24/06/2026
بہشتی دروازہ کی حقیقت اور خصوصیت
ایک دفعہ مولوی غلام قادر چکوکہ تحصیل منچن آباد نےحضرت پیر مہر علی شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ سے سوال کیا کہ حضرت بابا فرید رحمتہ اللہ علیہ کے اسی ایک دروازے میں کیا خاصیت ھے کہ اسے بہشتی دروازہ کہا جاۓ
تو حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا
حضرت سلطان المشائخ نظام الدین اؤلیا محبوب الہی رحمتہ اللہ علیہ کا ارشاد ھے کہ میں نے بچشم سر عالم ظاھر میں حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بجسم اطہر بمعہ چہار یار کبار چھ اور سات محرم کی درمیانی رات کو اس دروازے سے گزر کر مقبرہ کے اندر تشریف لے جاتے دیکھا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ ارشاد سنا کہ
" من دخل ھذالباب فقد امن " ( جو اس دروازے میں داخل ہوا وہ امن میں آ گیا اور مامُون ھوا) مشائخ عظام کا بھی اس پر اتفاق رہا ہے ۔
اس کے بعد مولوی صاحب نے اعتراض کیا کہ مرید فرید فرید کیوں پکارتے ھیں اللہ اللہ کیوں نہیں پکارتے
حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا عرس کے موقع پر زائرین ک پورا نعرہ یہ ہوتا ہے
اللہ ۔ محمد ۔ چار یار
حاجی خواجہ قطب فرید
وہ لفظ فرید کو مکّررسہ کرر کہہ دیتے ہیں اور اس چیز کے جواز میں قرآن مجید کی ایک آیت موجود ہے
مولوی صاحب نے چونک کر کہا وہ کونسی آیت ہے ؟ آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی
" فَاذۡكُرُوۡنِىۡٓ اَذۡكُرۡكُمۡ وَاشۡکُرُوۡا لِىۡ وَلَا تَكۡفُرُوۡنِ "
ترجمہ پس تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کروں گا اور میرا شکر ادا کرو اور کفر نہ کرو ۔
اور فرمایا کہ اللہ سبحانہ وتعالی کا ارشاد ہے کہ تم میرا ذکر کرو میں تمہارا ذکر کروں گا ۔
حضرت شیخ بابا فریدالدین مسعود گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ نے آخری دم تک اللہ کا ذکر کیا اب اللہ اپنی مخلوق کی زبان سے اپنے پیارے بندے فرید کا ذکر کر رہا ہے آج سات سو (اکاسی) سال سے اَذۡكُرۡكُمۡ کا وعدہ پورا ہو رہا ہے اور قیامت تک ان شاءاللہ یونہی ہوتا رہے گا ہر سال مخلوق یہاں جمع ہو کر فرید ۔فرید کے نعرے لگاتے رہیں گے اللہ تعالی جسم اور مکان سے پاک ہے اور یہ اُس کے ذکر کرنے کی ایک صورت ہے ۔
بحوالہ کتاب مہرِ منیر ص 430