Sher Mashwani

Sher Mashwani Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Sher Mashwani, Religious Center, Peshawar.

15/08/2024

حقوق العباد:
بندوں کے حقوق بندوں پر۔ اسلام میں معاشرتی نظام کو بڑی اہمیت دی گئی ہے۔ اسی لیے اسلامی تعلیمات میں حقوق اللہ سے زیادہ حقوق العباد پر زور دیا گیا ہے۔ میدان حشر میں حقوق العباد کے متعلق ہی زیادہ پرسش ہوگی اور اس سلسلے میں معمولی سے معمولی غلطی بھی قابل معافی نہ ہوگی۔ حقوق العباد میں انسان کو اپنے بیگانے، اقارب واجانب، ماں باپ اور دیگر رشتہ داروں سے نیک سلوک بنی نوع انسان کے ساتھ ہمدردی، جانوروں کو دکھ نہ پہنچانا، آداب مجلس، آداب گفتگو، آداب ملاقات، وغیرہ حقوق العباد میں شمار ہوتے ہیں۔

Adjustment order Dir Upper
29/12/2022

Adjustment order Dir Upper

29/12/2022

کلاس روم میں استاد کی حکمت عملی دیکھئے ۔

29/12/2022

GHSS Berarai student Atta Ullah topped English Essay in the Provincial Tournament 2022. Congratulations to all.

28/12/2022

این۔ٹی۔ایس اور ایٹا کی کمپیٹیٹیو ٹیسٹ کی تیاری کیلئے میرے پیج فاولو کریں۔

28/12/2022
28/12/2022

وہ چار وقت جب حضرت جبرائیل بھی آزمائے گئے

ایک دن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا اے جبرائیل کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ آپ کو آسمان سے زمین پر نہایت عجلت اور برق رفتاری اور نہایت مشقت کے ساتھ فوراً زمین پر اترنا پڑا

جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا
یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چار مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ مجھے نہایت سرعت کے ساتھ فوراً زمین پر اترنا پڑا

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا کس کس موقع پر جبرائیل علیہ السلام نے عرض کی

اے اللہ کے رسولﷺپہلی مرتبہ جب
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو میں اس وقت عرش الٰہی کے نیچے مقامِ سدرۃ المنتہیٰ پر تھا مجھے حکم ہوا کہ جبرائیل میرے خلیل کے آگ میں پہنچنے سے پہلے فوراً میرے خلیل کے پاس پہنچو چنانچہ میں بڑی سرعت کے ساتھ اس سے پہلے کہ وہ آگ میں پہنچتے میں ان کے پاس پہنچ گیا

دوسری بار جب حضرت اسمعیل علیہ السلام کی گردن مبارک پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نےاللہ کی طرف سے آزمائے جانے کے موقع پر انہیں ذبح کرنے کی خاطر چھری رکھی ہوئی تھی تو مجھے حکم ہوا کہ چھری چلنے سے پہلے ہی زمین پر پہنچو اور چھری کو الٹا کر دو چنانچہ میں چھری چلنے سے پہلے ہی زمین پر پہنچ گیا اور چھری کو چلنے نہ دیا

تیسری مرتبہ جب حضرت یوسف علیہ السلام کو ان کے بھائیوں نے کنوئیں میں گرایا تو مجھے رب تعالیٰ کا حکم ہوا کہ میں یوسف علیہ السلام کو کنوئیں کی تہ تک پہنچنے سے پہلے ان تک پہنچوں اور کنویں کی تہہ پر گرنے سے قبل ہی انہیں اپنے پروں پراٹھا کر کنوئیں کی تہہ میں موجود ایک پتھر پر بٹھا دوں

چوتھی مرتبہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کافروں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دندانِ مبارک کو شہید کیا

تو مجھے حکم ہوا کہ جبرائیل فوراً زمین پر پہنچو اور میرے محبوب کے دندان مبارک کا خون زمین پر گرنے نہ دینا۔ زمین پر گرنے سے پہلے ہی وہ خون اپنے ہاتھوں پر لے لوں اور اے جبرائیل اگر میرے محبوب کا خون زمین پر گر گیا تو قیامت تک زمین سے نہ کوئی سبزی اگے گی نہ کوئی درخت۔ چنانچہ میں بڑی سرعت کے ساتھ زمین پر پہنچا اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خون مبارک کو ہاتھوں پر لے کر ہوا میں اڑا دیا

