Quran & Bayaan

Quran & Bayaan this page is just for the DEEEN E ISLAM jo b bayaan apko ya koi b bat achi lagti hy KOI like comment

12/04/2025

موت کی6 علامتیں

موت کے چھ مراحل ہوتے ہیں۔
پہلا_مرحلہ: "یوم الموت" کہلاتا ہے۔ یہ وہ دن ہے جب انسان کی زندگی کا اختتام ہو جاتا ہے۔ اس دن اللہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ زمین پر جائیں اور انسان کی روح قبض کریں تاکہ اسے اپنے رب سے ملاقات کے لیے تیار کیا جا سکے۔

بدقسمتی سے، کوئی بھی اس دن کے بارے میں کچھ نہیں جانتا، اور جب وہ دن آتا ہے، انسان کو یہ بھی احساس نہیں ہوتا کہ یہ اس کی موت کا دن ہے۔ تاہم انسان اپنے جسم میں تبدیلیاں محسوس کرتا ہے۔ مثلاً مؤمن کے دل کو اس دن خوشی اور سکون ملتا ہے، جبکہ برے اعمال کرنے والے کو سینے اور دل میں دباؤ محسوس ہوتا ہے۔

اس مرحلے پر شیاطین اور جنات فرشتوں کے نزول کو دیکھتے ہیں، لیکن انسان انہیں نہیں دیکھ سکتا۔ قرآن کریم میں اس مرحلے کا ذکر یوں کیا گیا ہے: "اور اس دن سے ڈرو جس دن تم اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے، پھر ہر جان کو اس کے کیے کا پورا بدلہ دیا جائے گا۔"(البقرة:281)

دوسرا_مرحلہ: روح کا تدریجی طور پر نکلنا۔یہ مرحلہ پاؤں کے تلووں سے شروع ہوتا ہے۔ روح آہستہ آہستہ اوپر کی طرف بڑھتی ہے، ٹانگوں، گھٹنوں، پیٹ، ناف اور سینے سے گزرتی ہے، یہاں تک کہ وہ ایک مقام پر پہنچتی ہے جسے "ترقی" کہا جاتا ہے۔

اس مقام پر انسان تھکن اور چکر محسوس کرتا ہے اور کھڑا ہونے کے قابل نہیں رہتا۔ اس کی جسمانی طاقت ختم ہو جاتی ہے، لیکن وہ اب بھی نہیں سمجھ پاتا کہ اس کی روح جسم سے نکل رہی ہے۔

تیسرا_مرحلہ: "ترقی" کا مرحلہ: قرآن کریم میں اس کا ذکر یوں آیا ہے: "ہرگز نہیں، جب روح حلق تک پہنچ جائے گی۔ اور کہا جائے گا، کون جھاڑ پھونک کرے گا؟ اور وہ سمجھے گا کہ یہ جدائی کا وقت ہے۔ اور ایک پنڈلی دوسری پنڈلی سے لپٹ جائے گی۔" (القیامة: 26-29)

ترقی حلق کے نیچے کے دو ہڈیوں کو کہا جاتا ہے جو کندھوں تک پھیلتی ہیں۔
"وَقِيلَ مَنْ رَاقٍ" کا مطلب ہے کہ کون روح کو لے کر جائے گا؟
یہ وہ وقت ہوتا ہے جب لوگ ڈاکٹر یا ایمبولینس بلانے یا قرآن پڑھنے کی بات کرتے ہیں، لیکن انسان ابھی بھی زندگی کی امید رکھتا ہے۔ "وَظَنَّ أَنَّهُ الْفِرَاقُ" کا مطلب ہے کہ انسان کو موت کے قریب ہونے کا احساس ہوتا ہے، لیکن وہ اب بھی بقا کی کوشش کرتا ہے۔
"وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ" یعنی روح کے نکلنے کا عمل مکمل ہو چکا ہے، اور جسم کے نچلے حصے بے جان ہو چکے ہیں۔

چوتھا_مرحلہ: "حلقوم" کا مرحلہ: یہ موت کا آخری مرحلہ ہے، جو انسان کے لیے انتہائی مشکل ہوتا ہے، کیونکہ اس کے سامنے پردے ہٹ جاتے ہیں، اور وہ اپنے اردگرد موجودفرشتوں کو دیکھتا ہے۔یہاں سے انسان آخرت کو دیکھنا شروع کرتا ہے: "ہم نے تمہاری آنکھوں سے پردہ ہٹا دیا، آج تمہاری نظر تیز ہے۔" (سورة ق: 22)

قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"پھر کیوں نہیں جب روح حلق تک پہنچ جائے۔ اور تم اس وقت دیکھ رہے ہو، اور ہم تم سے زیادہ قریب ہیں، لیکن تم دیکھ نہیں سکتے۔"
(سورة الواقعة: 83-85)

