Jamia Masjid Noor-E-Madina جامع مسجد نور مدينه

Jamia Masjid Noor-E-Madina جامع مسجد نور مدينه Hafiz Ramzan (Imam Masjid)
Molana Sarfraz Ahmad( khateeb)
Baba Muhammad Ali ( accountant)
Sardar Tariq Doger ( Matvali)
Sayed jameel Haider Shah (Matvali)

آج جامعہ مسجد نور مدینہ میں جمعہ کے موقع پر ذکر حسین رضہ اللہ تعالیٰ عنہ کیا گیا اور نمازیوں کے لیے لنگر حسینی کا انتظام...
26/06/2026

آج جامعہ مسجد نور مدینہ میں جمعہ کے موقع پر ذکر حسین رضہ اللہ تعالیٰ عنہ کیا گیا اور نمازیوں کے لیے لنگر حسینی کا انتظام کیا گیا ۔
جمعہ کے اختتام پر درودوسلام پڑھا گیا اور قاری صاحب دعائیں منگوائیں

ابراہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہےعیدالاضحیٰ صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ اطاعت، ایثار، محبتِ الٰہی، قربانی...
01/06/2026

ابراہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہے

عیدالاضحیٰ صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ اطاعت، ایثار، محبتِ الٰہی، قربانیِ نفس اور جذبۂ بندگی کا عظیم درس ہے۔ یہ وہ مبارک دن ہے جو ہمیں حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی بے مثال فرمانبرداری یاد دلاتا ہے۔ دنیا کی تاریخ میں شاید ہی کوئی ایسا واقعہ ہو جس میں ایک باپ اللہ کے حکم پر اپنے جگر گوشے کو قربان کرنے کے لیے تیار ہو جائے اور بیٹا بھی سرِ تسلیم خم کر دے۔ یہی وہ عظیم جذبہ ہے جسے “ابراہیمی نظر” کہا جاتا ہے۔
علامہ محمد اقبالؒ نے اسی حقیقت کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا:
> یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیلؑ کو آدابِ فرزندی
یہ شعر دراصل اس تربیت کی طرف اشارہ کرتا ہے جو حضرت ابراہیمؑ نے اپنے فرزند حضرت اسماعیلؑ کو دی۔ ایسی تربیت جس میں اللہ کی رضا سب سے مقدم تھی

حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کا واقعہ
قرآنِ مجید میں سورۃ الصافات میں یہ عظیم واقعہ بیان ہوا ہے۔ حضرت ابراہیمؑ نے خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے حضرت اسماعیلؑ کو اللہ کی راہ میں ذبح کر رہے ہیں۔ انبیاء کے خواب وحی ہوتے ہیں، اس لیے حضرت ابراہیمؑ نے اسے اللہ کا حکم سمجھا۔
جب انہوں نے اپنے بیٹے سے بات کی تو حضرت اسماعیلؑ نے فرمایا:
> “اے میرے ابا جان! آپ کو جو حکم دیا گیا ہے اسے پورا کیجیے، ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔”
(سورۃ الصافات: 102)
یہ محض ایک مکالمہ نہیں بلکہ بندگی اور اطاعت کی معراج ہے۔ جب دونوں اللہ کے حکم کے سامنے جھک گئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیلؑ کی جگہ ایک دنبہ بھیج دیا اور فرمایا:

> “اور ہم نے ایک عظیم قربانی کے بدلے اسے چھڑا لیا۔”
(سورۃ الصافات: 107)
یہی قربانی آج تک امتِ مسلمہ میں سنتِ ابراہیمی کے طور پر زندہ ہے۔
قربانی ہم پر کیوں فرض کی گئی؟
قربانی دراصل اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے اپنی خواہشات قربان کرنے کا عملی اظہار ہے۔ اسلام میں صاحبِ استطاعت مسلمان پر قربانی واجب قرار دی گئی تاکہ انسان اپنی محبتوں کو اللہ کی محبت پر قربان کرنا سیکھے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
> “جس شخص میں قربانی کی استطاعت ہو اور وہ قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے۔”
(سنن ابن ماجہ)
قربانی صرف گوشت تقسیم کرنے کا عمل نہیں بلکہ یہ تقویٰ، اخلاص اور بندگی کی علامت ہے۔ قرآنِ پاک میں ارشاد ہے:

> “اللہ تک نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون، بلکہ تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔”
(سورۃ الحج: 37)

ابراہیمی نظر کیا ہے؟
ابراہیمی نظر وہ بصیرت ہے جو انسان کو دنیاوی مفادات سے بلند کر کے اللہ کی رضا کا طالب بناتی ہے۔ یہ نظر ہر شخص کو نصیب نہیں ہوتی۔ علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں:
> غریب و سادہ و رنگیں ہے داستانِ حرم
نہایت اس کی حسین، ابتدا ہے اسماعیلؑ
اور ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:
> ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
یعنی حقیقی بصیرت اور ایمان والا انسان صدیوں بعد پیدا ہوتا ہے۔
صوفیاء کرام اور اولیاء اللہ کی تعلیمات

