Molana Waqas Karim مولانا محمد وقاص کریم

Molana Waqas Karim مولانا محمد وقاص کریم Respected Molana M Waqas Karim sb Head of Jamia Umar Bin Al Khattab.All speeches made will be posted.

07/01/2026

مولانامحمدوقاص کریم صاحب | دعاءختم قرآن کریم | اختتام صحیح بخاری| praying | Molana waqas karim | مہتمم جامعہ عمر بن الخطاب ملتان

Muaaz Karim مُعاذ کریم Molana Karim Bakhsh مولاناکریم بخش آفیشل

03/01/2026
31/12/2025
21/12/2025

جامعہ عمر بن الخطاب ملتان کا 31واں سالانہ عظیم الشان اجتماع بسلسلہ ختم قرآن کریم واختتام صحیح بخاری بنین و بنات 24 دسمبر 2025 بروز بدھ بعد نماز ظہر منعقد ہورہاہے۔ ان شاء اللہ تعالی
الحمدللہ رواں سال1447ھ میں مختلف شعبہ جات سے 678 طلباء وطالبات فراغت حاصل کررہے ہیں
جامعہ عمر بن الخطاب ملتان پاکستان کا اجمالی تعارف
جامعہ عمر بن الخطاب ملتان ملک پاکستان کا دینی، تعلیمی ادارہ ہے جس کا سنگ بنیاد ۱۴۱۶ھ بمطابق 1995ء کو حضرت خواجہ خان محمد صاحبؒ، حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ اور حضرت مفتی عبدالستار صاحبؒ کے دست مبارک سے بانی ومؤسسِ جامعہ حضرت مولانا کریم بخش صاحب نوراللہ مرقدہ کی زیر نگرانی رکھا گیا، پانچ اساتذہ اور چند طلباء سے شروع کیا گیا جامعہ بحمد للہ انتہائی قلیل عرصہ میں ایک ثمرآور درخت کی شکل اختیار کر گیا، تاحال جامعہ کی 31 شاخیں مختلف شہروں میں قائم ہو چکی ہیں، جامعہ میں حفظ، گردان، قراءت عشرہ، تجوید للعلماء والحفاظ ، درس نظامی، معھد ،تخصص فی الافتاء، دراسات دینیہ (بنین وبنات)میٹرک اور مکتب کے شعبہ جات قائم ہیں ، اب تک جامعہ سےکل70 مفتیان کرام ، 1295 علماء کرام ،120 قراء عشرۃ ،2890 حفاظ کرام سند فراغت حاصل کرچکے ہیں،امسال جامعہ اور اس کی شاخوں میں 5326 طلباء و طالبات زیر تعلیم ہیں، ان طلباء و طالبات کو دینی تعلیم ،قیام و طعام اور طبی سہولیات بھی جامعہ کی طرف سے مفت فراہم کی جاتی ہیں، جامعہ میں مصروف اساتذہ کرام ،معلمات ا ور دیگر عملہ کی تعداد277ہے ۔
تعمیراتی منصوبے:
(۱)جامعہ ہٰذا میں طلباء کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر درسگاہوں کی اشدضرورت ہے ،
(۲) بجلی کے خرچ کو کم کرنے کے لئے جامعہ میں 170KW کا سولرپلانٹ لگ چکا ہے بقیہ 100KW کی ضرورت ہے۔
(۳)مدرسۃ البنات کی توسیع کے لئے 14مرلے جگہ میں درسگاہوں وغیرہ کی تعمیر کاکام جاری ہے جس میں بقیہ لاگت کا تخمینہ 3کروڑ 25 لاکھ روپے ہے۔
(۴) اساتذہ اور دیگرعملہ کے رہائشی مکانات کے لئے 10مرلے جگہ میں چارمنزلہ عمارت کے منصوبے پرکام ہورہاہے جس کاتخمینہ 2 کروڑ 80 لاکھ روپے ہے ۔
(۵)جامعہ کی شاخ جامع مسجد ومدرسہ حبیب کبریاء میں چھ کنال کی مسجد زیرتعمیر ہے ، جس میں گنبد، دروازے ، ونڈوز، فرش ، ٹائل ، فنشنگ کاکام باقی ہے ، جس کا تخمینہ 2کروڑہے ۔ جبکہ درجہ قرآن ودرجہ کتب کی درسگاہوں، دارالاقامہ اور پچاس ہزار گیلن کے ایک واٹر ٹینک کی ضرورت ہے ۔
(۶) جامعہ کی شاخ جامعہ عمر بن الخطاب جدید ، میلینیم سٹی ملتان میں جامع مسجد کی ضرورت ہے ۔
(۷) جامعہ کی شاخ جامعہ حسنین کریمین جلالپورپیروالا چک نمبر83ضلع ملتان میں درجہ قرآن ودرجہ کتب کی درسگاہوں، دارالاقامہ اورجامع مسجد کی اشد ضرورت ہے۔
جامعہ کی آمدنی کا کوئی مستقل ذریعہ نہیں ہےمخیر حضرات ان کارہائے خیر کی طرف خود بھی متوجہ ہوں اور احباب کو بھی متوجہ کریں نیز ختم قرآن کریم کی مجلس ہے فرشتے دعاؤں کیلئے جمع ہوتے ایسی مجالس بخشش کا ذریعہ ہوا کرتی ہیں۔ تمام حضرات سے مع احباب شرکت کی درخواست ہے
نوٹ:خواتین کا اجتماع مدرسۃ البنات میں ہی ہوگا اور مدرسۃ البنات میں ہی طالبات کی دوپٹہ پوشی کی جائے گی-
جزاکم اللہ خیرا۔
محمدمُعاذکریم
جامعہ عمر بن الخطاب ملتان
+923007345151

