11/05/2026
**منافق (نفاق) کے بارے میں قرآن کریم، احادیث نبوی ﷺ، صحابہ کرام اور خاص طور پر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے اقوال:**
# # # ۱. قرآن کریم میں منافقین
قرآن مجید میں منافقین کی نشاندہی، ان کے اعمال اور انجام کی تفصیل موجود ہے۔ سب سے اہم **سورۂ المنافقون** (سورۂ ۶۳) ہے جو مکمل طور پر منافقین کے بارے میں نازل ہوئی۔
- **سورۂ المنافقون (۶۳:۱)**:
"جب منافقین آپ کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ اللہ جانتا ہے کہ آپ اس کے رسول ہیں، اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ منافقین جھوٹے ہیں۔"
- **سورۂ البقرہ (۲:۸-۱۰)**:
"اور لوگوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لائے، حالانکہ وہ مومن نہیں۔ وہ اللہ اور مومنین کو دھوکہ دیتے ہیں مگر وہ صرف اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں... ان کے دلوں میں بیماری ہے، اللہ نے ان کی بیماری میں اضافہ کر دیا۔"
دیگر اہم آیات:
- منافقین قسموں کو ڈھال بناتے ہیں (سورۂ المنافقون: ۲)۔
- وہ مسلمانوں سے الگ رہتے ہیں، جب فتح ہو تو دعویٰ کرتے ہیں، شکست ہو تو منکر ہوتے ہیں۔
- ان کے دل پر مہر لگ جاتی ہے، وہ سمجھتے نہیں (سورۂ المنافقون: ۳)۔
قرآن منافقین کو شدید تنبیہ کرتا ہے کہ وہ مسلمانوں کے اندر سے سب سے خطرناک ہیں کیونکہ وہ چھپے ہوئے دشمن ہوتے ہیں۔
# # # ۲. احادیث نبوی ﷺ
نبی کریم ﷺ نے منافق کی نشانیاں واضح فرمائیں:
- **سب سے مشہور حدیث (صحیح بخاری و مسلم)**:
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
**"چار خصلتیں ہیں، جس میں یہ چاروں ہوں وہ خالص منافق ہے، اور جس میں ان میں سے ایک ہو تو اس میں نفاق کی ایک خصلت ہے (جب تک چھوڑ نہ دے): جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو توڑ دے، جب معاہدہ کرے تو خیانت کرے، اور جب جھگڑا کرے تو بدکلامی کرے (یا فحش بولے)۔"**
- **دوسری حدیث**:
"منافق کی مثال اس بھیڑ کی سی ہے جو دو ریوڑوں کے درمیان بھٹکتی رہتی ہے، کبھی اس کی طرف، کبھی اس کی طرف۔" (صحیح مسلم)۔
- **ایک اور**:
"منافق میں دو خصلتیں جمع نہیں ہوتیں: حسنِ سلوک اور دین کی فہم (فقہ فی الدین)۔" (ترمذی)۔
- نماز فجر اور عشاء منافق پر بھاری ہوتی ہے۔
# # # ۳. صحابہ کرام اور خلفائے راشدین
صحابہ کرام منافقین سے بہت احتیاط برتتے تھے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ منافقین کی نشاندہی کے لیے سخت محتاط تھے۔
خلفائے راشدین کے بارے میں مخصوص تفصیلی اقوال محدود ہیں، البتہ وہ سب منافقین کے فتنے سے امت کو بچانے میں فعال رہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور میں منافقین اور فتنہ اٹھنے کی مثالیں موجود ہیں۔
# # # ۴. حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے اقوال (خاص طور پر)
حضرت علی رضی اللہ عنہ منافقین کی پہچان اور ان سے معاملے میں بہت حکمت والے تھے:
- **سب سے مشہور**:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: **"اے علی! کوئی مومن تجھ سے بغض نہیں رکھے گا اور کوئی منافق تجھ سے محبت نہیں کرے گا۔"**
(یہ متعدد روایات میں موجود ہے اور حضرت علیؓ خود اس کا ذکر کرتے ہیں)۔ اس لیے حضرت علیؓ سے بغض منافق کی نشانی سمجھا جاتا تھا۔
- حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ منافق کی علم زبان پر ہوتا ہے (باتوں میں)، جبکہ مومن کا علم اس کے اعمال اور کردار میں ہوتا ہے۔
- منافقین کے بارے میں ان کی حکمت: وہ منافق کے سامنے نیکیاں بیان کرتے رہنے کی بجائے، بعض اوقات اسی زبان میں جواب دینے کی تلقین کرتے ہیں تاکہ وہ سمجھے (جیسا کہ آپ نے پچھلی بات میں ذکر کیا)۔ البتہ یہ حکمت اور صبر کے ساتھ ہو۔
- انہوں نے منافقین کی پہچان میں فرمایا کہ وہ ظاہر میں مسلمان، باطن میں دشمن ہوتے ہیں۔ وہ قسموں سے کام لیتے ہیں، لوگوں کو راہِ حق سے روکتے ہیں۔
**خلاصہ اور نصیحت**:
منافق کا سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ وہ **ظاہر میں مسلمان** اور **باطن میں دشمن** ہوتا ہے۔ اسلام ہمیں حکم دیتا ہے کہ:
- اپنے اندر نفاق کی خصلتیں نہ آنے دیں۔
- منافقین سے احتیاط برتیں، ان کے فتنے سے بچیں۔
- لیکن ظاہری طور پر معاملہ حکمت، عدل اور صبر سے کریں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں خالص ایمان عطا فرمائے، نفاق سے محفوظ رکھے اور سچے مومنوں میں شامل کرے۔ آمین 🤲♥️🙏♥️اس طرح دل ❤️ میں منافقین کے کالے ہوتے اور ان کے رائٹ سائیڈ طرح کھوتے ہوتے ہیں ۔شعور نام کی چیز نہیں جس طرح دل بائیں طرف ہوتا ہے وہ کالا ہے بغض ہے تو رائٹ سائیڈ سے اسی طرح اندر کے منافق ہوتے ہیں ۔ رائٹ سائیڈ میں دل ہوتا ہی نہیں صرف دکھاوا