Almee DawateLasani - Official

Almee DawateLasani - Official Official Page - Famous Shrine of Indo-Pak Naqshbandi-Qadri sufi order Hazrat Pir Syed Jamat Ali Shah e LASANI Aliput Syedan Sharif, Narowal, Punjab, Pakistan.

عکس حضور تنویر لاثانی حضرت علامہ صاحبزادہ پیر سید محمد عثمان اکبر شاہ صاحب کی مدینہ شریف حاضری کے بعد پاکستان واپسی
18/08/2026

عکس حضور تنویر لاثانی حضرت علامہ صاحبزادہ پیر سید محمد عثمان اکبر شاہ صاحب کی مدینہ شریف حاضری کے بعد پاکستان واپسی

Big shout out to my newest top fans! 💎 Aslam Taj, Muhammad Aswad, Mazhar Iqbal, محمد سجاد محمد رزاق, Sohail Gujjar Sohai...
16/08/2026

Big shout out to my newest top fans! 💎 Aslam Taj, Muhammad Aswad, Mazhar Iqbal, محمد سجاد محمد رزاق, Sohail Gujjar Sohail Gujjar, Mohammad Ahmed Raza, Saeed Ahmed, Yahya Hussain, Mohammed IshAq Mohammed Ishaq, Muhammad Nawaz

Drop a comment to welcome them to our community,

مُرشِد پاک کے گرد جب لوگوں کا ہجوم اکٹھا ہوتا ہے کہ جہاں جاتے ہیں خدا کی مخلوق کے دل کِھنچے چلے آتے ہیں  یہ ﷲ پاک نے وہ ...
16/08/2026

مُرشِد پاک کے گرد جب لوگوں کا ہجوم اکٹھا ہوتا ہے کہ جہاں جاتے ہیں خدا کی مخلوق کے دل کِھنچے چلے آتے ہیں یہ ﷲ پاک نے وہ خاص مقام عطا فرمایا ہے جسے سوچ کر قرآن پاک کی یہ آیت ذہن نشیں ہوتی ہے :

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا(96)
ترجمہ؛
بیشک وہ جو ایمان لائے اور نیک اعمال کئے عنقریب رحمٰنﷻ لوگوں کے دلوں میں ان کیلیے محبت پیدا فرما دے گا۔
(سورة مریم، آیت:96)
ﷲ پاکﷻ میرے مرشد کریم کو نظرِ بد سے محفوظ رکھے آمین
゚viralシfypシ゚viralシalシ

حضور خاتم الانبیاء صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت کے اس مبارک مہینے میں اس پیغام کو دوسروں تک پہنچانا ہم سب ...
15/08/2026

حضور خاتم الانبیاء صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت کے اس مبارک مہینے میں اس پیغام کو دوسروں تک پہنچانا ہم سب کی زمہ داری ہے۔شئیر کرتے جائیں
جزاک اللّہ
゚viralシfypシ゚viralシalシ

14/08/2026
حاضر ہوا ميں شيخ مجدد کي لحد پروہ خاک کہ ہے زير فلک مطلع انواراس خاک کے ذروں سے ہيں شرمندہ ستارےاس خاک ميں پوشيدہ ہے وہ ...
12/08/2026

حاضر ہوا ميں شيخ مجدد کي لحد پر
وہ خاک کہ ہے زير فلک مطلع انوار

اس خاک کے ذروں سے ہيں شرمندہ ستارے
اس خاک ميں پوشيدہ ہے وہ صاحب اسرار

گردن نہ جھکي جس کي جہانگير کے آگے
جس کے نفس گرم سے ہے گرمي احرار

وہ ہند ميں سرمايہء ملت کا نگہباں
اللہ نے بر وقت کيا جس کو خبردار

کي عرض يہ ميں نے کہ عطا فقر ہو مجھ کو
آنکھيں مري بينا ہيں ، و ليکن نہيں بيدار!

آئي يہ صدا سلسلہء فقر ہوا بند
ہيں اہل نظر کشور پنجاب سے بيزار

عارف کا ٹھکانا نہيں وہ خطہ کہ جس ميں
پيدا کلہ فقر سے ہو طرئہ دستار

باقي کلہ فقر سے تھا ولولہء حق
طروں نے چڑھايا نشہء 'خدمت سرکار'!

علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ
بال جبریل
゚viralシfypシ゚viralシalシ

28 صفر : یوم وصال سیدنا مجدِّد اَلفِ ثانی علیہ الرحمہ پیشکش : پروفیسر عون محمد سعیدی مصطفوی ، جامعہ نظام مصطفی بہاولپورح...
12/08/2026

28 صفر : یوم وصال سیدنا مجدِّد اَلفِ ثانی علیہ الرحمہ
پیشکش : پروفیسر عون محمد سعیدی مصطفوی ، جامعہ نظام مصطفی بہاولپور
حضرت شیخ مجدِّد اَلفِ ثانی رحمۃ اللہ علیہ کا نام کسی تعارُف کا محتاج نہیں، آپ رحمۃ االلہ علیہ کا شمار اپنے زمانے کے بہترین اور جلیل القدر عُلماء میں ہوتا ہے، اللہ تعالی نے آپ رحمۃ اللہ علیہ کو ظاہری وباطنی کمالات سے خوب نوازا، آپ رحمۃ االلہ علیہ سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ کے اکابر مشایخ میں سے ہیں۔

ولادتِ باسعادت اور اسمِ گرامی
ابو البرکات بدر الدین شیخ احمد سرہَندی مجدِّد اَلفِ ثانی رحمۃ االلہ علیہ کی ولادتِ باسعادت 971ھ/مطابق 1563ء کو ہندوستان کے علاقہ "سرہَند" میں ہوئی، آپ رحمۃ االلہ علیہ کا اصل نام شیخ احمد سرہَندی ابن شیخ عبد الاَحد رحمۃ االلہ علیہ ہے۔ آپ کا سلسلۂ نسَب 29 واسطوں سے صحابئ رسول حضرت سیِّدنا عمر بن خطّاب سے جا ملتا ہے۔(سیرتِ مجدِّد الف ثانی" حسب نسَب، 74 مُلخصا)
اسی نسبت سے آپ رحمۃ االلہ علیہ کو فاروقی بھی کہا جاتا ہے۔
"روضۃ القیّومیہ" میں مذکور ہےکہ امام ربّانی حضور مجدِّد اَلف ِثانی رحمۃ االلہ علیہ کی ولادتِ باسعادت پر کُل اولیائے امّت نے جمع ہو کر، آپ رحمۃ االلہ علیہ کی والدہ ماجدہ کو مبارکباد دی، اور آپ کے مَدراجِ عالیہ بیان فرمائے۔
(روضۃ القیومیہ (اردو)" رکنِ اوّل، اُن واقعات کے بیان میں جو ...الخ، 54،ملخصاً)
"روضۃ القیّومیہ"میں مزید یہ بھی مذکور ہے کہ حضرت مجدِّد اَلفِ ثانی رحمۃ االلہ علیہ کی ولادت کے وقت مغل فرمانروا جلال الدین اکبر نے ایک وحشت ناک خواب دیکھا، کہ شمالی جانب سے ایک تُند وتیز ہوا آئی ہے، جس نے بادشاہ کو اس کے تاج وتخت سمیت اُٹھا کر زمین پر دے مارا ہے۔ بادشاہ اس خواب سے بہت پریشان ہوا، اس نے تعبیر بیان کرنے والوں سے دریافت کیا، تو اُنہوں نے یہ تعبیر بتائی کہ کسی ایسے بزرگ کے ظُہور کا وقت آ پہنچا ہے، جس سے آپ کا نظامِ سلطنت بدل جائے گا( ایضاً، 58۔)۔

