Silsila Naqshbandia Owaisia Multan Division

Silsila Naqshbandia Owaisia Multan Division Silsila Naqshbandia Owaisia is a religious organization.

پریس ریلیز  آج کی رات (چاند رات)جشن منانے کے لیے نہیں بلکہ رمضان المبارک کا انعام حاصل کرنے کی رات ہے۔امیر عبدالقدیر اعو...
20/03/2026

پریس ریلیز
آج کی رات (چاند رات)جشن منانے کے لیے نہیں بلکہ رمضان المبارک کا انعام حاصل کرنے کی رات ہے۔امیر عبدالقدیر اعوان

رمضان المبارک کی تکمیل کے ساتھ ساتھ جو تقوی کی کیفیت کا حصول مقصود ہے اسے رمضان المبارک کے بعد عملی زندگی میں پرکھنے کی ضرورت ہے کہ کیا واقعی ہم نے رمضان المبارک میں متقی کی کیفیت حاصل کی؟کیا ہم ان حدود و قیود کا خیال رکھ رہے ہیں جو اللہ کریم نے ہمارے لیے مقرر فرمائی ہیں؟ کہیں یہ تو نہیں کہ رمضان المبارک کے بعد پہلی رات جسے لیلۃ الجائزہ کہتے ہیں وہ رات جو رمضان المبارک کے انعامات پانے کی رات ہے۔ اس رات کو چاند رات کے نام پر جشن اور ھلڑ بازی اور شور شرابا میں ہم نے ضائع کر دیا ۔
امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب۔
انہوں نے کہا کہ صحابہ کرام کی جماعت کو اللہ کریم نے وہ عظمت عطا فرمائی کہ اللہ ان سے راضی ہو گئے اور وہ اللہ سے راضی۔جن سے اللہ کریم راضی ہونے کا اعلان فرما رہے ہیں ان کی عظمت یہ ہے کہ غیر صحابہ جن میں تابعین، تبع تابعین اور اہل اللہ سب کو اکٹھا کر لیں پھر بھی وہ صحابہ کی خاک پا کو نہیں پہنچ سکتے۔اللہ کریم نے صحابہ کرام کو یہ عظمتیں عطا فرمائیں ہیں۔دنیا کی بادشاہیاں اگر قبر میں اترتے ہیں امتحان بن جائیں تو کیا فائدہ ان بادشاہیوں کا؟اللہ کریم نے جس کوجہاں جس حال میں رکھا ہے اس کے لیے وہی سب سے بہتر حال ہے
یاد رہے کہ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے مرکز دارالعرفان منارہ میں اجتماعی سنت اعتکاف کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں ملک بھر سے بڑی تعداد میں معتکفین تشریف لائے ان اپنے شب و روز کو اللہ والوں کی اس بستی میں بسر کیا۔
شیخ سلسلہ نے آخر میں معتکفین کے لیے دعا فرمائی کہ اللہ آپ کا اعتکاف قبول فرمائیں اور اس رمضان المبارک سے اگلے رمضان المبارک تک اللہ حفاظت فرمائے۔ملکی سلامتی اور امت مسلمہ کے اتفاق کے لیے خصوصی دعا بھی فرمائی گئی۔

پریس ریلیز  مرکز دارالعرفان منارہ میں جاری اجتماعی سنت اعتکاف میں حضرت امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ کی ہزاروں معتکفین ...
18/03/2026

پریس ریلیز
مرکز دارالعرفان منارہ میں جاری اجتماعی سنت اعتکاف میں حضرت امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ کی ہزاروں معتکفین کے ساتھ افطاری۔
اس موقع پر انہوں نے اجتماعی دعا فرمائی اوربات چیت کرتے ہوئے کہا کہ رمضان المبارک کی فرضیت کا مقصد صرف اور صرف حصول تقوی ہے۔اللہ کریم فرماتے ہیں کہ تم پر روزے اس لیے فرض کیے گئے ہیں تا کہ تمہارا اپنے رب سے ایک مضبوط تعلق قائم ہو جائے اور تمہیں اللہ کی نافرمانی کرتے ہوئے حیا آجائے۔اگر بندگی کی یہ کیفیت نصیب ہو تو حال بد ل جاتا ہے۔
یاد رہے کہ مرکز دارالعرفان منارہ میں ہر سال کی طرح اس سال بھی اجتماعی اعتکاف کا وسیع انتظام کیا گیا ہے جس کے تمام انتظامات امیر عبدالقدیر اعوان خود دیکھ رہے ہوتے ہیں اس وقت پورے ملک اور بیرون ممالک سے بھی سالکین سلسلہ مرکز میں سنت و نفل اعتکاف کے لیے آئے ہوئے ہیں جنہیں سحری سے لے کر رات 10:30 بجے تک باقاعدہ ایک ٹائم ٹیبل کے مطابق گزارا جاتا ہے اور جس میں فقہ اور درس حدیث کی کلاسز ہوتی ہیں روزانہ صبح 11:00 بجے حضرت شیخ المکرم خطاب فرماتے ہیں۔اس سارے نظام میں واحد مقصد روحانی پاکیزگی کا حصول ہے اور یہاں ر وحانی اسباق کے امتحانات پاس کرنے والوں میں حضرت شیخ المکرم اپنے دست مبارک سے اسناد تقسیم فرماتے ہیں۔

