Quran&Hadith

Quran&Hadith Islam teaches that Allāh is alone, merciful, all-powerful, and unique, and has guided humanity thro

30/07/2026

سلسلہ وار تفسیر القرآن القرآن الکریم (12)

🌹 ٫٫ آمین ،، 🌹

آمین قرآن کا حصہ نہیں بلکہ ایک دعا ہے، جس کا معنی ہے:
"اے اللہ! قبول فرما" یا "اے اللہ! ہماری یہ دعا قبول کر لے۔"

🌹جب بندہ سورۂ فاتحہ کے آخر میں
﴿وَلَا الضَّالِّينَ﴾ تک پہنچتا ہے
تو وہ اللہ تعالیٰ سے صراطِ مستقیم کی ہدایت مانگ چکا ہوتا ہے،
اس کے بعد "آمین" کہہ کر اس دعا کی قبولیت کی درخواست کرتا ہے۔

*لفظی و لغوی معنی*👇

🔺عبد اللہ بن عباس سے مروی ہے:
آمین کا معنی ہے: "اللهم استجب"
یعنی "اے اللہ! قبول فرما۔"

🔺*. امام ابن منظور "لسان العرب"*
"آمین" عبرانی لفظ "آمن" سے ہے۔
معنی: "اے اللہ! قبول فرما"۔ "استجب لنا"۔

🔺*. امام قرطبی "تفسیر القرطبی" سورۃ الفاتحہ*
"آمین" کے تین معانی سلف سے منقول ہیں :
1)-. *کذلک فلیکن* -
ایسا ہی ہو جائے
2)-. *اللھم استجب*
- اے اللہ قبول فرما
3)-. *لا تخیب رجاءنا*
- ہماری امید نہ توڑ

*. امام ابن کثیر "تفسیر ابن کثیر" میں فرماتے ہیں کہ*
"آمین"
دعا کے آخر میں مہر کی طرح ہے۔
جیسے خط پر مہر لگ جائے تو پکا ہو جاتا ہے، ایسے ہی دعا کے آخر پر آمین لگ جائے تو قبولیت کے قریب۔

* صحیح احادیث سے دلیل*👇

* 1) - نبی ﷺ نے فرمایا:
"إذا قال الإمام: غير المغضوب عليهم ولا الضالين، فقولوا آمين، فإنه من وافق قوله قول الملائكة غفر له ما تقدم من ذنبه"
ترجمہ: جب امام "غیر المغضوب..." پڑھے تو تم آمین کہو۔ جس کی آمین فرشتوں کی آمین سے مل گئی، اس کے پچھلے گناہ معاف۔
( بخاری 780، مسلم 410)

* 2 )-- وائل بن حجرؓ کہتے ہیں: "میں نے نبی ﷺ کو دیکھا، آپ ﷺ نے فاتحہ مکمل کر کے "آمین" کہا اور آواز کو لمبا کیا"۔
( ابوداؤد 932، ترمذی 248)

* 3)- - نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
"آمین" کہو کیونکہ یہود تم سے 2 چیزوں پر حسد کرتے ہیں: سلام اور آمین پر۔
( مسلم 410)

آئمہ و مفسرین کی تفسیر👇

*1). امام شافعی رحمہ اللہ*
"آمین" فاتحہ کی آیت نہیں، دعا ہے۔
اس لیے بلند آواز سے کہنا سنت ہے۔
اس میں "صراط المستقیم" کی دعا کی قبولیت مانگ رہے ہیں۔

*2). امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ*
"فاتحہ مانگنا ہے
آمین لینا ہے
بندہ مانگتا ہے، اللہ سے لینے کی درخواست کرتا ہے"۔

*3)-. امام ابن قیم رحمہ اللہ "زاد المعاد 1/257" میں رقمطراز ہیں*
"آمین" میں چار چیزیں جمع ہیں:👇
1)-. *تصدیق*
جو اللہ سے مانگا اس کی تصدیق
2)-. *استعانت*
اللہ سے مدد طلب
3)-. *عاجزی*
ہم محتاج ہیں تو دے
4)-. *متابعت*
فرشتوں کی موافقت

*4)-. امام نووی رحمہ اللہ "المجموع شرح المھذب" میں لکھتے ہیں*
"آمین" کہنے کا وقت:
"ولا الضالین" پر وقف کے بعد فوراً۔


* "آمین" کی قبولیت کی شرائط - سلف سے کے اقوال کی روشنی میں*👇

🔺*ام حسن بصری رحمہ اللہ*:
"آمین وہی کہے جس کا دل بھی آمین کہے۔
زبان سے آمین، دل غافل = آمین بے روح"۔

🔺*ام ابن رجب حنبلی "جامع العلوم"*:
آمین قبول ہونے کے لیے تین شرط:
1)-. *اخلاص*
- صرف اللہ کے لیے
2)-. *یقین*
- نبی ﷺ نے فرمایا: "ادعوا اللہ و انتم موقنون بالاجابۃ"
( ترمذی 3479 )
3)-. *حلال رزق*
- حرام کھانے والے کی دعا نہیں اٹھتی۔
( مسلم 1015)

* خلاصہ*👇

🔺آمین کہنا سنت مؤکدہ
(بخاری 780)

🔺امام اور مقتدی دونوں بلند آواز سے آمین کہیں
(ابوداؤد 932)

🔺 ٫٫ آمین ،،فاتحہ کا حصہ نہیں ہے
(اجماع)

*آمین 👇
"یا اللہ! ہم نے فاتحہ میں تجھ سے ہدایت، صراط مستقیم، انعام یافتہ لوگوں کا راستہ مانگا ہے۔ تو ہماری یہ دعا قبول فرما لے۔ ہم تیرے در کے بھکاری ہیں"۔*

*نبی ﷺ کا طریقہ*:👇
فاتحہ پڑھ کر سانس لیتے، پھر "آمین" کہتے، میم پر وقف۔
(ابوداؤد 807)

👈اے اللہ کریم !
ہماری ہر "آمین" کو عرش پر فرشتوں کی آمین سے ملا دے۔ آمین یا رب العالمین۔

🔺"آمین" کہتے وقت یہ تصور رکھیں کہ لاکھوں فرشتے آپ کے ساتھ آمین کہہ رہے ہیں۔
( بخاری 780 )

30/07/2026

سلسلہ وار تفسیر القرآن الکریم (11)

*"ولا الضالین"*

یہ سورۃ الفاتحہ کی آخری آیت کا آخری حصہ ہے۔ "غیر المغضوب علیھم" کے بعد آتی ہے۔ دعا یہاں مکمل ہوتی ہے۔ آمین۔