ابتدائی تعلیم :
شیخ مجدِّد اَلفِ ثانی رحمۃ االلہ علیہ نے بچپن میں ہی پہلے قرآنِ کریم حفظ کیا، اور اس کے بعد مزید دینی تعلیم اور علومِ مُتداوِلہ اپنے والدِ گرامی حضرت شیخ عبد الاَحد رحمۃ االلہ علیہ سے حاصل کیے، جو ایک ممتاز عالمِ دین اور صوفیانہ طبیعت ومزاج کے مالک تھے۔ بعد ازاں سیالکوٹ اور کشمیر تشریف لے گئے، جہاں اکابر عُلمائے کرام کی بارگاہ میں حاضر ہو کر معقولات، اور فنِ حدیث میں مہارت حاصل کی، حتّی کہ صرف 17 سال کی عمر میں تمام تعلیمی مراحل سے گزر کر، درس وتدریس میں مشغول ہو گئے۔
(تجلیات امام ربّانی" حیاتِ مجدِّدِ اعظم، 89، 90، ملخصاً۔ )

اساتذۂ کرام
حضرت مجدِّد الفِ ثانی نے جن اساتذۂ کرام کے سامنے زانوئے تتلمُّذ طے کیے، ان میں سے چند معروف علمائے دین کے اسمائے گرامی حسبِ ذیل ہیں:
(1) حضرت مخدوم عبد الاَحد فاروقی (والدِ ماجد)، (2) حضرت شیخ کمال کشمیری، (3) حضرت شیخ یعقوب کشمیری، (4) حضرت قاضی بہلول بدخشی رحمۃ االلہ علیہ ۔
( سیرتِ مجدِّد الف ثانی" تعلیم وتعلُّم، 84 ،ملخصاً۔)۔

بیعت واجازت :
حضرت مجدِّد الفِ ثانی رحمۃ االلہ علیہ سلسلۂ نقشبند میں حضرت خواجہ محمد باقی باللہ رحمۃ االلہ علیہ کے مرید وخلیفہ ہیں، اللہ تعالی کے فضل اور مُرشِدِ کریم کی نظرِ کرم، صوفیانہ تربیت اور روحانی تصرُف کی برکت سے، حضرت مجدّد الفِ ثانی رحمۃ االلہ علیہ کو اس قدر باطنی کمالات حاصل ہوئے، کہ دیکھتے ہی دیکھتے آپ رحمۃ االلہ علیہ کے علم وفضل اور بزرگی کی شہرت دُور دُور تک پھیل گئی، اور متلاشیانِ حق اور تشنگانِ علم دُور دراز سے آکر اپنی تشنگی دُور کرنے اور فیضیاب ہونے لگے۔

پیر ومرشد کا ادب واحترام :
امام ربّانی مجدِّد الفِ ثانی رحمۃ االلہ علیہ اپنے پیر ومُرشِد، حضرت خواجہ محمد باقی باللہ رحمۃ االلہ علیہ کا بڑا ادب واحترام کیا کرتے، اور مُرشِدِ کریم رحمۃ االلہ علیہ بھی حضرت مجدِّد الفِ ثانی رحمۃ االلہ علیہ سے بڑی محبت فرماتے، اور انہیں قدر ومنزلت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔
"زُبدۃ المقامات" میں مذکور ہے کہ ایک روز حضرت مجدِّد پاک رحمۃ االلہ علیہ اپنے حُجرے میں ایک تخت پر آرام فرما تھے، کہ حضرت خواجہ محمد باقی باللہ رحمۃ االلہ علیہ تنِ تنہا تشریف لائے، خادم نے دیکھا تو حضرت مجدِّد رحمۃ االلہ علیہ کو بیدار کرنا چاہا، مگر حضرت خواجہ محمد باقی رحمۃ االلہ علیہ نے سختی سے منع فرمایا، اور حُجرے کے باہر آپ رحمۃ االلہ علیہ کے بیدار ہونے کا انتظار فرمانے لگے، تھوڑی دیر بعد کچھ آہٹ ہوئی تو حضرت مجدِّد رحمۃ االلہ علیہ کی آنکھ کُھل گئی، آپ رحمۃ االلہ علیہ نے آواز دی: کون ہے؟ پیر ومرشِد حضرت خواجہ محمد باقی باللہ رحمۃ االلہ علیہ نے فرمایا کہ "فقیر محمد باقی"، پیر ومُرشِد کی آواز سنتے ہی حضرت مجدِّد الفِ ثانی رحمۃ االلہ علیہ بےقرار ہوگئے، اور باہر آکر نہایت عاجزی وانکساری کے ساتھ اپنے مُرشِدِ کریم کے سامنے با ادب بیٹھ گئے۔
( دیکھیے: "تذکرۂ مجدِّد الفِ ثانی" پیر ومرشِد کا ادب واحترام (حکایت)، 9، 10 بحوالہ "زُبدۃ المقامات"۔)۔

شُیوخ وسلاسِل :
شیخ احمد سرہَندی فاروقی، المعروف بہ مجدِّد الفِ ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے متعدِد بزرگوں اور سلاسلِ طریقت سے اکتسابِ فیض کیا اور نسبت وخلافت پائی، ان میں سے چند معروف مشایخِ طریقت کے اسمائے گرامی حسبِ ذیل ہیں:
(1) حضرت خواجہ محمد باقی باللہ، (2) حضرت مخدوم عبد الاَحد فاروقی (والدِ ماجد)، (3) حضرت شیخ یعقوب صرفی کشمیری، (4) حضرت سیِّد سکندر شاہ قادری رحمۃ االلہ علیہم۔
حضرت مجدِّد الفِ ثانی رحمۃ االلہ علیہ اپنے مکتوب میں تین3 سلاسل ِ طریقت میں اکتسابِ فیض کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ "مجھے کثیر واسطوں سے حضور نبئ کریم ﷺ سے شرفِ اِرادت حاصل ہے، سلسلۂ نقشبند یہ میں 21، سلسلۂ قادریہ میں 25، اور سلسلۂ چشتیہ میں 27 واسطوں سے "(مکتوباتِ امام ربّانی" دفتر سوم3، مکتوب ہشتاد وہفتم87، جلد2، حصّہ نہم، 26۔ )۔

