St.Cecilia Church,Loretto,270

St.Cecilia Church,Loretto,270 St.Cecilia Church come under the jurisdiction of Our Lady of Loretto Parish Chak 270/TDA, District Layyah,
Catholic Diocese of Multan, Pakistan.

09/10/2025
21/03/2025

لوریتو مشن ہائی سکول، چک نمبر 270، ٹی ڈی اے لیہ |
مس مارگریٹ ڈینیل |

اپنے گاؤں کے معروف شاعر اور صاحبِ کتاب، جناب مقبول شہزاد سے ملاقات کے بعد، نہایت خوشی کے ساتھ انہیں نئے ایوارڈ کے حصول پ...
28/02/2025

اپنے گاؤں کے معروف شاعر اور صاحبِ کتاب، جناب مقبول شہزاد سے ملاقات کے بعد، نہایت خوشی کے ساتھ انہیں نئے ایوارڈ کے حصول پر مبارکباد پیش کی اور ان کی ادبی خدمات کو سراہتے ہوئے کہتا ہوں:

”یہ آپ کی محنت، لگن اور ادب سے محبت کا نتیجہ ہے کہ آج آپ کو یہ عزت و وقار نصیب ہوا ہے۔ ہمارا گاؤں آپ پر فخر کرتا ہے اور دُعا گو ہے کہ آپ کی شاعری یوں ہی روشنی بکھیرتا رہی۔“

جناب مقبول شہزاد، جن کی شاعری ہمیشہ گاؤں کے مسائل، محبت، معاشرتی رویوں اور زندگی کی سچائیوں کی عکاس رہی ہے۔
یہ ملاقات ایک یادگار لمحہ ہے، جہاں ادب کی محبت اور عزت و احترام کی فضا قائم رہتی ہے۔
( ایاز مورس)
Maqbool Shahzad
Ayaz Morris

حالیہ دنوں میں میری ملاقات فادر فرحان ارشاد سے ہوئی، جو کاتھولک ڈایوسیس، ملتان کے وکر جنرل اور لوریتو، چک نمبر 270، ٹی ڈ...
28/02/2025

حالیہ دنوں میں میری ملاقات فادر فرحان ارشاد سے ہوئی، جو کاتھولک ڈایوسیس، ملتان کے وکر جنرل اور لوریتو، چک نمبر 270، ٹی ڈی اے، لیہ کے پیرش پریسٹ ہیں۔ یہ ملاقات میرے آبائی گاؤں میں ہوئی، جہاں ہم نے گاؤں کی ترقی، نوجوانوں کی تعلیم و تربیت، اوربچوں کے لٸے مثبت سرگرمیوں کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا۔

ہم نے گاؤں میں ایک لائبریری کے قیام اور بچوں کے لیے تعلیمی مواقع بڑھانے پر بات کی، ساتھ ہی گاؤں کی تاریخ کو ڈیجیٹل میڈیا پر محفوظ کرنے کے امکانات پر بھی گفتگو ہوئی۔

میں نے اپنی پیشہ ورانہ خدمات پیش کرتے ہوئے گاؤں کی بہتری اور ترقی میں بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اُمید ہے کہ یہ اقدامات گاٶں کے لیے مثبت تبدیلی کا سبب بنیں گے۔
(ایازمورس)

St.Cecilia Church,Loretto,270
Farhan Irshaad

Wish you all a very happy and blessed Christmas 🎄🎁
25/12/2024

Wish you all a very happy and blessed Christmas 🎄🎁

Happy Feast of St.Cecila
22/11/2024

Happy Feast of St.Cecila

Today, I had the honor of meeting His Excellency, Bishop Yousuf Sohan, Bishop of the Catholic Diocese of Multan. During ...
17/10/2024

Today, I had the honor of meeting His Excellency, Bishop Yousuf Sohan, Bishop of the Catholic Diocese of Multan. During our conversation, we shared a common vision for youth development and education. I assured him of my full support and commitment to leveraging my professional expertise for the empowerment of community development.

It is a matter of great pride for me that both Bishop Yousuf and I hail from the same village. I am eager to contribute to the growth of Southern Punjab through my training and consultancy efforts.

I am honored to have received recognition from Bishop Yousuf Sohan for my service and contributions to the community and society. His appreciation serves as a profound acknowledgment of the work I have been committed to and further motivates me to continue making a positive impact.

