25/01/2025
علم کی وسعت: ایک علمی و فکری جائزہ (۳)
امین عزیز بھٹی
علم کی وسعت کا موضوع قرآن و حدیث میں انتہائی جامع انداز میں بیان کیا گیا ہے، جو یہ ثابت کرتا ہے کہ اسلام میں علم کو ایک اعلیٰ ترین قدر کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ علم کے ذریعے فرد کو اپنے خالق کی معرفت حاصل ہوتی ہے، اور وہ دنیا و آخرت میں کامیابی کے راستے پر گامزن ہو سکتا ہے۔ اس حصے میں ہم قرآن و حدیث کی روشنی میں علم کی وسعت کو مدلل انداز میں پیش کریں گے۔
قرآن کریم میں علم کی وسعت
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر علم کی فضیلت، اس کی اہمیت اور اس کے لامحدود ہونے پر روشنی ڈالی ہے۔ قرآن کا پیغام واضح ہے کہ علم ایک ایسی دولت ہے جو صرف محنت، تدبر اور اللہ کی توفیق سے حاصل ہوتی ہے۔
1. علم کے وسیع ہونے کا اعتراف
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿ وَمَا أُوتِيتُم مِّنَ ٱلۡعِلۡمِ إِلَّا قَلِيلًا ﴾
(الاسراء: 85)
ترجمہ: “اور تمہیں علم میں سے بہت ہی کم دیا گیا ہے۔”
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ انسان خواہ کتنا ہی علم حاصل کرلے، وہ اللہ کے علم کے مقابلے میں انتہائی محدود اور نا مکمل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو ہمیشہ علم کے حصول میں کوشاں رہنا چاہیے اور اپنے علم کو مزید وسیع کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
2. علم والوں کے درجات
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿ يَرْفَعِ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مِنكُمْ وَٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلْعِلْمَ دَرَجَٰتٍۚ ﴾
(المجادلة: 11)
ترجمہ: “اللہ ایمان والوں کو اور اہلِ علم کو بلند درجے عطا فرماتا ہے۔”
یہ آیت علم کی فضیلت کو واضح کرتی ہے کہ علم انسان کو سماجی اور روحانی لحاظ سے بلند مقام پر فائز کرتا ہے۔
3. غور و فکر کی دعوت
قرآن میں ارشاد ہوتا ہے:
﴿ إِنَّ فِي خَلْقِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَٱخْتِلَٰفِ ٱلَّيْلِ وَٱلنَّهَارِ لَءَايَٰتٍۢ لِّأُو۟لِى ٱلْأَلْبَٰبِ ﴾
(آل عمران: 190)
ترجمہ: “بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور رات و دن کے بدلنے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔”
یہ آیت انسان کو کائنات پر غور و فکر کی دعوت دیتی ہے، جو علم کے وسیع ہونے کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔
احادیثِ صحیحہ میں علم کی وسعت
رسول اللہ ﷺ نے اپنی تعلیمات میں علم کو انتہائی اہمیت دی اور امت کو علم کے حصول کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کی ترغیب دی۔ احادیث مبارکہ میں علم کی وسعت کے بارے میں کئی جامع ارشادات موجود ہیں، جن سے علم کی لامحدودیت کا اندازہ ہوتا ہے۔
1. علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ”
(سنن ابن ماجہ، حدیث: 224)
ترجمہ: “علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔”
یہ حدیث علم کی طلب کی اہمیت کو واضح کرتی ہے اور یہ بتاتی ہے کہ علم محض چند افراد کے لیے نہیں بلکہ ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسے حاصل کرے۔
2. علم کے ذریعے اللہ کا قرب
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ”
(صحیح بخاری، حدیث: 71)
ترجمہ: “جس کے ساتھ اللہ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اسے دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے۔”
یہ حدیث علم کی برکت اور اس کے ذریعے اللہ کے قرب کے حصول کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔
3. علم کا اجر کبھی ختم نہیں ہوتا
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“إِذَا مَاتَ ٱبْنُ آدَمَ انْقَطَعَ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ … أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ”
(صحیح مسلم، حدیث: 1631)
ترجمہ: “جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے عمل منقطع ہو جاتے ہیں سوائے تین چیزوں کے … یا اس علم کے جس سے فائدہ اٹھایا جائے۔”
یہ حدیث بتاتی ہے کہ علم کی اہمیت اس قدر زیادہ ہے کہ اس کا اجر مرنے کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔
4. علم کے حصول کے راستے میں آسانی
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ”
(صحیح مسلم، حدیث: 2699)
ترجمہ: “جو شخص علم حاصل کرنے کے لیے کوئی راستہ اختیار کرے، اللہ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے۔”
یہ حدیث علم کی برکت اور اس کے ذریعے آخرت کی کامیابی کی ضمانت کو ظاہر کرتی ہے۔
نتائج و تجاویز
قرآن و سنت کی روشنی میں علم کی وسعت کے درج ذیل اہم پہلو سامنے آتے ہیں:
1. علم کی طلب ایک عبادت ہے اور ہر مسلمان کا دینی فریضہ ہے۔
2. علم کی کوئی حد نہیں، اور اس کا سفر ساری زندگی جاری رہتا ہے۔
3. علم دنیا و آخرت میں کامیابی کا ضامن ہے۔
4. علم حاصل کرنے کے راستے میں آنے والی مشکلات درحقیقت انسان کے لیے آسانیوں کا باعث بنتی ہیں۔
5. علم کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب اور معرفت حاصل ہوتی ہے۔
تجاویز:
• مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ قرآن و سنت کی روشنی میں علم کی وسعت کو تسلیم کریں اور مستقل مزاجی کے ساتھ سیکھنے کا عمل جاری رکھیں۔
• اسلامی اور دنیاوی علوم میں توازن پیدا کرتے ہوئے، اللہ کے احکامات کو سمجھنے اور دنیا میں ترقی حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔
• جدید سائنسی علوم کے ساتھ ساتھ دینی علوم کو بھی اہمیت دی جائے تاکہ ہم دنیا و آخرت دونوں میں کامیاب ہو سکیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی علم کی وسعت کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور اپنی زندگیوں کو علم کی روشنی سے منور کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
جاری ہے