Faith Insights

Faith Insights "Discover profound insights on faith, spirituality, and personal growth.

Explore perspectives that inspire and enlighten, guiding you on a journey of spiritual discovery and understanding."

24/05/2026

PART-2 | Qaum-e-Samood: Ontni Ka Waqia Aur Allah Ka Azaab | Ek Tareekhi Haqeeqat Qaum-e-Samood ek aisi taqatwar aur taraqqi yafta qom thi jo paharon ko tarash kar unmein shandar ghar banati thi. Unki quwwat aur tamaddun dekh kar har koi hairan reh jata tha.

Lekin jab Allah Ta’ala ne unki rehnumai ke liye Hazrat Saleh (A.S) ko bheja aur un ke mojiza ke tor par ek muqaddas Ontni (she-camel) paida hui, to is qom ne naafarmani aur takabbur ka rasta apna liya.

Isi nafarmani ke nateejay mein un par ek aisa sakht azaab aaya jo poori qaum ko tabah kar gaya aur unki shaan o shaukat mitti mein mil gayi.

👉 Is video mein aap dekhenge:

Qaum-e-Samood ki tareekh
Ontni ka mojiza
Qom ki nafarmani
Aur Allah ka sakht azaab

📌 Yeh kahani sirf ek qissa nahi balkay ek ibrat hai jo humein sochnay par majboor karti hai.

⚡ Video ko end tak zaroor dekhein aur apni raaye comment mein share karein.

24/05/2026

PART-2 I QAUM E SAMOOD I HAZRAT SALEH A.S

23/05/2026

PART-1 | Qaum-e-Samood: Ontni Ka Waqia Aur Allah Ka Azaab | Ek Tareekhi Haqeeqat”

Qaum-e-Samood ek aisi taqatwar aur taraqqi yafta qom thi jo paharon ko tarash kar unmein shandar ghar banati thi. Unki quwwat aur tamaddun dekh kar har koi hairan reh jata tha.

Lekin jab Allah Ta’ala ne unki rehnumai ke liye Hazrat Saleh (A.S) ko bheja aur un ke mojiza ke tor par ek muqaddas Ontni (she-camel) paida hui, to is qom ne naafarmani aur takabbur ka rasta apna liya.

Isi nafarmani ke nateejay mein un par ek aisa sakht azaab aaya jo poori qaum ko tabah kar gaya aur unki shaan o shaukat mitti mein mil gayi.

👉 Is video mein aap dekhenge:

Qaum-e-Samood ki tareekh
Ontni ka mojiza
Qom ki nafarmani
Aur Allah ka sakht azaab

📌 Yeh kahani sirf ek qissa nahi balkay ek ibrat hai jo humein sochnay par majboor karti hai.

⚡ Video ko end tak zaroor dekhein aur apni raaye comment mein share karein.

23/05/2026

Hand Whitening Home Remedy with Aloevera|

23/05/2026

QAUM E SAMOOD

✨ وزن کم کرنے کا سادہ مگر مؤثر اصول ✨✔️ پہلی خوراک طاقتور ہونی چاہیے📊 وزن کم کرنے میں ڈائٹ پلین 75% پرسنٹ تک کام کرتا ہے...
08/01/2026

