Ahl e sunnat media

Directions

Ahl e sunnat media یہ پیج بنانے کا مقصد صرف اور صرف قرآن و سنت کی اشاعت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے فہم کے مطابق!!

06/09/2026
📜 ماہانہ روح پرور درسِ قرآن 📜تمام احباب سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ درسِ قرآن کی اس بابرکت محفل میں شرکت فرما کر اجرِ عظیم حا...
27/08/2026

📜 ماہانہ روح پرور درسِ قرآن 📜
تمام احباب سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ درسِ قرآن کی اس بابرکت محفل میں شرکت فرما کر اجرِ عظیم حاصل کریں۔
🗓 بتاریخ: 6 ستمبر بروز اتوار
⏰ وقت: بعد نمازِ عشاء

#ملتان

11/07/2026

سورۃ المائدہ کی آیت نمبر 3 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
"وَمَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ"
(اور وہ جانور بھی حرام ہے جو آستانوں/مزاروں اور درباروں پر ذبح کیا گیا ہو)۔
اس حکم کی گہرائی، تاریخی پس منظر اور موجودہ دور میں اس کے اطلاق کو سمجھنے کے لیے ذیل میں تفصیلی تفسیر پیش ہے:
1. لفظ "النُّصُب" (آستانے) کا لغوی اور تاریخی مفہوم
عربی زبان میں "نُصُب" (جمع: اَنصاب) ان پتھروں، ستونوں یا چبوتروں کو کہا جاتا تھا جنہیں مشرکینِ مکہ نے کعبہ کے ارد گرد اور مختلف مقامات پر خاص علامت یا بت کے طور پر گاڑ رکھا تھا۔
یہ باقاعدہ تراشے ہوئے بت نہیں ہوتے تھے، بلکہ صرف خاص پتھر یا چبوترے ہوتے تھے جنہیں مقتدر یا مقدس مانا جاتا تھا۔
مشرکینِ مکہ اپنے جانوروں کو ان پتھروں کے پاس لے جا کر ذبح کرتے تھے اور ان کا خون ان پتھروں پر ملتے تھے، ان کا عقیدہ تھا کہ اس سے ان کے بت یا معبود خوش ہوتے ہیں۔
2. "وما أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ" اور "وَمَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ" میں فرق
ایک عام سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسی آیت کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے "وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ" (جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا گیا ہو) کہہ کر غیر اللہ کے نام کا جانور حرام کر دیا تھا، تو پھر آستانوں پر ذبح کیے جانے والے جانور کا الگ سے ذکر کیوں کیا؟
مفسرینِ کرام (جیسے امام ابن کثیرؒ اور دیگر) نے اس کا بہت خوبصورت فرق بیان کیا ہے:
