Ahl e sunnat media

Ahl e sunnat media یہ پیج بنانے کا مقصد صرف اور صرف قرآن و سنت کی اشاعت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے فہم کے مطابق!!

23/05/2026
آج رات انشاء اللّٰہ العزیز
23/05/2026

آج رات انشاء اللّٰہ العزیز

01/05/2026

قربانی ایک خالص عبادت ہے اور اجتماعی قربانی (بڑے جانور) میں تمام شرکاء کی نیت اور مال کا پاک ہونا ضروری ہے۔
​1. مشرک کا حصہ
​اجتماعی قربانی میں کسی ایسے شخص کا حصہ ہرگز نہیں ڈالا جا سکتا جو عقیدہ شرک رکھتا ہو (مثلاً اللہ کے علاوہ کسی اور کو حاجت روا ماننا یا اللہ کی صفات میں کسی کو شریک کرنا)۔ اگر کسی ایک شریک کا عقیدہ بھی مشرکانہ ہو گا، تو کسی بھی شریک کی قربانی قبول نہیں ہوگی۔
​2. بدعتی کا حصہ
​اس میں تفصیل ہے:
​اگر اس کی بدعت حدِ کفر تک پہنچتی ہو (یعنی ایسے عقائد جو اسلام کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہوں)، تو اس کا حصہ رکھنا جائز نہیں۔
​اگر بدعت محض رسومات کی حد تک ہے اور عقیدہ درست ہے، تو قربانی تو ہو جائے گی لیکن ایسے شخص کو شریک کرنے سے بچنا بہتر ہے تاکہ عبادت میں کوئی کراہت نہ رہے۔
​3. سود کی کمائی کھانے والا
​قربانی کے لیے حلال مال شرط ہے۔
​اگر کسی شخص کی پوری یا اکثر کمائی سود پر مبنی ہے، تو اسے قربانی میں شریک کرنا جائز نہیں ہے۔ اس کی شرکت سے باقی تمام شرکاء کی قربانی بھی فاسد (خراب) ہو جائے گی۔
​اگر کسی کی کمائی حلال ہے لیکن تھوڑا بہت حصہ مشکوک ہے، تب بھی احتیاط لازم ہے، کیونکہ عبادت کے لیے پاکیزہ مال بنیادی شرط ہے۔
​4. دکھاوے کی نیت (ریاکاری)
​قربانی کی قبولیت کا دارومدار تقویٰ اور اخلاص پر ہے۔
​اگر کسی شریک کا مقصد اللہ کی رضا کے بجائے محض گوشت کھانا، لوگوں کو دکھانا یا اپنی بڑائی ظاہر کرنا ہو، تو حدیثِ مبارکہ کے مطابق اس کی قربانی نہیں ہوگی۔
​چونکہ اجتماعی قربانی میں ایک کا حصہ خراب ہونے سے سب کا حصہ متاثر ہوتا ہے، اس لیے ایسے شخص کو شریک کرنے سے گریز کرنا چاہیے جس کی نیت مشکوک ہو۔
​خلاصہ و نتیجہ
​فقہائے کرام کے مطابق اجتماعی قربانی میں تمام سات (7) شرکاء کی نیت قربت (عبادت) ہونی چاہیے۔ اگر کسی ایک کا مقصد بھی محض گوشت حاصل کرنا یا اس کا مال حرام ہوا، یا اس کا عقیدہ درست نہ ہوا، تو کسی بھی شریک کی قربانی ادا نہیں ہوگی۔
​مشورہ: اجتماعی قربانی میں حصہ ڈالتے وقت ہمیشہ ایسے لوگوں کا انتخاب کریں جو دیندار، صحیح العقیدہ اور حلال رزق کمانے والے ہوں۔ اگر کسی کے بارے میں علم ہو کہ اس کا مال یا عقیدہ درست نہیں، تو اسے پیار سے معذرت کر لینی چاہیے تاکہ آپ کی عبادت ضائع نہ ہو۔
Ahl e sunnat media

27/04/2026

وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهِ — ساری زمین اللہ کی مٹھی میں ہوگی! | مولانا نصر اللہ طاہری

     ماہانہ درسِ قرآن و اصلاحی بیانمقرر: حضرت مولانا نصر اللہ طاہری صاحبتاریخ: 25 اپریل، بروز ہفتہمقام: عبد الحفیظ جرمن ...
24/04/2026