* "الضالین" سے مراد گمراہ لوگ کون؟*
* حدیث مبارکہ*:👇
عدی بن حاتمؓ فرماتے ہیں، میں نے نبی ﷺ سے پوچھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: *"الضالین نصاریٰ ہیں"*۔
( صحیح ترمذی )

🔺سلف کہتے تھے:
یہود کے پاس علم تھا مگر عمل نہ تھا، اس لیے وہ مغضوب علیہم بنے؛
اور نصاریٰ کے پاس عبادت کا جذبہ تھا مگر صحیح علم نہ تھا، اس لیے وہ ضالین بنے۔

مفسرین کی رائے 👇
علم نہ ہونے، دلیل کے بغیر عبادت کرنے، خواہشات کی پیروی کرنے سے گمراہی آتی ہے۔

*نصاریٰ کی تین علامات جن سے وہ گمراہ ہوئے:*👇

1)-. *علم کے بغیر عبادت*
حضرت عیسیٰؑ کی محبت میں غلو کر کے انہیں اللہ کا بیٹا بنا دیا۔
( مائدہ 72)

2)-. *راہبانیت ایجاد کی*
اللہ نے راہبانیت فرض نہیں کی تھی، مگر انہوں نے خود بنا لی۔
(حدید 27)

3)-. *دلیل چھوڑ دی*
"انا وجدنا آباءنا علی امۃ" - ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا۔
(الزخرف 22)

* "المغضوب علیھم" اور "الضالین" کا فرق*👇

🔺*شیخ الاسلام ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ*: گمراہی کی دو بڑی سڑکیں ہیں، فاتحہ دونوں سے بچا رہی ہے:

المغضوب علیھم =
یہودی
علم تھا، عمل نہیں
ضد، حسد، تکبر علم ہو تو عمل بھی کرو

الضالین = نصاریٰ
عمل تھا، علم نہیں
جہالت، غلو، جذبہ عمل کرو تو دلیل کے ساتھ کرو

🌹*نتیجہ*:
ایک نے حق جان کر چھوڑا، دوسرے نے حق جانے بغیر عبادت شروع کر دی۔ دونوں گمراہ۔

لہٰذا سلفِ صالحین، صحابۂ کرام اور خود نبی کریم ﷺ کی بیان کردہ تفسیر کی روشنی میں یہ ہے کہ:
"الضالین" سے مراد وہ لوگ ہیں جو حق کو نہ جاننے یا علمِ صحیح سے محروم رہنے کی وجہ سے گمراہ ہو گئے۔

🔺کیا "ضالین" صرف نصاریٰ ہی ہیں؟
اصل اور اولین مصداق نصاریٰ ہیں، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے، لیکن معنی کے اعتبار سے:
ہر وہ شخص یا گروہ جو علمِ صحیح اور ہدایتِ الٰہی کو چھوڑ کر گمراہی کا راستہ اختیار کرے، وہ "ضالین" کے وصف میں داخل ہو سکتا ہے۔

* "آمین" کا مطلب*👇
جب "ولا الضالین" پڑھ کر "آمین" کہتے ہیں تو مطلب ہے: "اے اللہ! تو ہماری یہ دعا قبول فرما"۔

*حدیث*: نبی ﷺ جب "ولا الضالین" پڑھتے تو اتنی آواز سے آمین کہتے کہ پچھلی صف تک سنائی دیتی۔
( بخاری )

* اجمالی مفہوم*
"اے اللہ!
ہمیں ان لوگوں کے راستے سے بچا جو تیرے دین میں بغیر علم کے نئی باتیں ایجاد کر لیتے ہیں۔ جو محبت کے نام پر غلو کرتے ہیں۔ جو دلیل چھوڑ کر صرف جذبات اور رسم و رواج پر چلتے ہیں۔ جن کا عمل تو بہت ہے مگر وہ عمل تیرے نبی ﷺ کے طریقے پر نہیں۔"

* اہم سبق *
اس سے تین بڑے فوائد اور سبق حاصل ہوتے ہیں

1). *علم + عمل = کامیابی*
دین میں صرف جذبہ کافی نہیں،
دلیل بھی چاہیے۔
اور صرف دلیل کافی نہیں،
عمل بھی چاہیے۔
یہی "صراط المستقیم" ہے۔

2)-. *بدعت سے بچو*
جو عبادت نبی ﷺ اور صحابہ نے نہیں کی، وہ کرنے سے بندہ "الضالین" والے راستے پر چل پڑتا ہے۔
نیت اچھی ہو مگر طریقہ غلط ہو تو قبول نہیں۔

3)-. * درمیانی راستہ*
یہودیوں جیسی سختی نہیں
نصاریٰ جیسی نرمی نہیں
اسلام اعتدال کا نام ہے۔

*نبی ﷺ کی وصیت*:
"دین میں نئی بات ایجاد کرنے سے بچو، کیونکہ ہر نئی بات بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے"۔ ابوداؤد

*سورۃ الفاتحہ کا خلاصہ*👇

1)-. *الحمدللہ...مالک یوم الدین* =
اللہ کا تعارف
2)-. *إياك نعبد وإياك نستعين* =
بندے کا عہد
3)-. *اھدنا الصراط المستقیم* =
بندے کی دعا
4)-. *صراط الذین انعمت علیھم* =
سیدھے لوگوں کی مثال
5)-. *غیر المغضوب علیھم ولا الضالین* = گمراہ لوگوں سے پناہ

قابلِ توجہ 👇
فاتحہ دراصل ایک مکمل دعا ہے۔
پہلے رب کو پہچانو
پھر اس کی بندگی کا اقرار کرو
پھر ہدایت مانگو
پھر بتاؤ کہ ہدایت کس کی چاہیے
اور کس کی نہیں چاہیے۔

پس سورۂ فاتحہ کی یہ دعا دراصل علمِ نافع اور عملِ صالح دونوں کی طلب ہے۔

اللہ ہمیں "انعمت علیھم" والا راستہ دے۔ آمین۔

30/07/2026

سلسلہ وار تفسیر القرآن الکریم ( 10 )

یہ سورۃ الفاتحہ کی آخری آیت کا پہلا حصہ ہے۔ "صراط الذین انعمت علیھم" کے بعد اللہ نے 2 گمراہ گروہوں سے بچنے کی دعا سکھا دی۔

﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ﴾ کی تفسیر

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ۝ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ۝ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾
"ہمیں سیدھا راستہ دکھا، ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام فرمایا، نہ کہ ان لوگوں کا جن پر غضب کیا گیا اور نہ گمراہوں کا۔"

نبی کریم ﷺ نے اس آیت کی تفسیر خود بیان فرمائی:
«المغضوب عليهم اليهود، والضالون النصارى»

