جامعہ مسجد گیٹوں زیری تعمیر ہے

جامعہ مسجد گیٹوں زیری تعمیر ہے جامع مسجد گیٹوں زیرِتعمیرہے آپ حضرات سے تعاون کی اپیل ہے -->پتہ ڈسٹرک تورغر گاؤں گیٹوں خیبرپختونخوا
ph:0344.4937919

اردو ميں جسے ہم “بيوی ” بولتے هيں قرآن مجيد ميں اس کے لئے تین لفظ استعمال ہوئے ہیں1- إمراءة 2- زوجة3- صاحبةإمراءة : امرا...
29/08/2025

اردو ميں جسے ہم “بيوی ” بولتے هيں قرآن مجيد ميں اس کے لئے تین لفظ استعمال ہوئے ہیں
1- إمراءة
2- زوجة
3- صاحبة

إمراءة :
امراءة سے مراد ايسی بيوی جس سے جسمانی تعلق تو ہو مگر ذہنی تعلق نہ ہو
زوجة :
ايسی بيوی جس سے ذہنی اور جسمانی دونوں تعلقات ہوں يعنی ذهنی اور جسمانی دونوں طرح ہم آہنگی ہو
صاحبة :
ايسی بيوی جس سے نه جسمانی تعلق ہو نہ ذہنی تعلق ہو
اب ذرا قرآن مجيد كی آيات پر غور كيجئے :

1- امراءة
حضرت نوح اور حضرت لوط عليهما السلام كی بيوياں مسلمان نہیں ہوئی تھيں تو قرآن مجيد ميں ان كو
" امراءة نوح " اور " امراءة لوط " كہہ كر پكارا هے،

اسی طرح فرعون كی بيوی مسلمان هو گئی تھی تو قرآن نے اسكو بھی
" وامراءة فرعون" کہ كر پكارا هے

(ملاحظه كريں سورة التحريم كے آخری آيات ميں)

یہاں پر جسمانی تعلق تو تھا اس لئے کہ بيوياں تهيں ليكن ذهنی ہم آہنگی نہیں تھی اس لئے کہ مذہب مختلف تھا

2- زوجة :
جہاں جسمانی اور ذہنی پوری طرح ہم آہنگی ہو وہاں بولا گيا جيسے

( ﻭﻗﻠﻨﺎ ﻳﺎ آﺩﻡ ﺍﺳﻜﻦ ﺃﻧﺖ ﻭ ﺯﻭﺟﻚ ﺍﻟﺠﻨﺔ )

اور نبی صلی اللّٰہ عليه و سلم كے بارے فرمايا

( يأيها النبي قل لأزواجك .... )

شايد اللّٰہ تعالٰی بتانا چاہتا ہے کہ ان نبيوں كا اپنی بيويوں كے ساتھ بہت اچھا تعلق تھا

ایک عجيب بات هے زكريا علیہ السلام كے بارے کہ جب أولاد نہیں تھی تو بولا
( و امراتي عاقرا .... )

اور جب أولاد مل گئی تو بولا

( ووهبنا له يحی و أصلحنا له زوجه .... )

اس نكته كو اهل عقل سمجھ سكتے هيں

اسی طرح ابولهب كو رسوا كيا يہ بول کر

( وامرءته حمالة الحطب )

كہ اس کا بيوی كے ساتھ بھی كوئی اچھا تعلق نہیں تھا

3- صاحبة :
جہاں پر كوئی کسی قسم کا جسمانی يا ذہنی تعلق نہ ہو

اللّٰہ تعالٰی نے اپنی ذات كو جب بيوی سے پاک کہا تو لفظ "صاحبة" بولا اس لئے كه یہاں كوئی جسمانی يا ذہنی كوئی تعلق نہیں ہے

(ﺃﻧﻰ ﻳﻜﻮﻥ ﻟﻪ ﻭﻟﺪ ﻭﻟﻢ ﺗﻜﻦ ﻟﻪ ﺻﺎﺣﺒﺔ)

اسی طرح ميدان حشر ميں بيوی سے كوئی جسمانی يا ذہنی كسی طرح كا كوئی تعلق نہیں ہو گا تو فرمايا

( ﻳﻮﻡ ﻳﻔﺮ ﺍﻟﻤﺮﺀ ﻣﻦ ﺃﺧﻴﻪ ﻭﺃﻣﻪ وﺃﺑﻴﻪ ﻭﺻﺎﺣﺒﺘﻪ ﻭﺑﻨﻴﻪ )

كيونکہ وہاں صرف اپنی فكر لگی ہو گی اس لئے "صاحبته" بولا

اردو ميں:
امراءتي , زوجتي , صاحبتي سب كا ترجمة " بيوی" ہی كرنا پڑے گا

ليكن ميرے رب كے كلام پر قربان جائيں جس كے ہر لفظ كے استعمال ميں كوئی نہ كوئی حكمت پنہاں ہے