ماہانہ درسِ قرآن و اصلاحی بیان
مقرر: حضرت مولانا نصر اللہ طاہری صاحب
تاریخ: 25 اپریل، بروز ہفتہ
مقام: عبد الحفیظ جرمن ہاؤس نزد الطاف کریانہ المصطفیٰ مسجد پیپلز کالونی ملتان
براہِ راست: ہمارے فیس بک پیج ahlesunnatmedia پر دیکھیں۔
#ملتان

21/04/2026

قل خوانی، دسواں، بیسواں اور چالیسواں جیسی رسومات پر میت کا مال خرچ کرنے کے حوالے سے شرعی حکم درج ذیل نکات میں واضح کیا گیا ہے:
1. میت کے مال کی تقسیم کا اصول
اسلامی شریعت کے مطابق جب کسی شخص کا انتقال ہوتا ہے، تو اس کے مال پر سب سے پہلے درج ذیل حقوق ہوتے ہیں:
کفن و دفن کے اخراجات۔
میت کے ذمے واجب الادا قرض کی ادائیگی۔
اگر میت نے کوئی جائز وصیت کی ہو (جو کل مال کے ایک تہائی سے زیادہ نہ ہو)۔
باقی تمام مال ورثاء کا حق ہوتا ہے جو شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہونا ضروری ہے۔
2. میت کے مال سے قل خوانی اور چالیسواں
علماء اور فقہاء کی اکثریت کے مطابق میت کے مال سے ان رسومات پر خرچ کرنا ناجائز اور گناہ ہے، خاص طور پر درج ذیل صورتوں میں:
یتیم کا مال: اگر ورثاء میں کوئی بھی نابالغ (یتیم) بچہ شامل ہو، تو اس کے حصے کے مال سے کھانا پکوانا یا ان رسومات پر ایک روپیہ بھی خرچ کرنا سخت حرام ہے۔ قرآن مجید میں یتیم کا مال ناحق کھانے والوں کے لیے سخت وعید آئی ہے۔
ورثاء کی ناپسندیدگی: اگر تمام ورثاء بالغ ہوں لیکن ان میں سے کوئی ایک بھی اس خرچ پر دل سے راضی نہ ہو، تب بھی میت کے مال سے یہ اخراجات کرنا جائز نہیں ہے۔
رسم و رواج: میت کا مال صدقہ و خیرات کے لیے ہوتا ہے، نہ کہ برادری کو کھانا کھلانے یا دکھاوے کی محافل کے لیے۔
3. ایصالِ ثواب کا صحیح طریقہ
میت کو ثواب پہنچانا (ایصالِ ثواب) برحق ہے، لیکن اس کے لیے دن مقرر کرنا (جیسے تیسرا یا چالیسواں) اور میت کے مال سے ضیافتیں کرنا نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام سے ثابت نہیں ہے۔
بہتر طریقہ: میت کے مال سے اگر صدقہ کرنا ہے تو وہ غریبوں، مسکینوں، بیواؤں یا کسی دینی مدرسے کو دیا جائے جہاں اس کی واقعی ضرورت ہو۔
بغیر مال کے ثواب: قرآن خوانی، تسبیحات اور دعا کے لیے کسی خرچ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ گھر والے یا رشتہ دار کسی بھی وقت انفرادی طور پر تلاوت کر کے اس کا ثواب میت کو پہنچا سکتے ہیں۔
4. خلاصہ حکم
میت کے مال سے قل خوانی یا چالیسویں کا کھانا پکوانا ایک بدعت اور غیر شرعی عمل سمجھا جاتا ہے۔ اگر کوئی ایصالِ ثواب کرنا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ اپنے ذاتی حلال مال سے بغیر کسی نام و نمود کے غریبوں کی مدد کرے، نہ کہ میت کے اس مال سے جو اب اس کے یتیم بچوں یا بیوہ کا حق بن چکا ہے۔
کمنٹ میں اپنی رائے دیں