اولیاء اللہ اور صوفیاء کرام نے ہمیشہ قربانی کے باطنی مفہوم پر زور دیا۔ ان کے نزدیک اصل قربانی اپنی انا، تکبر، حسد اور خواہشاتِ نفس کی قربانی ہے۔

حضرت داتا گنج بخشؒ فرماتے تھے کہ:
> “جس دل میں دنیا کی محبت غالب ہو وہ قربانی کی حقیقت کو نہیں پا سکتا۔”
حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ غریبوں میں گوشت تقسیم کرتے، محتاجوں کا خیال رکھتے اور عید کے دن لوگوں کے دل جوڑنے کو عبادت سمجھتے تھے۔

حضرت بابا فریدالدین گنج شکرؒ فرماتے تھے:

> “قربانی صرف جانور کی نہیں، اپنے نفس کی کرو۔”

اسی حقیقت کو حضرت بلھے شاہؒ نے یوں بیان کیا:
> نفس تے چھری پھیردے نہیں
دنبے کیتی جاندے او
دسو سے سئیں بھلے شاہ نوں
اے کی کیتی جاندے او
یعنی اگر انسان اپنے نفس، غرور، لالچ اور برائیوں کو ختم نہیں کرتا تو محض جانور ذبح کرنے سے قربانی کی روح حاصل نہیں ہوتی-
صحابہ کرامؓ کی عیدالاضحیٰ

صحابہ کرامؓ عیدالاضحیٰ کو نہایت سادگی، اخلاص اور تقویٰ کے ساتھ مناتے تھے۔ ان کی خوشی صرف اللہ کی رضا میں ہوتی تھی۔ وہ بہترین جانور قربان کرتے، غریبوں میں گوشت تقسیم کرتے اور اپنے دلوں کو تکبر سے پاک رکھتے۔

حضرت عمر فاروقؓ فرمایا کرتے تھے:
> “اعمال کی قبولیت نیتوں پر ہے، اس لیے قربانی خالص اللہ کے لیے ہونی چاہیے۔”
حضرت علیؓ فرماتے تھے:

> “قربانی کے جانور کو محبت اور احترام سے رکھو کیونکہ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے۔”

امام احمد رضا خان بریلویؒ کا نظریہ

امام احمد رضا خان بریلوی نے قربانی کو شعائرِ اسلام میں شمار کیا۔ آپ فرماتے تھے کہ:

> “قربانی صرف رسم نہیں بلکہ سنتِ ابراہیمی کی یادگار اور اللہ کی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔”

آپ نے فتاویٰ رضویہ میں لکھا کہ قربانی صاحبِ نصاب مسلمان پر واجب ہے اور اس میں اخلاص، حلال کمائی اور تقویٰ بنیادی شرط ہیں۔

حج اور قربانی کا تعلق
عیدالاضحیٰ کا حج سے گہرا تعلق ہے۔ حج دراصل حضرت ابراہیمؑ، حضرت ہاجرہؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی یادگار ہے۔ صفا و مروہ کی سعی حضرت ہاجرہؑ کی بے مثال جدوجہد کی یاد دلاتی ہے جبکہ قربانی حضرت ابراہیمؑ کی اطاعت کی علامت ہے۔
حج انسان کو یہ درس دیتا ہے کہ:
اللہ کے حکم کے سامنے سر جھکا دو
دنیاوی غرور ختم کر دو
انسانیت سے محبت کرو
تقویٰ اور اخلاص اختیار کرو

موجودہ دور میں عیدالاضحیٰ کا پیغام

آج کا انسان مادیت، خود غرضی، حسد، نفرت اور لالچ میں مبتلا ہے۔ عیدالاضحیٰ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ:
اپنی انا قربان کرو
والدین کی عزت کرو
غریبوں کا خیال رکھو
اللہ کے حکم کو اپنی خواہشات پر ترجیح دو
اتحاد اور بھائی چارے کو فروغ دو
اگر مسلمان صرف جانور قربان کرنے کے بجائے اپنے اندر کی برائیوں کو بھی ختم کر دیں تو معاشرہ جنت کا نمونہ بن سکتا ہے-

قربانی کی اصل روح
قربانی کا اصل مقصد دکھاوا، شہرت یا مقابلہ بازی نہیں بلکہ تقویٰ ہے۔ آج لوگ بڑے جانوروں، مہنگی نسلوں اور نمائش پر فخر کرتے ہیں لیکن قربانی کی روح عاجزی اور اخلاص ہے۔

علامہ اقبالؒ نے فرمایا:
> اللہ کو پسند ہے بندوں کی سادگی
اے دل! نہ جا فریبِ حشمتِ ظاہری میں