اور رب تعالى نے جب دعا سکھائی تو ان الفاظ ميں فرمايا

‎( رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ
أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَاما )

"وأزواجنا"

زوجہ سے استعمال فرمايا اس لئے كه آنكھوں کی ٹھنڈک تبھی ہو سکتی ہے جب جسمانی كے ساتھ ذہنی بھی ھم آہنگی ھو
تحریر پڑھنے کے بعد شیئر ضرور کیجۓ

غلافِ کعبہ کی تبدیلی کے روح پرور مناظر! جو بھی دیکھیےایمان تازہ ہوجائے!
27/06/2025

غلافِ کعبہ کی تبدیلی کے روح پرور مناظر!
جو بھی دیکھیےایمان تازہ ہوجائے!

04/11/2024

جواب
بصورتِ مسئولہ اسلام میں برتھ ڈے (سال گرہ) منانے کا شرعاً کوئی ثبوت نہیں ہے، بلکہ یہ موجودہ زمانہ میں اغیار (عیسائیوں) کی طرف سے آئی ہوئی ایک رسم ہے، جس میں عموماً طرح طرح کی خرافات شامل ہوتی ہیں، مثلاً: مخصوص لباس پہنا جاتا ہے، موم بتیاں لگاکر کیک کاٹا جاتا ہے، موسیقی اور مرد وزن کی مخلوط محفلیں ہوتی ہیں ، تصویر کشی ہوتی اور پھر ان میں غیر اقوام کی نقالی بھی ہوتی ہے، اور یہ سب امور ناجائز ہیں، لہذا مروجہ طریقہ پربرتھ ڈے( سال گرہ) منانا شرعاً جائز نہیں ہے۔

ہاں اگر اس طرح کوئی خرافات نہ ہوں اور نہ ہی کفار کی مشابہت مقصود ہو، بلکہ گھر والے اس مقصد کے لیے اس دن کو یاد رکھیں کہ رب کے حضور اس بات کا شکرادا ہو کہ اللہ تعالیٰ نے عافیت وصحت اور عبادات کی توفیق کے ساتھ زندگی کا ایک سال مکمل فرمایا ہے اور اس کے لیے اگر منکرات سے خالی کوئی تقریب رکھ لیں یا گھر میں بچے کی خوشی کے لیے کچھ بنالیں یا باہر سے لے آئیں تو اس کی گنجائش ہوگی، تاہم احتیاط بہتر ہے۔

قرآن مجیدمیں ہے:

{وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ} (سورہ آل عمران،الآیۃ:85)

ترجمہ:اور جو شخص اسلام کےسوا کسی اور دین کو تلاش کرے گا، پس اس سے ہرگز قبول نہ کیا جائےگا، اور وہ شخص آخرت میں نقصان اٹھانےوالوں میں سے ہوگا۔

شرح صحيح البخارى لابن بطال میں ہے:

قَالَ النَّبِىّ (صلى الله عليه وسلم) : (لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَأْخُذَ أُمَّتِى بِأَخْذِ الْقُرُونِ قَبْلَهَا، شِبْرًا بِشِبْرٍ، وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَفَارِسَ وَالرُّومِ، فَقَالَ: وَمَنِ النَّاسُ إِلا أُولَئِكَ)

وفيه: أَبُو سَعِيد، قَالَ النَّبِىّ (صلى الله عليه وسلم) : (لَتَتْبَعُنَّ سَنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، شِبْرًا شِبْرًا، وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ، حَتَّى لَوْ دَخَلُوا جُحْرَ ضَبٍّ تَبِعْتُمُوهُمْ، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى، قَالَ: فَمَنْ؟) .
قال المهلب: قوله: (لتتبعن سنن من كان قبلكم) . بفتح السين هو أولى من ضمها؛ لأنه لا يستعمل الشبر والذراع إلا فى السنن وهو الطريق فأخبر (صلى الله عليه وسلم) أن أمته قبل قيام الساعة يتبعون المحدثات من الأمور، والبدع والأهواء المضلة كما اتبعتها الأمم من فارس والروم حتى يتغير الدين عند كثير من الناس، وقد أنذر (صلى الله عليه وسلم) فى كثير من حديثه أن الآخر شر، وأن الساعة لا تقوم إلا على شرار الخلق، وأن الدين إنما يبقى قائمًا عند خاصة من المسلمين لا يخافون العداوات، ويحتسبون أنفسهم على الله فى القول بالحق، والقيام بالمنهج القويم فى دين الله وفى رواية الأصيلى: (بما أخذ القرون) . وللنسفى وابن السكن: (بأخذ القرون) . وقال ثعلب: أخَذَ أَخْذ الجهة: إذا قصد نحوها.

