حضرت مفتی غلام رسول صاحب نقشبندی مجددی دامت بر کاتھم العالیہ

  • Home
  • Pakistan
  • Muzaffarabad
  • حضرت مفتی غلام رسول صاحب نقشبندی مجددی دامت بر کاتھم العالیہ

حضرت مفتی غلام رسول صاحب نقشبندی مجددی دامت بر کاتھم العالیہ ❤️الله الله الله❤️

20/08/2026
19/08/2026

مختصر اصلاحی مجلس - جدہ

🗓️ آج 19 اگست بروز بدھ 2026
⏰ 9 بجے - بعد نماز عشاء

مہمان خصوصی

🎙️ حضرت جی، شیخ الحدیث، مفتی خواجه غلام رسول صاحب نقشبندی مجددی دامت برکاتہم العالیہ

خلیفہ مجاز

محبوب العلماء و الصلحا، شیخ العرب و العجم ، حضرت جی مولانا حافظ پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندی مجددی رحمه الله تعالی علیه رحمة واسعة

رابطہ نمبر : 0542380021

03/08/2026

مدینہ... وہ شہر جہاں دل خود بخود جھک جاتے ہیں۔
آج ہمارے محبوب مرشد، *حضرت پیر خواجہ مفتی غلام رسول نقشبندی مجددی دامت برکاتہم* کا بابرکت قافلہ *مکہ مکرمہ* سے *مدینہ منورہ* کی طرف راہِ سفر پر ہے۔ یہ خبر سنتے ہی دل کی کیفیت بدل گئی ہے۔ تصور کیجیے، وہ لمحے کتنے مبارک ہوں گے جب قافلہ *مدینہ* کی حدود میں داخل ہوگا، *گنبدِ خضرا* کی پہلی جھلک نصیب ہوگی، آنکھیں نم ہوں گی، دل بے اختیار دھڑک اٹھے گا اور زبان پر درود و سلام جاری ہو جائے گا۔

*مدینہ* صرف ایک شہر نہیں، عاشقوں کے دل کا سکون ہے۔ یہاں پہنچ کر انسان اپنے غم بھول جاتا ہے، دل کی ویرانیاں آباد ہو جاتی ہیں اور روح کو وہ قرار ملتا ہے جو دنیا کی کسی نعمت سے نہیں مل سکتا۔

ہم اگرچہ اس سعادت مند قافلے کے ساتھ نہیں، مگر دل بار یہی کہتا ہے: کاش! ہم بھی اس قافلے میں شامل ہوتے، کاش! ہم بھی *مدینہ* کی ٹھنڈی ہواؤں میں سانس لیتے، کاش! ہماری آنکھیں بھی *گنبدِ خضرا* کی زیارت سے ٹھنڈی ہوتیں۔

اے *اللہ*! اپنے ان مقبول بندوں کے اس مبارک سفر کو خیریت، عافیت اور قبولیت کے ساتھ مکمل فرما۔ ان کی ہر دعا، ہر سجدہ اور ہر قدم کو شرفِ قبولیت عطا فرما، اور ان کی دعاؤں کے صدقے ہمیں بھی بار بار *مکہ مکرمہ* اور *مدینہ منورہ* کی حاضری نصیب فرما۔

*مدینہ* جانے والے خوش نصیبوں! جب *سرکارِ دو عالم ﷺ* کے *روضۂ اقدس* پر حاضر ہونا تو اس گناہگار کو بھی اپنی دعاؤں میں ضرور یاد رکھنا، شاید آپ کی ایک دعا ہماری زندگی اور آخرت سنوار دے۔

