Tafseer e Quraan

Tafseer e Quraan We want to make the teaching and training of the Holy Quran common to all over the world.

مفتی قاسم صاحب کی لکھی ہوئی قرآن پاک کی مایہ ناز تفسیر "صراط الجنان فی تفسیر القرآن" سے قران پاک کی تحریری تفسیر، دیگر قرآنی سلسلے، اللہ کا پیغام ایمان والوں کے نا، مولانا عبدالحبیب عطاری صاحب کے آڈیو تفسیر کے کلپس اور اس کے ساتھ ساتھ قرآن پاک کی آیات، قرآن پاک سے متعلق احادیث، بزرگان دین کے معمولات، پیغامات، روحانی وظائف اور بہت کچھ اسی ایک پیج سے حاصل کیجئے

22/06/2025

*_"Tafseer Surat-ul-Waqiah Verse #: 092-096"_*
*--------------------------------------------*
*🫐..❀تفسیرِ مبارکہ کے موضوعات❀..🫐*
*--------------------------------------------*
- مرنے والوں کے تین گروہ اور ان کی جزاء:
- تسبیح کرنے کا حکم:
*--------------------------------------------*
*◉...❁✾ "بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ" ✾❁...◉*
*--------------------------------------------*

📮👈 وَ اَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الْمُكَذِّبِیْنَ الضَّآلِّیْنَۙ (۹۲) فَنُزُلٌ مِّنْ حَمِیْمٍۙ (۹۳) وَّ تَصْلِیَةُ جَحِیْمٍ (۹۴) اِنَّ هٰذَا لَهُوَ حَقُّ الْیَقِیْنِۚ (۹۵) فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِیْمِ۠ (۹۶)

*🌱👈 تَرجَمَۂِ کَنْزُالعِرفَانْ شَرِیْفْ وَ تَفْسِیْر صِرَاطُ الْجِنَانْ شَرِیْفْ:*

اور اگر مرنے والا جھٹلانے والوں گمراہوں میں سے ہو۔ تو کھولتے ہوئے گرم پانی کی مہمانی ۔ اور بھڑکتی آگ میں داخل کیا جانا ہے۔ یہ بیشک اعلیٰ درجہ کی یقینی بات ہے۔ تو اے محبوب! تم اپنے عظمت والے رب کے نام کی پاکی بیان کرو۔

*🌸👈 { وَ اَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الْمُكَذِّبِیْنَ الضَّآلِّیْنَ: اور اگرمرنے والا جھٹلانے والوں گمراہوں میں سے ہو۔ }*

اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر مرنے والا جھٹلانے والوں گمراہوں میں سے ہو جو کہ بائیں جانب والے ہوں گے تو اس کے لئے *(آخرت میں)* کھولتا ہوا گرم پانی تیار کیا گیا ہے اور اسے جہنم کی بھڑکتی آگ میں داخل کیا جانا ہے۔

(خازن، الواقعۃ، تحت الآیۃ: ۹۲-۹۴، ۴/۲۲۵)

*📿👈 { اِنَّ هٰذَا: یہ بیشک۔}*

یعنی مرنے والوں کے اَحوال اور جو مَضامین اس سورت میں بیان کئے گئے، اللہ تعالیٰ کے اولیاء کے لئے تیار کی گئی جن نعمتوں اور اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کے لئے تیار کئے گئے جن عذابات کا ذکر ہوا اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت کے جو دلائل بیان ہوئے، یہ بے شک اعلیٰ درجے کی یقینی بات ہے اور اس میں تَرَدُّد کی کوئی گنجائش نہیں۔

(خازن، الواقعۃ، تحت الآیۃ: ۹۵، ۴/۲۲۵)

*🍁👈 { فَسَبِّحْ: تو اے محبوب! تم پاکی بیان کرو۔}*

حضرت عقبہ بن عامر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں: جب یہ آیت *’’فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِیْمِ‘‘* نازل ہوئی تو سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: *’’ اسے اپنے رکوع میں داخل کرلو"* اور جب یہ آیت *’’سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلٰی‘‘* نازل ہوئی تو فرمایا اسے اپنے سجدوں میں داخل کرلو۔

(ابوداؤد، کتاب الصلاۃ، باب مایقول الرجل فی رکوعہ وسجودہ، ۱/۳۳۰، الحدیث: ۸۶۹)

*🎋👈 اس آیت سے ثابت ہوا کہ رکوع و سجود کی تسبیحات قرآنِ کریم سے ماخوذ ہیں*

*⎙ ⌲*
*ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ*
*💠"•• ══ ༻◉مدینـــــــه◉༺ ══ ••"💠*
*🙏💥➖عاجِزَانہ مَدَنی اِلتجاء➖💥🙏*
اللّٰه پاکﷻ کی رضا اور ثواب کی نیت سے اس تفسیر کو دوسرے گروپس میں شیئر کیجئے۔
*--------------------------------------------*
*Whatsapp Contact:*
*https://wa.me/message/CZV6UOLTNWP4N1*
*page:*
*https://fb.me/tafseeriquraan*
*YouTube Channel:*
*https://youtube.com/c/tafseerequraan*
🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁
*╭┄┅─══════════════─┅┄╮*
*༻◉فیضانِ تفسیر القرآن جاری رہے گا◉༺*
*╰┄┅─══════════════─┅┄╯*
🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱

22/06/2025

*_"Tafseer Surat-ul-Waqiah Verse #: 088-091"_*
*--------------------------------------------*
*🫐..❀تفسیرِ مبارکہ کے موضوعات❀..🫐*
*--------------------------------------------*
- مرنے والوں کے تین گروہ اور ان کی جزاء:
*--------------------------------------------*
*◉...❁✾ "بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ" ✾❁...◉*
*--------------------------------------------*

📮👈 فَاَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِیْنَۙ (۸۸) فَرَوْحٌ وَّ رَیْحَانٌ - وَّ جَنَّتُ نَعِیْمٍ (۸۹) وَ اَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنْ اَصْحٰبِ الْیَمِیْنِۙ (۹۰) فَسَلٰمٌ لَّكَ مِنْ اَصْحٰبِ الْیَمِیْنِؕ (۹۱)

*🌱👈 تَرجَمَۂِ کَنْزُالعِرفَانْ شَرِیْفْ وَ تَفْسِیْر صِرَاطُ الْجِنَانْ شَرِیْفْ:*

پھر وہ فوت ہونے والا اگر مقرب بندوں میں سے ہے۔ تو راحت اور خوشبودار پھول اور نعمتوں کی جنت ہے۔ اور اگر وہ دائیں جانب والوں میں سے ہو۔ تو *(اے حبیب!)* تم پر دائیں جانب والوں کی طرف سے سلام ہو۔

*🌸👈 { فَاَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ: پھر وہ فوت ہونے والا اگر مقرب بندوں میں سے ہے۔}*