یہ وہ وقت ہے جب انسان اللہ کی رحمت یا غضب دیکھتا ہے۔ وہ اپنی زندگی کے اعمال کو اپنی نظروں کے سامنے گزرتا ہوا دیکھتا ہے، اور شیطان اسے گمراہ کرنے کی آخری کوشش کرتا ہے۔ قرآن کہتا ہے:"اور کہو، اے میرے رب، میں شیطان کے وسوسوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور اس سے بھی کہ وہ میرے پاس آئیں۔"
(سورة المؤمنون: 97-98)

پانچواں_مرحلہ: "ملک الموت" کا داخلہ: یہ مرحلہ وہ ہے جہاں انسان کو معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ رحمت والوں میں سے ہے یا عذاب والوں میں سے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اور جن کی روحیں فرشتے سختی سے نکالتے ہیں، ان کے چہروں اور پشتوں پر مارتے ہیں۔"(سورة محمد: 27)

اگر انسان مؤمن ہے تو اس کی روح نرمی سے نکلتی ہے،جیسے پانی کا قطرہ مشکیزے سے نکلتا ہے۔اللہ فرماتا ہے:"اے اطمینان والی روح، اپنے رب کی طرف لوٹ، راضی اور مرضی، اور میرے بندوں میں شامل ہو جا، اور میری جنت میں داخل ہو جا۔"
(سورة الفجر: 27-30)

چھٹا_اور_آخری_مرحلہ: یہ مرحلہ وہ ہے جب انسان کی روح مکمل طور پر جسم سے نکل جاتی ہے۔ اگر وہ گناہ گار ہے تو کہتا ہے:"اے میرے رب، مجھے واپس بھیج دے، تاکہ میں نیک عمل کر سکوں۔"لیکن اللہ فرماتا ہے: "ہرگز نہیں، یہ صرف ایک بات ہے جو وہ کہہ رہا ہے۔ اور ان کے پیچھے ایک پردہ ہے، قیامت کے دن تک۔"
(سورة المؤمنون: 99-100)

"اور موت کی سختی حق کے ساتھ آئے گی، یہی وہ ہے جس سے تم بھاگتے تھے۔"(ق: 19)

یہاں مؤمن کے لیے جنت کی بشارت ہے، جبکہ گناہ گار کے لیے عذاب کی وعید۔ایک مفسر سے پوچھا گیا کہ لوگ موت سے کیوں ڈرتے ہیں؟انہوں نے جواب دیا: "کیونکہ تم نے دنیا کو آباد کیا اور آخرت کو برباد کر دیا۔"

اے ہمارے رب !
ہمارا آخری خاتمہ دین اسلام پر فرمانا ۔
آمین ثم آمین یارب العالمین 🤲

12/01/2025

یَّخْتَصُّ بِرَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُؕ-وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ(74)

ترجمۂ کنز الایمان

اپنی رحمت سے خاص کرتا ہے جسے چاہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔

تفسیر صراط الجنان

{یَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُ: وہ اپنی رحمت کے ساتھ جسے چاہتا ہے خاص فرما لیتا ہے۔} یعنی اللہ تعالیٰ نبوت و رسالت کے ساتھ جسے چاہے خاص فرمالیتا ہے اور نبوت جس کسی کو ملتی ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فضل سے ملتی ہے اس میں ذاتی استحقاق کا دخل نہیں۔ ہاں اب اللہ تعالیٰ نے چونکہ نبوت کا دروازہ بند کردیا تو اب کسی کو نبوت نہ ملے گی۔

12/01/2025

وَ لَا تُؤْمِنُوْۤا اِلَّا لِمَنْ تَبِـعَ دِیْنَكُمْؕ-قُلْ اِنَّ الْهُدٰى هُدَى اللّٰهِۙ-اَنْ یُّؤْتٰۤى اَحَدٌ مِّثْلَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ اَوْ یُحَآجُّوْكُمْ عِنْدَ رَبِّكُمْؕ-قُلْ اِنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰهِۚ-یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُؕ-وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌﳐ(73)

ترجمۂ کنز الایمان

اور یقین نہ لاؤ مگر اس کا جو تمہارے دین کا پیرو ہے تم فرما دو کہ اللہ ہی کی ہدایت ہدایت ہے (یقین کاہے کا نہ لاؤ) اس کا کہ کسی کو ملے جیسا تمہیں ملا یا کوئی تم پر حجت لاسکے تمہارے رب کے پاس، تم فرمادو کہ فضل تو اللہ ہی کے ہاتھ ہے جسے چاہے دے اور اللہ وسعت والا علم والا ہے۔