پہلی صورت (نام کی خرابی): ایک شخص جانور کو اپنے گھر یا کسی عام جگہ پر ذبح کرتا ہے، لیکن زبان سے نام اللہ کے علاوہ کسی اور (مثلاً لات، عزیٰ، یا شاہ شمس تبریز یا کسی بھی صاحب مزار) کا لیتا ہے۔ یہ عقیدے اور نام کی خرابی کی وجہ سے حرام ہے۔
دوسری صورت (جگہ اور نیت کی خرابی): ایک شخص جانور ذبح کرتے وقت زبان سے تو شاید "بسم اللہ اللّٰہ اکبر" ہی پڑھے، لیکن وہ جگہ، چبوترہ یا آستانہ کسی غیر اللہ کی تعظیم کے لیے مخصوص ہو، اور اس کا مقصد اس جگہ یا اس صاحبِ مزار/بت کی خوشنودی حاصل کرنا ہو۔ اسلام نے اس عمل کی جڑ کاٹنے کے لیے جگہ اور نیت کی اس خرابی کو بھی مستقل طور پر حرام قرار دے دیا۔
3. ممانعت کی بنیادی وجہ (حکمت)
اسلام میں ذبح صرف ایک لذیذ گوشت حاصل کرنے کا طریقہ نہیں ہے، بلکہ یہ عبادت کی ایک شکل (قربانی) ہے۔
توحیدِ خالص کا تحفظ: سجدہ، دعا اور قربانی صرف اور صرف اللہ کا حق ہیں۔ جب کسی خاص چوکھٹ، آستانے یا مزار کو اس نیت کے لیے چنا جائے کہ وہاں ذبح کرنے سے اس صاحبِ مزار کی روح خوش ہوگی یا وہ راضی ہو کر ہماری مرادیں پوری کرے گا، تو یہ عمل شرک کی حدوں کو چھونے لگتا ہے۔
مشرکانہ رسوم کا خاتمہ: اسلام مسلمانوں کو مشرکین کے طور طریقوں سے بالکل الگ تھلگ اور پاک رکھنا چاہتا ہے، تاکہ شعائرِ اسلام (دین کی نشانیاں) بالکل صاف رہیں۔
4. موجودہ دور میں اس کا اطلاق اور فقہی حکم
موجودہ دور کے جید مفسرین اور فقہاء اس آیت کی روشنی میں درج ذیل احکام وضع کرتے ہیں:
مزارات یا آستانوں پر منت کی قربانیاں: اگر کوئی شخص کسی پیر، فقیر یا بزرگ کے مزار پر اس نیت سے جانور لے جا کر ذبح کرتا ہے کہ اس سے صاحبِ مزار کا تقرب (قربت) حاصل ہو، یا اس بزرگ کی نذر و نیاز کے طور پر وہاں ذبح کرنا لازمی سمجھتا ہے، تو یہ "ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ" کے حکم میں آئے گا اور ایسا گوشت کھانا حرام ہے۔
ایک اہم وضاحت (ایصالِ ثواب اور نذر و نیاز کا فرق):
اگر کوئی شخص اللہ کے نام پر اپنے گھر یا عام ذبح خانے میں جانور ذبح کرے (تاکہ اس کا گوشت غریبوں کو کھلائے اور اس کا ثواب کسی فوت شدہ بزرگ یا رشتہ دار کو پہنچائے) تو یہ ایصالِ ثواب ہے جو کہ جائز ہے۔ لیکن جانور کو کسی مزار یا مخصوص آستانے کی چوکھٹ پر لے جا کر، اس جگہ کی تعظیم کی نیت سے وہیں ذبح کرنے کو ضروری سمجھنا اس آیت کی رو سے ممنوع ہے۔
خلاصہ: اللہ تعالیٰ نے اس حکم کے ذریعے عبادت کی خالصت (توحید) کو بچایا ہے کہ نیت، نام اور جگہ... سب کچھ صرف اللہ ہی کے لیے ہونا چاہیے۔