یہاں سے موت کے وقت مخلوق کے طبقات کے احوال اور ان کے درجات بیان فرمائے جا رہے ہیں، چنانچہ اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کاخلاصہ یہ ہے کہ اگر مرنے والا آگے بڑھ جانے والے اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں میں سے ہے تو اس کے لئے *(موت کے وقت)* راحت، خوشبودار پھول اور آخرت میں نعمتوں کی جنت ہے۔

🥥👈 حضرت ابو العالیہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ مُقَرَّبین سے جو کوئی دنیا سے جدا ہوتا ہے تو اس کے پاس جنت کے پھولوں کی ڈالی لائی جاتی ہے، وہ جب اس کی خوشبو لیتا ہے تو اس وقت اس کی روح قبض ہوتی ہے۔

(خازن، الواقعۃ، تحت الآیۃ:۸۸ -۸۹، ۴/۲۲۵)

*🧆👈 {وَ اَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنْ اَصْحٰبِ الْیَمِیْنِ: اور اگر وہ دائیں جانب والوں میں سے ہو۔}*

اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر مرنے والا دائیں جانب والوں میں سے ہو تو اے اَنبیاء کے سردار! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، آپ ان کا سلام قبول فرمائیں اور ان کے لئے غمگین نہ ہوں وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے سلامت اور محفوظ رہیں گے اور آپ ان کو اسی حال میں دیکھیں گے جو آپ کو پسند ہو۔

(خازن، الواقعۃ، تحت الآیۃ: ۹۰-۹۱،۴/۲۲۵)

*🪵👈 بعض مفسرین نے ان آیات کے یہ معنی بھی بیان کئے ہیں کہ اگر مرنے والا دائیں جانب والوں میں سے ہو تو اے دائیں جانب والے! موت کے وقت اور اس کے بعد تمہارے ساتھی تم پر سلام بھیجیں گے۔*

(روح البیان، الواقعۃ، تحت الآیۃ: ۹۰-۹۱، ۹/۳۴۱ )

*⎙ ⌲*
*ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ*
*💠"•• ══ ༻◉مدینـــــــه◉༺ ══ ••"💠*
*🙏💥➖عاجِزَانہ مَدَنی اِلتجاء➖💥🙏*
اللّٰه پاکﷻ کی رضا اور ثواب کی نیت سے اس تفسیر کو دوسرے گروپس میں شیئر کیجئے۔
*--------------------------------------------*
*Whatsapp Contact:*
*https://wa.me/message/CZV6UOLTNWP4N1*
*page:*
*https://fb.me/tafseeriquraan*
*YouTube Channel:*
*https://youtube.com/c/tafseerequraan*
🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁
*╭┄┅─══════════════─┅┄╮*
*༻◉فیضانِ تفسیر القرآن جاری رہے گا◉༺*
*╰┄┅─══════════════─┅┄╯*
🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱

22/06/2025

*_"Tafseer Surat-ul-Waqiah Verse #: 081-087"_*
*--------------------------------------------*
*🫐..❀تفسیرِ مبارکہ کے موضوعات❀..🫐*
*--------------------------------------------*
- کفار کی بے بسی کا بیان:
*--------------------------------------------*
*◉...❁✾ "بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ" ✾❁...◉*
*--------------------------------------------*

📮👈 اَفَبِهٰذَا الْحَدِیْثِ اَنْتُمْ مُّدْهِنُوْنَۙ (۸۱) وَ تَجْعَلُوْنَ رِزْقَكُمْ اَنَّكُمْ تُكَذِّبُوْنَ (۸۲) فَلَوْ لَاۤ اِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُوْمَۙ (۸۳) وَ اَنْتُمْ حِیْنَىٕذٍ تَنْظُرُوْنَۙ (۸۴) وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْكُمْ وَ لٰكِنْ لَّا تُبْصِرُوْنَ (۸۵) فَلَوْ لَاۤ اِنْ كُنْتُمْ غَیْرَ مَدِیْنِیْنَۙ (۸۶) تَرْجِعُوْنَهَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ (۸۷)

*🌱👈 تَرجَمَۂِ کَنْزُالعِرفَانْ شَرِیْفْ وَ تَفْسِیْر صِرَاطُ الْجِنَانْ شَرِیْفْ:*

تو کیا تم اس بات میں سستی کرتے ہو؟ اور تم اپنا حصہ یہ بناتے ہو کہ تم جھٹلاتے رہو۔ پھر کیوں نہیں جب جان گلے تک پہنچے۔ حالانکہ تم اس وقت دیکھ رہے ہو۔ اور ہم تم سے زیادہ اس کے قریب ہیں مگر تم دیکھتے نہیں ۔ تواگر تمہیں بدلہ نہیں دیا جائے گا تو کیوں نہیں ۔ روح کو لوٹا لیتے ،اگر تم سچے ہو۔

*🌸👈 { اَفَبِهٰذَا الْحَدِیْثِ اَنْتُمْ مُّدْهِنُوْنَ: تو کیا تم اس بات میں سستی کرتے ہو؟}*

اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کفارِ مکہ کو ڈانٹتے ہوئے فرمایا کہ اے اہلِ مکہ ! تو کیا تم اللہ تعالیٰ کے اس کلام کی تصدیق کرنے کی بجائے اس کا انکار کرتے ہو اور اس انکار کو معمولی سمجھتے ہو اور تم نے اس عظیم نعمت کا شکر کرنے کی بجائے قرآن کو جھٹلانا ہی اپنا حصہ قرار دے رکھا ہے۔

*🪵👈 تفسیر خازن میں ہے، حضرت حسن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں:*

’’وہ بندہ بڑا بد نصیب ہے جس کا حصہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کو جھٹلانا ہو۔"

(خازن، الواقعۃ، تحت الآیۃ: ۸۲، ۴/۲۲۴)

📚👈 بعض مفسرین نے اس آیت *’’وَ تَجْعَلُوْنَ رِزْقَكُمْ اَنَّكُمْ تُكَذِّبُوْنَ‘‘* کے یہ معنی بھی بیان کئے ہیں:

*"اللہ تعالیٰ نے تمہیں جو نعمتیں عطا کی ہیں تم نے ان کا شکر کرنے کی بجائے انہیں جھٹلانا اپنا حصہ بنا رکھا ہے۔"*

(خازن، الواقعۃ، تحت الآیۃ: ۸۲، ۴/۲۲۴)

🌻👈 اور جھٹلانے سے مراد یہ ہے کہ وہ نعمت ملنے کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنے کی بجائے اَسباب کی طرف منسوب کرتے ہیں۔

*🪨👈 حضرت زید بن خالد جہنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں:*

تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حُدَیْبیہ کے مقام پر بارش والی رات میں ہمیں صبح کی نماز پڑھائی، جب رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا:

*’’کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ نے کیا فرمایا ہے؟*

❗لوگ عرض گزار ہوئے: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں

*ارشاد فرمایا:* اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’میرے بندوں نے صبح کی تو کچھ مجھ پر ایمان رکھنے والے اور کچھ منکر تھے، بہرحال جس نے کہا: اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہم پر بارش برسائی گئی تو وہ مجھ پر ایمان رکھنے والا اور ستاروں کا منکر ہے اور جس نے کہا کہ ہم پر فلاں فلاں ستارے نے بارش برسائی ہے تو وہ میرا منکر اور ستاروں پر یقین رکھنے والا ہے۔