تفسیر صراط الجنان

{وَ لَا تُؤْمِنُوْۤا اِلَّا لِمَنْ تَبِـعَ دِیْنَكُمْ: اور صرف اسی کا یقین کروجو تمہارے دین کی پیروی کرنے والا ہو۔} یہودی ایک تو آپس میں سازشیں بناتے رہتے تھے اور دوسرا ایک دوسرے سے کہتے کہ صرف اسی کا یقین کروجو تمہارے دین کی پیروی کرنے والا ہو اور اس بات پر ہر گز یقین نہ کروکہ کسی اور کو بھی ویسی ہدایت، دین ،کتاب و حکمت اور شرافت وفضیلت مل سکتی ہے جو تمہیں ملی ہوئی ہے ۔ یہودیوں کے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ نبوت صرف بنی اسرائیل کو ملی ہے، ان کے سوا کسی اور قبیلہ کو نہیں ملی اور چونکہ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ بنی اسرائیل سے نہیں بلکہ بنی اسماعیل میں سے ہیں لہٰذا یہ نبی نہیں ہیں۔ یہودی اس بہانے سے لوگوں کو اسلام سے روکتے تھے۔ یونہی ان کے علماء کا کہنا تھا کہ تم زبان سے اسلام کی حقانیت کا اقرار کر لینا مگر دل سے نہ کرنا۔ یہودیوں کے یہ دعوے سراسر جھوٹے تھے کہ نبوت ان کے علاوہ کسی اور کو نہیں مل سکتی کیونکہ اس بات کا ذکر کسی آسمانی کتاب میں نہیں تھا۔ نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے حبیب! (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) تم فرمادو کہ فضل تو یقینا اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی کے ہاتھ میں ہے وہ جسے چاہتا ہے عطا فرمادیتا ہے، یعنی وہ جسے چاہتا ہے نبوت عطا فرماتا ہے ،تو جس چیز میں اللہ تعالیٰ نے قید نہ لگائی تم لگانے والے کون ہوتے ہو؟ نبوت میرا فضل ہے جسے چاہوں عطا کروں ،میں نے اس کو بنی اسرائیل کے لئے خاص نہ فرمایا۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نبوت اعمال سے نہیں ملتی، یہ محض اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فضل ہے ۔

12/01/2025

وَ قَالَتْ طَّآىٕفَةٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اٰمِنُوْا بِالَّذِیْۤ اُنْزِلَ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَجْهَ النَّهَارِ وَ اكْفُرُوْۤا اٰخِرَهٗ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَﭕ(72)

ترجمۂ کنز الایمان

اور کتابیوں کا ایک گروہ بولا وہ جو ایمان والوں پر اترا صبح کو اس پر ایمان لاؤ اور شام کو منکر ہوجاؤ شاید وہ پھر جائیں۔

تفسیر صراط الجنان

{وَ قَالَتْ طَّآىٕفَةٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ: اور کتابیوں کے ایک گروہ نے کہا۔} یہودی اسلام کی مخالفت میں رات دن نئی نئی سازشیں کیا کرتے تھے۔ خیبرکے بارہ یہودی علماء نے آپس میں مشورہ کرکے یہ سازش تیار کی کہ ان کی ایک جماعت صبح کے وقت اسلام لے آئے اور شام کو مرتد ہوجائے اور لوگوں سے کہے کہ ہم نے اپنی کتابوں میں جو دیکھا تو ثابت ہوا کہ محمد مصطفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ وہ نبی نہیں ہیں جن کی ہماری کتابوں میں خبر ہے تاکہ اس حرکت سے مسلمانوں کواپنے دین میں شبہ پیدا ہوجائے اور یہ اپنے دین سے پھر جائیں (خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۷۲، ۱ / ۲۶۲-۲۶۳)

لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر ان کا یہ راز فاش کردیا اور ان کا یہ مکر نہ چل سکا اور مسلمان پہلے سے خبردار ہوگئے۔ اس بات سے باخبر رہنا چاہیے کہ کافروں کی طرف سے سازشوں کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہے گا۔ آج بھی ایسی سازشیں پکڑی جاتی ہیں کہ جھوٹی فلموں ، جھوٹی رپورٹوں اور جھوٹی تصویروں کے ذریعے لوگوں کو اسلام سے مُتَنَفِّر کیا جاتا ہے۔ اس وقت کفار میڈیا کو اس مقصد کیلئے بطورِ خاص استعمال کررہے ہیں۔

12/01/2025

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَلْبِسُوْنَ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَ تَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۠ (71)

ترجمۂ کنز الایمان

اے کتابیو حق میں باطل کیوں ملاتے ہو اور حق کیوں چھپاتے ہو حالانکہ تمہیں خبر ہے۔

تفسیر صراط الجنان

{لِمَ تَلْبِسُوْنَ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ: حق کوباطل کے ساتھ کیوں ملاتے ہو؟} فرمایا کہ’’ اے کتابیو! اپنی کتابوں میں تحریف و تبدیل کرکے حق کوباطل کے ساتھ کیوں ملاتے ہو؟ اورذاتی مفادات کیلئے حق کیوں چھپاتے ہو ؟حالانکہ تم جانتے ہو کہ یہ نبی حق ہیں اور تم غلطی پر ہو۔

12/01/2025

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ اَنْتُمْ تَشْهَدُوْنَ(70)