(باب قَوْلِ النَّبِىِّ صلى الله عليه وسلم لَتَتْبَعُنَّ سَنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ،ج:10،ص:366،ط:مکتبة الرشید،ریاض)

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:

قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " «من تشبه بقوم فهو منهم» " رواه أحمد، وأبو داود.

(من تشبه بقوم) : أي من شبه نفسه بالكفار مثلا في اللباس وغيره، أو بالفساق أو الفجار أو بأهل التصوف والصلحاء الأبرار. (فهو منهم) : أي في الإثم والخير. قال الطيبي: هذا عام في الخلق والخلق والشعار، ولما كان الشعار أظهر في التشبه ذكر في هذا الباب.

(کتاب اللباس،الفصل الثانی،ج:8،ص:222،ط:مکتبہ حنیفیہ)

فقط والله أعلم

فتوی نمبر : 144201200366

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

04/11/2024

راۓ ونڈ اجتماع پہلہ مرحلہ احتتام پذیر
دوسرا مرحلہ 7 نومبر 2024 سے 10 نومبر کی صبح 🤲 دعا کے ساتھ احتتام پذیر ہوگی
اللہ تعالیٰ ہم سب کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین ثم آمین

04/11/2024

لاہور رائے ونڈ عالمی تبلیغی اجتماع 2024 کا پہلا مرحلہ رقت آمیزاجتماعی دعا کے ساتھ الحمدللہ اختتام پذیر ہوگیا
اللہ پاک تمام قافلوں کو خیر وعافیت سے اپنی منزل تک لے جاے آمین

01/11/2024

♥️🌸اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎🌸♥️
🌹🤍ایمان بخیــــر زندگی 🤍🌹
❤جمعہ مبارک

◆ پوسٹ پڑھتے پیاری آنکھوں کے لئے دعا ہے...!🤲🏻💙
◆ کہ اللّٰـــہ تعالیٰ آپ کو اور آپ کی فیملی کو حلال اور وسیع رزق لمبی زندگی عطا فرمائے...!🤲🏻🤍
◆ اور بیماریوں، تکلیفوں، مصیبتوں، معزوریوں سے محفوظ رکھے..! 🤲🏻❤
◆ اور خوشیوں مسکراہٹوں میں اضافہ اور بے پناہ برکتیں نازل فرمائے..! 🤲🏻💟

❤️آمیــــن یــــارب العالمیــــن❤️
آج کے دن خصوصاً سورہ الکہف اور درود شریف پڑھنے کا اہتمام کریں ۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم ○
🖤🌸✨اللّٰہُمَ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰٓی اٰلِ مُحَّمَدٍکَمَا صَلَّیْتَ عَلٰٓی اِبْرٰھِیْمَ وَعَلٰٓی اٰلِ اِبْرٰہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ
اللّٰہُمَ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّد ٍوَّ عَلٰٓی اٰلِ مُحَّمَدٍکَمَابَارَکْتَ عَلٰٓی اِبْرٰھِیْمَ وَعَلٰٓی اٰلِ اِبْرٰہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْد

Call now to connect with business.

25/10/2024

جمعہ مبارک پوسٹ
آج جمعہ کا دن ہے ایک دفعہ لازمی درود شریف پڑھ لیں اور آگے شئیر کردیں کہ دوسرے بھی مستفید ہو سکیں

جمعہ مبارک
25/10/2024

جمعہ مبارک

"-سورت یوسف پڑھ کر لگتا ہے سگے حسد کر سکتے ہیں ,اپنے ہلاکت میں ڈال سکتے ہیں ,غیر نجات میں ڈال سکتے ہیں,بلا جُرم قید کی س...
03/10/2024

"-سورت یوسف پڑھ کر لگتا ہے سگے حسد کر سکتے ہیں ,
اپنے ہلاکت میں ڈال سکتے ہیں ,غیر نجات میں ڈال سکتے ہیں,
بلا جُرم قید کی سزا ہو سکتی ہے ,پارسا پر تہمت لگائی جا سکتی ہے,
قریب ترین عزیز جُدا ہو سکتا ہے,
ہجر کاٹا جا سکتا ہے ,بچھڑا ہوا مل سکتا ہے,
ہر خواب پورا ہو سکتا ہے , دوعائیں جلد یا بدیر قبول ضرور ہوتی ہیں!🤍

11/09/2024

Address

Mansehra
0992

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when جامعہ مسجد گیٹوں زیری تعمیر ہے posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to جامعہ مسجد گیٹوں زیری تعمیر ہے:

Share

Category