اس دفعہ مقام تبدیل ہے اس لئے بمقام کو غور سے پڑھیں
24/06/2026

اس دفعہ مقام تبدیل ہے اس لئے بمقام کو غور سے پڑھیں



آج رات انشاء اللّٰہ العزیز
23/05/2026

آج رات انشاء اللّٰہ العزیز

01/05/2026

قربانی ایک خالص عبادت ہے اور اجتماعی قربانی (بڑے جانور) میں تمام شرکاء کی نیت اور مال کا پاک ہونا ضروری ہے۔
​1. مشرک کا حصہ
​اجتماعی قربانی میں کسی ایسے شخص کا حصہ ہرگز نہیں ڈالا جا سکتا جو عقیدہ شرک رکھتا ہو (مثلاً اللہ کے علاوہ کسی اور کو حاجت روا ماننا یا اللہ کی صفات میں کسی کو شریک کرنا)۔ اگر کسی ایک شریک کا عقیدہ بھی مشرکانہ ہو گا، تو کسی بھی شریک کی قربانی قبول نہیں ہوگی۔
​2. بدعتی کا حصہ
​اس میں تفصیل ہے:
​اگر اس کی بدعت حدِ کفر تک پہنچتی ہو (یعنی ایسے عقائد جو اسلام کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہوں)، تو اس کا حصہ رکھنا جائز نہیں۔
​اگر بدعت محض رسومات کی حد تک ہے اور عقیدہ درست ہے، تو قربانی تو ہو جائے گی لیکن ایسے شخص کو شریک کرنے سے بچنا بہتر ہے تاکہ عبادت میں کوئی کراہت نہ رہے۔
​3. سود کی کمائی کھانے والا
​قربانی کے لیے حلال مال شرط ہے۔
​اگر کسی شخص کی پوری یا اکثر کمائی سود پر مبنی ہے، تو اسے قربانی میں شریک کرنا جائز نہیں ہے۔ اس کی شرکت سے باقی تمام شرکاء کی قربانی بھی فاسد (خراب) ہو جائے گی۔
​اگر کسی کی کمائی حلال ہے لیکن تھوڑا بہت حصہ مشکوک ہے، تب بھی احتیاط لازم ہے، کیونکہ عبادت کے لیے پاکیزہ مال بنیادی شرط ہے۔
​4. دکھاوے کی نیت (ریاکاری)
​قربانی کی قبولیت کا دارومدار تقویٰ اور اخلاص پر ہے۔
​اگر کسی شریک کا مقصد اللہ کی رضا کے بجائے محض گوشت کھانا، لوگوں کو دکھانا یا اپنی بڑائی ظاہر کرنا ہو، تو حدیثِ مبارکہ کے مطابق اس کی قربانی نہیں ہوگی۔
​چونکہ اجتماعی قربانی میں ایک کا حصہ خراب ہونے سے سب کا حصہ متاثر ہوتا ہے، اس لیے ایسے شخص کو شریک کرنے سے گریز کرنا چاہیے جس کی نیت مشکوک ہو۔
​خلاصہ و نتیجہ
​فقہائے کرام کے مطابق اجتماعی قربانی میں تمام سات (7) شرکاء کی نیت قربت (عبادت) ہونی چاہیے۔ اگر کسی ایک کا مقصد بھی محض گوشت حاصل کرنا یا اس کا مال حرام ہوا، یا اس کا عقیدہ درست نہ ہوا، تو کسی بھی شریک کی قربانی ادا نہیں ہوگی۔
​مشورہ: اجتماعی قربانی میں حصہ ڈالتے وقت ہمیشہ ایسے لوگوں کا انتخاب کریں جو دیندار، صحیح العقیدہ اور حلال رزق کمانے والے ہوں۔ اگر کسی کے بارے میں علم ہو کہ اس کا مال یا عقیدہ درست نہیں، تو اسے پیار سے معذرت کر لینی چاہیے تاکہ آپ کی عبادت ضائع نہ ہو۔
Ahl e sunnat media

27/04/2026

وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهِ — ساری زمین اللہ کی مٹھی میں ہوگی! | مولانا نصر اللہ طاہری

     ماہانہ درسِ قرآن و اصلاحی بیانمقرر: حضرت مولانا نصر اللہ طاہری صاحبتاریخ: 25 اپریل، بروز ہفتہمقام: عبد الحفیظ جرمن ...
24/04/2026






ماہانہ درسِ قرآن و اصلاحی بیان
مقرر: حضرت مولانا نصر اللہ طاہری صاحب
تاریخ: 25 اپریل، بروز ہفتہ
مقام: عبد الحفیظ جرمن ہاؤس نزد الطاف کریانہ المصطفیٰ مسجد پیپلز کالونی ملتان
براہِ راست: ہمارے فیس بک پیج ahlesunnatmedia پر دیکھیں۔
#ملتان