ترجمۂ کنز الایمان

اے کتابیو اللہ کی آیتوں سے کیوں کفر کرتے ہو حالانکہ تم خود گواہ ہو۔

تفسیر صراط الجنان

{لِمَ تَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ: اللہ کی آیتوں کے ساتھ کیوں کفر کرتے ہو؟ }اہلِ کتاب سے فرمایا گیا کہ’’ اے کتابیو! تم اللہ عَزَّوَجَلَّ کی آیتوں کے ساتھ کیوں کفر کرتے ہو حالانکہ تم خود اپنی کتابوں توریت و انجیل سے پڑھ کر قرآن اور محمد مصطفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی حقانیت کے گواہ ہو اور تمہاری کتابوں میں سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی نعت و صفت موجود ہے اور تم جانتے ہو کہ وہ نبی برحق ہیں اور ان کا دین سچا دین ہے۔

12/01/2025

وَدَّتْ طَّآىٕفَةٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَوْ یُضِلُّوْنَكُمْؕ-وَ مَا یُضِلُّوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ(69)

ترجمۂ کنز الایمان

کتابیوں کا ایک گروہ دل سے چاہتا ہے کہ کسی طرح تمہیں گمراہ کردیں اور وہ اپنے ہی آپ کو گمراہ کرتے ہیں اور انہیں شعور نہیں۔

تفسیر صراط الجنان

{وَدَّتْ طَّآىٕفَةٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ: کتابیوں کا ایک گروہ دل سے چاہتا ہے۔} یہ آیت حضرت معاذ بن جبل ، حضرت حذیفہ بن یمان اور حضرت عمار بن یاسررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے حق میں نازل ہوئی جن کو یہودی اپنے دین میں داخل کرنے کی کوشش کرتے اور یہودِیَّت کی دعوت دیتے تھے ،اس میں بتایا گیا کہ ’’یہ ان کی ہوس خام ہے ،وہ ان کو گمراہ نہ کرسکیں گے۔(تفسیر قرطبی، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۶۹، ۲ / ۸۴، الجزء الرابع )

اس میں مذکورہ بالا صحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کی عظمت و شان بھی واضح ہوتی ہے۔ البتہ یہ یاد رہے کہ کفار کے گروہ مسلمانوں کو اپنے دین میں داخل کرنے کیلئے کوششیں ہمیشہ کرتے رہیں گے۔ چنانچہ وقتاً فوقتاً کفرو اِرْتِداد کی تحریکیں چلتی رہتی ہیں اور اب تو فلموں ، ڈراموں ، مزاحیہ پروگراموں اور خصوصاً گانوں نے تو تباہی مچا رکھی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائے۔[1]
..[1] فلموں ڈراموں اور گانوں کی تباہ کاریاں جاننے کے لئے امیرِ اہلِسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے رسائل ،، ٹی وی کی تباہ کاریاں،، اور ،،گانے باجے کے 35 کفریہ اشعار،،(مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)کا ضرور مطالعہ کیجئے۔

11/01/2025

اِنَّ اَوْلَى النَّاسِ بِاِبْرٰهِیْمَ لَلَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ وَ هٰذَا النَّبِیُّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاؕ-وَ اللّٰهُ وَلِیُّ الْمُؤْمِنِیْنَ(68)

ترجمۂ کنز الایمان

بیشک سب لوگوں سے ابراہیم کے زیادہ حق دار وہ تھے جو ان کے پیرو ہوئے اور یہ نبی اور ایمان والے اور ایمان والوں کا والی اللہ ہے۔

تفسیر صراط الجنان

{اِنَّ اَوْلَى النَّاسِ بِاِبْرٰهِیْمَ: بیشک سب لوگوں سے زیادہ ابراہیم کے حق دار وہ ہیں۔} اوپر کی آیات میں بیان ہوا کہ کسی یہودی یا نصرانی یا مشرک کا اپنے آپ کو حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا پیروکار کہنا درست نہیں کیونکہ وہ نہ یہودی تھے، نہ عیسائی اور نہ مشرک بلکہ ہر باطل سے جدا، خالصتاً اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار مسلمان بندے تھے۔ اس کے بعد فرمایا کہ لوگوں میں حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے سب سے زیادہ قریب وہ لوگ ہیں جو ان کے زمانہِ نبوت میں ان پر ایمان لائے اور ان کی شریعت پر عمل پیرا رہے اور پھر حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے قریب یہ نبی محمد مصطفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ اور ان کے امتی ہیں۔

آیت’’اِنَّ اَوْلَى النَّاسِ بِاِبْرٰهِیْمَ‘‘سے معلوم ہونے والے مسائل:

اس آیت سے3 مسئلے معلوم ہوئے :

(1)… نبی سے قرب ان کی اطاعت سے حاصل ہوتا ہے نہ کہ محض ان کی اولاد ہونے سے ،چنانچہ کنعان حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے قریب نہ ہوسکا کیونکہ وہ کافر تھا۔