"مغضوب علیہم سے مراد یہود ہیں
اور ضالین سے مراد نصاریٰ ہیں۔"

یہ روایت سنن ترمذی، مسند احمد اور دیگر کتب حدیث میں موجود ہے اور محدثین نے اسے حسن و صحیح قرار دیا ہے۔

* حدیث مبارکہ * 👇
عدی بن حاتمؓ سے روایت ہے، میں نے نبی ﷺ سے "المغضوب علیھم" کے بارے میں پوچھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: *"وہ یہودی ہیں"*۔ اور "الضالین" کے بارے میں فرمایا: *"وہ نصاریٰ ہیں"*۔
(ترمذی، حاکم - صحیح)

👈 علم کے باوجود حق سے منہ موڑ لینا، ضد و ہٹ دھرمی کرنا، اللہ کے احکام بدل دینا - یہی "غضب" کا سبب ہے۔

*یہود کی تین علامات جن پر غضب آیا:*👇

1)-. *علم تھا مگر عمل نہیں کیا*
تورات جانتے تھے مگر اس پر عمل نہ کیا۔ "مثل الذین حملوا التوراۃ ثم لم یحملوہا" -
( الجمعہ 5)

2 )-. *انبیاء کو قتل کیا*
زکریاعلیہ السلام، یحییٰ علیہ السلام اور دوسرے انبیاء کو ناحق قتل کیا۔
(البقرہ 61)

3)-. *حق کو بدل دیا*
اللہ کا کلام اپنی مرضی سے بدل ڈالا۔
( البقرہ 79)

🔺یہود کو "مغضوب علیہم" کیوں کہا گیا؟
یہود کے پاس علم تھا، وہ حق کو پہچانتے تھے، اپنے انبیاء کی بشارتوں سے رسول اللہ ﷺ کو بھی جانتے تھے، لیکن حسد، تکبر اور دنیاوی مفادات کی وجہ سے جان بوجھ کر حق کا انکار کیا۔ اس لیے ان پر اللہ کا غضب نازل ہوا۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿فَبَاءُوا بِغَضَبٍ عَلَى غَضَبٍ﴾
"پس وہ غضب پر غضب لے کر لوٹے۔"
(سورۃ البقرۃ: 90)

🔺کیا "مغضوب علیہم" صرف یہود ہیں؟
مفسرین نے وضاحت کی ہے کہ اصل مصداق یہود ہیں جیسا کہ حدیث میں آیا ہے، لیکن حکم عام ہے۔
چنانچہ ہر وہ شخص جو حق کو جان لینے کے باوجود ضد، تکبر یا خواہشِ نفس کی وجہ سے اس کی مخالفت کرے، وہ اس وصف میں داخل ہو جاتا ہے۔

اسی لیے بعض سلف فرماتے تھے:
"جس میں یہود کی صفت (علم کے باوجود عمل نہ کرنا) پائی جائے، اس میں مغضوب علیہم کا حصہ موجود ہے۔"

🔺*"غیر" کیوں کہا گیا؟*
بندہ دعا کر رہا ہے "اے اللہ! ہمیں انعام یافتہ لوگوں کا راستہ دے"۔ پھر فوراً کہہ رہا ہے "مگر ان دو گروہوں کا راستہ نہ دے"۔
( تفسیر طبری)

*اہم نکتہ*👇
سیدھے راستے کے دو خطرے ہیں:
1)-. *غلو و شدت*: علم ہو مگر رحمت نہ ہو - یہودیوں والا راستہ
2)-. *تفریط و جہالت*: محبت ہو مگر علم نہ ہو - نصاریٰ والا راستہ

*اجمالی مفہوم*
"اے اللہ! ہمیں ان لوگوں کے راستے سے بچا جنہوں نے تیرا علم پایا، تیری کتاب پڑھی، تیرے احکام جانے، مگر ضد، حسد اور دنیا کی وجہ سے اس پر عمل نہ کیا۔ جن پر تو نے غضب فرمایا کیونکہ انہوں نے حق کو پہچان کر بھی ٹھکرا دیا۔"

اہم اسباق👇

1)-. *علم کے بغیر عمل خطرہ ہے*
صرف "اللہ اللہ" کرنا کافی نہیں۔ جو علم ہو اس پر عمل بھی کرنا ہے۔ ورنہ "المغضوب علیھم" والی صف میں کھڑے ہو جائیں گے۔

2)-. *حق کے سامنے جھک جانا*
جب قرآن و حدیث سے کوئی بات ثابت ہو جائے تو "سمعنا واطعنا" کہنا ہے۔ تاویلیں، بہانے، "ہماری فرقے میں ایسا نہیں" - یہ سب یہودیوں والی عادت ہے۔

3)-. *دعا کی اہمیت*
ہم روزانہ بار بار مانگ رہے ہیں "یا اللہ ہمیں یہودیوں جیسا نہ بنا"۔ یعنی گمراہی کا ڈر ہر وقت دل میں رکھو۔

*نبی ﷺ کی دعا*👇
"اے اللہ! مجھے اس علم سے بچا جو فائدہ نہ دے، اور ایسے دل سے بچا جو ڈرتا نہ ہو"۔( مسلم)

*نتیجہ*👇
"الذین انعمت علیھم" = علم + عمل۔
"المغضوب علیھم" = علم بغیر عمل۔
اللہ ہمیں دوسری قسم سے بچا رہا ہے۔

30/07/2026

سلسلہ وار تفسیر القرآن الکریم ( 9 )

﴿صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ﴾ (الفاتحہ: 7)
ان لوگوں کا راستہ جن پر تونے انعام کیا

اس آیت کی تفسیر قرآنِ مجید ہی نے بیان کر دی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
👈"اور جو کوئی اللہ اور رسول کی اطاعت کرے گا تو وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے: یعنی انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین، اور یہ کتنے اچھے ساتھی ہیں۔"
(سورۃ النساء: 69)

لہٰذا "صراط الذین انعمت علیہم" سے مراد ان لوگوں کا راستہ ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے نوازا۔

تفسیر ابن کثیر میں امام ابن کثیرؒ فرماتے ہیں کہ یہی آیت سورۃ النساء : *"وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَٰئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ"*(النساء: 69)
سورۂ فاتحہ کی اس آیت کی بہترین تفسیر ہے، یعنی انعام یافتہ لوگوں کا راستہ انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کا راستہ ہے۔