اَولادِ اَمجاد :
اللہ ربّ العالمین نے حضرت مجدِّد شیخ احمد سرہَندی فاروقی رحمۃ االلہ علیہ کو 7 بیٹوں، اور 3 بیٹیوں سے نوازا، ان میں سے تین صاحبزادوں اور تین صاحبزادیوں کا بچپن میں ہی انتقال ہوگیا تھا۔ حضرت مجدِّد رحمۃ اللہ علیہ کی اَولادِ اَمجاد میں سے بیٹوں کے اسمائے گرامی حسبِ ذیل ہیں:
(1) حضرت خواجہ محمد صادق، (2) حضرت خواجہ محمد سعید، (3) حضرت خواجہ محمد معصوم، (4) حضرت خواجہ محمد فرخ، (5) حضرت خواجہ محمد عیسیٰ، (6) حضرت خواجہ محمد اشرف، (7) حضرت خواجہ محمد یحییٰ رحمۃ االلہ علیہم۔
(جواہرِ مجدِّدیہ،تیسرا جوہر، 110- 113، ملتقطاً)

خُلفائے گرامی :
رفیقانِ ملّتِ اسلامیہ! حضرت مجدِّد الفِ ثانی رحمۃ االلہ علیہ سلطانِ طریقت تھے، متعدِد بزرگانِ دین اور اولیائے کرام رحمۃ االلہ علیہ نے، آپ رحمۃ االلہ علیہ کی رُوحانی توجُہ کی برکت سے، ولایت کی منازل ودرَجات طے کیے، اور مَسندِ رُشد وہدایت پر فائز ہوئے، جن خوش بختوں کو حضرت مجدِّد الف ثانی رحمۃ االلہ علیہ کی صحبت اور ہمنشینی میسّر آئی، اور اجازت وخلافت کے پروانوں سے سرفراز کیے گئے، اُن میں سے چند ممتاز خُلفاء حضرات کے اسمائے گرامی حسبِ ذیل ہیں:
(1) حضرت خواجہ محمد صادق، (2) حضرت خواجہ محمد سعید، (3) حضرت خواجہ محمد معصوم، (4) حضرت میر محمد نعمان اکبرآبادی، (5) حضرت شیخ حمید بنگالی، (6) شیخ طاہر لاہوری، (7) خواجہ محمد صدّیق کشمی، (8) خواجہ صادق کابُلی، (9) شیخ بدیع الدین سہارَنپوری، (10) مولانا یوسف سمرقندی، (11) شیخ احمد استنبولی، (12) خواجہ محمد ہاشم، (13) شیخ نور محمد بہاری، (14) شیخ زین العابدین، (15) سیِّد مُحبّ اللہ مانک پوری، (16) مولانا صغیر احمد رُومی، (17) شیخ طاہر اللہ بدخشی رحمۃ االلہ علیہم۔
( ایضاً، حضرت مجدِّد کے خلفاء، 113، 114، ملتقطا)۔

تصنیفات :
حضرت مجدِّد الفِ ثانی رحمۃ االلہ علیہ کی تصنیفات کے طَور پر سب سے زیادہ مشہور کتاب (1) "مکتوباتِ امام ربّانی" ہے، یہ فارسی زبان میں ہے، البتہ اردو، عربی، ترکی اور انگریزی زبان میں اس کے تراجم بھی شائع ہو چکے ہیں، آپ رحمۃ االلہ علیہ کے چار4 دیگر رسائل کے نام یہ ہیں: (2) اِثباتِ نبوّت، (3) تہلیلہ، (4) معارفِ لدُنیہ، (5) شرحِ رُباعیات۔
( "تذکرہ مجدِّد الف ثانی" تصانیف، 34۔)۔

سیرتِ مبارکہ :
میرے محترم بھائیو! حضرت مجدِّد الف ثانی رحمۃ االلہ علیہ بڑے ہی بلند پایہ اور پاکیزہ سیرت کے حامل با عمل بزرگ تھے، "آپ رحمۃ االلہ علیہ جامعِ علوم ِشریعت وطریقت تھے، آپ رحمۃ االلہ علیہ سنّتِ رسول کے پابند تھے، عبادت ومجاہدہ، صبر وشکر، علم وتواضُع، زُہد وتقویٰ، توکُل وقناعت اور تسلیم ورِضا میں یگانۂ عصر تھے، نعمتِ الٰہی حاصل ہوتی تو اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاتے، اور کوئی تکلیف پہنچتی تو صبر فرماتے تھے، آدھی رات کو بیدار ہو کر عبادت میں مشغول ہو جاتے، اور نمازِ تہجد پابندی سے ادا فرماتے تھے"۔
(تذکرہ اولیائے پاک وہند" حصّہ ششم، باب 52،261، ملتقطاً)

اِتّباعِ شریعت :
شیخ احمد سرہَندی فاروقی رحمۃ اللہ علیہ شریعت کے بڑے پابند تھے، آپ رحمۃ االلہ علیہ کے نزدیک محبتِ رسول کا سب سے بڑا تقاضا ہی یہ تھا، کہ مصطفی جانِ رحمت ﷺ کے اُسوۂ حسنہ، اور شریعتِ مطہَّرہ کی تعلیمات پر عمل کیا جائے۔ حضرت مولانا محمد ہاشم کشمی رحمۃ االلہ علیہ فرماتے ہیں کہ "(حضرت مجدِّد الفِ ثانی رحمۃ االلہ علیہ) اس حال کو جس میں شریعت اور اہلِ سنّت وجماعت کی رائے کی مُخالفت ہوتی قبول نہ کرتے تھے، اور فرماتے تھےکہ اَحوال شریعت کے تابع ہیں، شریعت اَحوال کے تابع نہیں؛ کیونکہ شریعت قطعی ہے اور وحی سے ثابت ہے، اَحوال ظنّی ہیں جو کشف واِلہام سے ثابت ہوتے ہیں"۔
(رسائل مجدّدالفِ ثانی" مجدِّد الفِ ثانی کردار وافکار، 15)

آدابِ نماز کی رِعایت :
حضرت مجدِّد الفِ ثانی رحمۃ االلہ علیہ تمام اُمورِ شریعت، بالخصوص پنجگانہ نماز کو بڑے آداب اور خشوع وخضوع سے ادا فرماتے تھے، تقویٰ کا دامن ہمیشہ تھامے رہتے، اور نماز کے فرائض وواجبات، اور سُنن ومستحبات میں سے کوئی چیز ترک نہیں فرماتے تھے۔
حضرت مولانا بدر الدین سرہَندی رحمۃ االلہ علیہ اپنا ذاتی مُشاہدہ بیان فرماتے ہیں کہ "میں حضرت شیخ احمد سرہندی رحمۃ االلہ علیہ کی نماز دیکھ کر بےاختیار ہو جاتا، اور یہ یقین رکھتا تھا کہ آپ رحمۃ اللہ علیہ ہمیشہ سروَرِ کائنات ﷺ کی بارگاہ میں حاضر رہتے ہیں، حضور ﷺ کی نماز کو دیکھتے ہیں، اور اسی طریقے کے مطابق نماز ادا فرماتے ہیں، یوں تو اس فقیر نے دوسرے علماء ومشایخ کو بھی دیکھا ہے، لیکن ایسی نماز کسی کی نہیں دیکھی"
(ایضاً، احتیاط وتقویٰ، 17)
حضرت مجدِّد الفِ ثانی رحمۃ االلہ علیہ آدابِ نماز کی رعایت سے متعلق بذاتِ خود ارشاد فرماتے ہیں کہ "لوگ ریاضت ومجاہدات کی ہوَس کرتے ہیں، حالانکہ کوئی ریاضت ومُجاہدہ آدابِ نماز کی رعایت کے برابر نہیں، (مزید یہ بھی ارشاد فرمایاکہ) بہت سے ریاضت کرنے والوں اور پرہیز گاروں کو دیکھا جاتا ہے، کہ رعایتوں اور احتیاطوں میں مشغول ہیں، لیکن آدابِ نماز میں سُستی برتتے ہیں"
(ایضاً)