(2)… مسلمان ہی سچے ابراہیمی ہیں چنانچہ اسی لئے تمام ابراہیمی سنتیں اسلام میں موجود ہیں جیسے: حج ، قربانی ، ختنہ، داڑھی وغیرہ ۔یہ سب ابراہیمی سنتیں ہیں اور ان یہود و نصاریٰ کے دین میں نہیں ہیں توصرف مسلمان ابراہیمی ہوئے۔

(3)… بزرگوں کی نسبت اللہ تعالیٰ کی اعلیٰ نعمت ہے۔ جیسے یہاں آیت میں حقانیت کی علامت حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے صحیح نسبت و تعلق کو بیان فرمایا ہے۔

11/01/2025

هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ حَاجَجْتُمْ فِیْمَا لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ فَلِمَ تُحَآجُّوْنَ فِیْمَا لَیْسَ لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌؕ-وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ(66)مَا كَانَ اِبْرٰهِیْمُ یَهُوْدِیًّا وَّ لَا نَصْرَانِیًّا وَّ لٰـكِنْ كَانَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًاؕ-وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ(67)

ترجمۂ کنز الایمان

سنتے ہو یہ جو تم ہو اس میں جھگڑے جس کا تمہیں علم تھا تو اس میں مجھ سے کیوں جھگڑتے ہو جس کا تمہیں علم ہی نہیں اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ ابراہیم نہ یہودی تھے نہ نصرانی بلکہ ہر باطل سے جدا مسلمان تھے اور مشرکوں سے نہ تھے۔

تفسیر صراط الجنان

{هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ: سن لو: تم وہی لوگ ہو۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ تم ہی ہو کہ تمہاری کتابوں میں نبیِّ آخر الزّمان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے ظہور اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی نعت و صفت کا بیان موجود ہے اس کے باوجود تم حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر ایمان نہ لائے اور تم نے اس میں جھگڑا کیا تو جب معلوم باتوں میں تم جھگڑا کرتے ہو تو ان باتوں میں کیوں جھگڑتے ہو جن کا تمہیں علم ہی نہیں ، یعنی حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو یہودی یا نصرانی کہتے ہوحالانکہ تمہیں اس کا علم ہی نہیں ہے اورحقیقت حال یہ ہے کہ کسی یہودی یا نصرانی یا مشرک کا اپنے آپ کو حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا پیروکار کہنا درست نہیں کیونکہ وہ نہ یہودی تھے، نہ عیسائی اور نہ مشرک بلکہ ہر باطل سے جدا، خالصتاً اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار مسلمان بندے تھے۔

موت کـا شعــورــــــــــــــــــــــلوگ دیکھتے ہیں کہ ہر پیدا ہونے والا محدود مدت کے بعد مر جاتا ہے۔ اس کے باوجود یہ نہا...
20/12/2024

موت کـا شعــور
ــــــــــــــــــــــ

لوگ دیکھتے ہیں کہ ہر پیدا ہونے والا محدود مدت کے بعد مر جاتا ہے۔ اس کے باوجود یہ نہایت عجیب بات ہے کہ کوئی شخص خود اپنی موت کے بارے میں نہیں سوچتا۔

وہ دوسروں کو مرتے ہوئے دیکھتا ہے، مگر خود اپنی موت کے بارے میں وہ غفلت میں پڑا رہتا ہے۔ موجودہ زمانے میں ڈی این اے (DNA) کی دریافت اس سوال کا جواب ہے۔ یہ ایک نئی سائنس ہے۔ اس پر دنیا کے بڑے بڑے دماغوں نے کام کیا ہے۔

اس میں انڈیا کے نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر ہر گو بند کھورانا (وفات 2011) کا نام بھی شامل ہے۔ اس جدید تحقیق سے یہ معلوم ہوا ہے کہ ہر انسان کے جسم میں تقریباً ایک سو ٹریلین سیل (living cells) ہوتے ہیں۔ ہر سیل کے نیوکلیس میں ایک نا قابل مشاہدہ ڈی این اے موجود رہتا ہے۔ ڈی این اے کے اندر انسانی شخصیت کے بارے میں تمام چھوٹی بڑی معلومات کوڈ کی صورت میں موجود رہتی ہیں۔

یہ معلومات اتنی زیادہ ہوتی ہیں کہ اگر ان کوڈی کوڈ (decode) کیا جائے، تو وہ برٹان کا جیسی ضخیم انسائکلو پیڈیا کے ایک ملین سے زیادہ صفحات پر مشتمل ہوں گی:
One human DNA molecule contains enough information to fill a million-page encyclopaedia.