اسی طرح تفسیر الطبری میں امام طبریؒ نے سلفِ صالحین سے نقل کیا ہے کہ اس سے مراد اہلِ ایمان و اطاعت کا راستہ ہے جنہیں اللہ نے دین و ہدایت کی نعمت عطا فرمائی۔
*. "الذین انعمت علیھم" - جن پر تو نے انعام کیا*

قرآن خود وضاحت کر دیتا ہے کہ "انعمت علیھم" سے مراد کون لوگ ہیں۔

"الذین انعمت علیھم" سے مراد چار قسم کے گروہ ہیں*:
1)-. *النبیین*
نبی و رسول

2)-. *الصدیقین*
صدیق، جیسے ابوبکر صدیقؓ۔ جو سچے دل سے حق کی تصدیق کریں

3). *الشہداء*
شہداء، جو اللہ کی راہ میں جان دیں

4)-. *الصالحین*
صالحین، جو ظاہر و باطن میں نیک ہوں

*🔺. "صراط" سے کیا مراد ہے*
*تفسیر قرطبی*:
اللہ نے تین باتوں سے سیدھے راستے کو واضح کر دیا:
1،)-. *مثال سے*
راستہ بتانے کے لیے ان چار گروہوں کی زندگی کو نمونہ بنا دیا
2)-. *تاریخ سے*
گزرے ہوئے لوگوں کا راستہ، نہ کہ نئی ایجادات کا
3)-. *ضمانت سے*
جن پر اللہ کا انعام ہو چکا، ان کے راستے میں گمراہی کا ڈر نہیں

* نوٹ *: ہدایت مانگنے کا مطلب یہ نہیں کہ "کوئی بھی راستہ"۔ ہدایت کا مطلب ہے "ان لوگوں والا راستہ" جنہیں اللہ نے خود پسند فرمایا۔

* اجمالی مفہوم*
"اے اللہ!
ہمیں ان لوگوں کے راستے پر چلا جن پر تو نے اپنا خاص انعام کیا۔ یعنی :
انبیاء کا راستہ -
توحید و دعوت کا۔
صدیقوں کا راستہ -
سچائی و تصدیق کا۔
شہداء کا راستہ -
قربانی و وفا کا۔
اور صالحین کا راستہ ،
اطاعت و اخلاص کا۔"

* اہم اسباق*

1)-. *سلف کا راستہ ہی صراط المستقیم ہے*: صحابہ، تابعین، تبع تابعین - یہی "انعمت علیھم" ہیں۔ دین میں نئی بات ایجاد کرنے کی ضرورت نہیں، ان کے طریقے پر چلنا ہی کامیابی ہے۔

2)-. *انعام عمل سے ملتا ہے*:
اللہ نے ان پر انعام کیوں کیا؟ کیونکہ انہوں نے "اطاع اللہ والرسول"۔ اطاعت کے بغیر انعام نہیں ملتا۔

3)-. *رول ماڈل لازمی ہیں*:
انسان اکیلا راستہ نہیں چل سکتا۔ اسے نمونے چاہیے۔ اللہ نے چار نمونے دے دیے۔ جب زندگی میں کنفیوژن ہو تو دیکھو نبی ﷺ کیا کرتے تھے، ابوبکر صدیقؓ کیا کرتے تھے۔

*حدیث*:👇
"میری امت 73 فرقوں میں بٹ جائے گی۔ ایک جنت میں جائے گا"۔ صحابہ نے پوچھا وہ کون؟ فرمایا "ما انا علیہ واصحابی" - جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں۔ ( ترمذی )

* نتیجہ*:
"اھدنا الصراط المستقیم" دعا تھی۔ "صراط الذین انعمت علیھم" اس دعا کا جواب ہے۔ اللہ کہہ رہا ہے "سیدھا راستہ وہی ہے جو میرے انعام یافتہ بندوں کا راستہ ہے"۔

30/07/2026

سلسلہ وار تفسیر القرآن الکریم ( 8)

*"إهدنا الصراط المستقيم"

* ترجمہ*
*إهدنا الصراط المستقيم*
"ہمیں سیدھے راستے کی ہدایت دے"

"ھدی" کے دو معنی ہیں:
1)- . *ارشاد و دلالت*: راستہ دکھا دینا
2)- . *توفیق و مدد*: اس راستے پر چلانے کی توفیق دینا

دونوں مانگے جا رہے ہیں۔ راستہ بھی دکھا، اور چلنے کی ہمت بھی دے۔

*. "الصراط المستقیم" کیا ہے؟*👇
قرآنِ کریم خود اس کی وضاحت کرتا ہے:
﴿وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ﴾
"اور یہ میرا سیدھا راستہ ہے، پس اسی کی پیروی کرو۔"
(الأنعام: 153)

لہٰذا صراطِ مستقیم سے مراد:
🌹دینِ اسلام
🌹قرآن و سنت کا راستہ
🌹انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کا طریقہ
🌹اللہ کی اطاعت اور اس کی رضا کا راستہ

صحابہ و تابعین نے اس کی وضاحت قرآن و حدیث سے کی:👇

1)- *اسلام*:
ابن مسعودؓ فرماتے ہیں "صراط المستقیم اللہ کی کتاب ہے"۔ یعنی قرآن و سنت پر چلنا۔
2)- *سنت و جماعت*:
ابن عباسؓ فرماتے ہیں "یہ نبی ﷺ اور صحابہ کا راستہ ہے"۔
3)- *حق و عدل*:
اللہ فرماتا ہے "وان ھذا صراطی مستقیما فاتبعوہ" - یہ میرا سیدھا راستہ ہے، اسی کی پیروی کرو۔ الانعام 153

👈مفسرینِ کرام نے اس آیت کی تفسیر میں بیان کیا ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ سے صرف راستے کی پہچان ہی نہیں مانگتا بلکہ اس پر چلنے، اس پر ثابت قدم رہنے اور منزلِ مقصود تک پہنچنے کی توفیق بھی طلب کرتا ہے۔

امام ابن کثیرؒ فرماتے ہیں:👇
"یعنی ہمیں سیدھے راستے کی طرف رہنمائی فرما، اس پر ثابت قدم رکھ اور اس پر چلنے کی توفیق عطا فرما۔"

امام طبریؒ کے نزدیک:👇
"صراطِ مستقیم سے مراد وہ واضح راستہ ہے جو اللہ کی رضا اور جنت تک پہنچاتا ہے، اور وہ اسلام کا راستہ ہے۔"

امام قرطبیؒ لکھتے ہیں:👇
"ہدایت مانگنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے کو حق کی معرفت، اس پر عمل اور اس پر استقامت عطا فرمائے۔"