اہلِ سنّت وجماعت کے دامن سے وابستگی کی تلقین :
شیخ الاسلام والمسلمین حضرت مجدِّد الفِ ثانی رحمۃ االلہ علیہ نے اپنے مریدوں اور عقیدتمندوں کو اہلِ سنّت وجماعت کے دامن سے لپٹے رہنے کی بڑی تلقین کی، اور ارشاد فرمایا کہ " نَجات کا حاصل ہونا صرف اسی پر مَوقوف ہے کہ تمام اَفعال واقوال اور اُصول وفُروع میں اہلِ سنّت وجماعت کا اِتّباع کیا جائے، اور صرف یہی فرقہ جنّتی ہے، اس کے سوا جتنے فرقے ہیں سب زَوال کے مقام، اور ہلاکت کے کنارے پر ہیں، آج اس بات کو کوئی جانے یا نہ جانے، کَل قیامت کے دن ہر شخص اس بات کو جان لے گا، مگر اس وقت کا جاننا کچھ نفع نہ دے گا!"۔( "مکتوباتِ امام ربّانی" دفترِ اوّل، مکتوب شصت ونہم69،جلد 1، حصّہ دُوم، 50 ، ملخصاً)

عقیدہ اَفضلیتِ صحابہ سے متعلق حضرت مجدِّد رحمۃ اللہ علیہ کی رائے :
حضرت مجدِّد الفِ ثانی رحمۃ االلہ علیہ صحابۂ کرام کی شان وعظمت اور مَراتب ودرَجات کو پیش ِ نظر رکھتے ہوئے، سب کا یکساں ادب واحترام فرماتے تھے، اور ان کے ساتھ محبت رکھتے تھے، آپ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ "حضورِ اکرم ﷺ کے تمام صحابۂ کرام کو نیکی کے ساتھ یاد کرنا چاہیے، اور نبئ کریم ﷺ ہی کی وجہ سے ان کے ساتھ محبت رکھنی چاہیے؛ (کیونکہ) ان کے ساتھ محبت رحمتِ عالمیان ﷺ کے ساتھ محبت ہے، اور ان کے ساتھ عداوَت سروَرِ کشوَرِ رسالت ﷺ ہی کے ساتھ عداوَت ہے"۔(ایضاً، مکتوب دو صد وشصت وششم266، حصّہ چہارُم، 132)
صحابۂ کرام میں باہم اَفضلیت کے اعتبار سے حضرت شیخِ مجدِّد رحمۃ اللہ علیہ کا عقیدہ وہی ہے جو دیگر اہلِ سنّت وجماعت کا ہے، اس بارے میں آپ رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا کہ "خلفائے راشدین میں اَفضیلت کی ترتیب خلافت کی ترتیب کے مُوافق ہے، لیکن شیخین (یعنی سیِّدنا ابوبکر صِدّیق اور سیِّدنا عمر فاروق ) کی اَفضلیت صحابہ وتابعین کے اِجماع سے ثابت ہے( ایضاً، 129)
اور اکثر اہلِ سنّت کا یہی مذہب ہے کہ سیِّدنا ابوبکر صِدّیق اور حضرت سیِّدنا عمر کے بعد تمام صحابہ میں افضل حضرت سیِّدنا عثمانِ غنی ہیں، اور ان کے بعد حضرت سیِّدنا مولیٰ علی افضل ہیں. ( ایضاً، 130۔)۔

محبتِ اہلِ بیت سےمتعلّق حضرت مجدِّد کا عقیدہ :
امامِ ربّانی حضور مجدِّد الفِ ثانی رحمۃ اللہ علیہ اہلِ بیتِ کرام سے بھی بڑی محبت وعقیدت رکھتے تھے، اور فرماتے ہیں کہ "حضورِ اقدس ﷺ کے اہلِ بیتِ کرام کے ساتھ محبت کا فرض ہونا نصِ قطعی سے ثابت ہے، اللہ عزوجل نے اپنے حبیب کریم ﷺ کی دعوتِ حق، اور تبلیغِ اسلام کا عِوض امّت پر یہی قرار دیا، کہ حضورِ اکرم ﷺ کے قرابت داروں کے ساتھ محبت کی جائے، جیسا کہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: ﴿قُلْ لَّاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبٰى، وَمَنْ يَّقْتَرِفْ حَسَنَةً نَّزِدْ لَهٗ فِيْهَا حُسْنًا﴾ ( پ25، الشُورى: 23.) "
اےحبیب آپ فرما دیجیے! کہ میں اس خدمتِ دین اور احسان پر تم سے، سوائے قَرابت کی محبت کے کچھ اُجرت نہیں مانگتا، اور جو نیک کام کرے ہم اس کےلیے اس میں خوبی بڑھائیں"۔
( مکتوباتِ امام ربّانی" دفترِ اوّل، مکتوب دو صد وشصت وششم266، جلد ۱، حصّہ ۴،؃ 124۔)۔

تعلیماتِ امام ربّانی :
حضرت مجدِّد شیخ احمد سرہَندی فاروقی نقشبندی رحمۃ االلہ علیہ کی تعلیمات زُہد واِخلاص، تقویٰ وپرہیز گاری، فکرِ آخرت، اصلاحِ اعمال، اور تزکیۂ نفس پر مبنی ہیں، آپ رحمۃ االلہ علیہ کے مکتوبات اس کی واضح اور روشن مثال ہیں، آپ رحمۃ االلہ علیہ نے اپنے مریدوں، عقیدت مندوں اور محبت رکھنے والوں کو جو تعلیمات ارشاد فرمائیں، اُن سب کا اِحاطہ اس مختصر سی تحریر میں کرنا تقریباً نا ممکن ہے، البتہ چیدہ چیدہ تعلیمات واِرشادات حسبِ ذیل ہیں:

ترکِ دنیا کی تلقین :
(1) "ترکِ دنیا کی دو قسمیں ہیں: ایک تو یہ کہ ضروریات کے سوا تمام دنیوی مُباحات (جائز اُمور) کو بھی چھوڑ دیا جائے، یہ اعلیٰ قسم کا ترک ہے۔ اور دوسری قسم یہ کہ محرّمات اور مشتبہات سے اجتناب کیا جائے، اور مُباح اُمور سے فائدہ حاصل کیا جائے، یہ قسم بھی خاص کر ہمارے عہد میں نادرُ الوُجود اور کمیاب ہے"۔(ایضاً، مکتوب صد وشصت وسیوم163، جلد1، 45، 46۔ )۔