ڈی این اے کے اندر انسانی شخصیت کے بارے میں تمام معلومات درج ہوتی ہیں ، مگر اس فہرست میں صرف ایک استثنا ہے اور وہ موت ہے۔

ڈی این اے کی طویل فہرست موت کے تصور سے خالی ہے۔ موت کا تصور انسانی شخصیت (human consciousness) میں موجود نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ آدمی دوسروں کو مرتے ہوئے دیکھتا ہے لیکن وہ خود اپنی موت کے بارے میں سوچ نہیں پاتا۔ یہی انسان کا امتحان ہے۔ موت کسی شخص کے اوپر ڈی این اے کی پروگریمنگ کے تحت نہیں آتی، بلکہ وہ براہ راست خدائی فیصلے کے تحت آتی ہے۔

کامیاب انسان وہ ہے جو اپنے اندر اینٹی پروگریمنگ سوچ پیدا کرے۔ وہ خدائی فیصلے کی نسبت سے موت کے معاملے کو دریافت کرلے اور اس کے مطابق ، اپنی زندگی کی منصوبہ بندی کرے۔

سفر حیات، صفحہ،25
مولانا وحیدالدّین خاں

09/11/2024

نبی ؑ سے معجزے کی فرمائش: قومِ ثمود ہی میں سے اللہ تعالیٰ نے ایک خدا ترس اور نیک انسان کو نبوت کے منصب پر فائز فرمایا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے، ’’اور ہم نے ثمود کی طرف اُن کے بھائی صالح ؑکو بھیجا۔‘‘ (سورۃ الاعراف،73)۔ حضرت صالح علیہ السلام اپنی قوم کو راہِ راست پر لانے کے لیے دن رات کوششیں کرتے رہے۔ ’’اے میری قوم! تم اللہ کی عبادت کرو۔ اُس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔ اُسی نے تمہیں پیدا کیا۔

اُس سے مغفرت مانگو اور اُس کے آگے توبہ کرو۔‘‘ (سورئہ ہود، آیت61)۔ اس کے جواب میں اُن کی قوم کہتی۔ ’’اے صالح ؑ! تم ہمیں ان چیزوں سے روکتے ہو، جنھیں ہمارے بزرگ پُوجتے چلے آئے ہیں، اور جس بات کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو، اُس میں ہمیں قوی شبہ ہے۔‘‘ (سورئہ ہود، آیت 62)۔ حضرت صالح علیہ السلام جوانی کے زمانے سے قوم کو دین کی دعوت دیتے ہوئے بوڑھے ہوگئے۔

چناں چہ ایک دن قوم کے سرداروں نے حضرت صالح ؑسے کہا کہ ’’اگر تم واقعی اللہ کے سچّے رسول ہو، تو ہماری فلاں پہاڑی، جس کا نام کاتبہ ہے، اس کے اندر سے ایک ایسی اونٹنی نکال دو، جو دس ماہ کی گابھن اور قوی و تندرست ہو۔‘‘ قرآنِ کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وہ کہنے لگے ’’تم جادو زدہ ہو، تم اور کچھ نہیں، بس ہماری ہی طرح کے آدمی ہو، اگر سچّے ہو، تو کوئی نشانی پیش کرو۔‘‘ (سورۃ الشعراء، آیات153-154)۔ یعنی انہوں نے اپنے نبی ؑسے معجزے کی فرمائش کردی۔

ناقۃ اللہ کا ظہور: حضرت صالح علیہ السلام نے اُن سے عہد لیا کہ اگر میں تمہارا یہ مطالبہ پورا کردوں، تو پھر تو تم سب ایمان لے آئوگے؟ جب سب نے عہد کرلیا، تو حضرت صالح علیہ السلام، اللہ کے حضور سربسجود ہوگئے، یہاں تک کہ اللہ نے اپنے نبی ؑکی دعا قبول فرمائی۔ اچانک سامنے کی پہاڑی میں جنبش پیدا ہوئی، چٹان کے دو ٹکڑے ہوئے اور اُس میں سے ایک خُوب صُورت، تندرست و توانا گابھن اونٹنی نمودار ہوئی۔پوری قوم نے اس حیرت انگیز معجزے کو اپنی جاگتی آنکھوں سے دیکھا، لیکن قوم کے ایک سردار جندع بن عمرو اور اُس کے چند ساتھیوں کے علاوہ کوئی ایمان نہیں لایا۔

اس موقعے پر حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا۔ ’’اے میری قوم! یہ ناقۃ اللہ یعنی اللہ کی اونٹنی ہے، جو تمہارے لیے ایک معجزہ ہے۔ اب تم اِسے اللہ کی زمین میں چھوڑ دو اور اسے کسی طرح کا ایذا نہ پہنچائو، ورنہ فوری عذاب تمہیں پکڑلے گا۔‘‘ (سورئہ ہود، آیت64) اونٹنی اور اس کا نومولود بچّہ سارا دن نخلستان میں چَرتے رہتے۔ قوم سیر ہوکر اونٹنی کا ددھ پیتی، لیکن وہ کم نہ ہوتا۔

حضرت صالح علیہ السلام نے کنویں کے پانی کو بھی تقسیم کردیا تھا۔ ایک دن اونٹنی پانی پیتی تھی اور ایک دن ثمود کے لوگ۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔ ’’صالح ؑنے اپنی قوم سے کہا، ایک دن اس اونٹنی کے پانی پینے کی باری ہے اور ایک معیّن روز تمہاری باری، لیکن اسے کوئی تکلیف نہ دینا۔ نہیں تو تمہیں سخت عذاب آپکڑے گا۔‘‘ (سورۃ الشعراء، آیات 155-156)۔