I extend my heartfelt gratitude to His Excellency for his gracious hospitality and valuable time. Father Salman Johnson, Parish Priest St Peter's Parish Multan
& Secretary to the Curia office of Catholic Diocese of Multan also joined us in this productive discussion.
(Ayaz Morris)

”انسانی روپ میں فرشتہ: سسٹر مورین اوٹول“(ایاز مورس)کتابوں، فلموں اور کہانیوں میں یہ ضرور پڑھنے کو ملتا ہے کہ دُنیا میں ا...
11/10/2024

”انسانی روپ میں فرشتہ: سسٹر مورین اوٹول“
(ایاز مورس)

کتابوں، فلموں اور کہانیوں میں یہ ضرور پڑھنے کو ملتا ہے کہ دُنیا میں ایسے انسان بھی ہیں، جنہوں نے اپنی زندگی دوسروں کی فلاح و بہبود کے لیے وقف کردی ہو۔ میں نے تو اپنی زندگی کے ابتدائی ایام میں ہی ایسی شخصیت کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ بچپن میں یہ بھی سنتے تھے کہ اکثر فرشتے اچھے انسانوں کے روپ میں دُنیا میں آتے ہیں، تاکہ وہ نیک لوگوں کی مدد کر سکیں۔ لیکن ہم نے ایسے انسان دیکھے جو فرشتوں کے روپ میں تمام انسانوں کی خدمت کے لیے اپنی زندگیاں وقف کرتے رہے ہیں۔ آج بھی کبھی سوچتا ہوں تو حیرت ہوتی ہے کہ ان مشنریوں کو کیا ضرورت تھی کہ یہ اپنے خوشحال اور بہترین ملکوں کو چھوڑ کر ہم جیسے پسماندہ علاقوں اور لوگوں کی بہتری کے لیے مشکلات کا سامنا کرتے رہے ہیں۔ اور ہمارے رویوں کو برداشت کرتے رہے ہیں۔ انہی شخصیات میں سے ایک شخصیت ہمارے گاؤں میں اپنی خدمات سرانجام دینے والی سسٹر مورین اوٹول بھی ہیں۔ جن کی شفقت، محبت اور علم سے لگاؤ کی عملی مثال ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھی اور براہ راست زندگی میں اُس کا تجربہ کیا۔

سسٹر مورین سے جہاں شروع میں سکول میں ملاقات ہوتی تھی وہاں ہر اتوار کو وہ باقاعدگی کے ساتھ میری دادی کے لیے گھر میں پاک شراکت لے کر آتی تھیں۔ چونکہ دادی کافی ضعیف ہو چکی تھیں اور ٹانگ پر چوٹ لگنے کی وجہ سے چارپائی تک محدود تھیں، اس لیے وہ چرچ نہیں جا سکتی تھیں۔ چونکہ ہمارا گھر، سسٹرز کے کانونٹ کے بالکل ساتھ ہے، اس لیے سسٹر مورین اکثر پیدل ہی ہمارے گھر آتیں، دادی کے ساتھ بات چیت کرتیں اور انہیں پاک شراکت دیتی اور اُن کے لیے دُعا کرتی تھیں۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ انہیں دادی کی فکر ہونے کے ساتھ ساتھ ہم سب کے نام بھی یاد تھے۔

اس بات کا اندازہ مجھے 2010 میں ہوا، جب ان سے بہاولپور میں ملاقات ہوئی تھی۔ تب بھی انہوں نے مجھے پہچان لیا اور جب میں نے دادی کے بارے میں بتایا تو انہوں نے سب کے بارے میں نام بہ نام پوچھا تھا۔

چند سال پہلے سسٹر مورین کا انتقال ہوا تو ان کے بارے میں تحریر لکھنے کا سوچا لیکن کچھ زیادہ معلومات میسر نہ ہوئی تھیں اس لیے تحریر میں دیر لگی۔ یہ تحریر سسٹر مورین کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا ایک ذریعہ ہے اور نوجوان نسل کو بالخصوص لوریتو، چک نمبر 270 کی نئی نسل کو ان عظیم ہستیوں کی قربانیوں اور ان کی خدمات سے آگاہ کرنا ہے۔ آئیے، سسٹر مورین کی زندگی اور خدمات پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

