05/09/2026
🥀دُعا کی قبولیت کا راز🥀
شیخ محمد بن قاسم القندوسی رحمتہ اللّٰه علیہ فرماتے ہیں کہ بندے کی طرف سے اپنے مولیٰ سے مانگنے کی حالت کے سوال کرنے کے 4 پہلو ہوتے ہیں ۔۔۔
ان 4 پہلوؤں میں سے 3 قابلِ تعریف ہیں اور چوتھا مذموم یعنی ناپسندیدہ ہے ۔۔۔۔
3 قابلِ تعریف پہلو یہ ہیں کہ مانگنے والا جب اپنے رب سے مانگے تو ان 3 میں سے کوئی ایک صورت پیش آتی ہے ۔۔۔
پہلی صورت یہ ہے کہ یا تو وہ دُعا فوراً قبُول ہوجاتی ہے
دوسری صورت یہ ہے کہ کُچھ وقت گزرنے کے بعد قبول ہوجاتی ہے
تیسری صورت یہ ہے کہ اُسے آخرت کےلیے ذخیرہ کرلیا جاتا ہے ۔۔۔
اگر مانگی گئی چیز واقعی آپکے حق میں بہتر ہے اللّٰه رب العزت ان تینوں احکامات کے مطابق فیصلہ فرماتا ہے ۔۔ اگر دنیا میں ملنا مقدر ہوتو وقتِ مقررہ پر مل جاتی ہے ورنہ آخرت کےلیے جمع ہوجاتی ہے ۔۔۔۔
اب چوتھا پہلو کیا تھا ناپسندیدہ صورت والا
اگر مانگی گئی چیز حقیقت میں آپکے لیے نقصان دہ ہے تو اللّٰه پاک اپنی رحمت کے باعث آپ کو وہ چیز نہیں دیتا کیونکہ اللّٰه پاک جانتا ہے کہ وہ چیز آپ کےلیے ٹھیک نہیں ہے ۔۔
جو چیز اللّٰه پاک نے آپکی سعادت کےلیے رکھی ہے وہ کبھی آپ کےلیے نقصان دہ نہیں ہوسکتی اور جو چیز نقصان دہ ہے وہ کبھی آپ کی سعادت کا حصہ نہیں بن سکتی شیخ محمد بن قاسم القندوسی رحمتہ اللّٰه علیہ فرماتے ہیں اب ایک سمجھدار انسان کو چاہیے کہ وہ جب بھی اللّٰه پاک سے کُچھ مانگے تو اپنا معاملہ اللّٰه پاک کے سپرد کردے اور اللّٰه پاک کو اپنے لیے انتخاب کرنے دے خود اپنی پسند کا اصرار نہ کرے کیونکہ بہت سی چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو ظاہری طور پر انسان کو اچھی لگتی ہیں لیکن حقیقت میں وہ اس کے حق میں نقصان دہ ہوتی ہیں اور بہت سی چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو بظاہر ناگوار لگتی ہیں مگر باطن میں اللّٰه پاک کے نزدیک سراسر بھلائی والی ہوتی ہیں۔ جب بندہ اپنا معاملہ اللّٰه پاک کے حوالے کر دیتا ہے تو اللّٰه پاک اسے صرف وہی دیتا ہے جو اس کی بہتری میں ہو اور جو اس کے لیے برا ہو اسے دور کر دیتا ہے۔ اللّٰه پاک کے نزدیک ہم سے جو سب سے بڑی چیز مطلوب ہے وہ ادب ہے اسی لیے سیدی محمد بن قاسم القندوسی رحمتہ اللّٰه علیہ نے فرمایا کہ جب بھی آپ کوئی چیز خریدنا یا بیچنا چاہیں تو اسے پہلے اللّٰه پاک سے دُرودوسلام کے وسیلہ سے خریدیں یعنی ہر کام کا آغاز حضور نبی کریمﷺ پر دُرودوسلام پڑھ کر کریں ۔۔