اونٹنی کو جان سے مارنے کا فیصلہ:اللہ تعالیٰ قرآن ِمجید میں فرماتا ہے۔ ’’(اے صالح ؑ!) ہم نے اونٹنی کو اُن کی آزمائش کے لیے بھیجا ہے۔ تو تم انتظار کرو اور صبر کرو۔‘‘ (سورۃالقمر، آیت27)۔ ابھی کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ قوم کو اونٹنی کی موجودگی کھٹکنے لگی۔ دن بھر آزادی سے گھومنا پھرنا اور اپنی باری پر ایک ہی سانس میں پورے کنویں کا پانی پی جانا، اُن کے لیے پریشان کُن تھا۔ چناں چہ شیطان کے اکُسانے پر انہوں نے اونٹنی کو جان سے مارنے کا فیصلہ کرلیا۔

قوم کے سرداروں نے یہ کام دو حسین ترین خواتین کو سونپا۔ اُن عورتوں نے شراب و شباب کے رسیا، دو اوباش نوجوانوں مصرع اور قدار کو اپنی خُوب صُورت بچیوں سے شادی کے عوض ناقۃ اللہ کے قتل پر آمادہ کیا۔ جن کے ساتھ مزید سات اوباش نوجوان بھی شامل ہوگئے۔ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح علیہ السلام کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا۔ ’’شہر میں نو افراد کی ایک جماعت تھی، جو ملک بھر میں فساد مچاتے پھرتے اور اصلاح نہیں کرتے تھے۔‘‘ (سورئہ نمل، آیت 48)-

ناقۃ اللہ کا قتل: پھر ایک دن ان شقی القلب 9افراد کی جماعت اونٹنی کے انتظار میں کنویں کے پاس گھات لگاکر بیٹھ گئی، جب کہ قوم کے لوگ اللہ کے عذاب کے ڈر سے چُھپ کر یہ دل خراش منظر دیکھنے لگے۔ حسبِ معمول اونٹنی پانی پینے کے لیے کنویں کے قریب آئی، تو مصرع نامی شخص نے کمان سیدھی کی اور اونٹنی پر تیر چلا دیا، جو اس کی پنڈلی میں پیوست ہوا اور ٹانگ سے خون کا فوارہ جاری ہوگیا۔ یہ منظر دیکھ کر باقی لوگ خوف زدہ ہوکر پیچھے ہٹ گئے۔

اس موقعے پر اُن دونوں عورتوں نے مَردوں کو لعن طعن شروع کردی، جس پر قدار بن سالف آگے بڑھا اور تلوار کے ایک بھرپور وار سے اونٹنی کی کونچیں (پچھلے پائوں کے اوپر کا حصّہ) کاٹ ڈالیں۔ شدید زخمی اونٹنی لاچار ہوکر زمین پر گرپڑی۔گرتے گرتے اس نے ایک زوردار چیخ ماری تاکہ اس کا بچّہ (جہاں کہیں بھی ہو، خبردار ہوکر ظالموں کے چنگل سے بھاگ جائے) محتاط ہوجائے۔ پھر ظالم قدار نے اونٹنی کے سینے پر نیزہ مارنے کے بعد اُسے ذبح کر ڈالا۔ اُدھر اُس کا بچّہ بھاگتا ہوا اونچے پہاڑ پر چڑھا اور چیخیں مارتا ہوا غائب ہوگیا۔

اونٹنی کے قتل کے ارتکاب کے بعد قومِ ثمود کے اُن نو افراد نے حضرت صالح علیہ السلام کو قتل کرنے کا پروگرام بنایا اور اُسی رات حضرت صالح علیہ السلام کی گزرگاہ کے ساتھ ایک پہاڑ کی گھاٹی میں چُھپ کر بیٹھ گئے تاکہ حضرت صالح ؑوہاں سے گزریں، تو اُنہیں قتل کردیں، لیکن اُس رات پہاڑ سے بڑے بڑے پتھر اس طرح برسے کہ وہ سب ہلاک ہوگئے۔ دوسرے دن جب لوگوں کا گزر ہوا، تو دیکھا کہ وہ نو افراد بڑے بڑے پتھروں کے نیچے مرے پڑے ہیں۔ اس طرح وہ سفّاک لوگ اپنی قوم کے تباہ و برباد ہونے سے تین دن پہلے ہی جہنّم رسید ہوگئے۔ (قصص الانبیاء ابنِ کثیر،148)۔