سسٹر مورین 7 مئی 1935 کو کلفڈن، کاؤنٹی گالوے، آئرلینڈ میں، مورین ایڈورڈ اور بریگیڈ O ’Malley O‘ Toole کے ہاں پیدا ہوئیں۔ وہ 8 ستمبر 1960 کو سپارکل میں آور لیڈی آف روزری کی ڈومینیکن جماعت میں داخل ہوئیں جہاں اُنہیں سسٹر بریگیڈ ایڈورڈ کا نام دیا گیا۔ اُنہوں نے اپنی پہلی عہد بندی 1962 میں اور دائمی عہد بندی 1967 میں کی۔

سسٹر مورین نے سینٹ تھامس ایکیناس کالج، سپارکل، نیو یارک سے 1965 میں ایجوکیشن میں BS کیا
اور فورڈھم یونیورسٹی، برونکس، نیویارک سے 1971 میں مذہبی علوم میں ایم ایس کی ڈگری حاصل کی۔
نیویارک اور سینٹ لوئس میں سسٹر مورین نے شعبہ تعلیم میں 1956سے 1962
تک سینٹ ریٹا سکول، برونکس، نیو یارک، میں خدمات سرانجام دیں۔
1967 سے 1969 تک میری کوئین آف ہیون سکول، بروکلین، نیویارک، میں خدمات سرانجام دیں۔
1967 سے 1969 تک سینٹ مارک سکول، سینٹ۔ لوئس، ایم او، میں خدمات سرانجام دیں۔

1969 میں سسٹر مورین نے پاکستان میں اسپارکل مشن کی ڈومینیکن سسٹرز کے لیے رضاکارانہ خدمات انجام دینے کا عہد کیا۔ پاکستانی عوام کے ساتھ ان کی وابستگی 50 سال سے زیادہ عرصے پر محیط ہے۔

پاکستان میں خدمات:
1969 سے 1974 پرنسپل ڈومینیکن کانونٹ، بہاولپور
1974 سے 1977 تک پریسیما سینٹر میں بالغ تعلیم
1977 سے 1980 تک پاسٹرل انسٹی ٹیوٹ ملتان، فارمیشن پروگرام
1977 سے 1980 تک ڈائریکٹر آف نوائسز
1980 سے 1987 تک رضا آباد مشن، ملتان
1987 سے 1988 تک ڈومینیکن سسٹرز
1995 سے 1996 تک سیکرڈ ہارٹ کانونٹ میں فارمیشن ٹریننگ پروگرام
1996 سے 1999 تک بطور پرنسپل ابن مریم ہائی اسکول، لوریتو میں خدمات سرانجام دیں۔

سسٹر مورین نے اپنے آخری ایام تک کلیسائی خدمت اور عبادت و دُعا کو جاری رکھا۔ ان کے پسماندگان میں اُن کی، بھانجیاں، ڈومینیکن جماعت اور پاکستانی کمیونٹی شامل ہے۔

سسٹر مورین کی پاکستان میں مشن پر آنے کی خواہش 1969 میں پوری ہوئی۔ اُنہوں نے اپنے 52 سالہ خدمت میں مختلف عہدوں اور حیثیت میں خدمت کی۔ اُن کی پاسبانی موجودگی اور تمام مخلوقات کے لیے انصاف اور تعظیم کے لیے خُدا کی بادشاہت کا اعلان کرنے کے اجتماعی مقصد کے لیے اُن کی زندگی نے ایک غیر معمولی اثر پیدا کیا ہے۔

اب جب سسٹر مورین نے ابدی سفر کو قبول کیا ہے اور اپنے خالق حقیقی کا سامنا کیا ہے۔ ہم سسٹر مورین کی زندگی اور خدمات کے لیے خُدا کا شکریہ ادا کرتے ہیں، جس کی خوشخبری، دینے کے لئے ایک اچھے، اور وفادار نوکر کی مانند اُنہوں نے انسانیت کی خدمت کی۔

سسٹر مورین اتوار 5 ستمبر 2021 کو بہاولپور، پاکستان میں سپرکِل پاکستانی کمیونٹی، ڈومینیکن فادرز، اور اُن لوگ کی موجودگی میں سپرد خاک کی گئیں جن سے وہ پیار کرتی تھیں اور ان کی خدمت کرتی تھیں۔ سسٹر مورین کو جنوبی پنجاب سے خصوصی لگاؤ تھا، اس لیے انہوں نے اپنی ساری زندگی جنوبی پنجاب کے مختلف علاقوں میں خدمت کرتے ہوئے گزاری۔