انبیائے کرام کی پَیروی کی تاکید :
(2) سعادتِ اَبَدی اور نَجات حضراتِ انبیائے کرام کی متابعت وپَیروی سے وابستہ ہے، اگر بالفرض ہزار سال تک عبادت کی جائے، سخت ریاضتیں اور کٹھن مُجاہدات کیے جائیں، مگر ان انبیائے کرام کے نورِ متابعت وتابعداری سے ہمارے سینے منوّر نہ ہوں، تو ان تمام ریاضتوں اور مجاہدوں کو ایک جَو کے بدلے بھی نہ خریدا جائےگا (یعنی ایسی ریاضتوں کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی)، لیکن اگر دوپہر کا سونا (قیلولہ) جو سراسر غفلت ہے، ان حضراتِ انبیاء کی مُتابعت وپَیروی میں کر لیا جائے، تو یہ اُن ریاضوں اور مُجاہَدوں سے کہیں بڑھ کر ہوگا۔(ایضاً، مکتوب صد ونود و یکم، ص 77،ملخصاً)

شریعت وطریقت میں باہمی تعلق :
(3) شریعت دنیا وآخرت کی تمام سعادتوں کی ضامِن ہے، اور کوئی ایسا مطلب نہیں جس کے حاصل کرنے میں شریعت کے سِوا کسی اَور چیز کی حاجت پڑے، اور طریقت وحقیقت دونوں شریعت کے خادِم ہیں(ایضاً، مکتوب سی وششم 36)

نفسِ اَمّارہ کی پیروی کا نقصان:
(4) شیطان خواہشاتِ انسانی کی راہ سے آتا ہے، اور انسان کو مرغوب چیزوں کی طرف رہنمائی کرتا ہے، دشمنِ خانگی نفسِ اَمّارہ کی مدد سے انسان پر غلبہ پاتا، اور اُس کو اپنا فرمانبردار بنالیتا ہے، درحقیقت ہماری بلا نفسِ اَمّارہ ہی ہے جو ہمارا جانی دشمن ہے، لہٰذا سب سے پہلے اپنے نفس کا سر کاٹنا چاہیے اور اُس کی تابعداری چھوڑ دینی چاہیے۔
(ایضاً، دفتر سوم3، مکتوب سی وسیوم33، جلد2، ص 84)

ظاہری وباطنی دَولت :
(5) حقیقت میں ظاہری دَولت یہ ہے کہ اپنے ظاہر کو شریعتِ مصطفویہ کے اَحکام سے آراستہ کیا جائے، اور باطنی دَولت یہ ہے کہ اپنے باطن کو ما سوائے حق سبحانہ کی گرفتاری سے خلاص وآزاد کیا جائے"۔
(مکتوباتِ امام ربّانی، مکتوب چہل ونہم49، ج1، ص 211)

حضرت مجدِّد الفِ ثانی رحمۃ االلہ علیہ سے شاعر مشرق کی عقیدت :
میرے محترم بھائیو! شاعرِ مشرق ڈاکٹر محمد اقبال رحمۃ االلہ علیہ حضرت مجدِّد الفِ ثانی رحمۃ االلہ علیہ کی دینی خدمات، تبلیغی کوششوں اور رُوحانی مقام ومرتبہ سے بڑے متاثر تھے، بلکہ حضرت مجدِّد رحمۃ االلہ علیہ سے گہری عقیدت ومحبت رکھتے تھے، شاعرِ مشرق ڈاکٹر محمد اقبال رحمۃ االلہ علیہ کی حضور شیخِ مجدِّد رحمۃ االلہ علیہ سے گہری نیاز مندی کا اندازہ اس بات سے لگائیے، کہ ڈاکٹر اقبال نے باقاعدہ حضرت مجدِّد رحمۃ االلہ علیہ کے مزارِ پُرا نوار پر حاضری دی، اور آپ کی شان میں ایک منقبت بھی قلمبند فرمائی، جس میں حضرت مجدِّد پاک رحمۃ االلہ علیہ کی رُوحانی شان وعظمت کا اعتراف کرتے ہوئے تحریر فرمایا:
حاضر ہوا میں شیخِ مجدِّد کی لحد پر
وہ خاک کہ ہے زیرِ فلک مَطلعِ انوار
اس خاک کے ذرّوں سے ہیں شرمندہ ستارے
اس خاک میں پوشیدہ ہے وہ صاحبِ اَسرار
گردن نہ جھکی جس کی جہانگیر کے آگے
جس کے نفَسِ کرم سے گرمئ اَحرار
وہ ہند میں ہے سرمایۂ ملّت کا نگہباں
اللہ نے بَر وقت کیا جس کو خبردار
بال جبریلِ، پنجاب کے پیر زادوں سے، 488، 489)

بادشاہ جہانگیر کو سجدۂ تعظیمی سے انکار :
حضراتِ گرامی قدر! حضرت مجدِّد الفِ ثانی رحمۃ االلہ علیہ کا زمانہ اَز حد پُرآشوب تھا، ہر طرف بدعت وضلالت (گم راہی) کے اندھیرے پھیلے ہوئے تھے، کفر وشرک کی خزائیں زوروں پر تھیں، اکبر بادشاہ کی اسلام دشمنی اور جہانگیر کی آزاد رَوی کے سامنے حضرت مجدِّد پاک رحمۃ االلہ علیہ کے عزم واِستقلال نے اندھیروں اور خزاؤں کا تسلُط ختم کیا، اور شہنشاہوں کی اکڑی ہوئی گردنیں خم کر دیں، جس وقت بادشاہِ وقت نے حضرت مجدِّد رحمۃ االلہ علیہ کو سجدۂ تعظیمی کےلیے مجبور کیا، تو آپ رحمۃ االلہ علیہ نے صاف انکار کیا اور ارشاد فرمایا کہ "جو سر بارگاہِ الٰہی میں جھکتا ہو، کسی اَور کے دروازے پر کیسے جھک سکتا ہے!"۔ سجدۂ تعظیمی سے انکار کے بعد حضرت شیخ احمد سرہَندی نقشبندی رحمۃ االلہ علیہ کو طرح طرح سے ظلم وستم کا نشانہ بنایا گیا، لیکن آپ رحمۃ االلہ علیہ کے پایۂ استقلال میں کوئی لرزش نہ آئی، ایسی جرأت، استقلال اور استقامت کی توقع سیِّدنا فاروق ِاعظم کے لختِ جگر سے ہی کی جا سکتی ہے۔
(رسائلِ مجدّد الفِ ثانی" عزم واستقلال، 21 ،ملخصاً)

