Maliki Madhab Subcontinent- مالکی مذہب برِصغیر

🙏 اگر میں نماز کا کوئی حصہ بھول جاؤں تو کیا ہوگا؟📿 سجودِ سہو کے مسائل — مالکی فقہ کے مطابقسجدہِ سہو نماز میں فرض یا سنت ...
15/11/2025

🙏 اگر میں نماز کا کوئی حصہ بھول جاؤں تو کیا ہوگا؟
📿 سجودِ سہو کے مسائل — مالکی فقہ کے مطابق

سجدہِ سہو نماز میں فرض یا سنت بھول جانے کی صورت میں ادا کیے جانے والے دو سنت سجدے ہیں۔
🔹 کب، کیسے اور کس طرح یہ کیے جاتے ہیں؟
🔹 فرض و سنت کی فہرست کیا ہے؟
🔹 مختلف صورتوں میں احکام کیا ہیں؟
🔹 وہ عربی شعر جو ان سنتوں کو یاد رکھنے میں مددگار ہے۔

تفصیل کے لیے پڑھیں 👇
https://malikimadhab.org/%d8%a7%da%af%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%86%d9%85%d8%a7%d8%b2-%da%a9%d8%a7-%da%a9%d9%88%d8%a6%db%8c-%d8%ad%d8%b5%db%81-%d8%a8%da%be%d9%88%d9%84-%d8%ac%d8%a7%d8%a4%da%ba-%d8%aa%d9%88-%da%a9%db%8c/

08/11/2025

📢 اعلان برائے درسِ فقہ مالکی

الحمدللہ! سلسلۂ دروسِ "شرح مرشد المعین" (متن ابن عاشر) جاری ہے۔
اگلا درس، ان شاءاللہ، بروز ہفتہ، 8 نومبر کو ہوگا۔

🕗 وقت: رات 8:00 بجے تا 10:00 بجے (پاکستانی وقت)
🎙️ موضوع: مرشد المعین (متن ابن عاشر) — فقہِ مالکی
👤 استاد: سیدی محمد اقبال حفظہ اللہ
💻 مقام: آن لائن (Google Meet)
🔗 لنک برائے شمولیت:
https://meet.google.com/kbm-chqs-sjp

تمام احباب سے شرکت کی گزارش ہے تاکہ علمِ دین سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
برائے کرم وقت پر حاضر ہوں اور دوسروں کو بھی دعوت دیں۔

https://youtu.be/gp5noNPtFOs
05/11/2025

https://youtu.be/gp5noNPtFOs

Welcome to another lesson in our Maliki Fiqh Urdu Dars series on Murshid al-Muʿeen (Matn Ibn ʿĀshir), taught by Sidi Muhammad Iqbal.In this Lecture 8, we stu...

📌 فقہ مالکی کے مطابق نمازوں کے اختیاری اور ضروری اوقات کا چارٹ
31/08/2025

📌 فقہ مالکی کے مطابق نمازوں کے اختیاری اور ضروری اوقات کا چارٹ


28/08/2025

اذان و اقامت میں عام اغلاط ❌📢



اذان اور اقامت دین کے بڑے شعائر ہیں، اس لیے ان کے الفاظ کی درست ادائیگی ضروری ہے۔ ذرا سی تبدیلی معنی کو بگاڑ دیتی ہے۔ ذیل میں چند ایسی عام غلطیاں بیان کی جا رہی ہیں جن سے مؤذنین کو بچنا چاہیے:

1️⃣ "الله أكبر" میں "الله" کی الف کو زیادہ کھینچنا
اس سے معنی سوالیہ (أآلله أكبر؟) کی طرف منتقل ہو جاتا ہے۔

2️⃣ "أكبر" کے باء کو کھینچنا
اس سے "أكبار" بن جاتا ہے، جس کا معنی ڈھول (طبل) ہے۔

3️⃣ "أشهد" کی ہمزہ کو کھینچنا
یہ بھی استفہام (سوالیہ) کا معنی دے دیتا ہے۔

4️⃣ "لا إله" پر وقف کرنا
یہ سخت خطرناک ہے، کیونکہ اس سے کفر اور تعطیل کا مفہوم پیدا ہوتا ہے۔

5️⃣ "محمدٌ رسول الله" میں "محمد" کی تنوین کو "رسول" کی را کے ساتھ ادغام نہ کرنا
یہ قراء کے نزدیک ایک خفی لحن (چھوٹی قراءتی غلطی) ہے۔