2ـ قربانی صرف جانور کی نہیں، کردار کی بھی ہونی چاہیے
اسلام نے قربانی کے ذریعے انسان کو یہ سبق دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنی محبوب ترین چیز بھی قربان کی جا سکتی ہے۔ حضرت ابراہیمؑ نے اپنی اولاد کی محبت کو اللہ کے حکم پر قربان کر دیا، جبکہ آج انسان چھوٹی چھوٹی خواہشات چھوڑنے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتا۔ اسی لیے عیدالاضحیٰ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ صرف جانور ذبح کرنا کافی نہیں بلکہ دل کے اندر موجود غرور، حسد، تکبر، نفرت، جھوٹ، دھوکہ اور لالچ کو بھی ذبح کرنا ضروری ہے۔

حضرت مولانا رومؒ فرماتے ہیں:
«“قربانی کا مقصد گوشت بہانا نہیں بلکہ اپنے نفس کی گردن کاٹنا ہے۔”»
اسی حقیقت کو علامہ اقبالؒ نے یوں بیان کیا:
«اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے
سرِ آدم ہے ضمیرِ کن فکاں ہے زندگی»
یعنی انسان جب اپنے نفس پر قابو پا لیتا ہے تو وہ حقیقی معنوں میں اللہ کا بندہ بن جاتا ہےـ
قربانی اور تقویٰ کا تعلق

قربانی کا سب سے بڑا مقصد تقویٰ پیدا کرنا ہے۔ اگر قربانی کے بعد بھی انسان کے اخلاق، کردار اور رویے میں تبدیلی نہ آئے تو ایسی قربانی محض رسم بن کر رہ جاتی ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

«“اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔”
(سورۃ الحجرات: 13)»

عیدالاضحیٰ اور معاشرتی مساوات
عیدالاضحیٰ کا ایک عظیم پہلو معاشرتی مساوات بھی ہے۔ اسلام نے قربانی کا گوشت غریبوں، مسکینوں، رشتہ داروں اور ہمسایوں تک پہنچانے کی تعلیم دی تاکہ معاشرے میں محبت اور بھائی چارہ پیدا ہو۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«“تم خود بھی کھاؤ، دوسروں کو بھی کھلاؤ اور ذخیرہ بھی کرو۔”
(صحیح مسلم)»

یہ تعلیم ہمیں ایثار اور سخاوت کا درس دیتی ہے۔ اگر ہر صاحبِ حیثیت شخص غریبوں کا خیال رکھے تو معاشرے سے بھوک، نفرت اور احساسِ محرومی کم ہو سکتا ہے۔

حضرت ہاجرہؑ کا کردار

قربانی کے واقعہ میں حضرت ہاجرہؑ کا کردار بھی نہایت عظیم ہے۔ جب حضرت ابراہیمؑ انہیں اور حضرت اسماعیلؑ کو بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑ کر جا رہے تھے تو انہوں نے صرف اتنا پوچھا:

«“کیا یہ اللہ کا حکم ہے؟”»

جب جواب ملا کہ “ہاں”، تو فرمایا:

«“پھر اللہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا۔”»

یہ یقین، توکل اور صبر کی وہ مثال ہے جو قیامت تک آنے والی ماؤں کے لیے مشعلِ راہ ہے-
موجودہ نوجوان نسل کے لیے پیغام

آج نوجوان نسل مغربی تہذیب، سوشل میڈیا اور دنیاوی چمک دمک میں اپنی اصل شناخت بھولتی جا رہی ہے۔ عیدالاضحیٰ نوجوانوں کو یہ درس دیتی ہے کہ:

- والدین کی اطاعت کریں
- اللہ کے احکامات پر عمل کریں
- اپنی خواہشات پر قابو پائیں
- حلال رزق اختیار کریں
- دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کریں

حضرت اسماعیلؑ نوجوانوں کے لیے صبر، ادب اور فرمانبرداری کا عظیم نمونہ ہیں۔
قربانی اور عشقِ رسول ﷺ

رسول اللہ ﷺ خود بھی قربانی کیا کرتے تھے اور اپنی امت کو اس کی تلقین فرماتے تھے۔ حضور ﷺ نے فرمایا:

«“قربانی کے دن انسان کا کوئی عمل اللہ کے نزدیک خون بہانے سے زیادہ محبوب نہیں۔”
(ترمذی)»

حضور اکرم ﷺ دو مینڈھے قربان فرماتے تھے، ایک اپنی طرف سے اور دوسرا اپنی امت کی طرف سے۔ اس سے حضور ﷺ کی اپنی امت سے محبت ظاہر ہوتی ہے۔
قربانی میں دکھاوا اور فضول خرچی

افسوس کہ آج قربانی بعض اوقات نمود و نمائش اور مقابلے کا ذریعہ بن گئی ہے۔ لوگ جانور کی قیمت، نسل اور وزن پر فخر کرتے ہیں جبکہ اسلام عاجزی اور اخلاص کی تعلیم دیتا ہے۔

علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں:
«عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے»