شاہ جہاں کی بادشاہت اور حضرت مجدِّد کی بِشارت :
حضرت مجدِّد الفِ ثانی رحمۃ االلہ علیہ اللہ تعالیٰ کے کامل ولی، واقف اَسرارِ حقیقت، اور مُقرَّبِ بارگاہِ اِیزدی تھے، آپ رحمۃ االلہ علیہ جو دعا مانگتے وہ جلد سندِ قبولیت پالیتی تھی، منقول ہے کہ "ایک دن حضرت مجدِّد رحمۃ االلہ علیہ تنہا بیٹھے تھے کہ بادشاہ جہانگیر کا بیٹا شہزادہ خرم آپ رحمۃ االلہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ "یہ عجیب بات ہے کہ میں نے ہمیشہ آپ کی طرفداری و حمایت کی، مگر آپ نے میرے حق میں دعا کے بجائے بادشاہ کے حق میں دعا فرمائی!" آپ رحمۃ االلہ علیہ نے جواباً فرمایا کہ "مت گھبراؤ؛ کیونکہ مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ معلوم ہوا ہے کہ عنقریب تخت پر تو بیٹھے گا، اور تیرا لقب "شاہ جہاں" ہوگا"، شہزادہ خرم نے حضرت مجدِّد رحمۃ االلہ علیہ کی خدمت میں عرض کی کہ "مجھے بطورِ تبرک اپنی دستار عطا فرمائیں، تو امامِ ربّانی رحمۃ االلہ علیہ نے اپنی دستار شہزادہ خرم کو عطا فرما دی، جو کافی عرصہ تک مغل بادشاہوں کے پاس تبرکاً محفوظ رہی"۔
("حضرت امام ربّانی مجدِّد الف ثانی " آن لائن آرٹیکل۔ )۔

حضور مجدِّد الف ثانی کی دینی خدمات :
امامِ ربّانی حضرت شیخ احمد سرہَندی فاروقی نقشبندی رحمۃ االلہ علیہ نے دینِ اسلام کی تبلیغ اور نشر واِشاعت میں گراں قدر دینی خدمات انجام دیں، آپ ﷫ نے جہالت کی تاریکیوں میں بھٹکنے والوں کو کتاب وسنّت کی دعوت دی، شرک وبدعت کے خلاف جدوجہد فرمائی، علمائے سُوء کی بیخ کنی فرمائی، جعلی پیروں کو بےنقاب کیا، حاکمِ وقت کے سامنے کلمۂ حق بلند فرمایا، اور دینِ اکبری کی صورت میں اٹھنے والے فتنے کااس طرح خاتمہ فرمایا، کہ آج پوری دنیا میں کوئی اس کا نام لیوا یا پَیروکار موجود نہیں۔

تبلیغی وُفود کی روانگی :
حضرت مجدِّد الف ثانی نے دنیا کے مختلف ممالک اور خِطوں میں مُتعدِِّد تبلیغی وُفود روانہ فرمائے، جن میں یمن (Yemen)، شام (Syria)، روم (Rome)، ترکستان (Turkestan)، کاشغر (Kashgar)، بدخشان (Badakhshan)، اور خُراسان (Khorasan) وغیرہ خاص طَور پر قابلِ ذکر ہیں، اسی طرح حضرت مجدِّد رحمۃ االلہ علیہ نے شاہی لشکر میں تبلیغ کی غرض سے اپنے خلیفہ شیخ بدیع الدین رحمۃ االلہ علیہ کو روانہ فرمایا۔ شیعہ وزیرِ اعظم آصف الدَولہ کو جب اس صورتحال کا علم ہوا، تو وہ بڑا غضبناک ہوا، اور یہکہہ کر بادشاہ جہانگیر کے خوب کان بھرے اور بھڑکایا، کہ یہ شخص بغاوَت کی تیاریاں کر رہا ہے، اس نے اندرونِ ملک اور فوج کے اندر ہی نہیں، بلکہ بیرونِ ممالک اپنے تبلیغی وُفود بھیج کر اپنا حلقۂ اثر بڑا وسیع کر لیا ہے، لہذا اپنے وزیر اعظم کے کہنے پر جہانگیر بادشاہ نے حضرت مجدِّد الف ثانی رحمۃ االلہ علیہ کے مرید گورنروں کے تبادلے دُور دراز علاقوں میں کر دیے، خانِ خاناں کو دَکن، خاں جہاں لودھی کو مالوہ (Malwa)، خانِ اعظم کو گجرات (Gujarat) اور مہابت خاں کو کابُل (Kabul) کا گورنر بنا دیا۔( "تجلّیاتِ امام ربّانی" حیاتِ مجدِّدِ اعظم، 99، 100، ملخصاً۔)
الغرض یہ کہ "عہد ِاکبری اور جہانگیری میں مَسندِ اقتدار سے لے کر عوام کے انتہائی پسماندہ طبقے تک، سری لنکا (Sri Lanka) کے ساحل سے لے کر آسام (Assam) کے جنگلات تک، بحیرۂ عرب (Arabian Sea) کے جنوبی مسلم علاقوں سے لے کر چین (China) کی سرحدوں تک، حضرت مجدِّد الفِ ثانی نے رُشد وہدایت کی جو شمع فروزاں کی، اس سے مذکورہ علاقوں کے ساتھ ساتھ پورا عالمِ اسلام منوّر ہوا، سلطنتِ مغلیہ کے مُقتدَر ایوانوں اور عام مسلم گھرانوں میں آپ رحمۃ االلہ علیہ کے تجدیدی کارناموں کی بدَولت لاکھوں اَفراد کی اصلاح ہوئی، حضرت مجدِّد پاک رحمۃ االلہ علیہ کی بے باکی، بے خوفی اور بے غرضی کو دیکھ کر قُرونِ اُولیٰ کے مسلمان صحابہ و تابعین کی یاد تازہ ہو جاتی ہے"۔
( امامِ ربّانی مجدِّد الفِ ثانی سوانح و عقائد ونظریات" آن لائن آرٹیکل)

فکری وشُعوری تربیت :
مجدِّد الفِ ثانی رحمۃ االلہ علیہ نے اپنے مکتوبات کے ذریعے، اپنے اِرادت مند اُمرائے دربار کی فکری وشُعوری تربیت فرمائی، ان کے کردار وعمل کی تطہیر کی، قابلِ ذکر علماء کو مکتوب روانہ کیے، اور باہم رابطے کےلیے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا، اور اس مقصد کےلیے اندرونِ مُلک اپنے خُلفاء بھی پھیلائے۔ اس طرح آپ رحمۃ االلہ علیہ نے اِحیائے اسلام کی جدوجہد کرنے والے کارکنوں کی سیرت، اَخلاق اور عادات کی پاکیزگی کے ساتھ ساتھ، ان میں جدوجہد کرنے، اور آگے بڑھنے کی تحریک پیدا فرمائی۔
(مجدِّد الف ثانی کی علمی ودینی خدمات" باب ١، ص 56)

حضرت مجدِّد الفِ ثانی رحمۃ االلہ علیہ کی ملّی وسیاسی خدمات :
حضرت شیخ مجدِّد رحمۃ االلہ علیہ کی ملّی وسیاسی خدمات کی بات کی جائے، تو آپ رحمۃ االلہ علیہ کی کاوِشوں کے نتیجہ میں خُسرو کی جگہ جہانگیر تخت نشین ہوا، جہانگیر اسلام کے معیار پرا گرچہ پورا تو نہیں اترتا تھا، لیکن اس کے برسرِ اقتدار آنے سے مطلوبہ معیار تک پہنچنے کی راہ ضرور ہموار ہوئی، جہانگیر نے اسلام مخالف پالیسی (Policy) اپنانے سے گریز کیا، اور غیرجانبدار رہنے کو ترجیح دی، بعد اَزاں یہی غیرجانبداری شاہ جہاں کے عہد میں اسلام کی حمایت اور ہمدردی میں تبدیل ہو گئی، حضرت مجدِّد رحمۃ االلہ علیہ کی روشن کی ہوئی شمع بڑھتے بڑھتے مینارۂ نور میں بدل گئی، لہذا جب شاہ جہاں کا بیٹا اَورنگزیب عالمگیر تخت نشین ہوا، تو اس نے تاریخ کا دھارا موڑ کر اسلام کی سَمت کر دیا، اور اپنی سرکاری حکمت ِ عملی کی بنیاد اُن اُصول پر رکھی، جنہیں حضرت مجدِّد الف ثانی رحمۃ االلہ علیہ نے وضع فرمایا تھا"
( ایضاً، 57۔)۔