6️⃣ "الصلاة" کے آخر کی ہاء کو ادا نہ کرنا
اس سے لفظ "صلا النار" (آگ کی طرف بلانے) کے قریب ہو جاتا ہے—نعوذ بالله۔

7️⃣ "الفلاح" کے آخر کی حاء کو ادا نہ کرنا
اس سے اصل مقصود معنی فوت ہو جاتا ہے۔

________________________________________
📌 مؤذن کا فریضہ ہے کہ اذان اور اقامت کے الفاظ نہایت دھیان اور احتیاط کے ساتھ ادا کرے، تاکہ معانی درست رہیں اور اذان اپنی روح کے مطابق ادا ہو۔
✒️ واللہ أعلم
#اذان #اقامت #نماز

https://youtu.be/rtDlV8VN50M
22/08/2025

https://youtu.be/rtDlV8VN50M

In this lecture, Sidi Muhammad Iqbal explains Matn Ibn Ashir (Al Murshid Al Mueen), one of the most important Maliki fiqh texts. This dars is part of the Urd...

22/08/2025


اقامت اور اذان کا حکم (فقہِ امام مالکؒ کے مطابق) 📢🕌

✨ اوّل: اقامت

◾️ اقامت مردِ منفرد اور اس امام کے حق میں سنتِ مؤکدہ ہے جو صرف عورتوں کی امامت کرے۔

◾️ مردوں کی جماعت یا مرد و عورت کی مخلوط جماعت کے حق میں اقامت سنتِ کفایہ ہے۔

◾️ اقامت منفرد سے بھی مطلوب ہے، اور یہ اذان سے زیادہ مؤکد ہے۔

◾️ شرط یہ ہے کہ اقامت نماز کے ساتھ متصل ہو؛ اگر زیادہ وقفہ ہو جائے تو دوبارہ کہنی ہوگی۔

◾️ اقامت صرف فرض نماز (ادا یا قضا) کے لیے مسنون ہے، نفل کے لیے نہیں۔

◾️ عورت اگر اکیلی نماز پڑھے تو اس کے لیے بھی اقامت مستحب ہے۔

◾️ جسے اقامت کہنے کا کہا جائے—خواہ مرد ہو یا عورت—اس کے لیے آہستہ کہنا مستحب ہے۔

◾️ اقامت کے لیے وضو ضروری ہے، بخلاف اذان کے۔
📖 المدونۃ میں ہے:
“ولا بأس أن يؤذن غير متوضئ ولا يقيم إلا متوضئ”
یعنی: بغیر وضو اذان دینا درست ہے، لیکن اقامت صرف باوضو کہی جائے گی۔

✨ ثانیًا: اذان

اذان کے پانچ احکام ہیں:

1️⃣ وجوبِ کفایہ: بڑے شہر میں اذان دینا فرضِ کفایہ ہے۔

2️⃣ سنتِ کفایہ: ہر مسجد یا ایسی جماعت کے لیے جس کی طرف دوسرے لوگ بھی متوجہ ہوتے ہوں۔

3️⃣ استحباب: بیابان/کھلے میدان میں اذان دینا مستحب ہے، خواہ اکیلا ہو یا جماعت ہو جو دوسروں کو متوجہ نہ کرتی ہو۔

4️⃣ تحریم: وقت داخل ہونے سے پہلے اذان دینا حرام ہے۔

5️⃣ کراہت:

⚈ ایسی جماعت کے لیے جو دوسروں کو متوجہ نہ کرتی ہو اور نہ ہی بیابان میں ہو،

⚈ قضا نماز کے لیے (ضروری وقت میں)،

⚈ اور جنازہ جیسی نمازوں کے لیے اذان مکروہ ہے۔

📌 امام النفراویؒ فرماتے ہیں:
“راجح فقہی موقف یہ ہے کہ اذان میں لحن (اعرابی غلطی) سے بچنا مستحب ہے؛ لہٰذا اگر مرفوع کو منصوب یا منصوب کو مرفوع پڑھ دیا جائے تو اذان باطل نہیں ہوتی۔ اس لیے کہ جب سورہ فاتحہ میں لحن کے باوجود نماز صحیح ہے، تو اذان میں تو بدرجہ اولیٰ صحیح ہوگی۔”