21/04/2026

قل خوانی، دسواں، بیسواں اور چالیسواں جیسی رسومات پر میت کا مال خرچ کرنے کے حوالے سے شرعی حکم درج ذیل نکات میں واضح کیا گیا ہے:
1. میت کے مال کی تقسیم کا اصول
اسلامی شریعت کے مطابق جب کسی شخص کا انتقال ہوتا ہے، تو اس کے مال پر سب سے پہلے درج ذیل حقوق ہوتے ہیں:
کفن و دفن کے اخراجات۔
میت کے ذمے واجب الادا قرض کی ادائیگی۔
اگر میت نے کوئی جائز وصیت کی ہو (جو کل مال کے ایک تہائی سے زیادہ نہ ہو)۔
باقی تمام مال ورثاء کا حق ہوتا ہے جو شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہونا ضروری ہے۔
2. میت کے مال سے قل خوانی اور چالیسواں
علماء اور فقہاء کی اکثریت کے مطابق میت کے مال سے ان رسومات پر خرچ کرنا ناجائز اور گناہ ہے، خاص طور پر درج ذیل صورتوں میں:
یتیم کا مال: اگر ورثاء میں کوئی بھی نابالغ (یتیم) بچہ شامل ہو، تو اس کے حصے کے مال سے کھانا پکوانا یا ان رسومات پر ایک روپیہ بھی خرچ کرنا سخت حرام ہے۔ قرآن مجید میں یتیم کا مال ناحق کھانے والوں کے لیے سخت وعید آئی ہے۔
ورثاء کی ناپسندیدگی: اگر تمام ورثاء بالغ ہوں لیکن ان میں سے کوئی ایک بھی اس خرچ پر دل سے راضی نہ ہو، تب بھی میت کے مال سے یہ اخراجات کرنا جائز نہیں ہے۔
رسم و رواج: میت کا مال صدقہ و خیرات کے لیے ہوتا ہے، نہ کہ برادری کو کھانا کھلانے یا دکھاوے کی محافل کے لیے۔
3. ایصالِ ثواب کا صحیح طریقہ
میت کو ثواب پہنچانا (ایصالِ ثواب) برحق ہے، لیکن اس کے لیے دن مقرر کرنا (جیسے تیسرا یا چالیسواں) اور میت کے مال سے ضیافتیں کرنا نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام سے ثابت نہیں ہے۔
بہتر طریقہ: میت کے مال سے اگر صدقہ کرنا ہے تو وہ غریبوں، مسکینوں، بیواؤں یا کسی دینی مدرسے کو دیا جائے جہاں اس کی واقعی ضرورت ہو۔
بغیر مال کے ثواب: قرآن خوانی، تسبیحات اور دعا کے لیے کسی خرچ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ گھر والے یا رشتہ دار کسی بھی وقت انفرادی طور پر تلاوت کر کے اس کا ثواب میت کو پہنچا سکتے ہیں۔
4. خلاصہ حکم
میت کے مال سے قل خوانی یا چالیسویں کا کھانا پکوانا ایک بدعت اور غیر شرعی عمل سمجھا جاتا ہے۔ اگر کوئی ایصالِ ثواب کرنا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ اپنے ذاتی حلال مال سے بغیر کسی نام و نمود کے غریبوں کی مدد کرے، نہ کہ میت کے اس مال سے جو اب اس کے یتیم بچوں یا بیوہ کا حق بن چکا ہے۔
کمنٹ میں اپنی رائے دیں

21/04/2026

اسلامی تعلیمات کے مطابق، جب کسی کے ہاں وفات ہو جائے تو سنت یہ ہے کہ رشتہ دار اور ہمسائے میت کے گھر والوں کے لیے کھانے کا انتظام کریں، کیونکہ وہ غم کی وجہ سے کھانا بنانے کی حالت میں نہیں ہوتے۔
​احادیثِ مبارکہ کے ارشادات
​اہلِ میت کے لیے کھانا تیار کرنا:
جب حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ شہید ہوئے، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
​"جعفر کے گھر والوں کے لیے کھانا تیار کرو، کیونکہ ان پر ایسا معاملہ (غم) آ پڑا ہے جس نے انہیں مشغول کر دیا ہے۔" (سنن ابوداؤد، جامع ترمذی)
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اصل سنت یہ ہے کہ دوسرے لوگ میت کے گھر کھانا بھیجیں۔
​میت کے گھر ضیافت کا حکم:
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میت کے گھر جمع ہونے اور وہاں کھانا کھانے کو "نوحہ" (ممنوعہ ماتم) کا حصہ شمار کرتے تھے۔ حضرت جریر بن عبداللہ البجلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
​"ہم میت کے گھر والوں کے پاس جمع ہونے اور ان کے کھانا تیار کرنے کو نوحہ میں شمار کرتے تھے۔" (مسند احمد، ابن ماجہ)
​فقہی و اخلاقی پہلو
​رشتہ داروں کے لیے گنجائش: اگر کوئی مسافر ہو یا بہت دور سے آیا ہو اور وہاں کھانے کا کوئی اور انتظام نہ ہو، تو بقدرِ ضرورت کھانے میں حرج نہیں، لیکن اسے میلہ یا ضیافت کی شکل دینا درست نہیں۔
​یتیم کا مال: اگر میت کے ورثاء میں یتیم بچے ہوں، تو ان کے مال سے کھانا تیار کرنا اور عام لوگوں کا اسے کھانا سخت گناہ اور ناجائز ہے۔
​نمود و نمائش: میت کے گھر پر بڑے پیمانے پر دیگیں پکانا یا رسم و رواج کے طور پر کھانا کھلانا سنت کے خلاف اور ایک قسم کی بدعت شمار ہوتا ہے۔
​خلاصہ:
سنت یہ ہے کہ میت کے گھر والے کھانا نہ کھلائیں، بلکہ محلے دار اور قریبی عزیز ان کے گھر کھانا پہنچائیں۔ میت کے گھر جا کر اسے ضیافت سمجھ کر کھانا کھانا ناپسندیدہ عمل ہے۔

Address

Multan
60000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ahl e sunnat media posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share