فتنۂ اکبری کی سرکوبی :
عزیزانِ مَن! حضرت مجدِّد الفِ ثانی رحمۃ االلہ علیہ کی دینی خدمات میں سب سے نمایاں چیز فتنۂ دینِ اکبری کے خلاف جدوجہد اور اس کی سرکوبی ہے، آپ رحمۃ االلہ علیہ کے زمانے میں مغل بادشاہ اکبر برسرِ اقتدار تھا، ہجری اعتبار سے ایک ہزار سال مکمل ہونے پر اکبر بادشاہ کے بعض درباری علماء نےاسےاس بات پر اکسایا، کہ پچھلے ہزار سال میں دِین کی جو تعبیرات تھیں، وہ اب پرانی اور ناقابلِ عمل ہو چکی ہیں، اب دین کی نئی تعبیرات اور نئے علمی وفکری ڈھانچے کی ضرورت ہے، آپ بادشاہِ وقت ہیں، تمام اختیارات کے مالک ہیں، لہذا اگلے ہزار سال کےلیے بطورِ مجدِّد تجدیدِ دین کا اختیار بھی آپ ہی کو حاصل ہے، اکبر بادشاہ نے ان درباری اور دنیا کے طلبگار علمائے سُوء کی خوشامد اور بہکاوے میں آکر یہ اعلان کروا دیا کہ "وہ مجتہدِ اعظم ہے، لہذا قرآن وسنّت کی تشریح، تعبیر اور فقہی اختلافات کی صورت میں، کسی حکمِ واحد کی تعیین وغیرہ کا اختیار اکبر بادشاہ کو حاصل ہے، وہ جو بھی حکم دے گا وہی دین وشریعت ہے"۔("سیرتِ مجدّد الف ثانی" دوسرا دَور، 129، ملخصاً۔ )۔
اکبر بادشاہ نے نفسانی خواہشات کے مطابق دینِ اسلام کی نئی تعبیر وتشریح کی، دین کا ایک نیا علمی وفکری ڈھانچہ بنایا، اور اسے "دینِ الٰہی" کا نام دیا۔( ایضاً، 136، ملخصاً۔)۔
"دینِ الٰہی" کے نام پر مختلف مذاہب کا مرکّبُ اکبر بادشاہ نے اپنے اس مَن گھڑت اور نام نہاد "دینِ الٰہی" (فتنۂ اکبری) میں، ہندوستان میں بسنے والے سارے مذاہب کی چیدہ چیدہ باتوں کو لے کر ایک معجون دینِ مرکّب بنایا، اور ہندوستان میں بسنے والے ہندوؤں، عیسائیوں، پارسیوں، مجوسیوں اور مسلمانوں سمیت تمام مذاہب کے لوگوں کو خوش رکھنے کی کوشش کی( ایضا)
اکبر کے دینِ الٰہی میں سورج کی پرستش بھی تھی اور اللہ عزوجل کی عبادت بھی، حلال کاموں کے ساتھ ساتھ فعلِ حرام کی بھی اجازت دی گئی، سُور اور شراب کو جائز قرار دیا گیا، مشروط طَور پر زِنا کی بھی اجازت دی گئی، اور دوسری شادی کرنا حرام قرار دے دیا گیا، الغرض ایسے متعدِد غیرشرعی کاموں کا اِرتکاب کیا گیا، اور دینی اَحکام کو توڑ مروڑ کر حلال کو حرام، اور حرام کو حلال وجائز قرار دے دیا گیا۔
("مجدّد الفِ ثانی کی علمی ودینی خدمات" 31، ملخصاً)
ستم بالائے ستم یہ کہ اس نام نہاد "دینِ الٰہی" (فتنۂ اکبری) کو باقاعدہ سرکاری مذہب قرار دیا گیا، اور یہ اعلان کیا گیا کہ ہندوستانی عوام کا اب یہی مذہب ہوگا، اور ہر عام وخاص پر اِس کے اَحکام وضوابط کی پابندی کرنا لازم ہوگا۔
("سیرتِ مجدّد الف ثانی" دوسرا دَور، 129، ملخصاً)

حضرت مجدِّد الفِ ثانی رحمۃ اللہ علیہ کی علمی وفکری جد وجہد :
حضرت شیخ احمد سرہَندی فاروقی نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ نے "دینِ الٰہی" کے نام پر سر اٹھانے والے اس نئے فتنے کی سرکوبی کےلیے سب سے پہلے جد وجہد کا آغاز فرمایا، اور باطل عقائد ونظریات کی بھرپور تردید فرمائی، فتنۂ اکبری کے خلاف آپ رحمۃ االلہ علیہ کی جد وجہد علمی وفکری نَوعیت کی تھی، حضرت شیخ مجدِّد رحمۃ االلہ علیہ نے ہندوستانی فوج (Indian Army)، بیوروکریسی (Bureaucracy) اور درباری اُمراء سے روابط قائم کیے، اپنے مکتوبات کے ذریعے فرداً فرداً اُن کی ذہن سازی فرمائی، اور انہیں اپنے مَوقف پر قائل کیا، سالہا سال کی جد وجہد بالآخر رنگ لائی، اور اکبر بادشاہ کا بیٹا جہانگیر اپنے دَورِ بادشاہت میں اپنے باپ کے اس مَن گھڑت "دینِ الٰہی" (فتنۂ اکبری) سے عملی طور پر دستبردار ہوگیا، اور دینِ اسلام کے اصل عقائد ونظریات کی طرف واپس لَوٹ آیا۔ بادشاہ کے حضور سجدۂ تعظیمی مَوقوف کر دیا گیا، گائے کی قربانی عام ہو گئی، بلکہ سب سے پہلے خود جہانگیر بادشاہ نے قلعہ کانگڑا میں حضرت مجدِّد رحمۃ االلہ علیہ کی مَوجودگی میں گائے ذبح کرائی، شراب پر پابندی لگا دی گئی، اور بےشمار اصلاحات عمل میں لائی گئیں"("تجلّیات امام ربّانی" افتتاحیہ، 23، 24۔)۔
"اے شارٹ ہسٹری آف ہند وپاکستان" (A Short History of India And Pakistan) میں ہے کہ "جہانگیر کی تخت نشینی کے بعد "دینِ الٰہی" (فتنۂ اکبری) اپنی مَوت آپ مر گیا، بہر کیف اس اِلحاد واِرتداد کے خلاف جو زور دار آواز اٹھائی گئی وہ شیخ احمد سرہندی کی تھی، جن کو حضرت مجدِّد الفِ ثانی (رحمۃ االلہ علیہ) کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے"۔
(ایضاً، 20 بحوالہ "اے شارٹ ہسٹری آف ہند وپاکستان")