اس لیے قربانی میں ریاکاری سے بچنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ دلوں کے حال جانتا ہے۔
اسلامی تاریخ میں قربانی کے اثرات
قربانی کی روح نے مسلمانوں کو ہر دور میں عظیم قربانیاں دینے کا حوصلہ دیا۔ صحابہ کرامؓ نے اسلام کے لیے اپنے گھر، مال، حتیٰ کہ جانیں تک قربان کر دیں۔ غزوۂ بدر، احد اور کربلا کے واقعات اسی جذبۂ قربانی کی روشن مثالیں ہیں۔
حضرت امام حسینؓ کی قربانی بھی ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ حق اور سچائی کے لیے ہر چیز قربان کی جا سکتی ہے-
دعا
اے اللہ!
ہمیں حضرت ابراہیمؑ جیسا اخلاص، حضرت اسماعیلؑ جیسی فرمانبرداری، حضرت ہاجرہؑ جیسا توکل، صحابہ کرامؓ جیسا جذبۂ قربانی اور اولیاء اللہ جیسا تقویٰ عطا فرما۔
ہماری قربانیوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما اور ہمیں نفس کی قربانی دینے والا سچا مسلمان بنا دے۔ آمین۔
ابراہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہے
عید الاضحیٰ محض ایک تہوار یا جانوروں کی قربانی کا نام نہیں، بلکہ یہ عشقِ حقیقی اور جذبہ تسلیم و رضا کا عظیم ترین مظہر ہے۔ ابراہیمی نظر وہی ہے جو مادی مفادات سے بالا ہوکر حکمِ الٰہی پر اپنی ہر عزیز شے نچھاور کرنے کا حوصلہ رکھتی ہے。
ابراہیمی جذبے کا پس منظر اور حضرت اسماعیلؑ کی قربانی
قرآنِ پاک میں سورۃ الصافات (آیت 102 سے 107) میں یہ ایمان افروز واقعہ بیان کیا گیا ہے。 حضرت ابراہیمؑ نے خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے لختِ جگر، حضرت اسماعیلؑ کو اللہ کی راہ میں ذبح کر رہے ہیں。 انبیاء کا خواب بھی وحی ہوتا ہے۔ جب انہوں نے یہ بات اپنے کمسن بیٹے کے سامنے رکھی، تو بیٹے کا جواب تاریخِ انسانی کا سب سے تابناک باب بن گیا:
"اے میرے والد! وہی کیجیے جس کا آپ کو حکم دیا جا رہا ہے، آپ مجھے ان شاء اللہ صبر کرنے والوں میں پائیں گے。"
جب دونوں باپ بیٹے نے اللہ کی رضا کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا اور حضرت ابراہیمؑ نے چھری چلا دی، تو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے چھری کو حکم دیا کہ وہ اسماعیلؑ کے گلے پر نہ چلے。 ان کے اس جذبے کو اس قدر شرفِ قبولیت بخشا گیا کہ اللہ نے حضرت اسماعیلؑ کا فدیہ ایک عظیم قربانی (دنبے) کی صورت میں عطا فرمایا。
اسی بلند فکری، اطاعت اور روحانی تربیت کی جانب حکیم الامت علامہ محمد اقبال نے اپنے خوبصورت اشعار میں اشارہ کیا ہے:
یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیلؑ کو آدابِ فرزندی؟
یہ صرف باپ کی روحانی نظر کا کمال تھا یا کسی مکتب کا اثر کہ کم عمری میں ہی اتنی بڑی آزمائش پر کامل اطمینان سے لبیک کہا。
قربانی کی فرضیت اور حج کا فلسفہ
قربانی کا یہ عمل امتِ محمدیہؐ پر ذوالحجہ کے ایام میں اس وقت فرض (یا واجب) قرار دیا گیا جب آپؐ نے مدینہ ہجرت فرمائی۔ یہ حج کے مناسک کا بھی ایک لازمی حصہ ہے۔ حج اور قربانی ہمیں بتاتے ہیں کہ انسان اپنی انا، خواہشاتِ نفس اور قربِ الٰہی کی راہ میں حائل ہر رکاوٹ کو مٹا دے۔ یہ سنتِ ابراہیمی کی تجدید ہے جو مسلمانوں کو ایثار، قربانی اور وحدتِ امت کا درس دیتی ہے。
صوفیاء، صحابہ کرام اور عید الاضحیٰ کی تعلیمات
صحابیات اور صحابہ کرامؓ عید کے دن اور عشرہ ذوالحجہ میں انتہائی خشوع و خضوع، تکبیرات کی گونج اور اللہ کے شکر میں گزارتے تھے۔ وہ غریبوں، یتیموں اور مسکینوں کی مدد کو اپنا اولین فریضہ سمجھتے تھے。
صوفیاء اور اولیاءِ کرام نے بھی قربانی کی اصل روح کو اجاگر کیا ہے۔ انہوں نے ہمیشہ نفس کے بتوں کو توڑنے کی تعلیم دی ہے۔ صوفیائے کرام کے نزدیک قربانی صرف جانور ذبح کرنے تک محدود نہیں، بلکہ یہ اپنے اندر موجود بُرائیوں، تکبر، اور غفلت کو ختم کرنے کا نام ہے۔ مشہور صوفی بزرگ اور پنجابی زبان کے عظیم شاعر، بابا بلّھے شاہ نے اسی فلسفے کو بڑی بے باکی اور گہرائی کے ساتھ بیان کیا ہے:
نفس تے چھری پھیردے نہیں، دنبے کیتی جاندے او
دسو سئیں بلّھے شاہ نوں، اے کی کیتی جاندے او!
(یعنی: تم اپنے برے نفس پر تو چھری نہیں چلاتے، بس جانور ہی قربان کیے جا رہے ہو!)
یہ کلام دراصل تصوف کی اس تعلیم کا عکاس ہے کہ جب تک انسان اپنی بری خواہشات (نفس) پر چھری نہیں پھیرتا، محض جانور قربان کرنے کا ظاہری عمل مقصودِ اصلی تک نہیں پہنچاتا。
مولانا حضرات اور علمائے کرام کا نظریہ
جید علمائے اسلام اور مولانا حضرات عیدِ قربان کے فلسفے کو بہت باریک بینی سے سمجھاتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ قربانی کا مقصد تقویٰ کا حصول ہے، جیسا کہ قرآنِ کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"اللہ کو نہ ان (جانوروں) کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون، بلکہ اسے تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے (سورۃ الحج، آیت 37)"
عاشقِ رسولؐ، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ جیسے علمائے اہلسنت کی تعلیمات بھی اسی بات پر زور دیتی ہیں کہ تمام عبادات اور قربانی کے پیچھے جذبہِ عشقِ الٰہی، خلوص، اور فرمانبرداری کا ہونا لازمی ہے۔ جو قربانی نام و نمود یا ریاکاری کے لیے ہو، اس کی بارگاہِ الٰہی میں کوئی قدر نہیں۔
موجودہ دور میں عید الاضحیٰ کا درس
موجودہ دور مادہ پرستی اور خود غرضی کا دور ہے۔ اس تناظر میں عید الاضحیٰ کا درس اور بھی زیادہ اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ آج ہمیں ایثار، غریبوں کی دلجوئی، اور اپنی انا کی قربانی دینے کی اشد ضرورت ہے۔ یہ عید ہمیں سکھاتی ہے کہ اگر ہم اللہ کی محبت اور رضا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے مفادات، ضد اور انا کو خدا کے احکامات کے تابع کرنا ہوگا۔ یہ غریبوں کے ساتھ خوشیاں بانٹنے، اپنے معاشرے کو برائیوں سے پاک کرنے اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونے کا بہترین موقع فراہم کرتی ہے۔
نتیجتاً، ابراہیمی نظر پیدا کرنا اور اس پر قائم رہنا یقیناً کٹھن ہے، لیکن جب انسان خلوصِ نیت اور عشقِ الٰہی کے ساتھ قدم بڑھاتا ہے، تو اللہ کی مدد شاملِ حال ہو جاتی ہے اور تسلیم و رضا کی راہ آسان ہو جاتی ہے
قربانی کے معیشت پر اثرات

