17/08/2022
ایک چیز میں اکثر سوچا کرتا تھا کہ کچھ لوگ جو مُرشد پاک حضرت واصف علی واصف رح کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے، کیا وہ پہلے سے خوش نصیب ہوتے تھے اور پھر قدرت انہیں آپ کی خدمت میں حاضر ہونے کا موقع دیتی تھی ، یا پھر ایسا بھی تو امکان ہو سکتا ہے کہ وہ جب ایک مرتبہ اس مقام میں داخل ہو جاتے تو اُن کے ماضی کو توبہ کے ذریعے واش کر دیا جاتا تھا اور پھر فیضانِ نظر ایک کرامت کی صورت میں اُن کی آنے والی زندگی کو تابدار بنا کے خوش نصیبی کی راہ پہ ڈال دیتی تھی۔
چونکہ وہاں پوچھنے سے اور اکثر صرف سوچنے سے انسان کے سوال کو جواب آشنا کر دیا جاتا تھا اِس لیے مجھے پوری اُمید تھی کہ میری یہ گُتھی اِک روز ضرور سُلجھے گی۔
پھر وہ وقت آ پہنچا ۔ اُس روز میں خدمت میں حاضر تھا تو آپ نے فرمایا کہ جب کوئی ہمارے پاس آتا ہے تو یہ ہماری ڈیوٹی بن جاتی ہے کہ ہم اُس کے لیے دُعا کریں۔
تو یہ تھا فیض رسانی کا وہ وطیرہ اور طریق جس کے ذریعے سے لوگوں کی زندگی،قول، فعل اور آنے والے دنوں میں ایک واضح ، مثبت اور خوش گوار تبدیلی آتی تھی۔
اِس کی کئی مثالیں ہم نے وہاں پر بارہا دیکھیں۔جو لوگ تسلیم میں داخل ہو جاتے اور اپنی ضد،لالچ، غصہ اور اس طرح کی Negative چیزوں سے اپنا دامن پاک کر لیتے تو اُن کو فیض ملنے اور اُس فیض کو سنبھال کے رکھنے کی دوامی نعمت حاصل ہو جاتی تھی۔
اسی ضمن میں ایک واقعہ یاد آرہا ہے جب آپ نے اپنی ایک نجی محفل میں ایک شخص سے پوچھا کہ تُم مجھ سے کچھ مانگو۔ اُس شخص کو کچھ سوجھ ہی نہیں رہا تھا۔ لبوں پر اور ماحول پر خاموشی چھا گئی۔ آپ انتظار میں تھے کہ وہ کچھ بولے ۔ پھر یہی حُکم ہوا۔ کچھ توقف کے بعد بلکہ کافی دیر سوچنے کے بعد اُس شخص نے عرض کی کہ " ربنا اٰتنا فی الدنیا حسنة و فی الاخرة حسنة" کے مطابق مجھے دُنیا اور آخرت کی بھلائی مِل جاۓ۔
آپ نے فرمایا کہ یہ تم نے کیا مانگا ہے، تمھارےلیے دنیا اور آخرت تو پہلے سے بہتر بنے ہوۓ ہیں۔یہ سُن کر اُس شخص کو کچھ بھی بولنے کا یارا ہی نہ رہا۔ آپ نے پھر فرمایا کہ اب بولو۔وہ تو عاجز آ چکا تھا، کیا بولتا۔
آپ نے پھر پرچھا تو اُس نے کہا کہ آپ خود فرما دیں کہ میں کیا مانگوں۔ آپ نے فرمایا کہ تم مجھ سے اللّٰہ مانگو۔۔۔۔