✨ وزن کم کرنے کا سادہ مگر مؤثر اصول ✨
✔️ پہلی خوراک طاقتور ہونی چاہیے
📊 وزن کم کرنے میں ڈائٹ پلین 75% پرسنٹ تک کام کرتا ہے
🏃‍♂️ باقی آپ کی اکسرسایز 25% پرسنٹ رول ادا کرتی ہے
⏰ جن بہن بھائیوں کے پاس ایکسرسائز کا ٹائم نہیں ہے
👉 وہ ڈائٹ کے اوپر اپنا وزن آسانی کے ساتھ کم کر سکتے ہیں
🌍 اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا آپ دنیا کے کسی بھی کونے میں ہو
📌 صرف میری ہدایات کے اوپر عمل کرکے آپ آسانی کے ساتھ اپنا وزن کم کرسکتے ہیں
🥗 میں آپ کو آپ کے جسم کی ضرورت کے مطابق بہترین قسم کا ڈائٹ پلین بنا کے دے دوں گا
✅ جو افیکٹو ہوگا
✅ جو کام دکھائے گا
🧑‍🏫 میں آپ کو ایک مہینے تک مکمل رہنمائی کروں گا
📅 ایک ٹیچر کی حیثیت سے ایک مہینہ آپ کے ساتھ رہوں گا
📱 میرا اور آپ کا واٹس اپ کے اوپر رابطہ رہے گا
💬 آپ مجھے واٹس اپ کے اوپر میسج کر کے معلومات لے سکتے ہیں
Comment mein apni detail likhe ln
📋 ڈائٹ پلین ڈیٹیلز
🥬 ڈائٹ پلین نیچرل فوڈ کے اوپر ہے
❌ کوئی سائیڈ ایفیکٹ نہیں
👨‍🏫 مہینے تک میں ایک ٹیچر کی حیثیت سے آپ کی رہنمائی کرتا رہوں گا
📐 آپ کے وزن عمر اور ہائیٹ کے مطابق دیکھا جائے گا
🧮 کہ آپ کے جسم کو ایک دن کے لیے کتنی خوراک کی ضرورت ہے
📊 اس کے حساب سے آپ کی خوراک کیلریز کے مطابق ترتیب دی جائے گی
درکار معلومات:
▪️ وزن
▪️ عمر
▪️ ہائیٹ
▪️ کوئی بیماری
▪️ کوئی آپریشن
🔖 Hashtags



08/01/2026

Cheen ki aurton ke azmaye hue qudrati totkay jo sehat, taqat aur rozmarra ke masail ke liye bohat mufeed hain.
Ye video sirf maloomat ke liye hai.
👉 Like, Share aur Subscribe zaroor karein ⭐Cheen ki aurton ke totkay, aurton ke qudrati totkay, haiz ka dard ka ilaj, hamal ke dauran totkay, qabz ka ilaj gharelu, aamla murabba faiday, chakotray ki sabzi faiday, saans phoolnay ka ilaj, bakri ka doodh faiday, gharelu nuskhe, desi totkay, sehat aur zindagi, qudrati ilaj, aurton ki sehat








07/01/2026

Hakeem Luqman ke totkay,
Qudrati ilaj,
Desi totkay,
Hikmat ke nuskhe,
Qadeem tib,
Yunani ilaj,
Hakeemana baatein,
Sehat ke raaz,
Rawaiti ilaj,
Qudrati nuskhe,
Hakeem Luqman,
Islami totkay,Hakeem Luqman ke totkay,
Hakeem Luqman ke nuskhe,
Qudrati ilaj Roman Urdu,
Desi totkay sehat ke liye,
Hikmat ke purane nuskhe,
Yunani tib ke nuskhe,
Sehat ke gharelu totkay,
Islami hikmat ke raaz,
Qadeem tib ke nuskhe,
Hakeemana mashwaray,

ڈریگن فلائی:  تیز اڑنے والی مخلوق... اور ہماری سوچ سے زیادہ ہوشیار👀 #ایگروکلب کیڑوں کی دنیا میں، ایک ایسی مخلوق ہے جسے ا...
13/04/2025

ڈریگن فلائی:
تیز اڑنے والی مخلوق... اور ہماری سوچ سے زیادہ ہوشیار👀

#ایگروکلب

کیڑوں کی دنیا میں، ایک ایسی مخلوق ہے جسے اس کا حق نہیں دیا جاتا ہے۔ یہ پہلی نظر میں عام لگتا ہے... لیکن اپنے پروں کے پیچھے یہ پرواز اور چالبازی کے حیرت انگیز راز چھپاتا ہے۔
یہ ڈریگن فلائی ہے — مچھروں کے خلاف خاموش سرپرست، اور اعلیٰ کارکردگی والی پرواز کا حتمی نمونہ۔

غیر متنازعہ مچھر شکاری
اگر آپ مچھر کے کاٹنے سے نفرت کرتے ہیں، تو آپ کا شکریہ ادا کرنے کے لیے ڈریگن فلائیز ہو سکتی ہیں۔
یہ مچھروں کو بڑی مقدار میں کھاتا ہے—ایک دن میں سینکڑوں کیڑوں تک!
لہذا، یہ نہ صرف ایک خوبصورت مخلوق ہے جو تالابوں پر اڑتی ہے، بلکہ یہ سب سے زیادہ پریشان کن اور وسیع پیمانے پر پھیلنے والے کیڑوں کے خلاف دفاع کی پہلی لائن ہے۔

توقعات سے زیادہ رفتار
لیکن ڈریگن فلائی کا اصل کردار صرف شکار تک نہیں رکتا۔
کیا واقعی حیرت انگیز ہے اس کی ناقابل یقین پرواز رفتار ہے.
یہ دنیا کا سب سے تیز اڑنے والا کیڑا ہے، جو 96 کلومیٹر فی گھنٹہ (60 میل فی گھنٹہ) کی رفتار تک پہنچتا ہے — زیادہ تر سڑکوں پر آپ کو ٹکٹ حاصل کرنے کے لیے کافی تیزی سے!

