کا ثواب حاصل ہو جاتا ہے۔
نوٹ: اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کیجئے بے شک اللہ تعالیٰ اجر عطا کرنے والی ذات ہے۔
جاری کردہ:
سردار اسد علی قزلباش۔ شہداء و مجروحین فورم۔ پشاور
رابطہ
03005941730 03135948155
*Like, Follow & Share*
https://www.facebook.com/SMFPwr