*آمین یا رب العالمین۔*

01/08/2026

🌷 *طائف کی وادی اور* *حضرت جی دامت برکاتہم* *العالیہ* 🌷

آج ہمارے *حضرت جی مفتی* *خواجہ غلام رسول* *نقشبندی مجددی* *دامت برکاتہم العالیہ*
زیارت کی غرض سے طائف تشریف لے گئے ہیں۔
یہی وہ تاریخی سرزمین ہے *جہاں ہمارے آقا، رحمتِ عالم* *حضرت محمد* *مصطفیٰ ﷺ* نے طائف کے سرداروں کو دینِ اسلام کی دعوت دی،
مگر جواب میں انہیں سخت ترین اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا۔
نادان لوگوں نے *آپ ﷺ* پر پتھر برسائے،
*یہاں تک کہ جسمِ اطہر* *خون آلود ہو گیا* ۔
خون اتنا بہا کہ جوتیاں مبارک خون سے بھر گئیں
اور قدم مبارک ان میں چپک گئے۔
*یہ منظر تاریخِ انسانیت کے* *انتہائی دردناک واقعات* *میں سے ایک ہے* ۔
اس موقع پر بھی *اللّٰہ کریم* نے اپنے
*محبوب ﷺ* کو اختیار عطا فرمایا،
*مگر رحمتِ دو عالم ﷺ کی* *زبانِ مبارک سے بددعا* *کے بجائے رحمت کے* *الفاظ ادا ہوئے* ۔

*آپ ﷺ نے دعا فرمائی* کہ *اللّٰہ کریم* ان لوگوں کی نسلوں میں ایسے افراد پیدا فرمائیں جو صرف آپ کی ہی عبادت کریں۔
*یہی وہ رحمت، حلم اور* *شفقت ہے جس کی مثال* *پوری دنیا میں نہیں ملتی* ۔
آج وہی *طائف اللّٰہ کریم* کے فضل سے اسلام کی روشنی سے منور ہے،
*وہاں اذانوں کی صدائیں* *گونجتی ہیں*
*اور لاکھوں مسلمان اس* *مقدس سرزمین کی زیارت* *کے لیے حاضر ہوتے* *ہیں* ۔

ہمارے *حضرت جی دامت* *برکاتہم العالیہ* *جب* *طائف کا یہ ایمان افروز* *واقعہ بیان فرماتے ہیں تو ان* *کی آنکھیں اشک بار ہو* *جاتی ہیں،* *اور* *مجلس پر ایک عجیب کیفیت* *طاری ہو جاتی ہے* ۔
جب جب *حضرت جی* *دامت برکاتہم العالیہ* کی زبانِ مبارک سے یہ واقعہ سننے کا شرف حاصل ہوتا ہے تو دل کانپ اٹھتا ہے۔
یہ احساس تازہ ہو جاتا ہے کہ *ہمارے پیارے نبی کریم* *ﷺ نے ہماری ہدایت کے لیے* *کتنی عظیم قربانیاں* *دیں، کتنی تکلیفیں برداشت* *کیں اور کتنی* *مشقتیں جھیلیں* ، *مگر* *پھر بھی اپنی امت اور اپنے* *دشمنوں کے لیے ہدایت* *ہی کی دعا فرمائی* ۔

*عزیز اخوات* !
دین کی دعوت اور اصلاحِ امت کے راستے میں اگر مشکلات اور تکلیفیں آئیں تو صبر، استقامت، بلند حوصلے اور حسنِ اخلاق کو اختیار کرنا چاہیے، اور لوگوں کے لیے بددعا کے بجائے ہدایت کی دعا کرنی چاہیے، *کیونکہ* *یہی ہمارے* *محبوب نبی کریم ﷺ کی* *سنتِ مبارکہ ہے* ۔