21/04/2026

اسلامی تعلیمات کے مطابق، جب کسی کے ہاں وفات ہو جائے تو سنت یہ ہے کہ رشتہ دار اور ہمسائے میت کے گھر والوں کے لیے کھانے کا انتظام کریں، کیونکہ وہ غم کی وجہ سے کھانا بنانے کی حالت میں نہیں ہوتے۔
​احادیثِ مبارکہ کے ارشادات
​اہلِ میت کے لیے کھانا تیار کرنا:
جب حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ شہید ہوئے، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
​"جعفر کے گھر والوں کے لیے کھانا تیار کرو، کیونکہ ان پر ایسا معاملہ (غم) آ پڑا ہے جس نے انہیں مشغول کر دیا ہے۔" (سنن ابوداؤد، جامع ترمذی)
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اصل سنت یہ ہے کہ دوسرے لوگ میت کے گھر کھانا بھیجیں۔
​میت کے گھر ضیافت کا حکم:
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میت کے گھر جمع ہونے اور وہاں کھانا کھانے کو "نوحہ" (ممنوعہ ماتم) کا حصہ شمار کرتے تھے۔ حضرت جریر بن عبداللہ البجلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
​"ہم میت کے گھر والوں کے پاس جمع ہونے اور ان کے کھانا تیار کرنے کو نوحہ میں شمار کرتے تھے۔" (مسند احمد، ابن ماجہ)
​فقہی و اخلاقی پہلو
​رشتہ داروں کے لیے گنجائش: اگر کوئی مسافر ہو یا بہت دور سے آیا ہو اور وہاں کھانے کا کوئی اور انتظام نہ ہو، تو بقدرِ ضرورت کھانے میں حرج نہیں، لیکن اسے میلہ یا ضیافت کی شکل دینا درست نہیں۔
​یتیم کا مال: اگر میت کے ورثاء میں یتیم بچے ہوں، تو ان کے مال سے کھانا تیار کرنا اور عام لوگوں کا اسے کھانا سخت گناہ اور ناجائز ہے۔
​نمود و نمائش: میت کے گھر پر بڑے پیمانے پر دیگیں پکانا یا رسم و رواج کے طور پر کھانا کھلانا سنت کے خلاف اور ایک قسم کی بدعت شمار ہوتا ہے۔
​خلاصہ:
سنت یہ ہے کہ میت کے گھر والے کھانا نہ کھلائیں، بلکہ محلے دار اور قریبی عزیز ان کے گھر کھانا پہنچائیں۔ میت کے گھر جا کر اسے ضیافت سمجھ کر کھانا کھانا ناپسندیدہ عمل ہے۔

20/04/2026

حاضریِ مدینہ اور تجدیدِ ایمان: حقیقت کیا ہے؟ | مولانا محمد عطا اللہ بندیالوی

قرآنِ کریم کی آیات میں من مانی تبدیلی ناقابلِ قبول ہےقرآنِ مجید کی ایک ایک آیت اور ایک ایک لفظ پوری امتِ مسلمہ کے لیے مق...
13/04/2026

قرآنِ کریم کی آیات میں من مانی تبدیلی ناقابلِ قبول ہے
قرآنِ مجید کی ایک ایک آیت اور ایک ایک لفظ پوری امتِ مسلمہ کے لیے مقدس اور ناقابلِ تغیر ہے۔ حالیہ سامنے آنے والی ایک تصویر، جس میں خامنہ ای کے چہلم کی مناسبت سے منعقدہ تقریب کا بینر دکھایا گیا ہے، اس میں کلامِ الٰہی کی جس طرح توہین اور تحریف کی گئی ہے، وہ کسی بھی طور قابلِ برداشت نہیں ہے۔

بینر پر سورہ مریم کی آیات کو مسخ کر کے لکھا گیا ہے۔ جہاں قرآن میں حضرت یحییٰؑ اور حضرت عیسیٰؑ کے لیے "وَيَوْمَ يُبْعَثُ حَيًّا" (جس دن وہ زندہ اٹھایا جائے گا) کے الفاظ ہیں، وہاں اپنی مرضی سے "وَيَوْمَ قُتِلْتَ" کے الفاظ شامل کر دیے گئے ہیں۔ کسی انسان کی عقیدت میں قرآن کے الفاظ کو بدل دینا صریحاً گمراہی اور بے ادبی ہے۔
سخت احتجاج اور سوالات:
مذہبی قیادت کی خاموشی: نہایت افسوس کا مقام ہے کہ اس تقریب کے اسٹیج پر سراج الحق صاحب جیسے بزرگ سیاستدان اور دیگر جبہ و دستار والے علماء موجود تھے، لیکن کسی نے اس کھلی تحریف پر آواز نہیں اٹھائی۔ کیا سیاسی مصلحتیں اتنی غالب آگئی ہیں کہ قرآن کی حرمت کا پاس بھی نہیں رہا؟
عقیدت یا غلو؟ کسی بھی شخصیت کی قدر و منزلت اپنی جگہ، لیکن کیا اب شخصیات کو (معاذ اللہ) انبیاء کے برابر درجہ دے کر ان پر قرآنی آیات کو تبدیل کر کے چسپاں کیا جائے گا؟ یہ غلوِ فی الدین کی بدترین مثال ہے۔
انتظامیہ کا جرم: جامعہ عروۃ الوثقیٰ جیسے ادارے میں ایسی فاش غلطی کا ہونا محض ایک اتفاق نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی جسارت معلوم ہوتی ہے۔
مطالبہ:
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس تقریب کے منتظمین اور وہاں موجود تمام مذہبی قیادت اس سنگین غلطی پر فی الفور توبہ کریں اور عوامی سطح پر اس کی وضاحت پیش کریں۔ کلامِ پاک کے ساتھ یہ کھلواڑ امتِ مسلمہ کے جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف ہے، جسے کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
قرآن کی حفاظت اللہ کا ذمہ ہے، لیکن اس کی حرمت کا پہرہ دینا ہمارا ایمانی فریضہ ہے۔