(بخاری، کتاب الاذان، باب یستقبل الامام الناس اذا سلّم، ۱/۲۹۵، الحدیث:۸۴۶)

*🫐👈 { فَلَوْ لَاۤ اِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُوْمَ: پھر کیوں نہیں جب جان گلے تک پہنچے۔}*

اس آیت اور اس کے بعد والی چار آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اے کفار! تمہارا حال یہ ہے کہ اگر تمہارے پاس وہ کتاب لائی جائے جس نے تمہیں اپنی مثل لانے سے عاجز کر دیا تو تم کہتے ہو کہ یہ جادو ہے اور یہ خود بنائی ہوئی کتاب ہے، اگر تمہاری طرف سچا رسول بھیجا جائے تو تم اسے جادوگر اور جھوٹا کہنے لگ جاتے ہو اور اگر ہم تمہیں بارش عطا کریں تو تم کہنے لگتے ہو کہ فلاں ستارے کی وجہ سے بارش نازل ہوئی ہے ۔ اگر تم اپنی ان باتوں میں سچے ہو اور تمہارے خیال کے مطابق مرنے کے بعد اُٹھنا ، اعمال کا حساب کیا جانا اور جزا دینے والا معبود وغیرہ یہ سب کچھ کوئی حقیقت نہیں ہے تو پھر تم ایسا کیوں نہیں کرتے کہ:

*جب تمہارے پیاروں میں سے کسی پر نَزع کا وقت طاری ہو اور اس کی روح حلق تک پہنچ چکی ہو تو تم* (اپنی طاقت و قوت کے بل بوتے پر) *اس کی روح کو لوٹا دو، حالانکہ تم اس وقت دیکھ رہے ہوتے ہو کہ اس پر موت کی غَشی طاری ہے اور اس کی روح بس نکلنے ہی والی ہے لیکن تم اس مرنے والے کی روح لوٹانے اور اس کی جان بچانے پر قادر نہیں البتہ ہم اس وقت اپنے علم و قدرت کے ساتھ تم سے زیادہ اس مرنے والے کے قریب ہوتے ہیں کہ ہر چیز کو جانتے بھی ہیں اور سب کچھ کر بھی سکتے ہیں لیکن تم اس چیز کو جانتے نہیں۔ جب تمہیں معلوم ہے کہ روح کو لوٹا دینا تمہارے اختیار میں نہیں ہے تو سمجھ جاؤ کہ یہ کام اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے، لہٰذا تم پر لازم ہے کہ اس پر ایمان لاؤ۔*

(مدارک،الواقعۃ، تحت الآیۃ:۸۳-۸۷، ص ۱۲۰۴-۱۲۰۵، جلالین مع جمل، الواقعۃ، تحت الآیۃ: ۸۳-۸۷، ۷/۴۰۶- ۴۰۷، خازن، الواقعۃ، تحت الآیۃ: ۸۳-۸۷، ۴/۲۲۴-۲۲۵، ملتقطاً)

*⎙ ⌲*
*ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ*
*💠"•• ══ ༻◉مدینـــــــه◉༺ ══ ••"💠*
*🙏💥➖عاجِزَانہ مَدَنی اِلتجاء➖💥🙏*
اللّٰه پاکﷻ کی رضا اور ثواب کی نیت سے اس تفسیر کو دوسرے گروپس میں شیئر کیجئے۔
*--------------------------------------------*
*Whatsapp Contact:*
*https://wa.me/message/CZV6UOLTNWP4N1*
*page:*
*https://fb.me/tafseeriquraan*
*YouTube Channel:*
*https://youtube.com/c/tafseerequraan*
🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁
*╭┄┅─══════════════─┅┄╮*
*༻◉فیضانِ تفسیر القرآن جاری رہے گا◉༺*
*╰┄┅─══════════════─┅┄╯*
🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱

22/06/2025

*_"Tafseer Surat-ul-Waqiah Verse #: 078-080"_*
*--------------------------------------------*
*🫐..❀تفسیرِ مبارکہ کے موضوعات❀..🫐*
*--------------------------------------------*
- قرآن پاک چھونے سے متعلق 7 اَحکام:
*--------------------------------------------*
*◉...❁✾ "بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ" ✾❁...◉*
*--------------------------------------------*

📮👈 فِیْ كِتٰبٍ مَّكْنُوْنٍۙ (۷۸) لَّا یَمَسُّهٗۤ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَؕ (۷۹) تَنْزِیْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ (۸۰)

*🌱👈 تَرجَمَۂِ کَنْزُالعِرفَانْ شَرِیْفْ وَ تَفْسِیْر صِرَاطُ الْجِنَانْ شَرِیْفْ:*

پوشیدہ کتاب میں *(ہے)۔* اسے پاک لوگ ہی چھوتے ہیں ۔ یہ تمام جہانوں کے مالک کا اتارا ہوا ہے ۔

*🌸👈 {لَا یَمَسُّهٗۤ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَ: اسے پاک لوگ ہی چھوتے ہیں۔}*

اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اس محفوظ اور پوشیدہ کتاب کو فرشتے ہی چھوتے ہیں جو کہ شرک، گناہ اور ناپاک ہونے سے پاک ہیں ۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ قرآن پاک کو شرک سے پاک لوگ ہی چھوتے ہیں ۔ تیسری تفسیر یہ ہے کہ قرآن پاک کو وہ لوگ ہاتھ لگائیں جو با وضو ہوں اور ان پر غسل فرض نہ ہو۔

(خازن، الواقعۃ، تحت الآیۃ: ۷۹، ۴/۲۲۳)

📚👈 حدیث شریف میں بھی اسی چیز کا حکم دیا ہے ، چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، رسولِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:

*’’قرآن پاک کو وہی ہاتھ لگائے جو پاک ہو۔"*

(معجم صغیر، باب الیائ، من اسمہ: یحیی، ص ۱۳۹، الجزء الثانی)

*📿👈 قرآن پاک چھونے سے متعلق 7 اَحکام:*

یہاں آیت کی مناسبت سے قرآنِ مجید چھونے سے متعلق 7 اَحکام ملاحظہ ہوں:

*1️⃣…* قرآن عظیم کو چھونے کے لئے وضو کرنا فرض ہے۔

(نور الایضاح، کتاب الطہارۃ، فصل فی اوصاف الوضو ء، ص ۵۹)

*2️⃣…* جس کا وضو نہ ہو اسے قرآنِ مجید یا اس کی کسی آیت کا چھونا حرام ہے، البتہ چھوئے بغیر زبانی یا دیکھ کر کوئی آیت پڑھے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