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد copy

28/12/2022

کسی بھی قوم کی ترقی کا راز تعلیمی نظام میں پوشیدہ ہے۔ تعلیمی نظام جس قدر پختہ اور عمدہ ہوگا، قوم اس قدر مضبوط اور ترقی یافتہ ہوگی۔ تعلیم کے بغیر کسی قوم نے کبھی ترقی نہیں کی۔ جس قوم کو بھی ترقی کے بلند مدارج پر دیکھا گیا اور اس کی وجوہات پر غور کیا گیا تو اس ترقی کا سبب تعلیم ہی نظر آیا۔ اس کے ساتھ ہی نظام تعلیم کمزور ہو تو اس قوم کے زوال میں کسی کو شک نہیں ہوسکتا۔پاکستان میں بدقسمتی سے تعلیمی ترقی پر خاص توجہ نہیں دی گئی۔نئے نظام تعلیم اور قومی مقاصد سے ہم آہنگ نظام تعلیم تو دور کی بات اسی فرسودہ نظام میں اتنی خرابیاں پیدا ہوگئی ہیں کہ نوجوانوں کے پاس بڑی ڈگریاں تو ہیں لیکن شعور نہیں۔ اس کی بے شمار وجوہات میں سے ایک بڑا سبب نقل ہے۔ تعلیمی نظام کو کھوکھلا کرنے میں نقل نے بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ اور سب سے پہلے کتابوں کی گائیڈز، شیٹ پیپرز، خلاصے وجود میں آئیں۔ اور ان کا استعمال اپنی صلاحیت کو بڑھانے کے لئے نہیں بلکہ ان پر نقل کا دارومدار، بن چکا ہے۔ اور اصل کتب تو طلباء شازو نادر ہی دیکھتے ہیں۔چند سال قبل تک نقل کا رجحان عموماً میٹرک اور اس کے بعد کے امتحانات میں دیکھنے میں آتا ہے۔ مگر اب یہ خطرناک رجحان بڑھتے بڑھتے مڈل لیول اور سکول کے امتحانوں تک آگیاہے۔ سکول میں پڑھنے کے بعد گھر میں پڑھنے کا تصور آہستہ آہستہ ختم ہوتا جا رہا ہے۔ ٹیوشن سنٹرز میں پڑھنے والے طلباء اپنے سنٹرز منتخب کرنے سے پہلے یہ ضرور دیکھتے ہیں کہ ان اساتذہ کی رسائی امتحانی بورڈ تک کتنی ہے۔نقل کی کئی وجوہات ہیں، اساتذہ کی کمی کے باعث کورس پڑھانے والا کوئی نہیں ہوتا۔ لہٰذا آخر میں نقل ہی کارآمد ثابت ہوتی ہے۔ بعض اوقات استاد موجود ہوتا ہے مگر اس صلاحیت کا اہل نہیں ہوتا کہ اچھے طریقے سے طلباء کو پڑھا سکے۔ایف ایس سی میں حاصل کردہ نمبروں کی بنیادوں پر میڈیکل اور انجینئرنگ کالجز میں داخلہ ہوتا ہے۔ لہٰذا اس امتحان میں نقل کا تناسب بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اور اس میں لوگ باقاعدہ منصوبہ بندی سے نقل کا اہتمام کرتے ہیں۔ اور وہ لوگ بھی اس مکروہ کام میں مصروف ہوتے ہیں جن کا گمان بھی نہیں ہوتا۔ اور سارا امتحانی نظام مشکوک اور غیر شفاف ہو جاتا ہے۔ انہی پس پردہ محرکات کے باعث ہی اساتذہ میں وہ جوش نہیں رہتا جو کبھی استاد کا خاصہ ہوتا تھا۔پورا سال گھوم پھر کر اور آوارہ گردی کرتے رہنے والے کو پتہ ہوتا ہے کہ امتحان میں نقل کے باعث کامیابی یقینی ہے۔ اگر انہیں یقین ہوکہ امتحان شفاف ہوں گے۔ تو وہ پڑھنے پر مجبور ہوں گے۔ کورس کا طویل ہونا بھی بعض اوقات نقل کے رجحان کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ تعلیمی اداوں کی طویل تعطیلات کے باعث کورس مکمل نہیں ہوسکتا اس لئے طلباء میں نقل کا رجحان بڑھتا ہے۔ نقل کے ذریعے پاس ہونے والے نوجوان معاشرے پر بوجھ بن جاتے ہیں۔ ان کے پاس سند تو ہوتی ہے مگر کسی کام کے اہل نہیں ہوتے اور ملازمت کے حصول میں ناکام رہتے ہیں۔ منفی سرگرمیوں کی طرف مائل ہوتے ہیں، بعض اوقات جرائم کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ اس میں قصور کس کا ہے؟۔ حکومت کا؟ اساتذہ کا؟ طلباء کا؟ یا معاشرے کا؟ حقیقت پسندانہ تجزیہ کیا جائے تو سارا معاشرہ بگاڑ کا شکار ہے اور نقل کے لئے بھی سارے طبقات قصور وار ہیں۔نقل کے نقصانات میں زیادہ نقصان ان غریب طلباء کو ہوتا ہے۔ جو سارا سال اپنی محنت اور کوشش سے تیاری کرتے ہیں مگر نقل کے باعث نالائق طلباء زیادہ نمبر لے جاتے ہیں۔ اور محنتی طلباء کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔اس ضمن میں سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ کہ ہماری آنے والی نسلوں کا مستقبل دائو پر لگ گیا ہے۔امتحانی نظام میں انفرادی سطح پر بورڈ، یونیورسٹی میں کئی بار کوشش ہوئی ہیں۔ اگر ان کوششوں کی پذیرائی عوامی سطح پر کی جائے تو مجموعی بہتری کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔حکومت اور خصوصی طور پر محکمہ تعلیم توجہ دے تو تعلیمی بہتری کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں، اساتذہ اپنے طلباء میں تعلیم کے ساتھ ساتھ نقل سے نفرت پیدا کریں، جبکہ والدین کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو نقل کی لعنت سے دور رکھنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔نقل کے خاتمے کے لئے ایک عمدہ طریقہ میرٹ پر ملازمتوں کا حصول ممکن بنایا جائے۔ اگر ہر طالبعلم کو یقین ہو کہ مطلوبہ قابلیت و اہمیت کے بغیر ملازمت کا حصول کسی طرح ممکن نہیں تو یقینا وہ محنت کی طرف راغب ہوگا۔ اور نقل سے دور رہے گا۔ میڈیا بھی نقل کے رجحان کے خلاف موثر کام کرسکتا ہے۔

Address

Peshawar

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sher Mashwani posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share