09/02/2026

سورہ الاعراف کی آیت نمبر 37 ۔ یہ منظر قرآن کریم میں نہایت عبرت ناک انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
آیت کا متعلقہ حصہ یہ ہے:
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
حَتَّىٰ إِذَا جَاءَتْهُمْ رُسُلُنَا يَتَوَفَّوْنَهُمْ قَالُوا أَيْنَ مَا كُنتُمْ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ ۖ قَالُوا ضَلُّوا عَنَّا وَشَهِدُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ أَنَّهُمْ كَانُوا كَافِرِينَ
ترجمہ: یہاں تک کہ جب ان کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) ان کی جان نکالنے کے لیے آتے ہیں تو وہ ان سے کہتے ہیں کہ وہ کہاں ہیں جنہیں تم اللہ کے سوا پکارا کرتے تھے؟ وہ (مشرکین) جواب دیتے ہیں کہ وہ تو ہم سے گم ہو گئے (غائب ہو گئے) اور وہ خود اپنے خلاف گواہی دیتے ہیں کہ وہ واقعی کافر تھے۔
اس آیت کی مختصر اور جامع تفسیر
اس آیت کی تفسیر میں مفسرین (جیسے ابنِ کثیر اور قرطبی) نے چند اہم نکات بیان کیے ہیں:
1. موت کا کڑا وقت (نزع کی حالت):
یہ مکالمہ اس وقت ہوتا ہے جب انسان دنیا اور آخرت کی سرحد پر ہوتا ہے۔ جب ملک الموت (عزرائیل علیہ السلام) اور ان کے ساتھی فرشتے مشرک کی روح نکالنے آتے ہیں، تو وہ انتہائی سخت لہجے میں ان سے سوال کرتے ہیں۔ یہ سوال معلومات کے لیے نہیں بلکہ حسرت اور ملامت کے لیے ہوتا ہے۔
2. باطل معبودوں کی بے وفائی:
فرشتے پوچھتے ہیں کہ وہ کہاں ہیں جن کو تم زندگی بھر پکارا کرتے تھے؟ جن سے تم امیدیں لگائے بیٹھے تھے کہ وہ مشکل وقت میں تمہارے کام آئیں گے یا اللہ کے ہاں تمہاری سفارش کریں گے؟ آج وہ تمہیں اس تکلیف دہ حالت سے کیوں نہیں چھڑاتے؟
3. "ضلوا عنا" (وہ ہم سے کھو گئے):
اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مشرکین اعتراف کرتے ہیں کہ آج نہ تو وہ معبود ہمیں نظر آ رہے ہیں اور نہ ہی ان کا کوئی فائدہ ہمیں پہنچ رہا ہے۔ وہ اس سچائی کا ادراک کر لیتے ہیں کہ وہ سب محض وہم اور دھوکا تھا۔
4. خود اپنے خلاف گواہی:
عام طور پر انسان اپنی غلطی چھپاتا ہے، لیکن موت کے اس لمحے میں جب حقائق سامنے آ جاتے ہیں، تو وہ اپنی زبان سے اعتراف کر لیتے ہیں کہ "ہاں، ہم ہی کفر اور شرک کے راستے پر تھے"۔ یہ ان کی سب سے بڑی حسرت ہوگی۔
خلاصہ
یہ آیت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی بھی نہ تو دائمی ہے اور نہ ہی کسی کے نفع و نقصان کا مالک ہے۔ موت کے وقت صرف وہی عمل کام آئے گا جو خالص اللہ کی رضا کے لیے کیا گیا ہو۔

Address

Multan
60000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ahl e sunnat media posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share