*3️⃣…* جس کو نہانے کی ضرورت ہو *(یعنی جس پر غسل فرض ہو)* اسے قرآن مجید چھونا اگرچہ اس کا سادہ حاشیہ یا جلد یا چولی چھوئے، یا چھوئے بغیر دیکھ کر یا زبانی پڑھنا، یا کسی آیت کا لکھنا، یا آیت کا تعویذ لکھنا، یا قرآنِ پاک کی آیات سے لکھا تعویذ چھونا، یا قرآن پاک کی آیات والی انگوٹھی جیسے حروفِ مُقَطَّعات کی انگوٹھی چھونا یا پہننا حرام ہے۔

*4️⃣…* اگر قرانِ عظیم جُزدان میں ہو تو جزدان پر ہاتھ لگانے میں حرج نہیں، یوہیں رومال وغیرہ کسی ایسے کپڑے سے پکڑنا جو نہ اپنا تابع ہو نہ قرآنِ مجید کا تو جائز ہے۔ کرتے کی آستین، دُوپٹے کی آنچل سے یہاں تک کہ چادر کا ایک کونا اس کے کندھے پر ہے تو دوسرے کونے سے قرآن پاک چھونا حرام ہے کیونکہ یہ سب اس کے ایسے ہی تابع ہیں جیسے چولی قرآن مجید کے تابع تھی۔

*5️⃣…* روپیہ کے اوپر آیت لکھی ہو تو ان سب کو *(یعنی بے وضو اور جنب اور حیض و نفاس والی کو)* اس کا چھونا حرام ہے، ہاں اگر روپے تھیلی میں ہوں تو تھیلی اٹھانا جائز ہے۔ یوہیں جس برتن یا گلاس پر سورت یا آیت لکھی ہو اس کو چھونا بھی انہیں حرام ہے اور اس برتن یا گلاس کو استعمال کرنا ان سب کے لئے مکروہ ہے، البتہ اگر خاص شفا کی نیت سے انہیں استعمال کریں تو حرج نہیں۔

*6️⃣…* قرآن کا ترجمہ فارسی یا اردو یا کسی اور زبان میں ہو تو اسے بھی چھونے اور پڑھنے میں قرآنِ مجید ہی کا سا حکم ہے۔

*7️⃣…* قرآنِ مجید دیکھنے میں ان سب پر کچھ حرج نہیں اگرچہ حروف پر نظر پڑے اور الفاظ سمجھ میں آئیں اور دل میں پڑھتے جائیں۔

(بہار شریعت، حصہ دوم، غسل کا بیان، ۱/۳۲۶-۳۲۷، ملخصاً)

*🪵👈 {تَنْزِیْلٌ: اتارا ہوا ہے۔}*

اس آیت میں بھی اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا رد کیا جو قرآن پاک کو شعر، جادو یا کہانت کہتے ہیں، اور ارشاد فرمایا کہ یہ قرآن اس ربّ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے جو سب جہانوں کا مالک ہے تو پھر یہ شعر یا جادو کس طرح ہو سکتا ہے۔

*(خازن، الواقعۃ، تحت الآیۃ: ۸۰، ۴/۲۲۴، ملتقطاً)*

*⎙ ⌲*
*ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ*
*💠"•• ══ ༻◉مدینـــــــه◉༺ ══ ••"💠*
*🙏💥➖عاجِزَانہ مَدَنی اِلتجاء➖💥🙏*
اللّٰه پاکﷻ کی رضا اور ثواب کی نیت سے اس تفسیر کو دوسرے گروپس میں شیئر کیجئے۔
*--------------------------------------------*
*Whatsapp Contact:*
*https://wa.me/message/CZV6UOLTNWP4N1*
*page:*
*https://fb.me/tafseeriquraan*
*YouTube Channel:*
*https://youtube.com/c/tafseerequraan*
🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁
*╭┄┅─══════════════─┅┄╮*
*༻◉فیضانِ تفسیر القرآن جاری رہے گا◉༺*
*╰┄┅─══════════════─┅┄╯*
🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱

22/06/2025

*_"Tafseer Surat-ul-Waqiah Verse #: 075-077"_*
*--------------------------------------------*
*🫐..❀تفسیرِ مبارکہ کے موضوعات❀..🫐*
*--------------------------------------------*
- عظمتِ قرآن کا بیان اور منکرینِ قرآن کو تنبیہ:
*--------------------------------------------*
*◉...❁✾ "بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ" ✾❁...◉*
*--------------------------------------------*

📮👈 فَلَاۤ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِۙ (۷۵) وَ اِنَّهٗ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُوْنَ عَظِیْمٌۙ (۷۶) اِنَّهٗ لَقُرْاٰنٌ كَرِیْمٌۙ (۷۷)

*🌱👈 تَرجَمَۂِ کَنْزُالعِرفَانْ شَرِیْفْ وَ تَفْسِیْر صِرَاطُ الْجِنَانْ شَرِیْفْ:*

تو مجھے تاروں کے ڈوبنے کی جگہوں کی قسم۔ اور اگر تم سمجھو تو یہ بہت بڑی قسم ہے۔ بیشک یہ عزت والا قرآن ہے۔

*🌸👈 { فَلَاۤ اُقْسِمُ: تو مجھے قسم ہے۔}*

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ستاروں کے ڈوبنے کی جگہوں کی قسم ارشاد فرمائی، ان جگہوں کے بارے میں امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے مختلف اقوال ذکر کئے ہیں۔

*1️⃣…* ان سے مَشارق اور مَغارب مراد ہیں اور ایک قول یہ ہے کہ ان سے صرف مغارب مراد ہیں کیونکہ ستارے اسی جگہ غروب ہوتے ہیں۔

*2️⃣…* ان سے آسمان میں بُروج اور *(سیاروں یا ستاروں)* کی مَنازل مراد ہیں۔

*3️⃣…* ان سے شَیاطین کو پڑنے والے شہاب ِثاقب کے گرنے کی جگہیں مراد ہیں۔

*4️⃣…* ان سے قیامت کے دن ستاروں کے مُنتَشِر ہونے کے بعد گرنے کی جگہیں مراد ہیں۔

(تفسیرکبیر، الواقعۃ، تحت الآیۃ: ۷۵، ۱۰/۴۲۶)

*🪨👈 { وَ اِنَّهٗ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُوْنَ عَظِیْمٌ: اور اگر تم سمجھو تو یہ بہت بڑی قسم ہے۔}*

ارشاد فرمایا کہ اگر تمہیں علم ہو تو تم اس قَسم کی عظمت جان لو گے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت اور حکمت کے کمال پر دلالت کرتی ہے۔

(تفسیرکبیر، الواقعۃ، تحت الآیۃ: ۷۵، ۱۰/۴۲۶)

*🧆👈 { اِنَّهٗ لَقُرْاٰنٌ كَرِیْمٌ: بیشک یہ عزت والا قرآن ہے۔}*

کفارِ مکہ قرآنِ پاک کو شعر اور جادو کہا کرتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ستاروں کے ڈوبنے کی جگہوں کی قسم ارشاد فرما کر ان کا رد کرتے ہوئے اس آیت اور اس کے بعد والی آیت میں فرمایا کہ بے شک جو قرآن سرکارِ دو عالَم، محمد مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر نازل فرمایا گیا یہ شعر اور جادو نہیں اور نہ ہی یہ کسی کا اپنا بنایا ہوا کلام ہے، بلکہ یہ عزت والا قرآن ہے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام اور اس کی وحی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا معجزہ بنایا ہے اور یہ محفوظ اور پوشیدہ کتاب لوحِ محفوظ میں موجود ہے جس میں تبدیل اور تحریف ممکن نہیں اور نہ ہی اس تک شَیاطین پہنچ سکتے ہیں۔