میڈیا کوریج ۔ پریس ریلیز ۔
11/03/2026

میڈیا کوریج ۔ پریس ریلیز ۔

لیلتہ القدر۔جمال باری کا خزانہتحریر:۔ مولاناامیر محمد اکرم اعوان  قرآن حکیم اس ذات کا ذاتی کلام ہے جو کائنات کا خالق ہے،...
10/03/2026

لیلتہ القدر۔جمال باری کا خزانہ
تحریر:۔ مولاناامیر محمد اکرم اعوان
قرآن حکیم اس ذات کا ذاتی کلام ہے جو کائنات کا خالق ہے،مالک ہے، وحدہ ‘ لاشریک ہے۔ ارشاد ہوتا ہے اِنَّآ اَنْزَلْنٰہُ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ ”بے شک ہم نے اس (قرآن) کو شب قدر میں نازل (کرنا شروع) کیا“۔اللہ کی بہت بڑی نعمت جو مخلوق کو نصیب ہوئی وہ اللہ کا ذاتی کلام ہے،جو اللہ کی صفت ہے۔کلامِ الہٰی کے ساتھ اللہ کی ذاتی تجلیات برستی ہیں،جو دلوں کو سیراب کردیتی ہیں۔اس سے بڑا کوئی دوسرا انعام نہیں تو فرمایا یہ ایسی مبارک رات ہے کہ اس میں میرا ذاتی کلام مخلوق کی طرف منتقل ہوا۔کلامِ الہٰی کے ساتھ ذاتِ باری کے اثرات بھی منتقل ہوتے ہیں۔حدیث شریف میں ہے کہ مؤذن کی اذان کی آواز جہاں تک پہنچتی ہے وہاں تک شیطان بھاگتا چلا جاتا ہے۔اس کا مطلب ہے اس میں اتنی نورانیت ہوتی ہے کہ وہ شیطان کو بھگائے لے جاتی ہے۔اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ خالق کے ذاتی کلام میں کیسی تجلیات ہوں گی؟ذاتِ باری کا کتنا اثر موجود ہو گا؟ اسی لئے رب جلیل نے لیلۃالقدر کی پہلی فضیلت ہی نزول کلامِ الہٰی بیان فرمائی کہ قرآن حکیم اللہ کا کلام ہے جو شب قدر کو لوح محفوظ میں منتقل ہوااور وہاں سے اس کا نزول روئے زمین پر بتدریج تئیس برسوں میں مکمل ہوا۔ نزول قرآن کے لئے پہلے دن کو اگر تلاش کیا جائے تو حرا میں جو نزول ِقرآن ہوا وہ بھی شب قدر ہی نکلے گی۔ شب قدر کو رحمت الہٰی کے عام ہونے سے، اللہ کی بخشش کے عام ہونے سے،اللہ کے کرم کے دریا موج در موج بخشش نچھاور کرنے سے ایک خاص نسبت ہے۔اللہ کا کلام ہو اور نوع انسانی پر نزول ہوتو وہ کتنی برکات لاتا ہے؟آدمی سوچ نہیں سکتا۔ اس لئے کہ نہ اللہ کی ذات کی کوئی حد ہے،نہ اس کی صفات کی کوئی ابتداء ہے،نہ انتہا۔یوں تو رمضان المبارک میں قیام، تراویح اور تہجدہر ایک کی اپنی خصوصیت ہے۔ دن بھر اللہ کی فرمانبرداری میں جائزامور سے پرہیزبندۂ مومن کو ذات ِ باری سے ایک خاص قرب عطا کرتا ہے کہ اللہ تو رگِ جاں سے قریب تر ہے لیکن قریب ہونا اور بات ہے اور بندے کو قرب کا احساس ہو یہ اور بات ہے۔ روزہ اس احساس کو بیدار کرتا ہے کہ تیرا مالک تیرے پاس ہے۔یہ احساس ترقی کرتا ہے اور بندہ اپنا محاسبہ کرنے کے قابل ہو جاتا ہے یعنی پہلے عشرے میں رحمت ِخداوندی سے احساس ِزیاں پیدا ہوا،دوسرے عشرے تک احساس ِندامت نے زور پکڑا اور اصلاح احوال توبہ اور مغفرت کے لئے کوشاں ہوا، جب اپنا احتساب کرنے کا حوصلہ آیاتو تیسرے عشرے کی طاق راتوں میں اپنے رب کریم کی بے پایاں مغفرت کا طالب ہوا۔ اب اندازہ کیجئے کہ کس قدر عظیم کلام ہے تو اس کاپڑھنا کتنا عظیم کام ہوگا؟ جنہیں اس کے حفظ کی سعادت نصیب ہوئی،ان پر اللہ کا کتنا احسان ہے؟