عیدالاضحیٰ صرف ایک مذہبی عبادت ہی نہیں بلکہ یہ اسلامی معیشت کو متحرک کرنے والا ایک عظیم معاشی نظام بھی ہے۔ قربانی کے ایام میں کروڑوں روپے کی معاشی سرگرمیاں پیدا ہوتی ہیں جن سے ملک کے مختلف شعبے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یہ عید غریب، کسان، مزدور، تاجر اور صنعت کار سب کے لیے روزگار اور آمدنی کا ذریعہ بنتی ہے۔

---

مویشی پال حضرات کو فائدہ

قربانی کے موقع پر سب سے زیادہ فائدہ کسانوں اور مویشی پالنے والوں کو ہوتا ہے۔ وہ پورا سال جانوروں کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور عیدالاضحیٰ کے دنوں میں انہیں اچھی قیمت پر فروخت کرتے ہیں۔ اس طرح دیہاتی معیشت مضبوط ہوتی ہے اور ہزاروں خاندانوں کے گھروں میں خوشحالی آتی ہے۔

پاکستان جیسے زرعی ملک میں لاکھوں لوگ گائے، بکرے، اونٹ اور بھیڑ پالنے کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔ قربانی کے دن ان کے لیے سال کی سب سے بڑی آمدنی کا ذریعہ بنتے ہیں۔

---

روزگار کے مواقع

عیدالاضحیٰ کے دنوں میں عارضی طور پر لاکھوں افراد کو روزگار ملتا ہے، مثلاً:

- جانوروں کے تاجر
- ٹرانسپورٹ والے
- چارہ فروخت کرنے والے
- قصائی حضرات
- کھالیں جمع کرنے والے
- مزدور اور لوڈر
- بیوپاری اور مارکیٹ انتظامیہ