*(تفسیرکبیر، الواقعۃ، تحت الآیۃ: ۷۷-۷۸، ۱۰/۴۲۸، خازن، الواقعۃ، تحت الآیۃ: ۷۷-۷۸، ۴/۲۲۳، تفسیر قرطبی، الواقعۃ، تحت الآیۃ: ۷۷-۷۸، ۹/۱۶۴، الجزء السابع عشر، ملتقطاً)*

*⎙ ⌲*
*ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ*
*💠"•• ══ ༻◉مدینـــــــه◉༺ ══ ••"💠*
*🙏💥➖عاجِزَانہ مَدَنی اِلتجاء➖💥🙏*
اللّٰه پاکﷻ کی رضا اور ثواب کی نیت سے اس تفسیر کو دوسرے گروپس میں شیئر کیجئے۔
*--------------------------------------------*
*Whatsapp Contact:*
*https://wa.me/message/CZV6UOLTNWP4N1*
*page:*
*https://fb.me/tafseeriquraan*
*YouTube Channel:*
*https://youtube.com/c/tafseerequraan*
🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁
*╭┄┅─══════════════─┅┄╮*
*༻◉فیضانِ تفسیر القرآن جاری رہے گا◉༺*
*╰┄┅─══════════════─┅┄╯*
🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱

22/06/2025

*_"Tafseer Surat-ul-Waqiah Verse #: 073-074"_*
*--------------------------------------------*
*🫐..❀تفسیرِ مبارکہ کے موضوعات❀..🫐*
*--------------------------------------------*
- آگ کے دو فوائد:
- تسبیح کرنے کا حکم:
*--------------------------------------------*
*◉...❁✾ "بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ" ✾❁...◉*
*--------------------------------------------*

📮👈 نَحْنُ جَعَلْنٰهَا تَذْكِرَةً وَّ مَتَاعًا لِّلْمُقْوِیْنَۚ (۷۳) فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِیْمِ۠ (۷۴)

*🌱👈 تَرجَمَۂِ کَنْزُالعِرفَانْ شَرِیْفْ وَ تَفْسِیْر صِرَاطُ الْجِنَانْ شَرِیْفْ:*

ہم نے اسے یادگار بنایا اور جنگل میں سفر کرنے والوں کیلئے نفع بنایا۔ تو اے محبوب! تم اپنے عظمت والے رب کے نام کی پاکی بیان کرو۔

*🌸👈 { نَحْنُ جَعَلْنٰهَا تَذْكِرَةً: ہم نے اسے یادگار بنایا۔}*

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آگ کے دو فوائد بیان فرمائے، پہلا فائدہ یہ ارشاد فرمایا کہ ہم نے اس آگ کو جہنم کی آگ کی یادگار بنایا تاکہ دیکھنے والا اس آگ کو دیکھ کر جہنم کی بڑی آگ کو یاد کرے اور اللہ تعالیٰ سے اور اس کے عذاب سے ڈرے۔

*💥👈 حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:*

’’تمہاری آگ جہنم کی آگ کے ستر حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔"

*عرض کی گئی:* یا رسولَ اللہ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، یہ آگ بھی کافی گرم ہے۔

❗ارشاد فرمایا: *’’وہ اس سے 69 حصے زیادہ گرم ہے اور ہر حصے میں اس کے برابر گرمی ہے۔"*

( بخاری، کتاب بدء الخلق، باب صفۃ النار وانّہا مخلوقۃ، ۲/۳۹۶، الحدیث: ۳۲۶۵)

*📚👈 دوسرا فائدہ یہ ارشاد فرمایا کہ آگ کو جنگل میں سفر کرنے والوں کیلئے نفع مند بنایا کہ وہ اپنے سفروں میں شمعیں جلا کر، کھانا وغیرہ پکا کر اور خود کو سردی سے بچا کر اُس سے نفع اُٹھاتے ہیں۔*

(خازن، الواقعۃ، تحت الآیۃ: ۷۳، ۴/۲۲۲، ملخصاً)

*🫐👈 {فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِیْمِ: تو اے محبوب! تم اپنے عظمت والے رب کے نام کی پاکی بیان کرو۔}*

اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیّت اور قدرت کے دلائل اور تمام مخلوق پر اپنے انعامات ذکر فرمانے کے بعد اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، آپ اپنے عظمت والے رب عَزَّوَجَلَّ کے نام کی ان تمام چیزوں سے پاکی بیان کریں جو مشرکین کہتے ہیں۔

*(خازن، الواقعۃ، تحت الآیۃ: ۷۴، ۴/۲۲۲)*

*⎙ ⌲*
*ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ*
*💠"•• ══ ༻◉مدینـــــــه◉༺ ══ ••"💠*
*🙏💥➖عاجِزَانہ مَدَنی اِلتجاء➖💥🙏*
اللّٰه پاکﷻ کی رضا اور ثواب کی نیت سے اس تفسیر کو دوسرے گروپس میں شیئر کیجئے۔
*--------------------------------------------*
*Whatsapp Contact:*
*https://wa.me/message/CZV6UOLTNWP4N1*
*page:*
*https://fb.me/tafseeriquraan*
*YouTube Channel:*
*https://youtube.com/c/tafseerequraan*
🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁
*╭┄┅─══════════════─┅┄╮*
*༻◉فیضانِ تفسیر القرآن جاری رہے گا◉༺*
*╰┄┅─══════════════─┅┄╯*
🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱

22/06/2025

*_"Tafseer Surat-ul-Waqiah Verse #: 068-072"_*
*--------------------------------------------*
*🫐..❀تفسیرِ مبارکہ کے موضوعات❀..🫐*
*--------------------------------------------*
- انعاماتِ الہی کا بیان اور کفار کو تنبیہ:
- ایندھن حاصل کرنے کے موجودہ ذرائع اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہیں:
*--------------------------------------------*
*◉...❁✾ "بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ" ✾❁...◉*
*--------------------------------------------*

📮👈 اَفَرَءَیْتُمُ الْمَآءَ الَّذِیْ تَشْرَبُوْنَؕ (۶۸) ءَاَنْتُمْ اَنْزَلْتُمُوْهُ مِنَ الْمُزْنِ اَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُوْنَ (۶۹) لَوْ نَشَآءُ جَعَلْنٰهُ اُجَاجًا فَلَوْ لَا تَشْكُرُوْنَ (۷۰) اَفَرَءَیْتُمُ النَّارَ الَّتِیْ تُوْرُوْنَؕ (۷۱) ءَاَنْتُمْ اَنْشَاْتُمْ شَجَرَتَهَاۤ اَمْ نَحْنُ الْمُنْشِــٴُـوْنَ (۷۲)