#مسجد Jamia Umar Bin Al Khattab Multan جامعہ عمربن الخطاب ملتان Muaaz Karim مُعاذ کریم Molana Waqas Karim مولانا محمد وقاص کریم Muaaz Karim TOP Comments Molana Karim Bakhsh مولاناکریم بخش آفیشل Maktaba Umar Bin Al Khattab Multan مکتبہ عمربن الخطاب

14/12/2025

وفاق المدارس کے زیر اہتمام سالانہ امتحان
شعبہ تحفیظ القرآن الکریم ضلع ملتان کا جدول
شعبہ حفظ بنین وبنات کے تمام مدارس نوٹ فرما لیں
جزاکم اللہ خیرا
#وفاق

05/12/2025

Happy birthday 🎂 Muaaz Karim
مبارک ہو ،جنم دن وغیرہ وغیرہ
رات 12 بجے سے یہ میسج آنا شروع ہو گئے

پر ہم نے کبھی یہ سوچا یہ سالگرہ کیا ہے سال گِرہ یعنی ایک سال کو گرہ لگنا صفحہِ زندگی کا ایک سال ختم ہوجانا
ہم جب تک زندہ رہتے ہیں سال میں ایک مرتبہ ہمارا پیدائش کا دن ضرور آتا ہےاور اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہماری زندگی کا ایک سال ختم ہوگیا۔ مغرب میں عیسائیوں نے جنم دن یعنی سالگرہ کی خوشیاں منانے کے کلچر کو جنم دیا وہ ہر سال پچیس دسمبر کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کی خوشی کا دن بطور عید/ کرسمس مناتے ہیں۔ گھر سجاتے ہیں۔ تحائف دیتے ہیں۔ ناچتے گاتے ہیں۔ چرچ میں خصوصی دعا کرتے ہیں۔ اس طرح وہ بچوں کی اپنی اور شادی کی سالگرہ بھی منانے لگے۔ آہستہ آہستہ یہ سالگرہ کا رواج مغرب سے ہوتا ہوا مشرق میں بھی داخل ہوگیا ہندو سکھ اوردیگر مذاہب کے لوگوں نے بھی اسے اپنا لیا اور پھر بہت سے مسلمانوں میں بھی ان کی تقلید میں سالگرہ منانے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
دین دراصل زندگی گزارنےکاراستہ ہے پوری زندگی اللہ کی بندگی اور فرماں برداری کرنا۔ مقصد زندگی رضائے الٰہی کے حصول کی جدوجہد میں لگے رہنے کا نام ہے۔
سوچنے کی بات :
سوال یہ ہے کہ جب ہماری زندگی کا ایک سال ختم ہوگیا اور موت سے ایک سال قریب ہوگئے تو پھر خوشی کس بات کی منائی جائے ؟ بیشک ہر انسان کی زندگی میں اس کی پیدائش کا دن یعنی جنم دن سالگرہ اہم اور خاص ہوتا ہے کہ اس دن اس کی زندگی کا آغاز ہوا تھا۔
زندگی کیا ہے ؟ دنیا میں اللہ کی جانب سے انسان کو عطا کردہ مقصد زندگی کےحصول کے لیے مہلت عمل ہے۔ جسے وہ اللہ کے نائب کی حیثیت سے دین پر قائم رہتے گزارنے کا پابند ہے۔
میرے خیال سے ایسی صورتحال میں سالگرہ پر خوشی منانا کسی طور پر مناسب نہیں۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ سالگرہ کے دن اپنے پورے سال کے اعمال کا جائزہ لے کر آئندہ سال کو بہتر بنانے کی منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے۔ اپنی حیثیت کے مطابق صدقہ و خیرات کا اہتمام کیا جائے تاکہ غلط کاموں کا کچھ کفارہ ادا ہوجائے۔ یا ضرورت مندوں کو کھانا کھلایا جائے۔توبہ و استغفار کیا جائے۔۔ غلطیوں کی اصلاح کی کوشش کی جائے اور مقصد زندگی کے حصول کی راہ میں رکاوٹوں کو دور کیا جائے۔
اللہ تعالیٰ اپنے دین متین کی صحیح سمجھ عطافرمائے۔ آمین

Muaaz Karim مُعاذ کریم