جن سینوں میں،جن ذہنوں میں،جن دلوں میں محفوظ ہے وہ کتنے خوش نصیب ہیں؟ اس کی قرأت کا حسن، اس کے حروف، الفاظ کی ادائیگی،لہجے کا زیروبم،ان باریکیوں کو جاننا کتنا عظیم کام ہے؟ اس کے مفہوم کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا تو مقصد حیات ہے۔فرمایا وَمَآ اَدْرٰکَ مَا لَیْلَۃُ الْقَدْر ”اور تمہیں کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے؟“ فرمایا اے مخاطب تجھے کیا خبر قدر کی رات کیا ہے؟اس کی عظمت انسانی اندازوں سے بڑھ کرہے۔انسان کسی بھی چیز کی خوبی،اچھائی اور کمال کے جس قدر بھی اندازے لگا لے،اس رات کی فضیلت اندازوں سے بالاتر ہے۔ اس کی فضیلت سمجھنے کے لیے یہی کافی ہے۔ اللہ فرماتا ہے لَیْلَۃُ الْقَدْرِ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَھْرٍ لفظ ”الف“ کی تشریح علماء کے نزدیک یہ ہے کہ عرب کے روز مرہ میں ہزار کا عدد یا ہندسہ”الف“ تھا اور یہ کُل یعنی تمام کے لئے بولا جاتا تھا یعنی جب پورے زمانے کو شمار کرنا ہوتا تو لفظ”الف“ استعمال کرتے۔علماء یہاں بھی یہی مراد لیتے ہیں کہ اس ایک رات میں قلوب ِانسانی جتنی تجلیات حاصل کر سکتے ہیں۔لیلۃالقدر کے علاوہ جتنی دنیا کی عمر ہے، ا س ساری میں بھی نہیں کر سکتے۔یعنی مسلسل تجلیات و برکات متوجہ ہوں،بندے میں استعداد بھی ہو اور وہ جمع بھی کرتا رہے تو وہ فراوانی جو اس رات میں ہے وہ ان تمام صدیوں کو جمع کر لیں تو بھی نہیں ہو سکتی اور اگر”الف“ مہینہ سے مراد ہزار مہینہ بھی لیاجائے تو بھی ساڑھے تراسی سال بنتے ہیں تو ربّ کریم فرماتے ہیں یہ ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ یعنی کوئی ہزار مہینے صرف عبادت ہی کرتا رہے،سجدے ہی کرتا رہے،ذکر ہی کرتا رہے تو بھی اس کی عظمت بڑھ کرہے۔ہزار مہینوں کے تقریباً تراسی برس سے کچھ اوپر بنتے ہیں۔اگر کوئی تراسی برس کی عمر پائے اور اس کی ساری عمر عبادت اور سجدے میں بسر ہوجائے تو ا س کاسارا ثواب جمع ہوکر بھی ایک لیلۃالقدر کے اجر کونہیں پاسکتا، یہ اس سے بہتر ہے۔کتنی بہتر ہے؟ اللہ بہتر جانتے ہیں۔اس طور پراندازہ کیجئے کہ جس رات میں قرآن کریم نارل ہوا۔اسے اتنی فضیلت ہوگئی،جس ہستی پرنازل ہوااس ہستی ﷺ کی عظمتیں بے پایاں،جس شہرمیں نازل ہواوہ روئے زمین کی افضل ترین آبادی،جس مہینے میں ناز ل ہواوہ افضل ترین مہینہ، جو فرشتہ لایا وہ فرشتوں کا سردار۔تو خود اس کلام کی عظمت کا کیا عالم ہوگا؟ پھر جس نے اسے مانا،ایمان لایا،اسے سنا،اسے سمجھا،اس پر عمل کیا اس کی عظمتوں کا کیا ٹھکانہ؟