غیر متوقع چالیں
ڈریگن فلائی کے چار آزاد پر ہیں، جنہیں یہ غیر معمولی درستگی کے ساتھ کنٹرول کر سکتی ہے، جس سے اسے آگے، پیچھے کی طرف اڑنے اور درمیانی ہوا میں بھی رکنے کی صلاحیت ملتی ہے۔
لیکن اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز بات کیا ہے: اس کی پرواز کا نمونہ اتنا بے ترتیب ہے کہ سائنس دانوں کو اس کا مطالعہ کرنا اور تصویر کھینچنا مشکل ہو جاتا ہے۔
سمت کی اچانک تبدیلیاں اور غیر متوقع سرعت ڈریگن فلائی کو کسی بھی شکاری کے لیے ایک ڈراؤنا خواب اور انجینئرنگ کی چالوں کا کمال بنا دیتی ہے۔

ہوا بازی کے لیے ایک تحریک
ڈیزائن کی یہ پیچیدگی کسی کا دھیان نہیں گئی۔
ڈریگن فلائی ایروناٹیکل اور ایرو اسپیس انجینئرز کے مستقل مطالعہ کا موضوع بن گیا ہے۔
جس طرح سے اس کے چار پروں کی حرکت ہوتی ہے، خاص طور پر الٹتے وقت ان کی عمودی گردش، اڑنے والے روبوٹس کے ڈیزائن کے لیے نئے امکانات کھولتی ہے۔

MIT میں، انجینئرز کی ایک ٹیم ڈریگن فلائی سے متاثر روبوٹ تیار کر رہی ہے۔
لیکن آج بھی، دو آزاد حرکت پذیر پروں کو ڈیزائن کرنا اب بھی انتہائی پیچیدہ ہے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ڈریگن فلائیز ہمارے تصور سے بھی زیادہ ذہین ہیں۔
یہ خدا کی تخلیق ہے تو مجھے دکھاؤ کہ اس کے سوا اوروں نے کیا پیدا کیا ہے۔ بلکہ ظالم صریح گمراہی میں ہیں۔

افسانہ : پہلی عورتریشماں کہاں ہو تم بیٹا ، کہاں ہو۔کیا ہوا اماں ، ریشماں نے ہڑبڑاتے ہوئے جواب دیا۔ اماں کا سانس پھول رہا...
13/02/2025

