St.Cecilia Church,Loretto,270

Call Directions Contact the place of worship

St.Cecilia Church,Loretto,270 St.Cecilia Church come under the jurisdiction of Our Lady of Loretto Parish Chak 270/TDA, District Layyah,
Catholic Diocese of Multan, Pakistan.

’’زندہ لوگ‘‘اور  ’’فخرِ لوریتو‘‘ایاز مورستحریر:مسز ایلس ریمنڈچک نمبر 270، ڈی اے لوریتوتحصیل کروڑ لعل عیسنضلع لیہمیرے لیے...
18/06/2026

’’زندہ لوگ‘‘
اور
’’فخرِ لوریتو‘‘
ایاز مورس

تحریر:
مسز ایلس ریمنڈ
چک نمبر 270، ڈی اے لوریتو
تحصیل کروڑ لعل عیسن
ضلع لیہ

میرے لیے وہ لمحات بہت یادگار تھے جب ایازمورس نے اپنی پہلی کتاب ’’زندہ لوگ‘‘ مجھے پیش کی۔ میں نے اس کتاب کو ہاتھوں میں تھام کر بے حد خوشی محسوس کی۔ میں نے اس کا تقریباً دو بار مطالعہ کیا اور اس کتاب سے بے حد متاثر ہوئی۔

اس کتاب کی روانی، اس کے طرزِ تحریر اور اس میں موجود سوچ نے مجھے گہرائی سے متاثر کیا۔ میں اسی وجہ سے اس کتاب کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کر رہی ہوں۔

ایاز مورس نے ’’زندہ لوگ‘‘ کتاب لکھ کر ہماری مردہ رُوحوں کو جگا دیا ہے۔ ایاز مورس نے ’’زندہ لوگ‘‘ تحریر کرکے ہمیں ماضی کا آئینہ دکھایا ہے اور ہمارے جذبات، احساسات، لگن، محنت اور آگے بڑھنے کا حوصلہ بڑھایا ہے۔

ایاز مورس نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو قوم اور مسیحی برادری کی خدمت کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ ’’زندہ لوگ‘‘ کتاب ایاز مورس کے وژن اور جذبے کی بہترین عکاسی کرتی ہے۔ میں ایاز مورس کو ’’زندہ لوگ‘‘ کی اشاعت پر دِل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتی ہوں۔

ایاز مورس علم و ترقی کے کتنے ہی زینے طے کر لینے کے باوجود اپنے لباس اور جوتوں سے اپنے گاؤں لوریتو کی مٹی نہیں جھاڑ سکے۔ وہ پوری طرح اپنے دادا، میرے بزرگ چچا رحمت منڈیا والا، اپنے خاندان اور لوریتو کے بزرگوں کی طرح اپنے زرخیز کھیتوں اور کچی گلیوں سے جڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔

مجھے لوریتو کی بزرگ ہونے کے ناطے اپنے بیٹے ایاز مورس کی کامیابی اور ’’زندہ لوگ‘‘ کتاب کی تصنیف پر فخر ہے۔ ہمیں فخر ہے کہ ایاز مورس اس دھرتی کے سپوت ہیں، جو اپنی محنت، لگن، حوصلے، قوت اور ایمانی جذبے سے سرشار ہو کر جدید میڈیا میں اپنا منفرد مقام بنا چکے ہیں۔ اہلِ لوریتو کو اپنے اس فرزند پر بجا طور پر فخر ہے۔ ایاز مورس ہمارے لیے ’’فخرِ لوریتو‘‘ ہیں۔

میں دُعاگو ہوں کہ ایاز مورس اسی طرح اپنے قلم کی طاقت سے ایسے لوگوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے رہیں جو پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یقیناً ایسی تصانیف ہماری آنے والی نوجوان نسل کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوں گی۔

خُداوند آپ کو اپنی برکات سے مالا مال کرے۔

آمین، ثم آمین

15/04/2026

Celebrating my 12th year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉

سینٹ سسیلیا چرچ، لوریتو کی 65 سالہ جوبلی منائی گئیلیہ ( صنوبر شیراز ) لوریتو پیرش کے گاؤں چک نمبر 270، ٹی ڈی اے، لیہ میں...
13/02/2026