*🌱👈 تَرجَمَۂِ کَنْزُالعِرفَانْ شَرِیْفْ وَ تَفْسِیْر صِرَاطُ الْجِنَانْ شَرِیْفْ:*

تو بھلا بتاؤ تو وہ پانی جو تم پیتے ہو۔ کیا تم نے اسے بادلوں سے اتارا یا ہم ہی اتارنے والے ہیں ؟ اگر ہم چاہتے تو اسے سخت کھاری کردیتے پھر تم کیوں شکر نہیں کرتے؟ تو بھلا بتاؤ تو وہ آگ جو تم روشن کرتے ہو۔ کیا تم نے اس کادرخت پیدا کیا یا ہم ہی پیدا کرنے والے ہیں ؟

*🌸👈 { اَفَرَءَیْتُمُ الْمَآءَ الَّذِیْ تَشْرَبُوْنَ: تو بھلا بتاؤ تو وہ پانی جو تم پیتے ہو۔}*

اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ کیا تم نے اس پانی پر غور نہیں کیا جو تم زندہ رہنے کے لئے پیتے ہو اور اس سے اپنی پیاس بجھاتے ہو، کیا تم نے اسے بادل سے اتارا ہے، ایسا ہر گز نہیں بلکہ ہم ہی اپنی قدرت ِکاملہ سے اسے اتارنے والے ہیں اور جب تم نے یہ جان لیا کہ ہم ہی اس پانی کو نازل کرنے والے ہیں تو صرف میری عبادت کر کے اس نعمت کا شکر ادا کیوں نہیں کرتے اور دوبارہ زندہ کرنے پر میری قدرت کا انکار کیوں کرتے ہو؟

(تفسیر قرطبی، الواقعۃ، تحت الآیۃ: ۶۸-۶۹، ۹/۱۶۱-۱۶۲، الجزء السابع عشر، ابو سعود، الواقعۃ، تحت الآیۃ: ۶۸-۶۹، ۵/۶۷۷، ملتقطاً)

*🧆👈 { لَوْ نَشَآءُ جَعَلْنٰهُ اُجَاجًا: اگر ہم چاہتے تو اسے سخت کھاری کر دیتے۔}*

ارشاد فرمایا کہ اگر ہم چاہتے تو اس پانی کو سخت کھاری کردیتے ،اور ایسا ہو جاتا تو تم نہ اسے پی سکتے تھے، نہ اس سے شجر کاری اور کھیتی باڑی کر سکتے تھے ۔یہ تم پر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے تمہاری معاشی بہتری، تمہارے فائدے اور پینے کے لئے میٹھا پانی نازل فرمایا اور تمہیں نقصان سے بچانے کے لئے کھاری پانی نازل نہ فرمایا تو پھر تم اللہ تعالیٰ کی نعمت اور اس کے احسان و کرم کا کیوں شکر نہیں کرتے؟

(تفسیر طبری، الواقعۃ، تحت الآیۃ: ۷۰، ۱۱/۶۵۵، خازن، الواقعۃ، تحت الآیۃ: ۷۰، ۴/۲۲۲، ملتقطاً)

*💥👈 { اَفَرَءَیْتُمُ النَّارَ الَّتِیْ تُوْرُوْنَ: تو بھلا بتاؤ تو وہ آگ جو تم روشن کرتے ہو۔}*

اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ مجھے اس آگ کے بارے میں بتاؤ جو تم دو تر لکڑیوں سے روشن کرتے ہو، کیا تم نے اس کا درخت پیدا کیا ہے؟ ایسا ہر گز نہیں بلکہ ہم ہی اسے پیدا کرنے والے ہیں، تو جب تم نے میری قدرت کو پہچان لیا تو میرا شکر ادا کرو اور دوبارہ زندہ کرنے پر میری قدرت کا انکار نہ کرو۔

❗اہلِ عرب *(اس زمانے میں)* دو مخصوص لکڑیوں کو ایک دوسرے سے رگڑ کر آگ جلایا کرتے تھے، اوپر والی لکڑی کو وہ زَند اور نیچے والی لکڑی کو زَندہ کہتے تھے اور جن درختوں سے یہ لکڑیاں حاصل ہوتی تھیں انہیں مَرْخ اور عَفَار کہتے تھے۔

(تفسیر قرطبی، الواقعۃ، تحت الآیۃ: ۷۱-۷۲، ۹/۱۶۲، الجزء السابع عشر، مدارک، الواقعۃ، تحت الآیۃ: ۷۱-۷۲، ص۱۲۰۳، ملتقطاً)

*🪵👈 ایندھن حاصل کرنے کے موجودہ ذرائع اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہیں:*

یہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے فی زمانہ ہمارے لئے ایندھن حاصل کرنے کے بہت سے ذرائع جیسے کوئلہ، گیس اور تیل وغیرہ ظاہر فرما دئیے ہیں اور ان سے ہم آسانی کے ساتھ اپنی ضروریّات پوری کر رہے ہیں ۔ جس طرح اُس درخت کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا جسے رگڑ کر ایندھن حاصل کیا جاتا تھا اسی طرح کوئلہ، گیس اور تیل وغیرہ کو بھی اللہ تعالیٰ نے ہی پیدا کیا ہے، لہٰذا ہر بندے پر لازم ہے کہ وہ ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے۔

*⎙ ⌲*
*ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ*
*💠"•• ══ ༻◉مدینـــــــه◉༺ ══ ••"💠*
*🙏💥➖عاجِزَانہ مَدَنی اِلتجاء➖💥🙏*
اللّٰه پاکﷻ کی رضا اور ثواب کی نیت سے اس تفسیر کو دوسرے گروپس میں شیئر کیجئے۔
*--------------------------------------------*
*Whatsapp Contact:*
*https://wa.me/message/CZV6UOLTNWP4N1*
*page:*
*https://fb.me/tafseeriquraan*
*YouTube Channel:*
*https://youtube.com/c/tafseerequraan*
🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁
*╭┄┅─══════════════─┅┄╮*
*༻◉فیضانِ تفسیر القرآن جاری رہے گا◉༺*
*╰┄┅─══════════════─┅┄╯*
🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱

22/06/2025

*_"Tafseer Surat-ul-Waqiah Verse #: 062-067"_*
*--------------------------------------------*
*🫐..❀تفسیرِ مبارکہ کے موضوعات❀..🫐*
*--------------------------------------------*
- انعاماتِ الہی کا بیان اور کفار کو تنبیہ:
- تعجب کے قابل شخص:
*--------------------------------------------*
*◉...❁✾ "بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ" ✾❁...◉*
*--------------------------------------------*

📮👈 وَ لَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْاَةَ الْاُوْلٰى فَلَوْ لَا تَذَكَّرُوْنَ (۶۲) اَفَرَءَیْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَؕ (۶۳) ءَاَنْتُمْ تَزْرَعُوْنَهٗۤ اَمْ نَحْنُ الزّٰرِعُوْنَ (۶۴) لَوْ نَشَآءُ لَجَعَلْنٰهُ حُطَامًا فَظَلْتُمْ تَفَكَّهُوْنَ (۶۵) اِنَّا لَمُغْرَمُوْنَۙ (۶۶) بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ (۶۷)