افسانہ : پہلی عورت
ریشماں کہاں ہو تم بیٹا ، کہاں ہو۔
کیا ہوا اماں ، ریشماں نے ہڑبڑاتے ہوئے جواب دیا۔ اماں کا سانس پھول رہا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا وہ دوڑ کر آئی ہوں۔
تم سوتی رہو بیٹا ، پتہ ہے تمھارا مرد بڑا کمینہ نکلا۔ اماں کے چہرے سے مسلسل غصہ ٹپک رہا تھا۔
کیا ہوا اماں اس نے بیزار ہوتے ہوئے کہا۔
وہ تیرا مرد ہے نا سنا ہے وہ سوکن لا رہا ہے تیرے لئے۔
اماں یہ سوکن کہتے کسے ہیں۔ وہ مسکراتے ہوئے بولی لیکں اس کی مسکراہٹ میں ایک درد تھا جو اماں نے محسوس کر لیا تھا
بیٹا تم نہیں جانتی سوکن کو۔
نہیں اماں ۔ابھی تک تو نہیں جانتی تھی آج سے شاید جان لوں۔
ریشماں بیٹا وہ دوسری عورت لا رہا ہے۔ دوسری شادی کر رہا ہے۔
ریشماں کے چپرے پر زرا برابر بھی کسی قسم کا تاثر دیکھنے کو نہیں آیا۔
اماں ۔دوسری عورت کو سوکن کہے ہیں نا تو پہلی عورت کو کیا کہتے ہیں۔ چلو اس کو تو کوئی نام مل گیا سوکن کا۔لیکن پہلی عورت کا پھر کیا نام ہوتا ہے اماں نے اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔
بیٹا سوتں کا سایہ اور جن کا سایہ ایک جیسا ہی ہوتا ہے ایک دفعہ یہ سایہ ساتھ لگے پھر جان نہیں چھوڑتا۔
جانے دو اماں جب مرد عورت کو جان کہ کر لاتا ہے تو جان کہ کر چھوڑنا کونسی بڑی بات ہے اس کے لئے۔ اور اماں غلطی اس کی بھی نہیں چار سال ہوگئے شادی کو کوئی بچہ نہں ہوا تو وہ کیا کرے۔
لیکن بیٹا مایوسی تو گناہ ہے۔ اللہ کے ہاں دیر ہے مگر اندھیر نہیں۔
اماں مایوسی گناہ ہے لیکن مرد کو شاید گناہ سے ہی دلچسپی ہوتی ہے۔ وہ ضرورت کے لئے بیوی لاتا ہے اور ضرورت پوری ہونے پر محبوبہ لے آتا ہے۔
بیٹا تم تو کہتی تھی وہ تم سے شدید محبت کرتا ہے تمھاری شادی تو لو میرج تھی نا۔
اماں مرد محبت کے نام پر لٹتا بھی ہے اور لٹاتابھی ہے۔محبت میں ترجیحات تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ جیسے پانی کا رنگ تبدیل ہوتا ہے اسی طرح محبت بھی رنگ تبدیل کرتی ہے کبھی کسی رنگ میں کبھی کسی رنگ میں۔
کاشان سے اس نے لو میرج کیا تھا۔ لو میرج جس میں اب لو شاید کہیں نہیں تھا۔ وہ ہمیشہ اس سے پوچھتی تھی۔ “کاشان شادی سوشل کنٹریکٹ نا ہوتا تو اس کا نام” ٹھیکداروں والا کنٹریکٹ ہوتا” بہت بڑے دعوے کرو۔ لیکن بعد میں ساری چیزوں میں ملاوٹ کردو اور ایک کمزور رشتے کی دیوار کھڑی کردو۔