اللہ کا عذاب اور سامانِ عبرت: اونٹنی کے قتل کے بعد جب کوئی عذاب نازل نہ ہوا، تو قوم نے خوشی کا جشن مناتے ہوئے کہا۔ ’’صالح ؑ! جس چیز سے تم ہمیں ڈراتے تھے۔ اگر تم (اللہ کے) پیغمبر ہو، تو اُس (عذاب) کو ہم پر لے آئو۔‘‘ (سورۃ الاعراف، آیت 77)۔ حضرت صالح علیہ السلام نے فرمایا۔ ’’اے قوم! اب تمہارے پاس صرف تین دن کی مہلت ہے، اور لو، عذاب کی علامات بھی سُن لو۔ کل جمعرات کے روز تم سب کے چہرے سخت زرد ہوجائیں گے۔ پرسوں یعنی جمعے کے روز تم سب کے چہرے سخت سُرخ ہوجائیں گے اور ہفتے کو سب کے چہرے سیاہ ہوجائیں گے۔اور وہ تمہاری زندگی کا آخری دن ہوگا۔

ان تینوں پیش گوئیوں کے سچ ہونے کے باوجود وہ قوم چہروں کی رنگت کی تبدیلی کو معمولی جادوئی اثرات سمجھتے ہوئے معمول کے مطابق عیش و عشرت میں مصروف رہی، یہاں تک کہ چوتھے دن کی صبح اوپر سے سخت ہیبت ناک چنگھاڑ اور زمین کے شدید زلزلے نے ان سب کو آناً فاناً جہنم رسید کردیا اور اللہ تعالیٰ نے اُن کی بستیوں کو آنے والی نسلوں کے لیے عبرت کدہ بنادیا۔ (معارف القرآن 611/3)۔

09/11/2024

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تُحَآجُّوْنَ فِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ مَاۤ اُنْزِلَتِ التَّوْرٰىةُ وَ الْاِنْجِیْلُ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِهٖؕ-اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ(65)

ترجمۂ کنز الایمان

اے کتاب والو ابراہیم کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو توریت و انجیل تو نہ اتری مگر ان کے بعد تو کیا تمہیں عقل نہیں۔

تفسیر صراط الجنان

{لِمَ تُحَآجُّوْنَ فِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ: تم ابراہیم کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو؟ } نجران کے عیسائیوں اور یہودیوں کے علماء میں حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے متعلق مناظرہ ہوا۔ یہودی کہتے تھے کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام یہودی تھےلہٰذا ہمارا دین بڑا ہے۔ عیسائی کہتے تھے، آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام عیسائی تھے لہٰذا ہمارا دین بڑا ہے۔ آخر کار ان دونوں نے سرکارِ عالی وقار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو اپنا حاکم بنایا، اس پر آیت اتری، (خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۶۵، ۱ / ۲۶۰)

جس میں ان بیوقوفوں کی انتہائی جہالت ظاہر فرمائی گئی کہ یہودیت حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور نصرانیت حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے جاری ہوئیں اور حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ان دونوں بزرگوں سے کئی سو سال پہلے ہوئے ہیں تو وہ یہودی یا عیسائی کیسے ہو سکتے ہیں ؟ چنانچہ فرمایا: اے اہلِ کتاب !تم ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو کہ وہ یہودی یا عیسائی تھے؟ حالانکہ توریت اور انجیل تو اتری ہی ان کے بعد ہے ۔تو کیا تمہیں اتنی بھی عقل نہیں ؟ کہ کئی سوسال پہلے والا شخص بعد والے گروہ میں شامل نہیں ہوسکتا ۔

بزرگوں پر ہونے والے اعتراضات کو دور کرنا اللہ تعالیٰ کی سنت ہے:

اس سے معلوم ہوا کہ بزرگوں سے لوگوں کے الزام دور کرنا سنت ِ الٰہیہ ہے، ان کی عظمت کی حمایت کرنا محبوب چیز ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم، حضرت سلیمان اور دیگر بہت سے انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر ہونے والے اعتراضات کو دور فرمایا ہے۔

علمِ تاریخ کی اہمیت:
اس آیتِ مبارکہ سے علمِ تاریخ کی اہمیت بھی واضح ہوتی ہے کہ یہاں تاریخ پر ہی حقیقت کا مدار ہے۔فی زمانہ علمِ تاریخ کی ویسے بھی بہت ضرورت ہے کیونکہ ہمارے زمانے کے بہت سے گمراہ لوگ تاریخ کو مسخ کرکے ہی لوگوں کو گمراہ کررہے ہیں۔ یونہی علمِ اَسماء الرِّجال حقیقتاً تاریخ پر ہی دارومدار رکھتا ہے نیز قوموں کے عروج و زوال اور اس کے اسباب تاریخ ہی سے معلوم ہوتے ہیں۔ البتہ اپنے طور پر ہر ایک کو تاریخ کی اجازت نہیں کیونکہ موجودہ تاریخ میں بہت سی گمراہ کن باتیں شامل ہیں۔ بے علم آدمی پڑھے گا تو مارا جائے گا۔ کسی مُستَنَد عالم کی رہنمائی میں تاریخ پڑھنی چاہیے۔

Address

Muzaffarabad
MUZAFFARABAD1122

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Quran & Bayaan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Quran & Bayaan:

Share