انسان کو متوجہ کیا جارہا ہے کہ وہ لیلۃالقدر کی اہمیت کا ادراک کرے،زندگی کی مہلت کو بہترین شے کے حصول کے لیے استعمال کرے،اس مہلت کا فائدہ اٹھائے اوراللہ کی عطا کردہ نعمتوں سے مستفید ہو۔اس عظیم رات میں رحمت باری لٹائی جا تی ہے فرمایا تَنَزَّلُ الْمَلٰٓءِکَۃ وَالرُّوْحُ فِیْھَا بِاِذْنِ رَبِّھِم مِّنْ کُلِّ اَمْر ”اس میں فرشتے اورروح اپنے پروردگار کے حکم سے اترتے ہیں ہرکام (کے انتظام) کے لیے“ مفسرین کے مطابق،انتظام عالم کے ایک سال کے تمام امور فرشتوں کے سپرد کردئیے جاتے ہیں، ہرشخص کی صحت، بیماری،اولاد،رزق،زندگی،موت،تمام امور کی ذمہ داری دے دی جاتی ہے۔ تَنَزَّلُ الْمَلٰٓءِکَۃُ ملائکہ کا نزول ہوتا ہے۔ اللہ کی طرف سے اس کے فرشتے رحمت و مغفرت اور دل کا ثبات لے کر اُترتے ہیں۔ تفسیر رُوح المعانی میں صاحب تفسیر لکھتے ہیں کہ کوئی ایسا بندہ جو اس رات متوجہ الی اللہ ہو کر اللہ کی عبادت کر رہا ہو وہ ایسا نہیں رہتا کہ جبرائیل امین جیسا فرشتہ اس سے مصافحہ نہ کرے۔پھر وہ اس بات کی نشانیاں لکھتے ہیں کہ اس مصافحہ کے ساتھ کسی کے دِل پر رِقت طاری ہو جاتی ہے، کسی کی آنکھوں میں پانی آ جاتا ہے، آنسو بہنے لگتے ہیں اور طلب الہٰی بڑھ جاتی ہے۔
علماء کرام لکھتے ہیں کہ فرشتے اتنی تعداد میں زمین پر اترتے ہیں کہ زمین کا کوئی حصہ ایسا نہیں ہوتا جس پر فرشتہ موجود نہ ہو۔وہ فرشتے جو طلب ِرحمت اور قبول ِرحمت کی قلوب میں استعداد پیدا کر دیتے ہیں۔جس کے نتیجے میں جمال باری کا ذوق بڑھ جاتا ہے اور تجلیات باری کو قبول کرنے کی،ان کو قلوب میں سمونے کی قوت بڑھ جاتی ہے۔ ”وَالرُّوْحُ“ سے بعض مفسرین کرام نے اس سے مراد جبرائیل امین لئے ہیں اور بعض کی رائے میں اس سے مراد وہ ارواح ہیں جو نجات یافتہ ہیں۔ اُنہیں بھی اس رات زمین پر آنے کی اجازت ملتی ہے۔یاد رہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہ اجمعین، تابعین ا ور تبع تابعین بہترین زمانوں کے لوگ ہیں یہ اخص الخواص ہیں۔ان کے بعد اولیاء اللہ اور وہ خاص ارواح جوزندگی میں،اس بدن میں رہتے بستے ہوئے،آسمانوں اور عرشِ اعلیٰ تک کی سیر کی قوت رکھتی ہیں۔وہ برزخ میں جا کر اس قوت پرواز سے محروم نہیں ہوتیں۔ یہ الگ بات ہے کہ آدمی جب برزخ میں پہنچتا ہے تو اس کی دلچسپی دنیا سے ختم ہو جاتی ہے۔اس کے سامنے وہ حقیقت جلوہ گر ہوجاتی ہے، جس کے سامنے دُنیا ہیج ہے۔لیکن لیلۃالقدر میں اس ایک رات میں ”بِاِذْنِ رَبِّھِمِ“ انہیں اللہ کی طرف سے اجازت دی جاتی ہے کہ وہ علیین سے دنیا میں نزول کریں۔مفسرین کرام لکھتے ہیں کہ جن ارواح کو زمین پر نزول کا اذن ہوتا ہے اور وہ آتے ہیں اور اپنے اہل خاندان کو دیکھتے ہیں اگر وہ نیک ہوں،ان کا عقیدہ صحیح ہو،ان کے اعمال اچھے ہوں تو بہت خوش ہوتے ہیں اور دُعا کرتے ہیں۔اگر زمین پر آکے دیکھیں کہ ان کا کردار اور اعمال اچھے نہیں تو پھر بڑے پریشان ہو جاتے ہیں،دکھ ہوتا ہے تو ہر شخص کے لئے اولاد بھی اس کی نیکیوں میں شمار ہوتی ہے۔ 3 لامین بھی تشریف لاتے ہیں۔اللہ کا وہ فرشتہ جو قرآن لایا تھا،نبی کریم ﷺ پر وحی لاتا تھا،اب وہ وحی لے کر نہیں آتا،وہ انتظام وانصرام عالم کو دیکھنے آتا ہے۔ اس لیے اللہ کے بندے کوشش کرتے ہیں کہ یہ رات عبادت میں گزاریں اللہ کے فرشتے آئیں تو اللہ اللہ کرتے ہوئے پائیں۔لیلۃالقدر ان قیمتی لمحات سے مزین ہے کہ ساری صدیاں او رسارے زمانے مل کر اتنی رحمتیں نہیں لُوٹ سکتے جتنی لیلۃالقدر میں لٹائی جاتی ہیں۔