مجدِّدِ الفِ ثانی کی وجہِ تسمیہ :
جانِ برادر! دینِ اسلام کے اَحکام کو اس کی اصل شکل وصورت اور رُوح کے ساتھ بحال کرنے، اس کےلیے شب وروز کوششیں کرنے، قید وبند کی صُعوبتیں برداشت کرنے، اور ضلالت وگمراہی اور کفر وشرک کے تاریک دَور میں مینارۂ نور بن کر مجدِّدانہ کردار ادا کرنے کے سبب، حضرت شیخ احمد سرہَندی فاروقی نقشبندی رحمۃ االلہ علیہ کو اگلے ہزار سال تک کا مجدِّد یعنی "مجدِّد الفِ ثانی" تسلیم کیا جاتا ہے۔

فتاوی رضویہ شریف میں اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے متعدد مقامات پر آپ کے حوالے دیے ہیں. وہاں سے خوشہ چینی کر کے چند باتیں احباب گرامی کی نذر....
1..ایک خطیب نے اپنے خطبہ میں خلفاء راشدین کا ذکر نہ کیا تو حضرت مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ نے اس سے سخت نفرت فرمائی اور اسے خبیث قرار دیا.
2..مکتوبات مجدد (تین جلد) ان کتب مشائخ میں سے ہے جن میں عقائداہل سنت و مسائل فقہیہ بہترین انداز میں بیان کیے گئے ہیں، جس کے سبب یہ دیگر ہزاروں کتب پہ فائق ہے.
لیکن ساتھ ہی یہ بھی یاد رہے کہ سیدنا امام مالک رضی ﷲ تعالٰی عنہ وغیرہ ائمہ دین کاارشاد ہے. کل ماخوذ من قولہ الخ (ہرایک اپنے قول سے پکڑاجاتاہے) یہ قول سوائے قرآن عظیم سب کتب کوشامل ہے.. نہ اس سے ہدایہ و درمختار مستثنٰی، نہ فتوحات و مکتوبات و ملفوظات۔ اس مسئلہ کی زیادہ تفصیل فتاوٰی فقیر میں ہے۔
3.. مرزا مظہر جان جاناں اپنے ملفوظ میں لکھتے ہیں:
میں نے (خواب میں) عرض کی یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) آپ حضرت مجدد الف ثانی کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ سرکار نے ارشاد فرمایا: میری امت میں اس کی مثل دوسرا کون ہے.
4..حضرت مجدد الف ثانی اپنے مکتوبات میں فرماتے ہیں:
میں اپنے مرشد گرامی کے وصال کے بعد عید کے روز ان کے مزار اقدس کی زیارت کے لیے حاضر ہوا ۔ مزار مبارک کی طرف توجہ کے دوران مجھ پر مرشد گرامی کی روحانیت مقدسہ کی کامل توجہ ظاہر ہوی اور کمال غریب نوازی سے آپ نے وہ نسبت خاص عنایت فرمائی جو آپ کو حضرت خواجہ احرار علیہ الرحمۃ سے حاصل تھی۔
5.. مجدد پاک فرماتے ہیں : مدت تک یہ آرزو رہی کہ حنفی مذہب میں قراءت خلف الامام کی کوئی صورت بن جائے. تاہم غیر اختیاری طور پر مذہب حنفی کی رعایت کرتے ہوئے کبھی امام کی اقتداء میں قراءت نہ کی، اس ترکِ قراءت کو تکلف محسوس کرتا رہا. بالاخر مذہب حنفی کی رعایت کی برکت سے مقتدی کے لیے ترکِ قراءت کی حقیقت ظاہر ہوگئی. ادراک ہوا کہ اپنے مذہب حنفی سے دوسرے مذہب میں منتقل ہونا الحاد ہے، چنانچہ حقیقی قراءت سے حکمی قراءت نظرِ بصیرت میں خوب تر معلوم ہوئی۔
6.. شیخ مجدد لکھتے ہیں : محض زبانی کلمہ شہادت کہنا اسلام میں کافی نہیں بلکہ ان تمام امور کی تصدیق بھی ضروری ہے جن کا ضروریات دین سے ہونا بداہتاً معلوم ہے. نیز کفر اورکافر سے براءت بھی لازمی ہے تاکہ اسلام کی صحیح صورت تشکیل پائے.
7..شب معراج سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ و سلم زمان و مکان کے دائرے سے باہر ہوگئے، تنگی امکان سے نکل کر آپ نے ازل وابد کو ایک پایا اورابتداء و انتہا کو ایک نقطہ میں متحد دیکھا۔

وصال شریف :
عارفِ حقّانی حضرت مجدِّد شیخ احمد سرہَندی فاروقی نقشبندی رحمۃ االلہ علیہ کا وصال شریف 28 صفر المظفّر 1034ھ/ مُطابق 1624ء کو ہوا("حضرات القدس" وفاتِ ایشان، ق116۔ )،۔
آپ رحمۃ االلہ علیہ کی نمازِ جنازہ چھوٹے صاحبزادے حضرت خواجہ محمد سعید رحمۃ االلہ علیہ نے پڑھائی، شیخِ مجدِّد رحمۃ االلہ علیہ کا مزار شریف سرہَند کے آبائی قبرستان میں ہے، جہاں آپ رحمۃ االلہ علیہ کے عقیدتمند اور فیض کے طلبگار حاضر ہوتے، اور مَن کی مرادیں پاتے ہیں۔
حضرت مجدِّد الفِ ثانی رحمۃ االلہ علیہ کا مزارِ پُر انوار ٹھیک اس مقام پر ہے جہاں آپ رحمۃ االلہ علیہ نے اپنی زندگی میں ایک نور دیکھا تھا، اور یہ وصیت فرمائی تھی کہ "میری قبر میرے بیٹے (حضرت خواجہ محمد صادق رحمۃ االلہ علیہ) کی قبر کے سامنے بنانا، کہ میں وہاں جنّت کی کیاریوں میں سے ایک کیاری دیکھ رہا ہوں"
( "تذکرۂ مجدِّد الفِ ثانی" 39، 40۔ )۔

دعا : اے اللہ! ہمیں بزرگوں کا ادب واحترام کرنے کی توفیق عطا فرما، ان کے نقشِ قدم کی پَیروی کرنے کا جذبہ عطا فرما، حضرت مجدِّد الفِ ثانی رحمۃ االلہ علیہ کی تعلیمات پر عمل کرنے کا جذبہ عنایت فرما، ان کے مشن کو جاری رکھنے کی توفیق مَرحمت فرما، ان کے مزار پُر انوار پر اپنی کروڑہا کروڑ رحمتوں کا نُزول فرما، دینِ اسلام کی خدمت کرنے، اور کلمۂ حق کہنے کی سعادت وجرأت عطا فرما.
゚viralシfypシ゚ ゚viralシ

Address

Narowal
51541

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Almee DawateLasani - Official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Almee DawateLasani - Official:

Shortcuts

Share