✒️ واللہ أعلم



#نماز #اذان #اقامت

نماز میں مالکیہ کے نزدیک مقدم کیا ہے: قبض (ہاتھ باندھنا) یا سدل (ہاتھ چھوڑنا)؟________________________________________✭ ...
21/08/2025

نماز میں مالکیہ کے نزدیک مقدم کیا ہے: قبض (ہاتھ باندھنا) یا سدل (ہاتھ چھوڑنا)؟
________________________________________
✭ حصہ اوّل: ابتدائی تمہید اور سدل کی اصل
1. نماز میں سدل کی مشروعیت:
سدل (ہاتھ چھوڑنا) نبی کریم ﷺ سے سنت کے طور پر ثابت ہے۔ تمام امت مسلمہ نے اس پر اجماع کیا ہے کہ سدل جائز ہے، اور چاروں ائمہ نے اس کی اجازت دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ عمل مقلدین میں اس حد تک مشہور ہوا کہ گویا دین کا بدیہی حصہ ہے، اور یہ بات یقینی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابتدا اور انتہا دونوں میں ایسا ہی کیا۔
2. سدل کے دلائل:
• پہلی دلیل:
امام مالک نے الموطأ میں سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ:
"كان الناس يُؤمرون أن يضع الرجل اليد اليمنى على ذراعه اليسرى في الصلاة"
"لوگوں کو حکم دیا جاتا تھا کہ نماز میں آدمی اپنا دایاں ہاتھ بائیں بازو پر رکھے۔"
(البخاری، مسلم، الموطأ)
اس حدیث کا تقاضا یہ ہے کہ صحابہ کرام اصل میں ہاتھ چھوڑتے تھے، ورنہ "ہاتھ پر ہاتھ رکھنے" کا حکم دینا محض تحصیلِ حاصل ہوتا۔ اور یہ بات بالیقین ہے کہ وہ ایسا نبی کریم ﷺ کو دیکھ کر ہی کرتے تھے، کیونکہ آپ ﷺ نے فرمایا:
‏‏‏‏صلوا كما رايتموني اصلي
” نماز اسی طرح پڑھو جس طرح مجھے تم نے پڑھتے دیکھا ہے۔“
(صحیح البخاری)
• دوسری دلیل:
یہی عمل صحابہ اور تابعین کے زمانے تک جاری رہا۔ امام مالک نے المدونة (1/169) میں ابن قاسم کے حوالے سے فرمایا:
"وقال مالک فی وضع الیمنیٰ علی الیسریٰ فی الصلوٰۃ قال: لا اعرف ذلک فی الفریضۃ وکان یکرھہ ولکن فی النوافل اذا طال القیام فلاباس بذلک یعین بہ نفسہ"
(امام) مالک نے نماز میں ہاتھ باندھنے کے بارے میں کہا: "مجھے فرض نماز میں اس کا ثبوت معلوم نہیں" وہ اسے مکروہ سمجھتے تھے، اگر نوافل میں قیام لمبا ہوتو ہاتھ باندھنے میں کوئی حرج نہیں ہے، اس طرح وہ اپنے آپ کو مدد دے سکتا ہے۔ (المدونہ ۷۶/۱)