جامعہ عمر بن الخطاب ملتان پاکستان

30/11/2025

امی جان !
آج انڈونیشیا عالمی اجتماع کی دعاء تھی اور دوسری طرف نشتر ہسپتال ملتان میں امی جان ICU میں زیر علاج تھیں، لاکھوں لوگوں کی دعاؤں وجہ سے اللہ تعالیٰ نے فضل و عافیت والا معاملہ فرمایا۔
رشتوں کی پہچان اس وقت ہوتی ہے جب انسان کسی رشتہ سے متعارف ہو تا ہے اسی طرح جب کوئی رشتہ نہ رہے تو اس کی قدروقیمت کا اندازہ بھی تب ہی ہوتا ہے۔جیسا کہ ابو جان رحمہ اللہ اب دنیا میں نہیں ہیں تو ان کی ایک ایک بات یاد آتی ہے اور غم ہرا ہوجاتا ہے۔
ماں احسانات، احساسات، خوبیوں اور جذبات کا وہ بے مثال مجموعہ ہے جو سارے زمانے کے حالات اور موسم کی سختیاں خودسہتی ہے مگر اس کا ہر لمحہ اپنی اولاد کے لیے فکر ودعاکرتے گزرتا ہے،ماں باپ جتنی دعائیں اولاد کے لئے کرتے ہیں اللہ وہ تمام دعائیں ضرور قبول فرماتا ہے ،ماں کے اندر ممتا کا جو جذبہ ہوتا ہے وہ کسی اور میں نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ نے جب ماں کی تخلیق کی تو اسے رحمت کی چادر، چاہتوں کے پھول، دعاؤں کے خزانوں، زمین و آسمان کی وسعتوں، جذبوں، چاہتوں، پاکیزہ شبنم، دھنک کے رنگوں، چاند کی ٹھنڈک، خلوص، رحمت، راحت، برکت، عظمت، حوصلے اور ہمت سمیت تمام اوصاف سے مزین کیا، یہاں تک کہ اس کے قدموں میں جنت ڈالی۔ یوں ماں قدرت کا بہترین تحفہ اور نعمت ہے جس کی قدر ہم پر فرض ہے۔ ماں کے احسانات، احساسات اور چاہتوں کا بدلہ کوئی بھی نہیں ادا کر سکتا،ہم تو ماں کی ایک رات کا قرض بھی نہیں چکا سکتے،ماں عزم و حوصلے اور ایثار و قربانی کا پیکر ہوتی ہے۔ والدین کے احسانات کے بارے میں سوچیں بھی، تو سوچ ان کے احسانات کے مقابلے میں بہت پیچھے رہ جاتی ہے۔حقیقت یہ ہے ان کااحسان تمام زندگی نہیں اتار سکتے یہ ایسا رشتہ ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں، بلاشبہ ماں کا وجود ایک نعمت اور اللہ تعالیٰ کا انعام ہے۔
یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ماں باپ کی خدمت اور ان کے ساتھ حسن سلوک کا حکم توحید اور عبادت کے ساتھ دیا ہے۔صحابی نے رحمت اللعالمین سے سوال کیا مجھ پر خدمت اور حسن سلوک کا سب سے زیادہ حق کس کا ہے تو آپ نے تین مرتبہ ماں کا فرمایا اور چوتھی مرتبہ سوال کرنے پر فرمایا کہ باپ کا ہے اور فرمایا کہ اگر ماں باپ ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے آگے اف تک نہ کرناادب و احترام اور حسن سلوک کا معاملہ رکھنا اور فرمایا کہ اللہ کو والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا عمل بہت پسند ہے۔ماں کا وجود صرف ہماری زندگیوں کے لیے ہی نہیں بلکہ سارے گھرخاندان کے لئے بھی باعث رحمت و نجات ہے۔ ماں تو تپتے صحرا میں ٹھنڈی پھوارکا نام ہے۔ ماں کڑی، چلچلاتی دھوپ میں ابر کی مانند ہے۔ماں کی دعاء سیدھے عرش تک جاتی ہے، ماں میں ممتا کا وہ جذبہ ہوتا ہے جو کسی اور میں نہیں ہوتا اولاد کے لئے اپنی ہر خوشی قربان کر دیتی ہے تکالیف برداشت کرتی ہے ،