سینٹ سسیلیا چرچ، لوریتو کی 65 سالہ جوبلی منائی گئی

لیہ ( صنوبر شیراز ) لوریتو پیرش کے گاؤں چک نمبر 270، ٹی ڈی اے، لیہ میں واقع سینٹ سسیلیا چرچکی 65 سالہ جوبلی روحانی جوش و خروش اور مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی۔ اس موقع پر پورا گاؤں روحانی خوشیوں سے جگمگا اٹھا، جب سینٹ سسیلیا چرچ کی بنیاد کے حوالے سے ایک پُروقار تقریب 13 فروری 2026 کو منعقد کی گئی۔ یہ موقع نہ صرف خوشی بلکہ ایمان اور خدمتِ خداوندی کے حضور شکرگزاری کا دن بھی تھا۔

اس خصوصی تقریب کے مہمانِ خصوصی ملتان ڈایوسیس کے چوپانِ اعلیٰ، تقدس مآب بشپ یوسف سوہن تھے۔ تقریب میں ابنِ مریم گرلز ہائی اسکول کی پرنسپل سسٹر کتھیرین بشیر او پی ، معزز سسٹرز صاحبات، اساتذۂ کرام، طالبات اور اسکول بینڈ نے بھرپور شرکت کی۔ بشپ یوسف سوہن، پیرش پریسٹ فادر فرحان ارشاد، فادرز صاحبان اور دیگر مہمانوں کے ہمراہ تشریف لائے تو بینڈ کی گونجتی ہوئی دھنوں نے فضا کو روحانی جوش سے بھر دیا۔ طالبات نے نہایت ادب و احترام کے ساتھ معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور بینڈ سلیوٹ پیش کیا، جس سے تقریب کا آغاز نہایت باوقار انداز میں ہوا۔

عبادت کے دوران بشپ یوسف سوہن نے اپنے بامعنی پیغام میں سینٹ سسیلیا چرچ کی تاریخ، چرچ کی مربی، نام کی اہمیت اور پس منظر کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ سینٹ سسیلیا ایک عظیم ہستی تھیں جنہوں نے خُدا کی محبت اور خدمت کی خاطر اپنی جان تک کی قربانی پیش کی۔ اُن کی بے مثال وفاداری، ایثار اور ایمان کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ہمارے چرچ کو اُن کے نام سے منسوب کیا گیا، تاکہ اُن کی قربانی ہمیشہ زندہ رہے اور آنے والی نسلوں کو خدمت و وفا کا درس دیتی رہے۔

تقریب کے اختتام پر کیک کاٹا گیا اور تمام شرکا و مومنین کا شکریہ ادا کیا گیا۔ یہ لمحہ خوشی، شکرگزاری اور اتحاد کا حسین امتزاج تھا۔ یہ یادگار دن ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ایمان، محبت اور قربانی ہی وہ بنیادیں ہیں جن پر مضبوط معاشرے قائم ہوتے ہیں۔ دُعا ہے کہ ہمارا چرچ اور گاؤں ہمیشہ روحانی روشنی کا مینار بنا رہے اور مقدسہ سسیلیا کی قربانی ، زندگی اور تعلیمات ہم سب کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوں۔
fans | St.Cecilia Church,Loretto,270 | St.Cecilia
Farhan Irshaad

میرا گاؤں، میرا فخر ؛  چک نمبر 270، لوریتو، ٹی ڈی اے، لیہتھل کے دِل میں واقع معروف کیتھولک مسیحی گاؤں، جو خطے میں مذہبی ...
13/02/2026

میرا گاؤں، میرا فخر ؛ چک نمبر 270، لوریتو، ٹی ڈی اے، لیہ
تھل کے دِل میں واقع معروف کیتھولک مسیحی گاؤں، جو خطے میں مذہبی وسماجی ہم آہنگی اور ترقی کی روشن اور قابل ذکر مثال ہے