*🌱👈 تَرجَمَۂِ کَنْزُالعِرفَانْ شَرِیْفْ وَ تَفْسِیْر صِرَاطُ الْجِنَانْ شَرِیْفْ:*

اور بیشک تم پہلی پیدائش جان چکے ہو تو پھر کیوں نصیحت حاصل نہیں کرتے؟ تو بھلا بتاؤ تو کہ تم جو بوتے ہو۔ کیا تم اس کی کھیتی بناتے ہو یا ہم ہی بنانے والے ہیں ؟ اگر ہم چاہتے تو اسے چورا چورا گھاس کردیتے پھر تم باتیں بناتے رہ جاتے۔ کہ ہم پر تاوان پڑگیا ہے۔ بلکہ ہم بے نصیب رہے۔

*🌸👈 { وَ لَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْاَةَ الْاُوْلٰى: اور بیشک تم پہلی پیدائش جان چکے ہو۔}*

ارشاد فرمایا کہ تم اپنی پہلی پیدائش کے بارے میں جان چکے ہو کہ ہم تمہیں عدم سے وجود میں لائے ہیں تو پھر *(اسے سامنے رکھتے ہوئے دوسری پیدائش کے متعلق)* کیوں غور نہیں کرتے کہ جو ربّ تعالیٰ پہلی بار تمہیں عدم سے وجود میں لا سکتا ہے تو وہ تمہارے مرنے کے بعد تمہیں دوسری بار زندہ کرنے پر بھی یقینا قادر ہے۔

(خازن، الواقعۃ، تحت الآیۃ: ۶۲، ۴/۲۲۱، ملخصاً)

*🌻👈 تعجب کے قابل شخص:*

حضرت عبد اللہ بن مِسور ہاشمی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:

*’’اس بندے پر انتہائی تعجب ہے جو اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو دیکھنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی قدرت میں شک کرتا ہے۔ اس بندے پر انتہائی تعجب ہے جو پہلی بار کی پیدائش کو دیکھنے کے باوجود دوسری بار کی پیدائش کا انکار کرتا ہے۔ اس بندے پر انتہائی تعجب ہے جو موت کے گھیر لینے کو جھٹلاتا ہے حالانکہ وہ دن رات مرتا اور زندہ ہوتا ہے۔ اس بندے پر انتہائی تعجب ہے جو ہمیشگی کے گھر* (یعنی جنت) *کی تصدیق کرنے کے باوجود دھوکے کے گھر* (یعنی دنیا) *کے لئے کوشش میں مصروف ہے۔ اس بندے پر انتہائی تعجب ہے جو اِتراتا اور فخر و غرور کرتا ہے حالانکہ وہ نطفہ سے پیدا ہوا، پھر وہ سڑی ہوئی لاش بن جائے گا اور اِس دوران اُس پر کیا بیتے گی وہ اُسے معلوم ہی نہیں۔"*

(مسند شہاب قضاعی، الباب الاوّل، یا عجباً کل العجب۔۔۔ الخ، ۱/۳۴۷، الحدیث: ۵۹۵)

*🫐👈 { اَفَرَءَیْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَ: تو بھلا بتاؤ تو کہ تم جو بوتے ہو۔}*

یہاں سے اللہ تعالیٰ نے حشر و نشر پر اپنی قدرت کی ایک اور دلیل بیان فرمائی ہے، چنانچہ اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے لوگو! تم اس کھیتی میں غور کیوں نہیں کرتے جسے تم زمین میں کاشت کرتے ہو، کیا تم اس کی نَشو ونُما کرکے کھیتی بناتے ہو یا ہم ہی اسے کھیتی بنانے والے ہیں اور اس بات میں کوئی شک ہی نہیں کہ اگرچہ زمین میں بیج ڈالنا تم لوگوں کا کام ہے لیکن اس بیج سے بالیں بنانا اور اس میں دانے پیدا کرنا اللہ تعالیٰ ہی کا کام ہے اور کسی کا نہیں ہے، تو جب اللہ تعالیٰ بیج سے فصل پیدا کرنے پر قادر ہے تو وہ تمہاری موت کے بعد تمہیں دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔

(تفسیر سمر قندی، الواقعۃ، تحت الآیۃ:۶۳-۶۴،۳/۳۱۸، خازن، الواقعۃ، تحت الآیۃ: ۶۳-۶۴، ۴/۲۲۱، روح البیان، الواقعۃ، تحت الآیۃ: ۶۳-۶۴، ۹/۳۳۲، ملتقطاً)

*🪵👈 {لَوْ نَشَآءُ لَجَعَلْنٰهُ حُطَامًا: اگر ہم چاہتے تو اسے چورا چورا گھاس کر دیتے۔}*

اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم اپنے لطف و رحمت سے اس کھیتی کی نَشوونُما کرتے ہیں اور تم پر رحمت کرتے ہوئے اسے تمہارے لئے باقی رکھتے ہیں ورنہ اگر ہم چاہتے تو زمین میں جو بیج تم بوتے ہو اسے پوری طرح پھلنے پھولنے سے پہلے ہی چُورا چُورا کردیتے جو کسی کام کا نہ رہے، پھر تم حیرت زدہ اور نادم و غمگین ہو کر یہ باتیں بناتے رہ جاتے کہ ہمارا مال بیکار ضائع ہوگیا، بلکہ ہم اپنے رزق سے محروم رہے۔

*(ابن کثیر، الواقعۃ، تحت الآیۃ: ۶۵-۶۷، ۸/۲۸، خازن، الواقعۃ، تحت الآیۃ: ۶۵-۶۷، ۴/۲۲۱-۲۲۲، روح البیان، الواقعۃ، تحت الآیۃ: ۶۵-۶۷، ۹/۳۳۳، ملتقطاً)*

*⎙ ⌲*
*ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ*
*💠"•• ══ ༻◉مدینـــــــه◉༺ ══ ••"💠*
*🙏💥➖عاجِزَانہ مَدَنی اِلتجاء➖💥🙏*
اللّٰه پاکﷻ کی رضا اور ثواب کی نیت سے اس تفسیر کو دوسرے گروپس میں شیئر کیجئے۔
*--------------------------------------------*
*Whatsapp Contact:*
*https://wa.me/message/CZV6UOLTNWP4N1*
*page:*
*https://fb.me/tafseeriquraan*
*YouTube Channel:*
*https://youtube.com/c/tafseerequraan*
🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁
*╭┄┅─══════════════─┅┄╮*
*༻◉فیضانِ تفسیر القرآن جاری رہے گا◉༺*
*╰┄┅─══════════════─┅┄╯*
🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱

22/06/2025

*_"Tafseer Surat-ul-Waqiah Verse #: 060-061"_*
*--------------------------------------------*
*🫐..❀تفسیرِ مبارکہ کے موضوعات❀..🫐*
*--------------------------------------------*
- موت کا تقرر اور قدرتِ الہی:
- انسان کو کہیں بھی اور کسی بھی وقت موت آ سکتی ہے:
*--------------------------------------------*
*◉...❁✾ "بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ" ✾❁...◉*
*--------------------------------------------*

📮👈 نَحْنُ قَدَّرْنَا بَیْنَكُمُ الْمَوْتَ وَ مَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِیْنَۙ (۶۰) عَلٰۤى اَنْ نُّبَدِّلَ اَمْثَالَكُمْ وَ نُنْشِئَكُمْ فِیْ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ (۶۱)

*🌱👈 تَرجَمَۂِ کَنْزُالعِرفَانْ شَرِیْفْ وَ تَفْسِیْر صِرَاطُ الْجِنَانْ شَرِیْفْ:*

ہم نے تمہارے درمیان موت مقرر کردی اور ہم پیچھے رہ جانے والے نہیں ہیں ۔ اس سے کہ تم جیسے اور بدل دیں اور تمہیں ان صورتوں میں بنا دیں جن کی تمہیں خبر نہیں ۔

*🌸👈 { نَحْنُ قَدَّرْنَا بَیْنَكُمُ الْمَوْتَ: ہم نے تمہارے درمیان موت مقرر کردی۔}*

اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم نے اپنی حکمت اور مَشِیَّت کے تقاضے کے مطابق تم میں موت مقرر کر دی اور تمہاری عمریں مختلف رکھیں، اسی لئے تم میں سے کوئی بچپن میں ہی مر جاتا ہے، کوئی جوان ہو کر، کوئی بڑھاپے اور جوانی کے درمیان عمر میں اور کوئی بڑھاپے تک پہنچ کر مر جاتا ہے، الغرض جو ہم مقدر کرتے ہیں وہی ہوتا ہے۔ اور ہم اس بات سے پیچھے رہ جانے والے *(بے بس)* نہیں ہیں کہ تمہیں ہلاک کر کے تم جیسے اور بدل دیں اور تمہیں مَسخ کرکے بندر، سور وغیرہ کی ان صورتوں میں بنا دیں جن کی تمہیں خبر نہیں ۔ جب یہ سب ہماری قدرت میں ہے تو تمہیں دوبارہ پیدا کرنے سے ہم عاجز کس طرح ہو سکتے ہیں ؟

(خازن، الواقعۃ، تحت الآیۃ: ۶۰-۶۱، ۴/۲۲۱، مدارک، الواقعۃ، تحت الآیۃ: ۶۰-۶۱، ص۱۲۰۲، ملتقطاً)

*📚👈 انسان کو کہیں بھی اور کسی بھی وقت موت آ سکتی ہے:*

اس آیت سے معلوم ہوا کہ انسان کو موت کسی بھی وقت آ سکتی ہے اور کسی کے لئے یہ ضروری نہیں کہ وہ بڑھاپے میں ہی موت کا شکار ہو بلکہ بھری جوانی میں اور مُتَوَسّط عمر میں بھی موت اپنے پنجے گاڑ سکتی ہے اور اس کیلئے کوئی جگہ بھی خاص نہیں بلکہ کہیں بھی آ سکتی ہے اور اس سے کسی صورت فرار ہونا بھی ممکن نہیں نیز کسی کو بھی اس بات کی خبر نہیں کہ اس کی موت کب اور عمر کے کس حصے میں اور کہاں پر آئے گی، لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ ہر وقت نیک اعمال میں مصروف رہے، اپنی لمبی عمر پر بھروسہ نہ کرے اور آخرت کی تیاری سے کسی بھی وقت غفلت نہ کرے ۔

*🍁👈 حضرت عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:*

’’دنیا میں ایسے رہو گویا تم مسافر ہو یا راہ گیر اور اپنے آپ کو قبر والوں میں سے شمار کرو۔"

*(مشکاۃ المصابیح، کتاب الرقاق، باب الامل والحرص، الفصل الاول، ۲/۲۵۹، الحدیث: ۵۲۷۴)*

🪻👈 حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:

*’’تمہارے درمیان میری مثال اس شخص کی طرح ہے جو اپنی قوم کو نصیحت کرنے والا ہے ،اس نے قوم کے پاس آ کر کہا: میں ڈرانے والا ہوں اور موت حملہ آور ہونے والی ہے اور قیامت وعدے کی جگہ ہے۔"*

(معجم الاوسط، باب الالف، من اسمہ: احمد، ۱/۳۸، الحدیث: ۸۶)

*🍒👈 حضرت حسن بصری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ اپنے وعظ کے دوران فرماتے:*

’’جلدی کرو، جلدی کرو، کیونکہ یہ چند سانس ہیں، اگر رک گئے تو تم وہ اعمال نہیں کر سکو گے جو تمہیں اللہ تعالیٰ کے قریب کر سکتے ہیں ۔اللّٰہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائے جو اپنی جان کی فکر کرتا ہے اور اپنے گناہوں پر روتا ہے۔"

(احیاء علوم الدین، کتاب ذکر الموت وما بعدہ، الباب الثانی، بیان المبادرۃ الی العمل۔۔۔ الخ، ۵/۲۰۵)

*🥥👈 حضرت فضیل رقاشی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں:*

اے فلاں ! لوگوں کی کثرت کے باعث اپنے آپ سے غافل نہ ہو کیونکہ معاملہ خاص تم سے ہو گا ان سے نہیں اور یہ نہ کہو کہ میں وہاں جاتا ہوں اور وہاں جاتا ہوں، اس طرح تمہارا دن ضائع ہو جائے گا اور موت تمہارے اوپر مُتَعَیَّن ہے اور جتنی جلدی نئی نیکی پرانے گناہ کو تلاش کر کر کے پکڑتی ہے اتنی جلدی تم نے کسی کو پکڑتے نہ دیکھا ہو گا۔

*(احیاء علوم الدین، کتاب ذکر الموت وما بعدہ، الباب الثانی، بیان المبادرۃ الی العمل۔۔۔ الخ، ۵/۲۰۶)*

*⎙ ⌲*
*ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ*
*💠"•• ══ ༻◉مدینـــــــه◉༺ ══ ••"💠*
*🙏💥➖عاجِزَانہ مَدَنی اِلتجاء➖💥🙏*
اللّٰه پاکﷻ کی رضا اور ثواب کی نیت سے اس تفسیر کو دوسرے گروپس میں شیئر کیجئے۔
*--------------------------------------------*
*Whatsapp Contact:*
*https://wa.me/message/CZV6UOLTNWP4N1*
*page:*
*https://fb.me/tafseeriquraan*
*YouTube Channel:*
*https://youtube.com/c/tafseerequraan*
🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁
*╭┄┅─══════════════─┅┄╮*
*༻◉فیضانِ تفسیر القرآن جاری رہے گا◉༺*
*╰┄┅─══════════════─┅┄╯*
🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱

Address

NLC By Pass, Main Khanewal Road
Multan

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tafseer e Quraan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Tafseer e Quraan:

Share