11/08/2026
کوئی بھی انسان اپنی نواسی کا نکاح اپنے سسر سے نہیں کروا سکتا۔۔۔۔۔۔
تاریخ کے لحاظ سے:
حضرت عمر نے اپنی بیٹی حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کا نکاح نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کروایا، یعنی حضرت عمر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سسر بن گئے، اب یہ لوگ کہتے ہیں کے نبی کی بیٹی (فاطمہ رضی اللہ عنہا) کی بیٹی سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سسر حضرت عمر نے نکاح کیا، یعنی نبی کے سسر نے نبی کی نواسی سے نکاح کیا۔۔۔۔۔
خدا کی قسم! یہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گستاخی ہے اور یہ سوچنا بھی حرام ہے کے نبی کے سسر نے نبی کی نواسی سے نکاح کیا۔۔۔۔ یہ دنیا کی سب سے غلیظ ترین گستاخی ہے نبی کی شان میں۔۔۔۔۔۔
صحابہ کے نوکروں کے ہاں یہ فعل جائز ہے کے وہ اپنے سسر کی شادی اپنی نواسی سے کروائیں۔۔۔۔۔۔۔
مگر شریف گھرانوں میں یہ فعل حرام ہے کوئی اپنے سسر کی شادی اپنی بیٹی کی بیٹی (جا نابالغ ہو) سے کروائے۔۔۔۔۔۔۔
اللہ صحابہ کے نوکروں کو ہدایت دے۔۔۔۔