*اجمالی مفہوم*
صراط المستقیم :
عقیدہ، عبادت، اخلاق، معاملات - ہر چیز میں قرآن و سنت کا درمیانی، متوازن، اعتدال والا راستہ۔ نہ یہودیوں جیسا غلو، نہ نصاریٰ جیسا انحراف۔

*"اھدنا" - ہم سب کے لیے دعا*
*تفسیر قرطبی*: "نا" جمع کا صیغہ ہے۔ بندہ اکیلا اپنے لیے نہیں مانگتا، پوری امت کے لیے مانگتا ہے۔

*حکمت*: جب تو دوسروں کے لیے ہدایت مانگے گا تو اللہ تجھے بھی اس میں شامل کر دے گا۔ اور امت کے ساتھ رہنے میں برکت ہے۔

* قابلِ توجہ *
"اے اللہ! ہمیں اس راستے پر چلا جو تیرے نبیوں، صدیقوں، شہداء، صالحین کا راستہ ہے۔ اس راستے پر چلا جو حق، عدل، توحید اور اطاعت کا راستہ ہے۔ اس راستے پر چلا جس پر چل کر تیرا قرب اور جنت ملتی ہے۔"

*اسباق*
*سب سے بڑی ضرورت ہدایت ہے*:
دنیا میں انسان کو دولت، اولاد، عزت سب مل جائے مگر ہدایت نہ ملے تو سب ضائع ہے

*ہدایت کی اقسام*:
1) - *ھدایۃ الدلالہ*: علم ہونا کہ حق کیا ہے
2) - *ھدایۃ التوفیق*: اس علم پر عمل کی توفیق ہونا
ہم دونوں مانگ رہے ہیں۔
*صراط المستقیم ایک ہی ہے*:
دنیا میں 72 فرقے، 1000 راستے ہو سکتے ہیں۔ مگر اللہ نے فرمایا "فاتبعوہ" - اسی ایک راستے کی پیروی کرو۔ وہ راستہ قرآن و سنت ہے۔

*حدیث مبارکہ*:
"اللہ نے صراط المستقیم کی مثال دی۔ راستے کے دونوں طرف دیواریں ہیں، ان میں کھلے دروازے ہیں، ہر دروازے پر پردہ لٹک رہا ہے۔ راستے کے سرے پر ایک پکارنے والا ہے کہ اے لوگو! سب صراط المستقیم پر آ جاؤ اور بکھر نہ جاؤ۔ اور ایک پکارنے والا راستے کے اوپر سے پکارتا ہے۔ جب بندہ کوئی دروازہ کھولنا چاہتا ہے تو وہ کہتا ہے خراب نہ کرو، اگر کھول دیا تو داخل ہو جاؤ گے"۔

ترمذی نے فرمایا: دروازے اللہ کی حدود ہیں، پردے اللہ کی محرمات ہیں، پکارنے والا قرآن ہے، اوپر والا پکارنے والا اللہ کی نصیحت ہے۔

*نتیجہ*:👇
"الحمدللہ" سے "مالک یوم الدین" تک اللہ کا تعارف تھا۔ "إياك نعبد وإياك نستعين" میں بندے کا عہد تھا۔ اور اب "إهدنا الصراط المستقیم" میں بندہ اپنی سب سے بڑی ضرورت مانگ رہا ہے - ہدایت۔

👈"اهدنا الصراط المستقيم" دراصل ایک جامع دعا ہے جس میں بندہ اللہ تعالیٰ سے چار چیزیں مانگتا ہے:
🔺حق کی پہچان
🔺حق کو قبول کرنے کی توفیق
🔺حق پر عمل کی طاقت
🔺حق پر ثابت قدمی اور حسنِ خاتمہ

اسی لیے ایک مسلمان دن میں کئی مرتبہ یہ دعا پڑھتا ہے، کیونکہ ہدایت کی ضرورت ہر لمحہ باقی رہتی ہے

30/07/2026

سلسلہ وار تفسیر القرآن الکریم ( 7 )

*"وإياك نستعين" *
*1. لفظی معنی اور ٫٫ إياك،، کو نستعین سے مقدم لانے کی حکمت*

*وإياك نستعين*
"اور صرف تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں"

*إياك کو نستعین سے مقدم کرنے کی حکمت*:👇
یہاں بھی "إياك" کو پہلے لانے سے درج ذیل باتیں ثابت ہوئیں:
1)-. *حصر*: مدد صرف اللہ سے۔ اسباب سے مدد لینا شرک نہیں، مگر دل کا بھروسہ صرف اللہ پر ہو۔
2)-. *ترتیب کی حکمت*: پہلے "نعبد" پھر "نستعین"۔ یعنی پہلے عبادت کا اقرار، پھر مدد کی درخواست۔ بندہ پہلے اللہ کا بنے، پھر اللہ سے مانگے۔

👈تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ "ایاک نعبد" شرک سے براءت ہے اور "ایاک نستعین" اپنی طاقت اور قدرت سے بے زاری اور اللہ تعالیٰ پر کامل اعتماد کا اظہار ہے۔

👈تفسیر طبری کے مطابق اس کا مفہوم یہ ہے کہ:
"اے اللہ! ہم اپنی تمام دینی و دنیاوی ضروریات میں صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں، تیرے سوا کسی اور پر بھروسہ نہیں کرتے۔"

*2. "الاستعانہ" - مدد مانگنا کیا ہے؟*

*تفسیر طبری*: 👇
"استعانہ" کا مطلب ہے اپنے آپ کو عاجز سمجھ کر اللہ کے سامنے جھک جانا، اور یقین رکھنا کہ کامیابی صرف اس کے ہاتھ میں ہے۔

*2 مدد کی اقسام:*
مدد کی دو قسمیں ہیں
1)-. *استعانہ باللہ*: یہ توحید ہے۔ دل کا بھروسہ، توکل، دعا صرف اللہ سے۔ یہ عبادت ہے۔
2)- . *استعانہ بالخلق*: کسی انسان سے اسباب کے مطابق مدد لینا جائز ہے، جیسے ڈاکٹر سے علاج، استاد سے پڑھنا۔ بشرطیکہ دل کا بھروسہ اللہ پر رہے۔

🌹*نبی ﷺ کی حضرت عبداللہ ابن عباسؓ کو نصیحت*:
"جان لو کہ اگر ساری امت جمع ہو کر تمہیں نفع پہنچانا چاہے تو کچھ نفع نہیں پہنچا سکتی سوائے اس کے جو اللہ نے لکھ دیا۔ اور اگر ساری امت تمہیں نقصان پہنچانا چاہے تو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتی سوائے اس کے جو اللہ نے لکھ دیا"۔ ترمذی

