01/05/2026
قربانی ایک خالص عبادت ہے اور اجتماعی قربانی (بڑے جانور) میں تمام شرکاء کی نیت اور مال کا پاک ہونا ضروری ہے۔
1. مشرک کا حصہ
اجتماعی قربانی میں کسی ایسے شخص کا حصہ ہرگز نہیں ڈالا جا سکتا جو عقیدہ شرک رکھتا ہو (مثلاً اللہ کے علاوہ کسی اور کو حاجت روا ماننا یا اللہ کی صفات میں کسی کو شریک کرنا)۔ اگر کسی ایک شریک کا عقیدہ بھی مشرکانہ ہو گا، تو کسی بھی شریک کی قربانی قبول نہیں ہوگی۔
2. بدعتی کا حصہ
اس میں تفصیل ہے:
اگر اس کی بدعت حدِ کفر تک پہنچتی ہو (یعنی ایسے عقائد جو اسلام کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہوں)، تو اس کا حصہ رکھنا جائز نہیں۔
اگر بدعت محض رسومات کی حد تک ہے اور عقیدہ درست ہے، تو قربانی تو ہو جائے گی لیکن ایسے شخص کو شریک کرنے سے بچنا بہتر ہے تاکہ عبادت میں کوئی کراہت نہ رہے۔
3. سود کی کمائی کھانے والا
قربانی کے لیے حلال مال شرط ہے۔
اگر کسی شخص کی پوری یا اکثر کمائی سود پر مبنی ہے، تو اسے قربانی میں شریک کرنا جائز نہیں ہے۔ اس کی شرکت سے باقی تمام شرکاء کی قربانی بھی فاسد (خراب) ہو جائے گی۔
اگر کسی کی کمائی حلال ہے لیکن تھوڑا بہت حصہ مشکوک ہے، تب بھی احتیاط لازم ہے، کیونکہ عبادت کے لیے پاکیزہ مال بنیادی شرط ہے۔
4. دکھاوے کی نیت (ریاکاری)
قربانی کی قبولیت کا دارومدار تقویٰ اور اخلاص پر ہے۔
اگر کسی شریک کا مقصد اللہ کی رضا کے بجائے محض گوشت کھانا، لوگوں کو دکھانا یا اپنی بڑائی ظاہر کرنا ہو، تو حدیثِ مبارکہ کے مطابق اس کی قربانی نہیں ہوگی۔
چونکہ اجتماعی قربانی میں ایک کا حصہ خراب ہونے سے سب کا حصہ متاثر ہوتا ہے، اس لیے ایسے شخص کو شریک کرنے سے گریز کرنا چاہیے جس کی نیت مشکوک ہو۔
خلاصہ و نتیجہ
فقہائے کرام کے مطابق اجتماعی قربانی میں تمام سات (7) شرکاء کی نیت قربت (عبادت) ہونی چاہیے۔ اگر کسی ایک کا مقصد بھی محض گوشت حاصل کرنا یا اس کا مال حرام ہوا، یا اس کا عقیدہ درست نہ ہوا، تو کسی بھی شریک کی قربانی ادا نہیں ہوگی۔
مشورہ: اجتماعی قربانی میں حصہ ڈالتے وقت ہمیشہ ایسے لوگوں کا انتخاب کریں جو دیندار، صحیح العقیدہ اور حلال رزق کمانے والے ہوں۔ اگر کسی کے بارے میں علم ہو کہ اس کا مال یا عقیدہ درست نہیں، تو اسے پیار سے معذرت کر لینی چاہیے تاکہ آپ کی عبادت ضائع نہ ہو۔
Ahl e sunnat media