19/08/2025
جعلی سادات اور احساسِ برتری
ہمارے معاشرے میں ایک عجیب المیہ ہے کہ چند لوگ اپنے نسب کے حوالے سے جھوٹی برتری جتانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اصل میں یہ رویہ صرف احساسِ کمتری کا دوسرا روپ ہے، کیونکہ جو شخص اپنے کردار، عمل اور اخلاق سے اپنی پہچان بنانے میں ناکام رہتا ہے وہ حسب و نسب کے سہارے اپنی عزت قائم رکھنا چاہتا ہے۔
جعلی سادات کا معاملہ بھی اسی نفسیات کا شاخسانہ ہے۔ جب انسان کے پاس دلیل، علم اور کردار نہ ہو تو وہ جھوٹی شناخت تراش لیتا ہے تاکہ لوگوں پر رعب ڈالا جا سکے۔ یہ نہ صرف دھوکہ ہے بلکہ اپنے آپ کو بھی فریب دینے کے مترادف ہے۔
قرآن کریم نے واضح الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ اللہ کے نزدیک عزت اور برتری کا معیار صرف تقویٰ ہے، نہ نسل، نہ حسب، نہ ہی کوئی خاندانی لیبل۔ رسول اللہ ﷺ نے بھی فرمایا: "کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی فضیلت نہیں، سوائے تقویٰ کے۔"
جو لوگ جعلی طور پر اپنے آپ کو سید ظاہر کرتے ہیں وہ دراصل دوہرا جرم کرتے ہیں۔ ایک تو وہ جھوٹ اور فریب کے مرتکب ہوتے ہیں، دوسرا وہ اس مقدس نسبت کی توہین کرتے ہیں جسے اللہ نے عزت دی ہے۔ ایسے لوگوں کا یہ دعویٰ کہ وہ برتر ہیں، دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ ان کے پاس کوئی اور خوبی موجود نہیں۔
اصل سید یا حقیقی برتری رکھنے والا شخص اپنے اخلاق، کردار، دیانت اور خدمت سے پہچانا جاتا ہے، نہ کہ خاندانی دعووں سے۔ معاشرے کو بھی چاہیے کہ وہ جھوٹے دعوے داروں کے بجائے اصل خوبیوں اور انسانیت کو اہمیت دے۔