روز بارش برستی ہے۔ہر قطرے کا انجام اپنا ہے، کوئی قطرہ ریت پر برستا ہے اور فنا ہو جاتا ہے۔ کوئی سبزے پر برستا ہے اُسے جان دیتا ہے،کوئی برف بنتا ہے،کسی سے دریا بہتے ہیں، کوئی سمندر میں گم ہو جاتا ہے، کوئی ایسا قطرہ برستا ہے جو سیدھا سیپ کے منہ میں جاتا ہے اور ایک چمکتا دمکتاموتی بن کر نکلتا ہے۔اسی طرح قلوب ِانسانی ہیں کہ کسی لمحے کس دِل میں کیا تڑپ پیدا ہوئی؟جتنی طلب ہوتی ہے،اس سے بڑھ کر وصولی ہوتی ہے۔
لیلۃالقدر کب ہوتی ہے؟ صحیح بخاری میں حضورﷺ کا ارشاد پاک موجود ہے کہ شب قدر کو رمضان کی آخری دس طاق راتوں میں تلاش کرو۔لیلۃالقدرآخری عشرے کی طاق راتوں میں آتی ہے یعنی اکیسویں رات کو بھی آ سکتی ہے،تئیسویں،پچیسویں،ستائیسویں اور انتیسویں میں بھی آ سکتی ہے۔ علماء کا ارشاد ہے کہ جو شخص عشاء باجماعت ادا کرتا ہے اور فجر باجماعت ادا کرلیتا ہے تو اسے شب بیدار سمجھا جاتا ہے۔جوراتوں کو ذکر کرتے ہیں،نوافل پڑھتے ہیں،تلاوت کرتے ہیں وہ تو ہیں ہی شب بیدار لیکن جو عشاء باجماعت پڑھ کر سو گیا،اٹھ کر فجر باجماعت پڑھ لی،اسے بھی شب بیدار تصور کیا جاتا ہے گویا اس نے بھی لیلۃالقدر پا لی، اس کی برکا ت اسے نصیب ہو گئیں۔یہ کوئی ضروری نہیں کہ اس میں عجائب وغرائب نظر آئیں توہی لیلۃالقدر ہو ئی۔ یہ بھی ضروری نہیں کہ ہر جگہ ایک ہی رات لیلۃالقدرہو۔ہر علاقے میں بدل بدل کرآتی ہے۔ ایک علاقے میں اکیس رمضان کو ہو،دوسرے علاقے میں تئیس کوہو سکتی ہے،کہیں پچیس کو اور کہیں دوسری طاق راتوں میں۔ اسی طرح ممالک میں بھی فرق ہوتا ہے۔یہ میرا ذاتی خیال ہے کہ ہر طاق رات کسی نہ کسی جگہ لیلۃالقدر ہوتی ہے۔ میں نے کہیں پڑھا نہیں لیکن میں یہی سمجھتا ہوں کہ رمضان کے آخری عشرے کی ہرطاق رات لیلۃالقدر ہوتی ہے،یہ الگ بات ہے کہ اس کا ظہور کہاں ہوتا ہے؟ یعنی یہ ضروری نہیں کہ اگر ہمارے علاقے میں اکیس رمضان کولیلۃالقدر ہے تو کسی دوسرے علاقے وغیرہ میں بھی اکیس کوہی ہو۔اللہ کریم،بے حد کریم ہیں۔وہ ہررات کرم فرماتے ہیں کہیں نہ کہیں لیلۃالقدر ہوتی ہے، اللہ کے بندوں کویہ ساری طاق راتیں نصیب ہوجائیں،ان میں شب بیداری نصیب ہو جائے تو کتنی اعلیٰ بات ہے۔ سَلٰمٌ۔ ھِیَ حَتّٰی مَطْلَعِ الْفَجْر”یہ(رات) طلوع صبح تک (امان اور)سلامتی ہے“ رات کا وقت غروب آفتاب سے شروع ہوکر طلوع فجر پر ختم ہوجاتا ہے۔ ساری رات ان برکات کا یہی عالم رہتا ہے۔
سامعین گرامی! دیکھنا یہ ہے کہ جس کلام کے نزول کے لیے اتنا اہتمام فرمایا جارہا ہے۔ اسے ہم نے کتنا پڑھا،کتنا سمجھا اور اسے کتنا اپنا چکے ہیں؟میری بڑوں سے اور بچوں سے بھی گزارش ہے کہ قرآن کو پڑھو، سمجھو،کامیابی اسی میں ہے۔ یہ کوئی رواجی کتاب نہیں کہ اسے پڑھ لیا جائے اوربس! یہ کلام الہٰی ہے،اس کا دیکھنا عبادت، چھونا عبادت،پڑھنا عبادت،یاد کرنا عبادت ہے لیکن اس کا اصل مقصد اسے سمجھنا اور اس کے مطابق اپنی عملی زندگی کو ڈھالنا ہے۔ اللہ کریم ہمیں توفیق دیں اور ہماری معمولی کاوشوں کو قبول فرمائیں۔اٰمین۔