29/07/2026

پہاڑوں کے سائے میں دعوت

قسط اول: وہ بلاوا، جو قسمت بن گیا

زندگی میں بعض سفر انسان خود اختیار نہیں کرتا، بلکہ ربِ کریم اپنے فضل سے اسے چن لیتا ہے۔ پھر وہی سفر، یادوں سے بڑھ کر تربیت، محبت اور معرفت کا سرمایہ بن جاتا ہے۔
ہر سفر کی ایک ابتدا ہوتی ہے، مگر کچھ سفر ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی ابتدا زمین پر نہیں بلکہ آسمانوں میں لکھی جا چکی ہوتی ہے۔
یہ بھی انہی سفر میں سے ایک تھا...
جولائی 2026ء کے ابتدائی دن تھے۔ موسم اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ شمالی پاکستان کی وادیوں کو خوش آمدید کہنے کی تیاری کر رہا تھا۔ انہی دنوں حضرت جی معمول کے طبی معائنے کے لیے ایبٹ آباد تشریف لائے۔
ایک روز اچانک فون کی گھنٹی بجی۔ اسکرین پر حضرت جی کا نام روشن ہوا۔ دل کی دھڑکن بے اختیار تیز ہوگئی۔ سلام کے بعد فرمایا:
"میں ڈاکٹر صاحب کے پاس ہوں، اگر ممکن ہو تو آجاؤ۔"
یہ حکم نہیں تھا، لیکن محبت کرنے والوں کے لیے محبوب کی ہر بات حکم ہی ہوتی ہے۔
یہ عاجز فوراً حاضرِ خدمت ہوا۔ معائنہ شروع ہونے میں کچھ وقت باقی تھا، اس لیے ہم دونوں کلینک کے باہر ایک بینچ پر بیٹھ گئے۔ روزمرہ کی گفتگو جاری تھی کہ اچانک حضرت جی نے نہایت سادہ انداز میں فرمایا:
"ہم چند دنوں کے لیے گلگت بلتستان جا رہے ہیں... اگر تم چاہو تو اس سفر میں ہمارے ساتھ چلنا۔"
یہ الفاظ سننا تھا کہ دل جیسے خوشی سے بھر گیا۔ ایسا محسوس ہوا جیسے برسوں کی ایک خاموش دعا قبول ہو گئی ہو۔ میں نے بغیر کسی تردد کے عرض کیا:
"حضرت! یہ میرے لیے سعادت ہوگی۔"
یوں ایک ایسا سفر شروع ہونے والا تھا جس کا مقصد سیاحت نہیں بلکہ دعوت، اصلاح اور اللہ تعالیٰ کے بندوں تک اس کا پیغام پہنچانا تھا۔
بعد میں معلوم ہوا کہ اس مبارک قافلے میں حضرت جی کے علاوہ کراچی سے حضرت کے پھوپھی زاد بھائی اور دیرینہ رفیق مولانا افتخار نعمانی صاحب، حضرت کے ہم جماعت مولانا مفتی حمداللہ صاحب، مولانا موسیٰ خان صاحب، حیدرآباد سے قاری عبدالحفیظ صاحب اور عمران بھائی بھی شریک ہوں گے۔
یہ قافلہ بظاہر چند افراد پر مشتمل تھا، مگر اس کا مقصد ہزاروں دلوں تک پہنچنا تھا۔
اس سفر کے دوران گلگت بلتستان کے مختلف اضلاع میں اصلاحی اجتماعات، بیانات اور تربیتی نشستیں طے تھیں۔ بعد میں معلوم ہوا کہ اس پورے سفر میں حضرت جی کے گیارہ بیانات ہوئے، جن میں خواتین کی دو خصوصی مجالس بھی شامل تھیں۔
سفر کی تیاری شروع ہوئی تو اس عاجز کے سپرد دو ذمہ داریاں آئیں؛ پہلی، پوری مسافت میں ڈرائیونگ، اور دوسری حضرت جی کی حفاظت اور سہولت کا خیال رکھنا۔
یہ ذمہ داریاں بظاہر معمولی دکھائی دیتی تھیں، مگر دل جانتا تھا کہ یہ صرف ڈرائیونگ نہیں، بلکہ ایک امانت تھی۔
بالآخر وہ دن بھی آگیا۔
11 جولائی 2026ء، ہفتہ
دوپہر تقریباً ڈھائی بجے مانسہرہ سے قافلہ "بسم اللہ" کہہ کر روانہ ہوا۔
کسی کے ہاتھ میں سامان تھا، کسی کے لبوں پر دعا، کسی کی آنکھوں میں شوق، اور کسی کے دل میں اس سفر کی برکتیں سمیٹنے کی آرزو۔
کون جانتا تھا کہ آنے والے چند دنوں میں یہ قافلہ برف پوش چوٹیوں، خروشان دریاؤں، سرسبز وادیوں اور محبت سے لبریز دلوں کے درمیان ایسے ایسے مناظر دیکھے گا جو عمر بھر حافظے کا حصہ بن جائیں گے۔
مگر ابھی تو سفر کا آغاز تھا...
اور شاید کسی نے یہ بھی نہ سوچا تھا کہ چند ہی گھنٹوں بعد ایک ایسی آزمائش سامنے آنے والی ہے جو اس عاجز کے لیے پورے سفر کا رخ بدل سکتی تھی...
جاری ہے...