*3. "نعبد" اور "نستعين" کا آپس میں تعلق*
*شیخ الاسلام ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ*: دین کے دو حصے ہیں:
1)-. *عبادت کرنا* = "إياك نعبد"
2)-. *عبادت پر مدد مانگنا* = "وإياك نستعين"

بندہ اکیلا نماز نہیں پڑھ سکتا، روزہ نہیں رکھ سکتا، گناہ سے نہیں بچ سکتا جب تک اللہ مدد نہ کرے۔ اسی لیے سجدے میں بھی "سبحان ربی الاعلیٰ" کے بعد دعا مانگتے ہیں۔

*اجمالی مفہوم*
"اے اللہ!
ہم تیرے ہی بندے ہیں، تیری ہی عبادت کرتے ہیں۔ اور اے اللہ! تیری عبادت کرنے، گناہوں سے بچنے، ہدایت پر چلنے، دنیا و آخرت کے کاموں میں - ہر چیز میں ہم صرف تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔ تیرے سوا ہمارا کوئی سہارا نہیں۔"

* اس کلمہ سے حاصل ہونے والے اسباق*

1. *عاجزی*:
انسان کمزور ہے۔ صبح آنکھ کھولنا، سانس لینا، دل دھڑکانا - یہ بھی اللہ کی مدد کے بغیر نہیں ہوتا۔ "لا حول ولا قوۃ الا باللہ" یہی ہے۔

2. *توکل*:
اسباب اختیار کرو، محنت کرو، ڈاکٹر کے پاس جاؤ، کاروبار کرو۔ مگر دل کا سہارا صرف "وإياك نستعين" والا رب ہو۔ نتیجہ اس کے سپرد۔

3. *نماز کی طاقت*:
جب امام "إياك نعبد وإياك نستعين" پڑھتا ہے تو سارے مقتدی ایک ساتھ کہتے ہیں۔ یعنی پوری جماعت مل کر اللہ سے کہہ رہی ہے "ہم کمزور ہیں، تو ہماری مدد کر"۔

4- حقیقی مددگار صرف اللہ تعالیٰ ہے۔
5- بندے کو اپنی قوت پر نہیں بلکہ اللہ کی توفیق پر اعتماد کرنا چاہیے۔
6- دعا، توکل اور استعانت کا مرکز صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔

*حدیثِ قدسی*: اللہ فرماتا ہے "اے میرے بندو! تم سب بھوکے ہو سوائے اس کے جسے میں کھلاؤں، تو مجھ سے کھانا مانگو میں تمہیں کھلاؤں گا۔ تم سب ننگے ہو سوائے اس کے جسے میں پہناؤں، تو مجھ سے کپڑا مانگو میں تمہیں پہناؤں گا"۔ مسلم

*نتیجہ*:
"إياك نعبد" بندے کا عہد ہے۔
"وإياك نستعين" بندے کی درخواست ہے۔
پہلے وفاداری، پھر مدد۔
جو اللہ کا ہو جائے، اللہ اس کا ہو جاتا ہے۔

30/07/2026

سلسلہ وار تفسیر القرآن الکریم ( 6 )

* "إياك نعبد" *

*1. لفظی معنی *
*إياك نعبد* = "صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں"

👈امام ابن کثیر لکھتے ہیں:
"یعنی ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں، تیرے سوا کسی پر توکل نہیں کرتے، کسی سے دعا نہیں مانگتے، کسی کے سامنے سجدہ نہیں کرتے اور عبادت کی تمام اقسام صرف تیرے لیے خاص کرتے ہیں۔"
👈امام طبری فرماتے ہیں:
"اے اللہ! ہم تیرے لیے ہی اپنی بندگی کو خالص کرتے ہیں اور تیرے سوا کسی کو عبادت میں شریک نہیں ٹھہراتے۔"

*عربی میں عام طور پر "نعبدک" کہا جاتا۔ مگر اللہ نے "إياك نعبد" فرمایا۔

"إياك" کو پہلے لانے سے 2 فائدے:
1)-. *حصر/اختصاص*: مطلب صرف تیرا ہی۔ غیر اللہ کو عبادت سے نکال دیا۔ "صرف تو" - یہی توحیدِ الوہیت ہے۔
2)-. *تخصیص*: پہلے معبود کا ذکر، پھر عبادت کا۔ یعنی عبادت سے پہلے یہ طے کہ معبود کون ہے۔

*👈2. عبادت کیا ہے؟*
*شیخ الاسلام ابن تیمیہ*: "عبادت" جامع لفظ ہے ہر اس قول و فعل کا جو اللہ کو پسند ہو، ظاہری ہو یا باطنی۔

*عبادت کی قبولیت کی شرائط:*
1). *اخلاص*: صرف اللہ کے لیے ہو۔ دکھاوا، شہرت، دنیا کا لالچ نہ ہو۔
2). *متابعت*: نبی ﷺ کے طریقے پر ہو۔ اپنی مرضی کی عبادت بدعت ہے۔
3). *محبت + خوف + امید*: دل میں اللہ کی محبت ہو، اس کے عذاب کا خوف ہو، اس کی رحمت کی امید ہو۔

*عبادت کی اقسام*
نماز، روزہ، زکوٰۃ ظاہری عبادت۔ اور دعا، توکل، رجاء، خوف، محبت، توبہ - یہ باطنی عبادت ہیں۔ یہ سب "صرف اللہ" کے لیے۔

*👈3. "نعبد" - ہم عبادت کرتے ہیں*
*تفسیر طبری*:
"ن" جمع کا صیغہ ہے۔ "میں عبادت کرتا ہوں" نہیں کہا، "ہم عبادت کرتے ہیں" کہا۔

*👈2 حکمت:*
1). *عاجزی*: بندہ اکیلا عبادت کے قابل نہیں۔ وہ امت کے ساتھ، فرشتوں کے ساتھ، پوری جماعت کے ساتھ اللہ کے سامنے کھڑا ہے۔
2). *جماعت کی برکت*: انفرادی عبادت سے اجتماعی عبادت افضل۔ اسی لیے نماز باجماعت 27 گنا زیادہ ثواب۔

*اجمالی مفہوم*
"اے اللہ!
ہم اقرار کرتے ہیں کہ عبادت، سجدہ، دعا، نذر، توکل، امید - یہ سب صرف تیرے لیے ہیں۔ تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ نہ فرشتہ، نہ نبی، نہ ولی، نہ بت، نہ قبر، نہ پیسہ۔"

*اہم اسباق*

1. *زندگی کا مقصد*:
"وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون" - میں نے جن و انس کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا۔ الذاریات 56۔ یہ آیت وہ مقصد یاد دلاتی ہے۔

