17/12/2025
ہمارے ہاں جب کوئی بڑی دینی شخصیت دنیا سے رخصت ہو جاتی ہے تو اکثر اوقات ان کی میت کے ساتھ وہ سلوک کیا جاتا ہے جو عام مسلمانوں کے ساتھ ش*ذ و نادر ہی ہوتا ہے۔
سب سے پہلے جنازے میں غیر ضروری تاخیر کی جاتی ہے، حالانکہ شریعت میں میت کو جلد دفن کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔
تاخیر کی وجہ عموماً یہ بتائی جاتی ہے کہ جنازہ تاریخی بن جائے۔
دوسری طرف جنازے میں طویل تقاریر کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ آدمی سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ وہ جنازے میں آیا ہے یا کسی بڑے کانفرنس میں۔
پھر تدفین کے بعد قبر کے ساتھ جو غیر شرعی اور غیر ضروری امور کیے جاتے ہیں، ان کا تو کوئی اختتام ہی نہیں:
قبروں پر پھول پتیوں کی رسم، مختلف علامات، اور ایسی حرکات جن کی نہ قرآن میں دلیل ہے اور نہ سنت میں۔
اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ اللہ والے حضرات خود اپنی زندگی میں اپنے متعلقین اور ورثاء کو واضح ہدایت کریں کہ:
ہماری وفات کے بعد ہماری میت اور قبر کے ساتھ کوئی ایسا عمل نہ کیا جائے جو شریعت کے خلاف ہو۔
افسوس یہ ہے کہ ابھی بزرگ دفن بھی نہیں ہوتے کہ خوشبو دار تشہیر، القابات اور تصویری تشہیر شروع ہو جاتی ہے
#جنازہ
#بدعات
ﷺ