اس کے علاوہ رسی، چھری، نمک، مصالحہ جات، فریزر، برف، کولڈ اسٹوریج اور دیگر اشیاء کی فروخت بھی بڑھ جاتی ہے جس سے کاروبار میں تیزی آتی ہے۔

---

چمڑے کی صنعت کو فائدہ

قربانی کے بعد حاصل ہونے والی کھالیں ملکی چمڑا صنعت کے لیے خام مال فراہم کرتی ہیں۔ پاکستان کی لیدر انڈسٹری دنیا بھر میں مشہور ہے۔ قربانی کی کھالوں سے:

- جوتے
- بیگ
- جیکٹس
- بیلٹس
- کھیلوں کا سامان

تیار کیا جاتا ہے۔ اس سے ملکی برآمدات میں اضافہ ہوتا ہے اور زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے۔

---

غربت میں کمی اور دولت کی تقسیم

قربانی کا گوشت غریبوں اور مستحق لوگوں تک پہنچتا ہے، جس سے معاشرتی مساوات پیدا ہوتی ہے۔ اسلام نے قربانی کے گوشت کو تقسیم کرنے کا حکم دیا تاکہ غریب لوگ بھی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔

یہ نظام دولت کو چند ہاتھوں تک محدود نہیں رہنے دیتا بلکہ معاشرے کے کمزور طبقات تک بھی پہنچاتا ہے۔ اس سے بھائی چارہ، ہمدردی اور سماجی انصاف کو فروغ ملتا ہے۔

---

ملکی تجارت میں اضافہ

عیدالاضحیٰ کے موقع پر منڈیوں میں اربوں روپے کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔ مویشی منڈیوں میں ملک کے مختلف علاقوں سے لوگ آتے ہیں، جس سے:

- ٹرانسپورٹ کا کاروبار بڑھتا ہے
- ہوٹلوں اور دکانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے
- چھوٹے کاروبار ترقی کرتے ہیں

یوں قربانی ملکی معیشت میں گردشِ زر کو تیز کرتی ہے۔

---

اسلام کا متوازن معاشی نظام

اسلام قربانی کے ذریعے ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ مال صرف اپنے لیے جمع نہ کیا جائے بلکہ اللہ کی راہ میں خرچ بھی کیا جائے۔ یہی خرچ معاشرے میں برکت اور خوشحالی پیدا کرتا ہے۔

قرآنِ مجید میں ارشاد ہے:

«“اور جو کچھ تم اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہو، اللہ اس کا بہتر بدلہ دیتا ہے۔”
(سورۃ سبا: 39)»

---

موجودہ دور میں معاشی پیغام

آج مہنگائی اور بے روزگاری کے دور میں عیدالاضحیٰ غریبوں کے لیے سہارا بن جاتی ہے۔ اگر صاحبِ حیثیت لوگ اخلاص کے ساتھ قربانی کریں اور مستحق افراد کا خیال رکھیں تو معاشی مشکلات میں کافی حد تک کمی آ سکتی ہے۔

---

نتیجہ

قربانی صرف ایک مذہبی فریضہ نہیں بلکہ ایک مکمل معاشی نظام بھی ہے۔ یہ دیہی معیشت کو مضبوط کرتی، روزگار پیدا کرتی، تجارت کو فروغ دیتی، غریبوں کی مدد کرتی اور دولت کی منصفانہ تقسیم کا ذریعہ بنتی ہے۔ اس طرح اسلام عبادت کے ساتھ ساتھ انسانیت اور معاشی بھلائی کا بھی درس دیتا ہے۔
عیدالاضحیٰ اور غریبوں کی خوشیاں

عیدالاضحیٰ کا ایک سب سے خوبصورت پہلو یہ ہے کہ اس دن امیر اور غریب سب ایک ہی دسترخوان کی نعمت سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ بہت سے ایسے غریب خاندان بھی ہوتے ہیں جن کے گھروں میں پورا سال گوشت نہیں پکتا، مگر قربانی کے دن اللہ تعالیٰ ان کے گھروں کو بھی نعمتوں سے بھر دیتا ہے۔ بچوں کے چہروں پر خوشی آتی ہے، گھروں میں رونق پیدا ہوتی ہے اور احساسِ محرومی کم ہو جاتا ہے۔

اسلام نے قربانی کے گوشت کو تقسیم کرنے کی تعلیم دے کر انسانیت، مساوات اور بھائی چارے کا عظیم درس دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قربانی صرف عبادت نہیں بلکہ غریبوں کی دلجوئی اور سماجی خوشحالی کا ذریعہ بھی ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«“تم خود بھی کھاؤ، اپنے رشتہ داروں کو بھی کھلاؤ اور غریبوں کو بھی دو۔”»

یہ تعلیم انسان کو خود غرضی سے نکال کر ایثار اور محبت کا راستہ دکھاتی ہے۔ قربانی کے دن کوئی بھوکا نہ رہے، کوئی محروم نہ رہے، یہی اسلام کا حسن ہے۔