2. *شرک سے براءت*:
جس دن دل سے "إياك نعبد" نکل جائے، اس دن آدمی بت، قبر، پیر، سیاست، خواہش - ہر چیز کی غلامی سے آزاد ہو جاتا ہے۔

3. *نماز کا خلاصہ*:
پوری نماز "إياك نعبد" کا عملی مظاہرہ ہے۔ قیام، رکوع، سجدہ - سب اسی ایک جملے کی تفسیر ہیں۔

*نبی ﷺ کی دعا*:
"اے اللہ!
مجھے اپنی عبادت پر، اپنے شکر پر، اپنی اچھی یاد پر مدد دے"۔ ابوداؤد

*نتیجہ*:
"الحمدللہ" سے "مالک یوم الدین" تک اللہ کا تعارف تھا۔ "إياك نعبد" سے بندے کا جواب شروع ہوا۔ پہلے رب کو پہچانو، پھر اسی کی غلامی اختیار کرو۔

30/07/2026

سلسلہ وار تفسیر القرآن الکریم ( 5)

مالك يوم الدين

اس آیت میں 👈 "الرحمٰن الرحیم" کے بعد
اب قیامت کا ذکر ہے۔

*1)-. مالک - اصل بادشاہ / مالک*

*تفسیر ابن کثیر*: "مالک" سے مراد مطلق بادشاہ، مکمل اختیار والا۔ دنیا میں لوگ اپنے آپ کو مالک سمجھتے ہیں، مگر اصل مالک صرف اللہ ہے۔

اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت دونوں کا مالک ہے، لیکن قیامت کے دن اس کی بادشاہی، حاکمیت اور اختیار اس طرح ظاہر ہوگا کہ کسی اور کا کوئی اختیار باقی نہیں رہے گا۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ۖ لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ﴾ "آج بادشاہی کس کی ہے؟ اللہ واحد و قہار کی۔" (سورۃ غافر: 16)

*مالک کی دو قراءتیں ہیں:*👇

1)-. *مٰلِکِ یوم الدین* = "مالک" - ملکیت والا۔ یعنی جزا و سزا کے دن کی ملکیت صرف اللہ کے پاس ہے۔
2)-. *مَلِکِ یوم الدین* = "بادشاہ" - حکم چلانے والا۔ یعنی اس دن حکم صرف اللہ کا چلے گا۔

دونوں صحیح ہیں۔ حفص کی قراءت "مالک" ہے۔ مفہوم ایک ہی: اس دن کوئی اور حاکم نہیں ہو گا۔

*(2)-. یوم الدین - جزا و سزا کا دن*

*تفسیر قرطبی اور طبری میں مفسرین*: "الدین" کے 3 معنی لکھے ہیں :
1)-. *حساب*: اس دن ہر عمل کا حساب ہو گا۔ ایک ذرہ برابر نیکی یا بدی بھی ضائع نہیں ہو گی۔ الزلزلہ 7-8
2)-. *جزا*: نیکی کی جزا جنت، بدی کی سزا جہنم۔
3)+. *غلبہ/بادشاہت*: اس دن اللہ کے سوا کوئی غلبہ والا نہیں ہو گا۔ "لمن الملک الیوم" - آج بادشاہی کس کی ہے؟ جواب: "للہ الواحد القھار"۔ الغافر 16

🖊امام ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"یوم الدین سے مراد قیامت کا دن ہے، جس دن اللہ تعالیٰ بندوں کے اعمال کا حساب لے گا اور ہر شخص کو اس کے عمل کے مطابق بدلہ دے گا۔"

*اجمالی مفہوم*
"اللہ تعالیٰ ہی قیامت کے دن کا مالک اور بادشاہ ہے۔ اس دن اس کے سوا کسی کا حکم نہیں چلے گا۔ وہی ہر بندے کو اس کے اعمال کی مکمل جزا دے گا۔"

*اس آیت سے حاصل ہونے والے تین اسباق*👇

1)-. *جواب دہی کا احساس*: دنیا میں انسان ظلم کر کے بچ جاتا ہے، جھوٹ بول کر بچ جاتا ہے۔ یہ آیت دل میں ڈال دیتی ہے کہ "ایک دن ہے"۔ وہاں بچنا ممکن نہیں۔ اس سے بندہ گناہ سے رک جاتا ہے۔

2)-. *دنیا کی حقیقت*: دنیا عارضی ہے، اصل زندگی "یوم الدین" کے بعد شروع ہو گی۔ جو یہاں اللہ کا بن کر رہے گا، وہاں کامیاب ہو گا۔

3)-. *دعا کی تربیت*: "الحمدللہ" = شکر۔ "الرحمٰن الرحیم" = امید۔ "مالک یوم الدین" = ڈر۔

نماز میں یہ 3 کیفیتیں پیدا کر کے بندے کو "ایاک نعبد" کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ یعنی جب دل میں شکر، امید اور ڈر آ جائے تو بندہ سجدے کے لائق ہو جاتا ہے۔

*نبی ﷺ کی حدیث*: قیامت کے دن اللہ تعالیٰ آسمانوں کو لپیٹ لے گا، زمین کو اپنے دائیں ہاتھ میں لے گا اور فرمائے گا "میں بادشاہ ہوں، دنیا کے بادشاہ کہاں ہیں؟"

*قابلِ توجہ بات*👇
"مالک یوم الدین" بندے کو دنیا کی عدالتوں سے نکال کر اللہ کی عدالت میں کھڑا کر دیتی ہے۔ وہاں وکیل، سفارش، رشوت کچھ نہیں چلے گا۔ صرف عمل چلے گا۔

30/07/2026

سلسلہ وار تفسیر القرآن الکریم ( 4)

*"الرحمٰن الرحیم" *

اس آیت مبارکہ میں "الحمدللہ رب العالمین" کے بعد اللہ تعالٰی اپنی 2 صفتیں بیان کر رہا ہے۔

*1. الرحمٰن - نہایت مہربان*
*تفسیر ابن کثیر + قرطبی*: "رحمٰن" مبالغے کا صیغہ ہے۔ یعنی رحم کرنے میں انتہا کو پہنچا ہوا۔

*2 فرق جو علماء نے لکھے:*
1. *رحمٰن* = وہ رحمت جو دنیا میں ہر مخلوق پر عام ہے۔ مسلمان، کافر، جانور، نباتات - سب کو رزق، ہوا، پانی، دھوپ "رحمٰن" کی وجہ سے مل رہی ہے۔ یہ رحمت "دنیا" کے ساتھ خاص ہے۔