الحمدللہ آپ تمام حضرات کی دعاؤں کی ہی بدولت آج امی جان ہسپتال سے صحت یاب ہوکر گھر پہنچ گئی ہیں
اللہ تعالیٰ دعاء کرنے والوں اعمال ہدیہ کرنے اور امی جان کی خدمت کرنے والوں کو اپنی شایان شان بدلہ عطا فرمائے، امی جان کو اللہ تعالیٰ مزید پوری طرح صحت یاب فرمائے۔ آمین
اور دعا ہے کہ والدین کا سایہ تا دیر سلامت رہے اور وہ ہر دکھ، پریشانی، آفت اور آزمائش سے محفوظ ہوں، پورے خلوص اور سچے دل کے ساتھ والدین کی خدمت کریں والدین کی رضا میں اللہ کی رضا شامل ہے۔ اور جو لوگ والدین کی نعمت سے محروم ہیں وہ اس دعا کا ورد کرتے رہا کریں،’’اے میرے رب میرے ماں باپ پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن مجھ پر رحم کیا
اے اللہ ہمیں والدین کی قدر نصیب فرمااور ان کے لئے محبت، خدمت،اطاعت و حسن سلوک کا جذبہ عطا فرما اور جن کے ماں باپ اس دنیا میں نہیں رہے،ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرما۔ آمین
Molana Karim Bakhsh مولاناکریم بخش آفیشل
Muaaz Karim مُعاذ کریم
جامعہ عمر بن الخطاب ملتان پاکستان
حال مقیم جکارتاانڈونیشیا

14/11/2025

مولانا ضیاء المحسن صاحب ناظم دفتر جامعہ عمر بن الخطاب کے والد محترم قاری غلام مصطفیٰ صاحب رحمہ اللہ جو کچھ عرصہ سے قلب کے مرض میں مبتلاء تھے آج بقاضائے الٰہی انتقال فرما گئے ہیں اناللہ وانا الیہ راجعون
اللہ تعالی مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلی مقام عطاء فرمائے نیز مرحوم کے پسماندگان و اہل و عیال کو صبر جمیل عطا فرمائے۔آمین

12/11/2025

Address

Multan
66000

Telephone

+92614555183

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Molana Waqas Karim مولانا محمد وقاص کریم posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Molana Waqas Karim مولانا محمد وقاص کریم:

Share