11/07/2026
سورۃ المائدہ کی آیت نمبر 3 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
"وَمَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ"
(اور وہ جانور بھی حرام ہے جو آستانوں/مزاروں اور درباروں پر ذبح کیا گیا ہو)۔
اس حکم کی گہرائی، تاریخی پس منظر اور موجودہ دور میں اس کے اطلاق کو سمجھنے کے لیے ذیل میں تفصیلی تفسیر پیش ہے:
1. لفظ "النُّصُب" (آستانے) کا لغوی اور تاریخی مفہوم
عربی زبان میں "نُصُب" (جمع: اَنصاب) ان پتھروں، ستونوں یا چبوتروں کو کہا جاتا تھا جنہیں مشرکینِ مکہ نے کعبہ کے ارد گرد اور مختلف مقامات پر خاص علامت یا بت کے طور پر گاڑ رکھا تھا۔
یہ باقاعدہ تراشے ہوئے بت نہیں ہوتے تھے، بلکہ صرف خاص پتھر یا چبوترے ہوتے تھے جنہیں مقتدر یا مقدس مانا جاتا تھا۔
مشرکینِ مکہ اپنے جانوروں کو ان پتھروں کے پاس لے جا کر ذبح کرتے تھے اور ان کا خون ان پتھروں پر ملتے تھے، ان کا عقیدہ تھا کہ اس سے ان کے بت یا معبود خوش ہوتے ہیں۔
2. "وما أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ" اور "وَمَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ" میں فرق
ایک عام سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسی آیت کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے "وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ" (جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا گیا ہو) کہہ کر غیر اللہ کے نام کا جانور حرام کر دیا تھا، تو پھر آستانوں پر ذبح کیے جانے والے جانور کا الگ سے ذکر کیوں کیا؟
مفسرینِ کرام (جیسے امام ابن کثیرؒ اور دیگر) نے اس کا بہت خوبصورت فرق بیان کیا ہے:
پہلی صورت (نام کی خرابی): ایک شخص جانور کو اپنے گھر یا کسی عام جگہ پر ذبح کرتا ہے، لیکن زبان سے نام اللہ کے علاوہ کسی اور (مثلاً لات، عزیٰ، یا شاہ شمس تبریز یا کسی بھی صاحب مزار) کا لیتا ہے۔ یہ عقیدے اور نام کی خرابی کی وجہ سے حرام ہے۔
دوسری صورت (جگہ اور نیت کی خرابی): ایک شخص جانور ذبح کرتے وقت زبان سے تو شاید "بسم اللہ اللّٰہ اکبر" ہی پڑھے، لیکن وہ جگہ، چبوترہ یا آستانہ کسی غیر اللہ کی تعظیم کے لیے مخصوص ہو، اور اس کا مقصد اس جگہ یا اس صاحبِ مزار/بت کی خوشنودی حاصل کرنا ہو۔ اسلام نے اس عمل کی جڑ کاٹنے کے لیے جگہ اور نیت کی اس خرابی کو بھی مستقل طور پر حرام قرار دے دیا۔
3. ممانعت کی بنیادی وجہ (حکمت)
اسلام میں ذبح صرف ایک لذیذ گوشت حاصل کرنے کا طریقہ نہیں ہے، بلکہ یہ عبادت کی ایک شکل (قربانی) ہے۔
توحیدِ خالص کا تحفظ: سجدہ، دعا اور قربانی صرف اور صرف اللہ کا حق ہیں۔ جب کسی خاص چوکھٹ، آستانے یا مزار کو اس نیت کے لیے چنا جائے کہ وہاں ذبح کرنے سے اس صاحبِ مزار کی روح خوش ہوگی یا وہ راضی ہو کر ہماری مرادیں پوری کرے گا، تو یہ عمل شرک کی حدوں کو چھونے لگتا ہے۔
مشرکانہ رسوم کا خاتمہ: اسلام مسلمانوں کو مشرکین کے طور طریقوں سے بالکل الگ تھلگ اور پاک رکھنا چاہتا ہے، تاکہ شعائرِ اسلام (دین کی نشانیاں) بالکل صاف رہیں۔
4. موجودہ دور میں اس کا اطلاق اور فقہی حکم
موجودہ دور کے جید مفسرین اور فقہاء اس آیت کی روشنی میں درج ذیل احکام وضع کرتے ہیں:
مزارات یا آستانوں پر منت کی قربانیاں: اگر کوئی شخص کسی پیر، فقیر یا بزرگ کے مزار پر اس نیت سے جانور لے جا کر ذبح کرتا ہے کہ اس سے صاحبِ مزار کا تقرب (قربت) حاصل ہو، یا اس بزرگ کی نذر و نیاز کے طور پر وہاں ذبح کرنا لازمی سمجھتا ہے، تو یہ "ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ" کے حکم میں آئے گا اور ایسا گوشت کھانا حرام ہے۔
ایک اہم وضاحت (ایصالِ ثواب اور نذر و نیاز کا فرق):
اگر کوئی شخص اللہ کے نام پر اپنے گھر یا عام ذبح خانے میں جانور ذبح کرے (تاکہ اس کا گوشت غریبوں کو کھلائے اور اس کا ثواب کسی فوت شدہ بزرگ یا رشتہ دار کو پہنچائے) تو یہ ایصالِ ثواب ہے جو کہ جائز ہے۔ لیکن جانور کو کسی مزار یا مخصوص آستانے کی چوکھٹ پر لے جا کر، اس جگہ کی تعظیم کی نیت سے وہیں ذبح کرنے کو ضروری سمجھنا اس آیت کی رو سے ممنوع ہے۔
خلاصہ: اللہ تعالیٰ نے اس حکم کے ذریعے عبادت کی خالصت (توحید) کو بچایا ہے کہ نیت، نام اور جگہ... سب کچھ صرف اللہ ہی کے لیے ہونا چاہیے۔