کہا جاتا ہے کہ ان کے خاندان کے دیگر افراد نے ایک دفعہ انہیں کہا آپ یہاں امریکہ میں ہی رہ جائیں، لیکن اُنہوں نے پاکستانی لوگوں کی محبت میں آخری دم تک یہیں رہنا قبول کیا اور پاکستانی سر زمین پر سپر دخاک ہونا مناسب جانا تھا۔

میرے لئے آج بھی سسٹر مورین ایک ایسا نام ہے جسے سنتے ہی دل و دماغ میں ایک ایسی تصویر اُبھرتی ہے جو اپنی زندگی اور کام کے حوالے سے ایک خوبصورت شخصیت ہیں۔ سسٹر مورین کی زندگی کے بارے میں صرف اتنا کہوں گا کہ انہوں نے اپنی زندگی کو اس طرح سے جیا کہ ان کے جانے کا ہم سب کو اور جتنے لوگوں کی زندگی میں انہوں نے کام کیا تھا، بالکل دُکھ اور غم نہیں ہے کیونکہ انہوں نے اپنی زندگی میں ہمیشہ لوگوں کی بھلائی، بہتری اور ایک حقیقی مشنری کی طرح خدمات سر انجام دی تھیں۔

میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے اپنے بچپن کا کچھ وقت سسٹر مورین کے ساتھ گزارنے کا موقع ملا، ان سے پڑھنے، سیکھنے اور سب سے بڑھ کر انگریزی کا گڈ مارننگ یاد ہے۔ مجھے احساس ہوتا ہے یہ مشنری اپنی آسان زندگی چھوڑ کر ان لوگوں کے لیے جو ڈپریس تھے، ایسے لوگوں کی زندگی میں ان کی خدمات بہت ہی قابل ستائش ہیں۔

سسٹر مورین کی طرح تمام مشنری، جنہوں نے آخری دم تک مسیحی ایمان کے مطابق اپنی زندگیوں کو بسر کیا اور دوسروں کے لیے ہمیشہ موٹیویشن اور رہنمائی کا سبب بنیں۔ سسٹر مورین کا مسکراتا چہرہ، ان کی مسکراہٹ اور ان کا خوبصورت گڈ مارننگ آج بھی یاد ہے اور آج بھی یوں لگتا ہے کہ وہ لوریتو کی دھرتی پر دھوپ اور سخت سردی میں کام کر رہی ہیں۔ اُنہوں نے اپنا ملک چھوڑ کر اس خطے کے لوگوں کی رہنمائی، بہتری، تعلیم و تربیت کے لیے اپنی زندگی قربان کی۔

آج ان مشنریوں کی زندگیاں اور ان کی خدمات ہم سب کے لیے مشعل راہ ہیں۔ آج ہمیں ضرورت ہے کہ ان کی زندگیوں اور خدمات کے روشن پہلووں کو اپنی زندگی میں اپنائیں۔ سسٹر مورین کی زندگی ہم سب کے لیے روشن مثال ہے۔ بہاولپور کی انتظامیہ نے اُن کی تعلیمی اور سماجی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے اُن کے نام ایک سڑک منسوب کی ہے۔

https://www.humsub.com.pk/563502/ayaz-morris-103/
17/09/2024

https://www.humsub.com.pk/563502/ayaz-morris-103/

             کتابوں، فلموں اور کہانیوں میں یہ ضرور پڑھنے کو ملتا ہے کہ دُنیا میں ایسے انسان بھی ہیں، جنہوں نے اپنی زندگی دوسروں کی فلاح و بہبود کے لیے وقف کردی ہو۔ می....

”لوریتو گاٶں کا تاریخی پس منظر“      (شیراز سائمن)میرے لئے بڑے فخر کی بات ہے۔ کہ آج جو تحریر میں آپ سے شیئر کر رہا ہوں۔ ...
05/08/2024

”لوریتو گاٶں کا تاریخی پس منظر“ (شیراز سائمن)

میرے لئے بڑے فخر کی بات ہے۔ کہ آج جو تحریر میں آپ سے شیئر کر رہا ہوں۔ یہ میرے آبائی گاؤں لوریتو چک نمبر 270 TDA لیہ کے بارے میں ہے جسے تھل کا دل بھی کہا جاتا ہے۔ یہ اپنے خطے جنوبی پنجاب ضلع لیہ میں اپنی ایک منفرد پہچان اور شناخت کی وجہ سے مقبولیت رکھتا ہے۔ سب سے پہلے اس تحریر کو لکھنے کے لئے میں اپنے ان سب دوستوں، عزیزوں، بزرگوں خاص طور پر اپنے دادا رحمت منڈیا والا اور اپنے بھائی ایاز مورس کا شکریہ ادا کر نا چاہتا ہوں۔ جنہوں نے میری اس تحریر کو لکھنے کے لئے معاونت کی۔