علامہ اقبالؒ نے انسانیت اور اخوت کا پیغام دیتے ہوئے فرمایا:

«ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز»

عیدالاضحیٰ بھی یہی درس دیتی ہے کہ اللہ کے نزدیک امیر و غریب کی تفریق نہیں بلکہ تقویٰ اور اخلاص کی اہمیت ہے۔ قربانی کے گوشت کی تقسیم سے معاشرے میں محبت، ہمدردی اور مساوات پیدا ہوتی ہے اور غریب افراد بھی عید کی خوشیوں میں برابر کے شریک بن جاتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں بلکہ انسانوں کے دل جیتنے کا عمل بھی ہے۔ جب ایک غریب ماں اپنے بچوں کے لیے گوشت پکاتی ہے اور ان کے چہروں پر خوشی دیکھتی ہے تو یہی قربانی کی اصل روح اور اسلامی تعلیمات کی خوبصورتی ہے۔
اپنے اندر والے جانور کی قربانی

عیدالاضحیٰ ہمیں صرف جانور ذبح کرنے کا درس نہیں دیتی بلکہ یہ انسان کو اپنے نفس، غرور، لالچ، حسد، نفرت اور برائیوں کو ختم کرنے کی تعلیم بھی دیتی ہے۔ اگر کوئی شخص صرف جانور قربان کرے مگر اس کے اندر تکبر، جھوٹ، ظلم، دھوکہ اور نفرت باقی رہے تو وہ قربانی کی اصل روح کو حاصل نہیں کر سکتا۔

اسلام میں “نفس” کو اکثر ایسے جانور سے تشبیہ دی جاتی ہے جو انسان کو برائی کی طرف لے جاتا ہے۔ یہی نفس انسان کو غرور، گناہ، حسد اور دنیا کی محبت میں مبتلا کرتا ہے۔ اس لیے اصل کامیابی اپنے اندر کے اس جانور کو قابو کرنا ہے۔

قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

«“بے شک نفس انسان کو برائی کا حکم دیتا ہے۔”
(سورۃ یوسف: 53)»

اسی لیے بزرگانِ دین فرماتے تھے کہ سب سے بڑی جہاد اپنے نفس کے خلاف جہاد ہے۔

حضرت بلھے شاہؒ نے اسی حقیقت کو نہایت درد بھرے انداز میں بیان کیا:

«نفس تے چھری پھیردے نہیں
دنبے کیتی جاندے او
دسو سے سئیں بھلے شاہ نوں
اے کی کیتی جاندے او»

یعنی اگر انسان نے اپنے اندر کے غرور، حسد، لالچ اور برائیوں کو ختم نہیں کیا تو صرف جانور ذبح کرنے سے قربانی کا مقصد پورا نہیں ہوتا۔

---

اندر کا جانور کون سا ہے؟

انسان کے اندر کئی ایسے “جانور” ہوتے ہیں جو اسے برائی کی طرف لے جاتے ہیں، مثلاً:

- غرور اور تکبر
- حسد اور نفرت
- جھوٹ اور دھوکہ
- لالچ اور حرام خوری
- غصہ اور ظلم
- خود غرضی اور بے حسی

جب تک انسان ان برائیوں کو ختم نہیں کرتا تب تک وہ حقیقی قربانی کی روح کو نہیں پا سکتا۔

---

صوفیاء کرام کی تعلیمات

صوفیاء اور اولیاء اللہ ہمیشہ نفس کی اصلاح پر زور دیتے تھے۔ ان کے نزدیک سب سے بڑی قربانی اپنی خواہشات کو اللہ کے حکم کے تابع کرنا ہے۔

حضرت داتا گنج بخشؒ فرماتے تھے:

«“جو شخص اپنے نفس پر قابو پا لے وہی اللہ کا حقیقی بندہ ہے۔”»

حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ نے فرمایا:

«“لوگوں کو راحت پہنچانا اور اپنے نفس کو تکلیف دینا ہی عشقِ الٰہی کا راستہ ہے۔”»

---

موجودہ دور میں اندر کے جانور کی قربانی کیوں ضروری ہے؟

آج انسان تعلیم یافتہ تو ہو گیا مگر اخلاقی طور پر کمزور ہوتا جا رہا ہے۔ معاشرے میں:

- نفرت بڑھ رہی ہے
- جھوٹ عام ہو رہا ہے
- حسد اور مقابلہ بازی بڑھ رہی ہے
- لوگ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں لگے ہیں

ایسے وقت میں عیدالاضحیٰ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اصل قربانی اپنے برے رویوں کو ختم کرنا ہے۔

اگر انسان:

- غصہ قربان کر دے تو محبت پیدا ہوگی
- لالچ قربان کر دے تو انصاف پیدا ہوگا
- حسد قربان کر دے تو بھائی چارہ بڑھے گا
- تکبر قربان کر دے تو عاجزی پیدا ہوگی