________________________________________
✭ حصہ دوم: مالکیہ کے اصولِ ترجیح
مذہب مالکی میں مختلف روایات اور اقوال کے مابین ترجیح قائم کرنے کا قاعدہ، جس پر جمہور مالکیہ کا عمل ہے، یہ ہے:
1. امام مالک کا قول جو ابن قاسم نے المدونة میں روایت کیا۔
2. امام مالک کا قول جو غیر ابن قاسم نے المدونة میں روایت کیا۔
3. ابن قاسم کا قول المدونة میں۔
4. غیر ابن قاسم کا قول المدونة میں۔
5. امام مالک کا قول جو ابن قاسم نے المدونة کے باہر روایت کیا۔
6. امام مالک کا قول جو غیر ابن قاسم نے المدونة کے باہر روایت کیا۔
7. ابن قاسم کا قول المدونة کے باہر۔
8. پھر دیگر مالکی علماء کے اقوال۔
ان اصولوں کی روشنی میں "سدل" (ہاتھ چھوڑنا) ہی راجح ہے، کیونکہ یہ امام مالک کا وہی قول ہے جو ابن قاسم نے المدونة میں نقل کیا، اور یہی قول دیگر تمام روایات پر مقدم ہے۔
چنانچہ المدونة (1/169) میں آیا ہے:
"قِيلَ لِمَالِكٍ: فِي وَضْعِ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فِي الصَّلاةِ؟ فَقَالَ: لَا أَعْرِفُ ذَلِكَ فِي الْفَرِيضَةِ، وَكَانَ يَكْرَهُهُ، وَلَكِنْ فِي النَّوَافِلِ إِذَا طَالَ الْقِيَامُ فَلَا بَأْسَ بِذَلِكَ يُعِينُ بِهِ نَفْسَهُ."
(امام مالک سے سوال کیا گیا: نماز میں دایاں ہاتھ بائیں پر رکھنے کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ تو فرمایا: میں اسے فرض نماز میں نہیں جانتا، بلکہ اسے مکروہ سمجھتے تھے۔ البتہ نفل نماز میں جب قیام لمبا ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں، کہ بندہ اس طرح اپنے آپ کو سہارا دے لیتا ہے۔)
پس سدل ہی وہ روایت ہے جو امام مالک سے ابن القاسم نے المدونة میں نقل کی ہے، اور المدونة میں ابن القاسم کی روایت کو مذهب میں باقی تمام روایات پر ترجیح حاصل ہے۔

________________________________________
✭ حصہ سوم: مزید دلائل برائے سدل
1. حدیث ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ:
امام بخاری اور امام ابو داود نے روایت کی ہے۔ سنن ابو داود میں یہ حدیث سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جسے امام احمد بن حنبل نے بھی روایت کیا ہے:
ابو حمید نے تقریباً دس صحابہ کرام کے ساتھ بیٹھک میں نبی اکرم ﷺ کی نماز کا ذکر کیا، ان میں سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔
ابو حمید نے کہا: "میں تم میں سب سے زیادہ جاننے والا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ کس طرح نماز پڑھتے تھے۔"
صحابہ نے کہا: "کیوں؟ اللہ کی قسم آپ ہم سے زیادہ نہ رسول ﷺ کی پیروی کرتے تھے، نہ ہم سے پہلے رسول اللہ ﷺ کی صحبت میں آئے تھے ۔"
ابو حمید نے کہا: "ہاں (پھر بھی میں زیادہ جانتا ہوں)۔"
صحابہ نے کہا: "تو بیان کرو!"
انہوں نے کہا: " رسول اللہ ﷺ جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے بالمقابل (برابر) اٹھاتے، پھر تکبیر کہتے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنے مقام پر سیدھی ہو جاتی، پھر آپ ﷺ قرأت کرتے پھر ’للهُ أَكبر کہتے، اور دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں کندھوں کے مقابل کرلیتے، پھر رکوع کرتے ۔"
(یہاں تک حدیث کا مقصود حصہ ہے۔)
جب وہ فارغ ہوئے تو تمام صحابہ نے کہا: "تم نے سچ کہا۔"
(سنن أبي داود، ج 1، ص 194)
یہ بات معلوم ہے کہ کھڑے انسان کے ہاتھوں کی جگہ اس کے پہلو ہیں، نہ کہ اس کا سینہ۔ اور یہاں سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے جو اس حدیث کے راوی ہیں کہ "لوگوں کو حکم دیا جاتا تھا کہ آدمی اپنا دایاں ہاتھ بائیں پر رکھے۔" اگر یہ حکم اب تک باقی ہوتا تو سہل بن سعد رضی اللہ عنہ ضرور ابو حمید کو متوجہ کرتے کہ "تم نے ہاتھ پر ہاتھ رکھنے کا ذکر نہیں کیا"، لیکن اس کے بجائے انہوں نے کہا: "تم نے سچ کہا۔"
2. حدیث "اکتتاف" (باندھنے) سے منع:
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
" اس طرح (جوڑا باندھ کر) نماز پڑھنے والےکی مثال اس آدمی جیسی ہے جو نماز پڑھ رہا ہو اور اس کے ہاتھ بندھے ہوں۔"
(صحیح مسلم؛ تیسير الوصول إلى جامع الأصول، ج 2، ص 243)
مالکیہ کے نزدیک "قبض" بھی اسی اکتتاف کے زمرے میں آتا ہے، اس لیے مکروہ ہے۔
________________________________________
✭ حصہ چہارم: دیگر دلائل
1. حافظ ابن عبد البر کی شہادت:
انہوں نے کتاب العلم میں فرمایا:
"امام مالک نے سدل کی روایت سیدنا عبد اللہ بن حسن سے نقل کی ہے۔"
2. ابن زبیر رضی اللہ عنہ کا عمل:
" امام طحاوی کی کتاب الأوسط في السنن والإجماع والاختلاف (3/93) میں روایت ہے:
حدیث نمبر 1288:
اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے ابو بکر نے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم سے عثمان نے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم سے یزید بن ابراہیم نے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے عمرو بن دینار کو کہتے سنا:
"سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما جب نماز پڑھتے تو اپنے ہاتھ چھوڑ دیتے (یعنی سدل کرتے تھے)۔"
اور یہ سند صحیح ہے۔
اسی پر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول بھی دلالت کرتا ہے کہ:
"جو شخص یہ چاہے کہ رسول اللہ ﷺ کی نماز کو دیکھے تو وہ عبد اللہ بن زبیر کی نماز کی اقتداء کرے۔"
(مراجع: تلخيص الحبير لابن حجر العسقلاني، ج 1، ص 542؛ سنن أبي داود، حدیث نمبر 735)
________________________________________
✭ نتیجہ
• مالکیہ کے نزدیک سدل (ہاتھ چھوڑنا) فرض نماز میں راجح اور مقدم ہے، کیونکہ یہ امام مالک کا معتمد قول ہے جسے ابن قاسم نے المدونة میں نقل کیا۔
• قبض (ہاتھ باندھنا) مکروہ ہے، البتہ نفل نماز میں اگر قیام طویل ہو تو سہولت کے لیے اجازت دی گئی ہے۔
• یہ موقف قرآن، حدیث، عملِ صحابہ اور امام مالک کے اصولی ترجیحی قواعد سے ثابت ہے۔
واللہ سبحانہ وتعالیٰ أعلم
________________________________________
📚 اہم مراجع و مصادر:
• الموطأ للإمام مالك
• المدونة (1/169)
• صحيح البخاري، صحيح مسلم
• سنن أبي داود، ج 1، ص 194، حدیث 735
• إبرام النقض لما قيل من أرجحية القبض، محمد الخضر، ص 18-32
• تيـسير الوصول إلى جامع الأصول، ج 2، ص 243
• الأوسط في السنن والإجماع والاختلاف (3/93)
• تلخيص الحبير لابن حجر، ج 1، ص 542
• كتاب العلم لابن عبد البر