الحمدللّٰہ ۔آج 08 مارچ بروز اتوار ،  ماہانہ  ضلعی مرکزی محفل ذکر دارالعرفان ملتان میں منعقد ہوئی۔ احباب کی کثیر تعداد نے...
08/03/2026

الحمدللّٰہ ۔
آج 08 مارچ بروز اتوار ، ماہانہ ضلعی مرکزی محفل ذکر دارالعرفان ملتان میں منعقد ہوئی۔
احباب کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔
جناب صاحب مجاز ڈاکٹر عطا محمد اعوان صاحب نے احباب کی تربیت کی اور ذکر کروایا۔
احباب کو مرکز دارالعرفان میں سنت و نفلی اعتکاف کے پروگرام میں شرکت کی دعوت دی گئی۔

اکابرین محفل میں ڈویژنل صدرالاخوان وصدر جنوبی پنجاب جناب شیراز احمد ، جناب ڈویژنل صدر نشرو اشاعت جنید اللّہ صاحب و پروفیسر اخلاق احمد ، شمس الحق صاحب ، ضلعی انتظامیہ میں راؤ سجاد ، اظہر اقبال اور جناب آصف سیماب نے شرکت کی۔
محفل کے اختتام پر احباب و ملکی سلامتی کے لئیے خصوصی دعا کی گئی۔

08/03/2026

اعتکاف کا مقصد،،،  حضورِ حق کی کیفیت کو پانا ہے۔ تحریر:۔ مولانا امیر محمد اکرم اعوان ؒرمضان کا ماہ مبارک بے پناہ برکتوں ...
08/03/2026