1960 کی دہائی میں قائم ہو نے والا یہ گاؤں جس کا نام لوریتو رکھا گیا۔ لوریتو کی تا ریخ پر ہمارے گاؤں کے فادر اسحاق یعقوب نے ایک تحقیقی اور نایاب کتاب تحریر کی ہے، جس کا نام ”وعدے کی سر زمین لوریتو ہے۔“ فادر اسحاق یعقوب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں۔ لوریتو براعظم یورپ کے ملک اٹلی کا ایک گاؤں ہے اور یہ درخت کے نام پر رکھا گیا۔ جہاں مقدسہ مریم کا مجسمہ اور گھر ہے۔ جہاں مقدسہ مریم پیدا ہوئی، اور اُن کی پرورش ہوئی۔

لوریتو گاؤں کا نام اُسی لوریتو جو (اٹلی) میں واقع ہے، سے منسوب کیا گیا۔ یہ پاکستانی مسیحیوں کو شرف حاصل ہے کہ وہی ایمان جس کے ذریعے لوگ (اٹلی) لوریتو جاتے ہیں اب پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع لیہ میں مقدسہ مریم سے اپنی عقیدت کا اظہار کر سکتے ہیں۔ لوریتو پاکستان میں کاتھولک مسیحیوں کی آبادی کا ایک بڑا مرکز ہے جہاں 100 فیصد کاتھولک مسیحی آبادی ہے۔

1960 کے ریونیو بورڈ کے ایک نوٹیفکیشن کے مطابق یہ گاؤں صرف کاتھولک مسیحیوں کے لیے مخصوص کیا گیا تھا۔ لہذا لوریتو مسیحی لوگوں کے ساتھ تمام لوگوں کے لیے روحانی تقویت کا باعث ہے۔ لوریتو کا گرجا گھر انتہائی خوبصورت اور وسیع ہے جس کا نام سینٹ سسلییا چرچ ہے۔ جس پر حال ہی میں ڈسکور پاکستان ٹی وی نے ایک شاندار ڈاکومنٹری بنائی ہے، جسے آپ یوٹیوب پر دیکھ سکتے ہیں۔ لوریتو گاؤں کے بانی فادر تھامس کانساؤاوپی تھے۔ جنہوں نے اس گاؤں کو آباد کرنے اور ابتدائی خدمات سرانجام دیں۔ گاؤں کے بزرگوں کے مطابق ابتدائی دور میں بے شمار مشکلات، پریشانیاں، مصیبتیں، اور چیلنجزکا سامنا کرنا پڑا۔

میرے دادا بتاتے تھے۔ کہ میں 1962 میں سیالکوٹ کے چک منڈیا والا سے لوریتو گاؤں آیا۔ تو اس وقت اس گاؤں میں چند مسیحی گھرانے ابتدائی طور پر آباد ہو چکے تھے۔ جن کو کاتھولک کاہنوں نے 2200 روپے لے کر ایک ایک رقبہ تقسیم کیا تھا۔ لیکن مجھے گورنمنٹ آف پنجاب نے اس گاؤں میں بھیجا اور مجھ سے 6 ہزار روپے لے کر ایک رقبہ دیا۔ جو 15 ایکڑ پر مشتمل تھا۔ میرے ساتھ آنے والے مسیحی گھرانوں کی ایک بڑی تعداد تھی۔ شروع میں ہمیں بے شمار پریشانیوں، مصیبتوں اور چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔

کئی کئی روز کھانا کھائے بغیر دن گزارنے پڑے اس وقت اس گاؤں میں امریکن فادر جارج ویسٹ واٹر اپنی خدمات سر انجام دے رہے تھے جن کا تعلق دومنیکن جماعت سے تھا۔ جنہوں نے نہ صرف اپنی کاہنانہ خدمات سر انجام دی بلکہ اس گاؤں کو آباد کرنے میں بے مثال کردار ادا کیا۔ فادر جارج ایک امریکن فوجی تھے جو بعد میں کاہن بنے یہی وجہ تھی۔ کہ فادر جارج کاہن ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ایک بہادر شخصیت کے مالک تھے۔ وہ خود لوگوں کے گھروں میں جا جا کر کھانے پینے کا پوچھتے اور جن کے پاس کھانے کو کچھ نہ ہوتا۔ ان کو مہیا کرتے تھے۔ فادر جارج کی بے شمار کاوشوں اور محنت کی بدولت آج یہ تاریخی گاؤں مکمل آزاد اور آباد ہے۔ اور پورے گاؤں میں مسیحی لوگ رہائش پذیر ہیں۔ لوریتو گاؤں تعلیمی لحاظ سے بھی اپنا نمایاں مقام رکھتا تھا یہاں کے سکول اپنے اعلیٰ معیاری اور مسیحی تعلیم کے لیے سرگرم تھے اور اس وقت اس گاؤں میں تقریباً ایک ہزار مسیحی گھر ہیں جو مکمل مذہبی آزادی کے ساتھ اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔ اس تاریخی اور عظیم گاؤں کے لوگ نہ صرف پورے پاکستان بلکہ بیرونِ ممالک میں بھی مقیم ہیں، بلکہ پاکستان کے ہر شہر میں اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ جن میں کافی تعداد فادر صاحبان، سسٹرز صاحبات کی ہے۔ اس کے علاوہ بہت سارے لوگ مختلف شعبہ جات میں اپنی خدمات سر انجام دیتے ہوئے اپنی مسیحی قوم کا نام روشن کرتے ہوئے لوریتو گاؤں کی دھرتی کا نام بلند کر رہے ہیں۔ اس وقت ہماری کاتھولک ڈایوسیس ملتان کے بشپ، تقدس مآب بشپ یوسف سوہن کا تعلق بھی لوریتو سے ہے۔

ان تمام باتوں کے بعد آخر میں میں یہ کہنا چاہوں گا کہ ماضی کی نسبت اب حالات قدر مختلف ہیں ماضی میں گاؤں کے لوگوں میں اتحاد، پیار و محبت، صلح اور یگانگت پائی جاتی تھی، لوگ آپس میں مل جل کر ایک دوسرے کے غم اور خوشی میں شریک ہوتے تھے۔ مذہب سے خصوصی لگاؤ تھا۔ کھیلوں سے پیار، علم کا فروغ اور انسانی ہمدردی ہمارے گاؤں کا خاصہ تھی، جو اب کمزور پڑ گئی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم دوبارہ اپنے آپ کا جائزہ لیں اور اپنی اصلاح کرتے ہوئے ایسے اقدامات کریں جو ہمیں ہماری حقیقی منزل کی طرف گامزن کریں کیونکہ لوریتو ہمارے لیے خُدا کا خوبصورت اور حسین تحفہ ہے جسے ہمارے آبا و اجداد نے بڑی مشکلات، محنت اور جان فشانی سے خوبصورت بنایا ہے ہمیں اس تحفے کی قدر کرنی چاہیے اور اس کی حفاظت اور ترقی ہم سب کا فرض ہے۔

ہمارے گاؤں کے بارے میں ہمارے گاؤں کے شاعر مقبول شہزاد اپنی محبت کا اظہار یوں کرتے ہیں۔

ترانۂِ لوریتو
سر زمین لو ریتو میر آبرو
توُ سلامت رہے ہے میری آرزو
تیری مٹی سے ہے میری ہستی بنی
تو بزرگوں کی محنت سے بستی بنی
ان کی ہمت سے ہے آج تو مشک بوُ
ایک جنگل سے تو گلستان بن گئی
تو ادب گاہ ِ امن و اماں بن گئی
ہے اخوت کی مہکا ر اب کو بہ کو
میرے لب پہ ہیں جاری فسانے ترے
مل کے گائیں ہمیشہ ترانے ترے
تو ازل سے ابد تک رہے سرخرو
تو محبت کی بستی ترے ہم مکیں
تو خداوند کے وعدے کی ہے سرزمیں
مجھ کو جنت سے بھی تو لگے خوبرو
آج ہر سو اجالا ترے نام سے
پیار کا بول بالا تیرے نام سے
آج شہزاد ہے روشنی چار سو
سرزمین ِ لوریتو تو مری آبرو
تو سلامت رہے میری آرزو

Address

Laretto Chak#270, TDA
Layyah
31200

Telephone

+923422739678

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when St.Cecilia Church,Loretto,270 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to St.Cecilia Church,Loretto,270:

Share