تو معاشرہ امن اور سکون کا گہوارہ بن سکتا ہے۔

---

علامہ اقبالؒ اور خودی کا پیغام

علامہ اقبالؒ نے انسان کو اپنے نفس پر قابو پانے کا درس دیا۔ آپ فرماتے ہیں:

«خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے»

یہی خودی دراصل نفس کی اصلاح اور اللہ کی اطاعت سے حاصل ہوتی ہے۔

---

حقیقی قربانی کیا ہے؟

حقیقی قربانی یہ ہے کہ:

- انسان جھوٹ چھوڑ دے
- حرام کمائی سے بچ جائے
- والدین کی نافرمانی چھوڑ دے
- دوسروں کے حقوق ادا کرے
- غریبوں اور یتیموں کا خیال رکھے

آج عیدالاضحیٰ 26 جامعہ مسجد نور مدینہ بھوکن حجرہ شاہ مقیم میں خوش وخرم کے ساتھ  پڑھی گئی ،اور آخر میں خوشوخضوع کے ساتھ ح...
27/05/2026

آج عیدالاضحیٰ 26 جامعہ مسجد نور مدینہ بھوکن حجرہ شاہ مقیم میں خوش وخرم کے ساتھ پڑھی گئی ،اور آخر میں خوشوخضوع کے ساتھ حضور اقدس وجہہ تخلیق کائنات صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس پر دُرود و سلام کا نظرانہ پیش کیا گیا ۔
انجنئیر شیر علی اور ڈاکٹر شفیق صاحب نے انتظامیہ کو مبارکباد دی اور عید گلے ملے۔

جامعہ مسجد نور مدینہ میں عید کی نماز 8:45 پر ادا کی جائے گی موضع بھوکن حجرہ شاہ مقیم اوکاڑہ المشہور ٹینکی والی مسجد
20/03/2026

جامعہ مسجد نور مدینہ میں عید کی نماز 8:45 پر ادا کی جائے گی
موضع بھوکن حجرہ شاہ مقیم اوکاڑہ
المشہور ٹینکی والی مسجد

23/02/2026

As the blessed month of Ramazan begins and the nights begin to glow with quiet supplications, I pray this sacred season settles gently upon every heart around the world.

It should be borne in mind that Ramazan is far more than the experience of an empty stomach. As taught and lived in word and action by the Noble Prophet Mohammad (PBUH) and embodied so beautifully by the Ahl al-Bayt, it is a month designed to refine the soul, discipline the self and draw us nearer to God. Through restraint, we learn patience. Through hunger, we awaken compassion for those who endure it daily. Through giving, we rediscover generosity. Through Suhoor and Iftaar, we learn balance, routine, punctuality and moderation - care for the body as well as the spirit. True fasting is not confined to what we refrain from eating, it extends to guarding the tongue from harshness, the heart from arrogance, the mind from malice and the self from pride and intolerance. This month does not authorize us to police the choices of those who follow a different path. Rather, it calls us to embody mercy, to live and let live and to show dignity and understanding to people of other faiths and ways of life, for coercion has no place in the spirit of our religion. Abstinence alone will not elevate us unless it transforms us softening our hearts, reforming our habits, strengthening our self-control and inspiring us to seek God’s pleasure and nearness through sincere self-improvement and repentance. Let this Ramazan be not merely a change of timetable, but a change of temperament, an opportunity to know our faith more deeply and to reflect its essence of compassion, humility, tolerance and peaceful coexistence.

Ramazan Kareem!

P.S. Please brush your teeth! Yes, you absolutely can and should. Cleanliness is half of faith, and the fragrance honoured in the heavens while fasting is not the result of poor oral hygiene, but the scent that rises from an empty stomach and sincere worship. Remember, the Prophet (PBUH) would use Miswaak while fasting which goes to prove that using it does not invalidate the fast. People of the Prophet’s time cleansed their teeth with miswaak, we use toothbrushes and toothpaste. The tools may have changed, but the principle of cleanliness remains timeless. So, keep your toothbrushes busy and conscience clear. Your fast is not that fragile!

بھوکن والوں کے لیے خوشخبری جامعہ مسجد نور مدینہ میں ذیل میں دیے گئے موضوعات پر رمضان المبارک میں خطاب کی سیریز جاری ہے ۔...
23/02/2026

بھوکن والوں کے لیے خوشخبری
جامعہ مسجد نور مدینہ میں ذیل میں دیے گئے موضوعات پر رمضان المبارک میں خطاب کی سیریز جاری ہے ۔
جمعہ کیا نماز ادا کرنے کا وقت 01:50 ہے۔
رمضان المبارک 2026

Address

Moza Bhookan P/o Hujra Shah Muqeem (okara)
Okara
56170

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jamia Masjid Noor-E-Madina جامع مسجد نور مدينه posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Jamia Masjid Noor-E-Madina جامع مسجد نور مدينه:

Shortcuts

Share

Category