شایان کہتا تھا۔ وہ اس سے بے پنا ہ محبت کرتا ہے لیکن اسے کاروبار سنھبالنے کے لئے وارث چاہئیے ۔ وارث جو اس کا کاروبار سنھبال سکے ۔ وہ مسکرا کر کہتی ۔ اور محبت سنھبالنے کے لئے بھی کچھ چاہئیے۔
وہ اکثر اس کے ہاتھوں کو دیکھتی تو اداس ہو کر کہتی ۔ تمھارے ہاتھوں میں وفا کی لکیر بہت کمزور ہے ۔وہ مسکر کر کہتا اور شادی کی۔ وہ جل کر بولتی ۔ ہاں وہ بہت مضبوط ہے ۔وہ مسکرا کر کہتا نہیں ریشماں میں تم سے ٹوٹ کر وفا کروں گا۔ تب اس کی آنکھوں میں چند موتی اتر آتے اور وہ درد بھرے لہجے میں بولتی ۔ وفا کرنے والے اکثر ٹوٹ جاتے ہیں اکثر وفا کے نام پر ہی انہیں توڑا جاتا ہے۔ دیکھ لینا۔ وفا کے نام پر مجھے توڑ مت دینا۔
وہ ہر حکیم کے پاس گئی تھی ہر ڈاکٹر کو دکھایا تھا۔ مگر سب نے اسے مایوس ہی کیا تھا۔ راتوں کو اٹھ کر دعائیں مانگیں تھیں ۔ کتنی التجائیں کی تھیں۔ مگر جب نصیب میں کوئی چیز نا ہو جتنی کوشش کر لو وہ نہیں ملتی۔
سوکن عورت کا دوسرا روپ ہوتا ہے ۔ دوسرا روپ جس کا پہلا روپ بس دکھ ، اذیت اور حسرت کی تصویر ہوتا ہے۔ میں شادی کروں گی نا تو ایسے شخص سے جو صرف میرا ہو۔ میں بس اس کے نام سے جیوں ۔ اس کے نام سے میری آنکھوں میں روز خوشی کے جگنو اتریں ۔اور میں اس کی چاہت میں کسی نکھرے گلاب کی طرح نکھر جاوں ۔ چائے کا کپ ہاتھ میں پکڑ کر وہ سوچ رہی تھی ۔ اس کی زندگی میں محبت کی بارش اتنی کم ہوئی کہ اس کے دل کا چمن جو جذبوں کے خوبصورت پھولوں پر مشتمل تھا ۔ وہاں کے سارے پھول مر جھا گئے۔
مرد جب دوسری عورت لاتا ہے تو پہلی عورت کو خاطر میں لانا چھوڑ دیتا ہے۔ ایسا لگتا ہے وہ عورت کسی گھر میں نصب شدہ وہ زائد بلب ہے جس کی ضرورت خدوخال ہی پڑتی ہے۔ اس کےساتھ بھی ایسا ہوا تھا۔ دوسری عورت آئی تھی لیکن اپنے ساتھ ایک جدائی کی دیوار بھی لائی تھی۔ ایسی دیوار جس کے درمیان اس کی سب محبتیں چاہتیں ، وفا اور تمنائیں دب گئیں۔ وہ مرد صرف اس کا تھا لیکن سوکن کے آنے کے بعد وہ بھی دوسرا مرد بن گیا تھا۔ وہ کہتی تھی جب دوسری عورت سوکن ہو سکتی ہے تو دوسرا مرد کیوں سوکن نہیں ہو سکتا ۔دوسرا مرد جو پہلی محبت کی تعمیر شدہ محبت کی عمارت کو چند روز میں گرا دیتا ہے اور نئے جھوٹ سے ایک نئی محبت کی عمارت کا ٹھیکہ لیتا ہے۔
سال ہوگیا تھا اس نے ایک بار بھی اسے پلٹ کر نہیں دیکھا تھا۔ ایک گھر میں رہتے ہوئے جب دو انسان اجنبی ہو جائیں تو درمیان میں تکلفات کی دیوار آجاتی ہے۔ جب بات کرنے والے بات کرنا چھوڑ دیں تو دھڑکنے والا دل بھی دھڑکنا چھوڑ دیتا ہے۔
شایان، اس دن وہ روتے ہوئے بولی۔ کیا میں تمھاری بیوی نہیں۔ کیا میرا تمھاری زندگی پر کوئی حق نہیں۔ میری زندگی تو تم نے غموں کو ٹھیکے پر دے دئے۔ میری ذات کو تم نے کرچی کرکے بے وفائی کے سمندر میں پھینک دیا۔ میری ذات کے کئی ٹکرے کر کے بے معرفت ہواوں کے سپر د کر دیا۔ کیا دوسری عورت آئے تو پہلی عورت سوکن بن جاتی ہے مرد کی۔ تم میرے لئے سوکن لائے لیکن مجھے لگتا ہے میں تمھاری سوکن ہوں ۔ اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ جب مرد کے پاس کوئی جواب نا ہو تو وہ خاموش ہی رہتا ہے۔ وہ اب اس سے نظریں چرانے لگا تھا۔ محبت کرنے والے جب نظریں چرانے لگیں تو سمجھ جاو وہ بھٹک گیا ہے۔ وہ محبت کی راہ سے ہٹ گیا ہے۔

