05/06/2026
اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ وَّبَارِكْ وَسَلِّمْ
⏳ جمعہ
🌙 '19 ذوالحجہ 1447ھ
📆 05 جون 2026ء
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ سَمُرَةَ رضي الله عنه قَالَ:
جَاءَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ بِأَلْفِ دِينَارٍ فِي ثَوْبِهِ، حِينَ جَهَّزَ النَّبِيُّ ﷺ جَيْشَ الْعُسْرَةِ، فَصَبَّهَا فِي حِجْرِ النَّبِيِّ ﷺ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ ﷺ يُقَلِّبُهَا بِيَدِهِ وَيَقُولُ: مَا ضَرَّ ابْنَ عَفَّانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ الْيَوْمِ، يُرَدِّدُهَا مِرَارًا.
📜 حضرت عبدالرحمن بن سمرہؓ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عثمان بن عفانؓ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک ہزار دینار لے کر حاضر ہوئے، جب آپ ﷺ غزوۂ تبوک (جیش العسرہ) کی تیاری فرما رہے تھے۔ حضرت عثمانؓ نے وہ دینار آپ ﷺ کی گود میں ڈال دیے۔ رسول اللہ ﷺ ان اشرفیوں کو اپنے ہاتھ میں الٹ پلٹ کر دیکھتے اور بار بار فرماتے:
"آج کے بعد عثمان جو بھی عمل کریں، اسے کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔"
🌿 غزوۂ تبوک کے موقع پر مسلمانوں کو مالی تعاون کی شدید ضرورت تھی۔
حضرت عثمان غنیؓ نے بے مثال سخاوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک ہزار دینار پیش کیے۔
رسول اللہ ﷺ ان کی اس عظیم قربانی سے بہت خوش ہوئے۔
آپ ﷺ نے حضرت عثمانؓ کے حق میں خوشنودی اور بشارت کے کلمات ارشاد فرمائے۔
یہ حدیث حضرت عثمانؓ کی فضیلت اور انفاق فی سبیل اللہ کی عظمت کو ظاہر کرتی ہے۔
💧 یہ حدیث حضرت عثمان بن عفانؓ کے بلند مقام، اخلاص اور فیاضی کی روشن دلیل ہے۔ غزوۂ تبوک کو "جیش العسرہ" (تنگی اور مشکل کا لشکر) کہا جاتا ہے کیونکہ اس وقت مسلمانوں کو مالی اور معاشی مشکلات کا سامنا تھا۔ ایسے نازک موقع پر حضرت عثمانؓ نے اپنے مال کو اللہ کی راہ میں پیش کرکے اسلامی لشکر کی تیاری میں نمایاں کردار ادا کیا۔
رسول اللہ ﷺ کا بار بار یہ فرمانا کہ "آج کے بعد عثمان کو کوئی عمل نقصان نہیں پہنچائے گا" دراصل حضرت عثمانؓ کی اس عظیم خدمت اور اخلاص پر خوشنودی کا اظہار اور ان کے لیے عظیم بشارت ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ شریعت کے احکام ساقط ہوگئے، بلکہ یہ ان کے بلند مرتبے، مغفرت اور اللہ تعالیٰ کی خصوصی رضا کی خبر ہے۔
سبق:
اللہ کی راہ میں خرچ کرنا بڑی فضیلت کا باعث ہے۔
مشکل حالات میں دین کی مدد کرنا بہترین عمل ہے۔
اخلاص کے ساتھ کیا گیا صدقہ اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت مقبول ہوتا ہے۔
حضرت عثمان غنیؓ کی سیرت سخاوت اور ایثار کا عظیم نمونہ ہے۔
حوالہ: مسند احمد (20630)، حدیث عبدالرحمن بن سمرہؓ۔