20/08/2025



نمازوں کے اوقات فقہ مالکی کے مطابق ⏰
نماز کا صحیح وقت جاننا ہر مسلمان پر لازم ہے۔ فقہ مالکی میں نماز کے اوقات کو "اختیاری" اور "ضروری" میں تقسیم کیا گیا ہے۔ آئیے ان کو آسان الفاظ میں سمجھتے ہیں:

🌅 فجر

اختیاری وقت: فجرِ صادق کے طلوع سے لے کر واضح روشنی (اسفارِ بین) تک۔
ضروری وقت: واضح روشنی کے بعد سے سورج نکلنے تک۔
📌 نوٹ: اگر سورج نکلنے سے پہلے ایک رکعت مل جائے تو نماز ادا شمار ہوگی۔

☀️ ظہر

اختیاری وقت: سورج ڈھلنے سے لے کر ہر چیز کا سایہ ایک قامت ہونے تک۔
ضروری وقت: سایہ دگنا ہونے سے سورج غروب ہونے تک۔
فضیلت: شروع وقت میں نماز ادا کرنا افضل ہے، مگر جماعت کے انتظار میں ہلکی تاخیر مستحب ہے۔

🌇 عصر

اختیاری وقت: سایہ ایک قامت سے سورج کے زرد ہونے تک۔
ضروری وقت: سورج کے زرد ہونے سے غروب آفتاب تک۔
📌 نوٹ: جب سایہ دو قامت ہوجائے تو اس وقت چار رکعت کے بقدر ظہر اور عصر دونوں کا اشتراک ہوتا ہے۔

🌆 مغرب

اختیاری وقت: سورج غروب ہونے کے بعد فوراً، اتنی مہلت تک کہ نماز شرائط کے ساتھ ادا ہو سکے۔
ضروری وقت: اس کے بعد سے لے کر فجر تک۔