2. *رحمٰن* کا رحم "بے حساب" ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کو 100 حصوں میں تقسیم کیا۔ 99 حصے اپنے پاس رکھے،
1 حصہ دنیا میں بھیجا۔
اسی 1 حصے سے ماں بچے پر شفقت کرتی ہے، جانور اپنے بچے پر رحم کرتا ہے۔

حدیث: "اللہ تعالیٰ رحمٰن ہے، اس کی رحمت ہر چیز پر غالب ہے"

*2. الرحیم - بار رحم کرنے والا*
*تفسیر طبری*: "رحیم" سے مراد وہ رحمت جو خاص اہلِ ایمان کے لیے ہے، خاص کر آخرت میں۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيمًا﴾
"اور وہ ایمان والوں پر بہت مہربان ہے۔"
(سورۃ الأحزاب: 43)

* دونوں صفات میں فرق*:
- *رحمٰن* = عام رحمت، دنیا میں سب کے لیے
- *رحیم* = خاص رحمت، آخرت میں صرف مومنوں کے لیے

اسی لیے کافر دنیا میں کھاتا پیتا ہے کیونکہ "رحمٰن" ہے، مگر آخرت میں نعمتوں سے محروم رہے گا کیونکہ "رحیم" نہیں۔

حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے منقول ہے:
"الرَّحْمٰنُ: ذو الرَّحمةِ العامة، والرَّحِيمُ: ذو الرَّحمةِ الخاصة بالمؤمنين."
"الرحمٰن وہ ہے جس کی رحمت عام ہے، اور الرحیم وہ ہے جس کی رحمت اہلِ ایمان کے لیے خاص ہے۔"

*اجمالی مفہوم*
"اللہ تعالیٰ نہایت مہربان ہے کہ اس نے دنیا میں کافر و مومن، نیک و بد سب کو رزق دیا۔ اور وہ بار رحم کرنے والا ہے کہ آخرت میں صرف اپنے ماننے والوں پر خاص رحمت فرمائے گا، ان کے گناہ معاف کرے گا، جنت دے گا۔"
یہ دونوں اسمائے حسنیٰ بندے کے دل میں اللہ کی رحمت کی امید، محبت، حسنِ ظن اور اس کی طرف رجوع کا جذبہ پیدا کرتے ہیں

*3 حاصل کلام*

1. *امید + ڈر کا توازن*: "رب العالمین" سن کر ڈر لگتا ہے کہ حساب ہو گا۔ فوراً "الرحمٰن الرحیم" آ کر دل کو تسلی دیتا ہے کہ میرا رب مہربان ہے۔ یہی دین کا مزاج ہے - خوف و امید ساتھ۔

2. *رحمت کو محسوس کرو*: جب سانس لیتے ہو، دل دھڑکتا ہے، بچہ مسکراتا ہے - یہ سب "رحمٰن" کی نشانی ہے۔ شکر ادا کرو۔

3. *رحیم بننے کی مشق*: نبی ﷺ فرماتے ہیں "رحم کرو زمین والوں پر، رحم کرے گا آسمان والا"۔ جو دوسروں پر رحم کرے گا، "رحیم" اللہ اس پر رحم کرے گا۔

30/07/2026

سلسلہ وار تفسیر القرآن الکریم (3)

*"الحمدللہ رب العالمین" -

یہ قرآن کی پہلی آیت اور سورۃ الفاتحہ کی دوسری آیت ہے۔ مفسرین کی روشنی میں اس کے 4 حصے ہیں:

*1. الحمدللہ - سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں*
*تفسیر ابن کثیر*: "حمد" کا مطلب ہے کسی کی خوبیوں، احسانات اور کمالات کی وجہ سے دل سے تعریف کرنا۔ "شکر" صرف احسان پر ہوتا ہے، مگر "حمد" خوبی پر بھی ہوتی ہے چاہے احسان نہ بھی ہو۔

*تفسیر قرطبی*: "ال" سے مراد "تمام" ہے۔ یعنی جو بھی تعریف، کمال، حسن دنیا میں ہے وہ سب اصل میں اللہ ہی کا ہے۔ بندے کے پاس جو بھی خوبی ہے وہ اللہ کی دی ہوئی ہے۔

حمد صرف زبان سے تعریف کا نام نہیں بلکہ دل میں عظمت، محبت اور اعترافِ نعمت بھی شامل ہوتا ہے۔

للہ ۔۔۔۔تمام تعریفیں صرف اللہ ہی کے لیے ہیں۔ کیونکہ حقیقی کمال، کامل نعمتیں، اور تمام بھلائیاں اسی کی طرف سے ہیں

*2. رب العالمین - تمام جہانوں کا رب*
*رب* کے 3 معنی علماء نے لکھے ہیں:
1. *خالق*: پیدا کرنے والا - "اللہ ہی نے تمہیں اور تم سے پہلے والوں کو پیدا کیا" البقرہ 21
2. *مالک*: ملکیت رکھنے والا - سب اس کے غلام ہیں
3. *مدبر/پرورش کرنے والا*: رزق دینا، تربیت کرنا، ہر چیز کا نظام چلانا

*عالمین* = عالَم کی جمع۔ عالَم ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو اللہ کے سوا ہے۔
*تفسیر طبری*: "عالمین" سے مراد جن و انس، فرشتے، آسمان، زمین، دریا، پہاڑ، جانور، نباتات - غرض ہر مخلوق۔ صرف انسانوں کا رب نہیں، ہر ذرے کا رب ہے۔

*مجموعی مفہوم*
"ہر قسم کی تعریف، ہر کمال، ہر خوبی کا اصل سرچشمہ صرف اللہ تعالیٰ ہے، کیونکہ وہی تمام جہانوں کو پیدا کرنے والا، ان کا مالک اور ان کی پرورش کرنے والا ہے۔"

*3 اہم فوائد جو مفسرین نے نکالے*

1. *توحیدِ ربوبیت*: جب دل مان لے کہ "رب العالمین" صرف اللہ ہے تو پھر رزق، شفا، اولاد، مشکل کشائی بھی صرف اسی سے مانگی جائے گی۔
2. *شکر کی تربیت*: دن کا آغاز "الحمدللہ" سے کرنے سے بندہ ناشکری سے بچ جاتا ہے۔ ہر نعمت پر نظر اللہ کی طرف جاتی ہے۔
3. *عاجزی*: "عالمین" لفظ انسان کو بتاتا ہے کہ تو اکیلا نہیں۔ کروڑوں مخلوقات ہیں۔ تو ان میں سے ایک ذرہ ہے۔ تکبر ختم ہو جاتا ہے۔

Address

Multan
60000

Telephone

+923094720107

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Quran&Hadith posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Quran&Hadith:

Shortcuts

Share