اعتکاف کا مقصد،،، حضورِ حق کی کیفیت کو پانا ہے۔
تحریر:۔ مولانا امیر محمد اکرم اعوان ؒ
رمضان کا ماہ مبارک بے پناہ برکتوں کا حامل ہے کوئی دل سے توبہ کرنا چاہے تو زندگی کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں بلکہ گناہ نیکیوں میں بدل جاتے ہیں جیسا کہ اللہ کریم خود فرماتا ہے الفرقان آیت 70 وہ ایسا کریم ہے کہ توبہ کرنے سے بندوں کے گناہ ہی معاف نہیں کرتا ان جرائم کے بدلے نیکیاں عطا کر دیتا ہے۔رمضان کا پہلا عشرہ رحمت،دوسرا مغفرت اور تیسراہے ہی جہنم سے آزادی پانے کا۔اس عشرے میں اعتکاف نصیب ہو جائے تویہ اللہ کی عطا ہے اور اس افراتفری کے عہد میں جہاں بے شمار لوگ رمضان کے آنے کے باوجود غیر ضروری دنیاوی امورمیں اللہ کو بھلائے بیٹھے ہیں، سیاست کی ریشہ دوانیوں میں مشغول ہیں،فتنہ وفساد کی آگ میں گھرے ہوئے ہیں،نہ انہیں اللہ یاد ہے، نہ عاقبت۔ان حالات میں اللہ نے کسی کو اعتکاف کی توفیق دے دی ہے تو یہ اللہ کا احسان عظیم ہے کہ رمضان کا برکت والا مہینہ بھی ہے اس کا آخری عشرہ بھی ہے اور اس میں معتکف ہونے کی سعادت بھی نصیب ہوئی ہے تو یاد رہنا چاہیے کہ یہ گنتی کے نو یا دس دن ہیں،ان کا کوئی لمحہ ضائع نہ ہو، اعتکاف کا حاصل یہ ہے کہ زبان کھلے تو اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کی بات ہی زبان سے نکلے،کوئی غیر ضروری بات زبان پہ نہ آئے، جس کا اعتکاف قبول ہو جائے تو یہ بات اسکی زندگی کا اصول بن جاتی ہے۔ وہ اس دس روزہ کورس سے تربیت حاصل کر کے جب واپس دنیا کے میدان عمل میں جاتا ہے تو اس کے پاس یہ قوت رہتی ہے کہ اسے اپنی زبان اوراپنے اعمال کی کس طرح حفاظت کرنا ہے؟ کس طرح چوکس رہنا ہے کہ غیر ضروری باتوں اور افکار سے خود کو محفوظ رکھنا ہے؟ اپنے دل کو کس طرح اللہ کی یاد میں محو رکھنا ہے؟ اور کس طرح سے اپنی منزل کو پانا ہے؟
اعتکاف نبی کریم ﷺ کی بہت ہی پسندیدہ سنت ہے۔آپ ﷺ اعتکاف میں جبرائیل امین علیہ السلام کے ساتھ قرآن حکیم کا دورہ فرماتے۔سب سے زیادہ مصروفیت جو اعتکاف میں رسول اللہ ﷺ کی ہوتی تھی وہ قرآن حکیم کا دور فرمایا جاتا تھا۔سنت اعتکاف بیس رمضان المبارک کی افطار سے شروع ہوتا ہے اور شوال کے چاند نظر آنے پر ختم ہوتا ہے۔نفل اعتکاف کے لئے وقت کی کوئی قید نہیں جتنا وقت کسی کے پاس ہو اتنے وقت کے لئے اعتکاف کی نیت سے مسجد میں رک سکتا ہے۔جب بھی مسجد میں بیٹھنے کی فرصت ملے، اعتکاف کی نیت کی جا سکتی ہے۔اس کے لئے رمضان ہی ضروری نہیں ہے غیر رمضان میں بھی کی جا سکتی ہے۔اعتکاف سنت ہو یا نفل دونوں کا مقصد متوجہ الی اللہ ہونا ہے۔
انسان کا مزاج ایسا ہے کہ اس کے لئے بڑا مشکل ہے کہ یہ محض مان کر بیٹھ رہے۔ اللہ جل شانہ‘ سامنے ہوتے تو شاید کوئی سانس بھی نہ لیتا اور بت بنا بیٹھا رہتا،پلک بھی نہ جھپکتا،ٹک ٹک دیکھتا رہتا لیکن یہ دیکھنے والے خاموش رہنے والے کا کمال تو نہ ہوتا۔ اُس کی ذات ہی ایسی ہے،امتحان تو یہی ہے کہ جب اللہ نے کہہ دیا۔اللہ کے نبیﷺ نے اللہ کی بات تم تک پہنچا دی کہ اللہ تمہارے پاس موجود ہوں، تم اللہ کودیکھو،تم اللہ کی بات سنو۔اب اس بات کو مان کر بیٹھو کہ اللہ میرے سامنے ہے اگرچہ یہ مشکل ہے تو یہی آزمائش ہے!
؎ ہو دیکھنے کا شوق تو آنکھوں کو بند کر
ہے دیکھنا یہی کہ نہ دیکھا کرے کوئی
اعتکاف سے غرض یہ ہے کہ آدمی اموردنیا سے لاتعلق ہو کراور کلی طور پر یکسو ہو کر متوجہ الی اللہ ہو جائے۔ان مخصوص دنوں میں دنیا کے جھمیلوں اوردنیاوی فکروں سے آزاد ہوجائے۔ فلاں کام کا کیاہو گا؟فلاں جگہ کیا ہو رہا ہو؟یہ چیزیں ذہن سے نکال کر اللہ کی طرف دھیان لگالے۔اعتکاف میں ضروری ہے کہ بندہ غیر ضروری باتیں نہ کرے ضرورت کی با ت کی جا سکتی ہے۔لیکن دنیاوی گپ شپ نہیں ہو سکتی۔دین کی باتیں کرنا مسائل سمجھنا، سمجھانا، تلاوت کرنا، دینی کتابیں پڑھنا، یہ سب اچھی باتیں ہیں یہ جائز ہی نہیں بلکہ ضروری ہیں بالکل خاموش رہنا مکروہ ہے۔ ضرورت کے کام بھی لکھ لکھ کر کروانا پسندیدہ نہیں۔ قرآن حکیم پڑھیں،درورد شریف پڑھیں، ذکر اذکار کریں،پوری احتیاط،پوری توجہ سے محنت کیجئے،دین سیکھنے اور سکھانے کی بات کریں،اللہ کی بات اللہ کے حبیب ﷺ کی بات سارا دن کرتے رہیں اس لئے کہ دین کی باتیں متوجہ الی اللہ کرنے میں معاون ہوتی ہیں۔ توجہ الی اللہ کے لئے نقصان دہ نہیں ہوتیں، رکاوٹ نہیں بنتیں۔لیکن دنیا کی بات دنیا کی طرف متوجہ کرتی ہے اور جو توجہ ذات باری کی طرف ہے اسے کم کرتی ہے لہٰذا نقصان دہ ہے۔ مسجد میں دنیووی باتیں کرنا،کاروبار،خرید وفرخت کرنا، گپ شپ لگانا،تفریح طبع کے لئے باتیں کرنایہ ساری چیزیں مسجد میں ویسے ہی حرام ہیں۔مسجد ایک مخصوص جگہ ہے جہاں صرف اللہ کریم کی بارگاہ میں گزارشات پیش کی جاتی ہیں اور اعتکاف میں یہ پابندی مزید تاکید کے ساتھ بڑھ جاتی ہے اور کوشش کی جانی چاہیے کہ عملاً اور ذہنی طور پر افکار دنیا سے جدا ہو کر متوجہ الی اللہ رہا جائے۔اس بات سے بے نیاز ہو جائے کہ کون کہاں ہے؟ کوئی ہے یا نہیں،بڑا ہے چھوٹا ہے،کوئی کیا کر رہا ہے؟ کیا نہیں؟ اپنی طرف سے بھرپور کوشش کرنی چاہیے۔ آگے اللہ کی مرضی کہ وہ کس کی مزدوری پہ کتنی اجرت عطا فرماتا ہے؟ کون سے درخت پہ کتنا پھل دیتا ہے؟
معتکف گویا ہر لحظہ بارگاہ الوہیت میں حاضر ہے بندہ ہر آن اللہ کے روبرو ہے لیکن وہ اللہ کی طرف سے ہے بندہ تو بے خبراپنے کاروبار میں مگن ہوتا ہے اسے اللہ یاد نہیں ہوتا، اپنے دل اوردماغ میں وہی چیزیں ہوتی ہیں،ذات باری کاتو کوئی تصور بھی نہیں ہوتا۔ لیکن اللہ تو تب بھی ساتھ ہوتا ہے،اللہ تو ہر جگہ موجود ہے،اعتکاف کا مقصد محض ظاہری طور پر قید ہونا نہیں ہے اصل مقصد یہ ہے کہ دل کو غیر اللہ سے خالی کیا جائے،اگراعتکاف میں ظاہری طور پر زبان بند ہولیکن دل امور دنیا میں ہی گردش کرتا رہے، آدمی کے ذہن کو وہی فکریں اور سوچیں رہیں تو فائدہ نہ ہو گا۔چونکہ مقصود یہ ہے کہ دس دن متوجہ اللہ ہو کر وہ قوت حاصل کرے کہ جب واپس امور دنیا میں جائے تو دنیا کے تمام کام کرے لیکن دل اللہ کی طرف متوجہ رہے۔
معتکف جہان سے کٹ کر صرف اللہ کی طرف متوجہ رہے۔دن ہو یا رات،گرمی ہو یا سردی،جب تک ا س کا اعتکاف مکمل نہیں ہوتااس لئے روئے زمین پر ایک وہ ہے اور ایک اللہ کی ذات کوئی تیسرا بندہ نہیں ہے۔نہ کسی کو سوچے، نہ کسی کی فکر کرے،نہ کسی سے بات کرے تاکہ اللہ کریم وہ کیفیات،وہ یقین اور وہ نور یقین عطا فرمائے ہم نے صرف دن یا ٹوٹل تو پورا نہیں کیا۔مقصد کوئی محض قید گزارنا تو نہیں ہے، اپنے اوپر خواہ مخواہ کی تنگی اور پابندی لگانا تو مقصد نہیں ہے۔مقصد تو وہ نور یقین ہے کہ ہم اللہ کو روبرو پا سکیں۔جیسا حدیث احسان میں ارشاد ہواکہ اللہ کی عبادت ایسے کرو گویا تم اپنی آنکھوں سے اسے دیکھ رہے ہو اگر یہ جرأت تم میں پیدا نہ ہو کہ میں اپنے اللہ کو دیکھ رہا ہوں تو یہ یقین تو کم از کم پیدا کر لو کہ میرا اللہ مجھے دیکھ رہا ہے۔حق تو یہ ہے کہ یہ کیفیت پیدا ہو جائے کہ میں اللہ کو دیکھ رہا ہوں محض سر نہیں پٹک رہا اس کے رو برو رکوع کر رہا ہوں، ہر سجدہ اس کی بارگاہ میں اس کے سامنے ہے۔ نہ صرف عبادات میں بلکہ عملی زندگی میں اُس جمال جہاں تاب کو اپنے ساتھ لے جائے۔ سورۃ الحدید آیت نمبر4 تم جہاں کہیں بھی ہو وہ کریم ذات تمہارے ساتھ ہے۔ساری عملی ز ندگی،وصال الہٰی اور حضور الہٰی میں ڈھل جائے۔
قارئین گرامی اعتکاف کا مقصد حضور بارگاہ کی کیفیت کو پانا ہے۔ اللہ ہم سب کی خطائیں معاف فرما کر،آپ کی کوشش کو بارآور کرے،اعتکاف قبول فرمائے اور اس کے نتائج مرتب فرمائے، دلوں کو اپنی یاد سے منور کرے۔ اعضاوجوارح اورہمارے کردار کو اپنی اطاعت کے سانچے میں ڈھال دے۔

پریس ریلیز  پاکستانی قوم اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔امیر عبدالقدیر اعوانحضرت امیر عبدالقدیر اعوان سربراہ تنظی...
28/02/2026

پریس ریلیز
پاکستانی قوم اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔امیر عبدالقدیر اعوان
حضرت امیر عبدالقدیر اعوان سربراہ تنظیم ااخوان پاکستان نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی پر گہرے رنج اور دکھ کا اظہارکیا اور
وطن عزیز پاکستان کی سلامتی کے لیے خصوصی دعا کی اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ تمام قوم اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے اور کسی بھی قربانی سے گریز نہیں کرے گی۔دو اسلامی ممالک میں اس طرح کی صورت حال سے انتہائی تشویش اور دکھ ہے۔اللہ اس امت کو اتفاق اور اتحاد عطا فرمائے۔

28/02/2026

Address

Nadar Abad Phatak, Industrial Estate Road Near Al-Rehmah Hospital
Multan
60000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Silsila Naqshbandia Owaisia Multan Division posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Silsila Naqshbandia Owaisia Multan Division:

Share