🌌 عشاء

اختیاری وقت: شفقِ احمر (سرخی) کے ختم ہونے سے رات کے پہلے تہائی حصے تک۔
ضروری وقت: دوسرے تہائی حصے سے فجر تک۔
📌 نوٹ: دوسرے تہائی حصے سے فجر تک مغرب اور عشاء کا وقتِ ضروری مشترک ہو جاتا ہے۔

✨ اہلِ اعذار کے لیے رخصت:
ضروری وقت میں نماز صرف ان لوگوں کے لیے جائز ہے جو عذر میں ہوں، جیسے:

✯ عورت کا حیض یا نفاس ختم ہونا،
✯ کافر یا مرتد کا اسلام قبول کرنا،
✯ نابالغ کا بالغ ہونا،
✯ سوئے یا بے ہوش شخص کا جاگ جانا،
✯ بھولنے والے کو یاد آنا۔ وغیرہ
📌 جو شخص ان اعذار کے ختم ہوتے ہی نماز کو اسی وقت پڑھ لے تو اس کی نماز ادا شمار ہوگی، قضا نہیں۔
لیکن جو شخص بلا عذر نماز کو وقتِ ضروری تک مؤخر کرے وہ گناہگار اور عاصی ہے۔
✒️ واللہ أعلم
#نماز

19/08/2025




📌 نمازوں کے اوقات (مالکیہ کے مطابق)

---

🔹 اجماعِ امت

امتِ مسلمہ کا اس بات پر اجماع ہے کہ پانچ وقت کی نمازوں کے لیے مقررہ اوقات ہیں، اور یہ نماز کی صحت کے لیے لازمی شرط ہیں۔

مالکیہ کے نزدیک ہر فرض نماز کے دو اوقات ہوتے ہیں:
1️⃣ وقتِ اختیاری
2️⃣ وقتِ ضروری

---

1️⃣ وقتِ اختیاری

یہ وہ وقت ہے جس میں نماز پڑھنے والا اپنی نماز ادا کرے تو بلا گناہ اور پوری طرح بری الذمہ ہے۔

▪️ یہ مزید دو درجوں میں تقسیم ہوتا ہے:

🔅وقتِ فضیلت:
نماز کے وقت کا ابتدائی حصہ، اور یہی سب سے افضل و پسندیدہ وقت ہے۔

🔅وقتِ توسعہ:
فضیلت کا وقت گزرنے کے بعد سے لے کر اختیاری وقت کے اختتام تک، جس میں نماز ادا کرنا درست ہے لیکن ابتدائی وقت جتنی فضیلت نہیں۔

---

2️⃣ وقتِ ضروری

یہ وقت، اختیاری وقت کے ختم ہونے کے بعد شروع ہوتا ہے۔

اس میں صرف اصحابِ اعذار نماز پڑھ سکتے ہیں۔
(اصحابِ اعذار یعنی جن کے پاس نماز وقتِ اختیاری میں نہ پڑھ سکنے کا شرعی عذر ہو۔ جیسے: جو اختیاری وقت میں سویا رہا، بھول گیا، یا عورت کا وقتِ اختیاری گزر چکنے کے بعد حیض سے پاک ہونا)۔

بلا عذر نماز کو وقتِ ضروری تک مؤخر کرنا مالکیہ کے نزدیک گناہ ہے۔

📌 البتہ اگر کسی نے اختیاری وقت میں کم از کم ایک رکعت پالی اور باقی نماز ضروری وقت میں ادا کی، تو وہ نماز وقت میں ادا شدہ شمار ہوگی اور اس پر کوئی گناہ نہیں ہوگا۔

---

✨ خلاصہ (موقفِ مالکیہ)

مالکیہ کے نزدیک:

نماز کے لیے وقت کا داخل ہونا اس کی صحت کی بنیادی شرط ہے۔

افضل یہ ہے کہ نماز کو ہمیشہ ابتدائی وقت (وقتِ فضیلت) میں ادا کیا جائے۔

صرف عذر والے شخص کے لیے ہی نماز کو وقتِ ضروری تک مؤخر کرنے کی رخصت ہے۔

---

✒️ واللہ أعلم
#نماز

Address

Okara

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Maliki Madhab Subcontinent- مالکی مذہب برِصغیر posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Maliki Madhab Subcontinent- مالکی مذہب برِصغیر:

Share