از قلم احسان اللہ فاروق

*حضرت جی آپ عمرے کے مبارک سفر پر گئے دل بھی ساتھ لے گئے*کچھ سفر ایسے ہوتے ہیں جن میں انسان کے قدم نہیں، اس کا دل روانہ ہ...
25/07/2026

*حضرت جی آپ عمرے کے مبارک سفر پر گئے دل بھی ساتھ لے گئے*

کچھ سفر ایسے ہوتے ہیں جن میں انسان کے قدم نہیں، اس کا دل روانہ ہوتا ہے۔ اس بار میرے محبوب شیخ،
*حضرت پیر خواجہ مفتی غلام رسول نقشبندی مجددی دامت برکاتہم*
اللہ کے مقدس گھر کی حاضری کے لیے روانہ ہوئے تو یوں محسوس ہوا جیسے میرا دل بھی ان کے قافلے کے ساتھ چلا گیا، مگر میرا جسم یہیں رہ گیا۔

حرمِ کعبہ کا تصور آتا ہے تو آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ خیال آتا ہے کہ اس وقت میرے شیخ بیت اللہ کے سائے میں سجدہ ریز ہوں گے، روضۂ رسول ﷺ پر درود و سلام پیش کر رہے ہوں گے، صفا و مروہ کی سعی کر رہے ہوں گے، زمزم نوش فرما رہے ہوں گے، اور میں یہاں بیٹھا انہی لمحوں کا تصور کر کے اپنے آنسوؤں کو چھپا رہا ہوں۔

یہ محرومی کسی دنیاوی سفر کی محرومی نہیں، یہ اس دل کی کیفیت ہے جو اپنے محبوب کی معیت سے محروم رہ گیا ہو۔ دل بار بار کہتا ہے: کاش! میں بھی اس قافلے میں شامل ہوتا، کاش! میں بھی اپنے شیخ کے قدموں کے نشانوں پر چلتا، کاش! میری زبان سے بھی لبیک اللہم لبیک کی صدائیں اسی مقدس سرزمین پر بلند ہوتیں۔

لیکن پھر دل کو یہ تسلی بھی دیتا ہوں کہ فیصلے اللہ تعالیٰ کے ہوتے ہیں۔ جس نے اس سال بلا لیا، وہ خوش نصیب؛ اور جسے ابھی نہ بلایا، وہ بھی اس کی رحمت سے مایوس نہیں۔ شاید یہ تڑپ ہی میرے لیے قبولیت کا ذریعہ بن جائے، شاید یہی آنسو میرے نام کی حاضری لکھوا دیں۔

اے اللہ! اپنے محبوب گھر کے صدقے، اپنے محبوب نبی حضرت محمد ﷺ کے صدقے، ہمارے پیارے شیخ
*حضرت پیر خواجہ مفتی غلام رسول نقشبندی مجددی دامت برکاتہم*
کا عمرہ اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرما، انہیں صحت، عافیت اور سلامتی کے ساتھ واپس لوٹا، اور ان کی ہر دعا میں ہمیں بھی حصہ عطا فرما۔

یا اللہ! اگلی بار جب تیرا بلاوا آئے تو ہمارے نام بھی ان خوش نصیبوں میں لکھ دینا جن کے قدم تیرے گھر کی دہلیز کو چومتے ہیں۔ ہمارے دلوں کی یہ تڑپ، ہماری آنکھوں کے یہ آنسو، اور حرم کی یہ حسرت کبھی رائیگاں نہ جائے۔ آمین یا رب العالمین 🤲

ابو عبداللہ شفیق نقشبندی راولپنڈی*

Address

Muzaffarabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when حضرت مفتی غلام رسول صاحب نقشبندی مجددی دامت بر کاتھم العالیہ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share