وہ سوکن کے پاس بھی گئی اس سے بھی اظہار ہمدردی کیا وہ پوچھنے لگی میں تو تمھاری دشمن ہوں مجھ سے کیوں اظہار محبت کر رہی ہو۔ وہ سپاٹ لہجے میں بولی ۔جب محبت میں جب اپنوں کا دل دشمن کے پاس چلا جائے تو دشمن کے دل کو ہی اپنا سمجھا پڑتا ہے۔ تم میری دشمن ہو لیکن تمھارا دل جہاں دھڑکتا ہے وہ میری مقدس محبت کی کتاب ہے۔ جس کے ہر صفحے پر تم نے آکر جدائی لکھ دی ہے۔
وہ روز بھٹکتی ۔ محبت میں وہ کسی آوارہ بھٹکتی ہوئی روح جیسی ہوگئی تھی جو انسانوں کی تلاش میں ویرانوں میں بھٹکا کرتی ہے۔ وہ ہر سو شایا ن کو ڈھونڈتی اماں سچ کہتی تھیں محبت کی بازی میں انسان یا تو اسے کھو دیتا ہے جسے جان کہتا ہے یا پھر اپنی جان ہی کھو دیتا ہے۔ وہ روز دل کے ویرانوں میں اسے ڈھونڈتی اور بند کمرے میں یادوں کے کواڑ میں اسے بند کر دیتی ۔وہ اس کے پاس ہوتے ہوئے بھی محبت میں فیل ہو چکا تھا۔ وہ جو محبت کو سب سے بڑا راز کہتا تھا ۔ اب اپنا راز دوسری عورت کے حوالے کر دیا تھا۔
اماں نے اسے اپنے پاس بلا لیا تھا۔ وہ بیمار رہنے لگی تھی۔ اس کا ایک ہی سہارا تھا ۔ اماں نے کئی دفعہ کہا تھا کہ وہ اسے بھول جائے وہ ہنس کر کہتی تھی۔ اماں وہ کمبخت ذہن سے جائے تو بھولوں نا۔ ذہن میں کسی موذی بیماری کی طرح آکے بس گیا ہے۔ بھو لنا چاہوں تو روز بڑھتے ہوئے چاند کی طرح مزید یا دآنا شروع ہوجا تاہے۔ اماں اسے کہتی تھیں بیٹی محبت کی بھی ایک حد ہے۔ کوئی تمھیں پلٹ کر نا دیکھے اور تم اس کی راہ کی خاک بن جاو ۔ کوئی تم سے گفتگو بھی نا کرنا چاہے اور تم قریہ قریہ اس کی صدا کے لئے تڑپو۔ کوئی تمھیں زندگی سے کسی پرانے کپڑوں کی طرح نکال دے اور تم اسے مقد س تعویز کی طرح دل میں بسا کر رکھو یہ کو ن سا اصول ہے ۔ محبت بڑی بے اصول ہوتی ہے اماں ، بڑی ہی کرپٹ ہوتی ہے ، جب خود پر آئے نا یہ بس ایک اصول یا د رکھتی ہے کہ محبت کو کوئی اصول ہی نہیں ۔ محبت اصولوں میں بندھی ہوتی نا تو دل قانون کی کتابوں کا حوالہ ہوتے۔ اماں اس نے مجھے جان کہا تھا ۔اب وہ جان لے کر ہی چھوڑے گا۔
آج بہت عرصے بعد وہ دونوں آمنے سامنے آئے تھے ۔ شایان نے اس کی حالت دیکھی تو آنکھوں میں آنسو آگئے ۔وہ بس مسکرا رہی تھی اور وہ سوچ رہا تھا۔ عورت برداشت کرنے پر آئے تو سوکن کے ساتھ اس مرد کو بھی برداشت کر لیتی ہے جو اسے برداشت نہیں کر پاتا۔ کافی عرصے بعد وہ گھومنے کے لئے ناران کاغان گئے اور جب وہ واپس آئی تو بس بہت سی خوبصورت یادیں تھیں ۔ بھٹکے ہوئے مرد نے اسے کچھ پل خوشی کے دئے تھے۔ شاید یہی اس کا سب سے بڑا اثاثہ تھے۔
آج اس کی طبیعت کافی خراب تھی۔ اماں اسے مسلسل کہ رہی تھیں ڈاکٹر کے پاس چلو۔ شایان نے بھی کئی دفعہ کہا تھا۔ لیکن اس نے انکار کیا تھا۔ وہ بس اس کے لفظوں کے سحر میں کھوئی ہوئی تھی۔ کتنا قریب آچکا تھا وہ دوبارہ۔ دوسری عورت کو بھی اس پر رحم آہی گیا تھا۔ اور اس نے شایان کو اجازت دے دی تھی کہ وہ اس کے حقوق بھی ادا کرے۔ اس کے ٹیسٹ ہوئے ۔ اورجیسے ہی رپورٹس آئیں اس کا وجود کانپنے لگا۔ وہ بس روتے ہوئے آسمان کو دیکھنے لگی۔ اس کی آنکھوں میں بہت سے آنسو تھے اور ہونٹ لرز رہے تھے ۔ دفعتا اس نے شایان کو سوچا اور دوبارہ رپورٹ کو دیکھا اس کی آنکھوں میں حیا کی سرخی آگئی ، چہرہ شرم کے مارے سرخ ہوگیا اور دل میں بہت ہی خوبصورت جذبے پنپنے لگے۔پہلی عورت آج مکمل ہوچکی تھی۔

Address

Bilal Colony
Multan

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Faith Insights posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share