ایاز مورس

کچھ تحریریں الفاظ سے نہیں، رُوح سے سینچی جاتی ہیں؛ اور میری یہ تحریر بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ اپنے گاؤں کے بارے میں لکھتے وقت عجیب سی دشواری کا سامنا رہا، کیوںکہ جذبات کا ایک سمندر تھا جو ٹھاٹھیں مار رہا تھا اور الفاظ اس کے سامنے بے بس محسوس ہو رہے تھے۔
یہ اگر صرف میرے ذاتی احساسات ہوتے تو شاید آسان ہوتا، مگر یہاں تو پوری دُنیا میں بسنے والے میرے گاؤں کے باسیوں کے جذبات کی ترجمانی کی ذمے داری آن پڑی تھی۔ یہ گاؤں ہمارے بزرگوں کی قربانیوں کا ثمر ہے، ان کی وفاؤں کا اثر ہے اور قدرت کا خاص کرم بھی ہے۔ یہ صرف میرا گاؤں نہیں، بلکہ ایک ایسی سرزمین ہے جس کے ساتھ نہ صرف میرے بچپن کی یادیں جڑی ہیں، بلکہ میری جذباتی، روحانی، رومانوی اور علمی و تربیتی وابستگیاں ہیں، مگر سچ یہ بھی ہے کہ جب ماضی شان دار ہو اور حال توقعات کے مطابق نہ ہو، تو مستقبل کے حوالے سے ایک ان جانی سی پریشانی دِل کو گھیر لیتی ہے۔
آج کے اس مضمون میں میں اپنے گاؤں کے بارے میں نہ صرف اس کی شان دار تاریخ، اپنے بزرگوں کی قربانیوں اور ان کی درخشاں مثالوں کا ذکر کروں گا، بلکہ یہ تحریر ایک طرح سے اس کے قیام، اس کی بہتری کے لیے کی گئی کوششوں اور آج اس کے ثمرات کے اصل بانیوں کو خراجِ تحسین بھی ہوگی۔
اس کے ساتھ ساتھ میں موجودہ دور میں درپیش چیلینجز اور مستقبل کے حوالے سے سامنے آنے والے سوالات اور خدشات پر بھی گفتگو کروں گا۔ جنوبی پنجاب کی زرخیز دھرتی پر واقع چک نمبر 270 ٹی ڈی اے کوئی عام بستی نہیں، بلکہ یہ ایمان، محبت، قربانی اور روحانی ورثے کا ایسا مرکز ہے جس نے نہ صرف مقامی آبادی کی شناخت بنائی بلکہ پورے ملک میں مسیحیوں کی خدمت، تعلیم اور امن کا استعارہ بن کر ابھرا۔ یہ وہ دھرتی ہے جہاں مٹی صرف زمین نہیں بلکہ خُدا کی قدرت اور انسان کی محنت کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔
تاریخی پس منظر اور روحانی بنیاد
چک نمبر 270 ٹی ڈی اے کی بنیاد 20 ویں صدی کے وسط میں اس وقت رکھی گئی جب مسیحی خاندان ملک کے مختلف حصوں سے نکل کر اس زمینی جنت کی طرف آئے۔ یہاں ڈومینکن مشنریوں نے نہ صرف لوگوں کو آباد کیا بلکہ اُن کی ایمانی و روحانی تعلیم وتربیت کے لیے چرچ تعمیر کیا، جو آگے چل کر سینٹ سسیلیا کیتھولک چرچ کی صورت میں ایمان کا مینار بن گیا۔
سینٹ سسیلیا چرچ
عبادت سے ترقی تک کا سفر یہ چرچ صرف دعائیہ مقام نہیں بلکہ ایک سماجی تحریک کی بنیاد تھا جس میں بچوں کو تعلیم دی گئی، خواتین کو شعور ملا، نوجوانوں کو مستقبل کا راستہ ملا، عبادت کے ساتھ انسانیت کی خدمت کو فروغ ملا۔ یہاں گھنٹی کی آواز صرف عبادت کی نہیں بلکہ اُمید کی صدا تھی۔ اس چرچ پر معروف ٹی وی نے اپنے پروگرام ’’چرچزآف پاکستان‘‘ کے لئے ایک شان دار ڈاکیومنٹری بنائی ہے، جو یوٹیوب پر دیکھی جا سکتی ہے۔ ہمارے گاؤں کے ہی سپوت، فادر اسحاق یعقوب (مرحوم) نے اپنی کتاب ’’وعدے کی سرزمین: لوریتو‘‘ میں ہمارے گاؤں کی تاریخ رقم کی ہے۔
اس کتاب میں انہوں نے صحرا سے وعدے کی سرزمین تک کے تاریخی سفر، گاؤں کے پس منظر، اہم شخصیات، اور جھگیوں سے پکے مکانات تک کے ارتقائی مراحل کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ مزید برآں، کتاب میں گاؤں سے وابستہ نمایاں شخصیات، سیاسی و سماجی تحریکوں، اور لوریتو میں خدمت انجام دینے والے افراد کے کردار پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ فادر اسحاق یعقوب لکھتے ہیں کہ 1960ء کے ریونیو بورڈ کے نوٹیفکیشن کے مطابق یہ علاقہ ابتدا میں صرف کیتھولک مسیحی کمیونٹی کے لیے مخصوص کیا گیا تھا۔ لوریتو گاؤں جغرافیائی لحاظ سے ’’تھل کا دل‘‘ کہلاتا ہے، جو چار اہم شہروں لیہ، کروڑ، فتح پور اور چوک اعظم کے درمیان واقع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں سے ملک کے چاروں صوبوں کی جانب آمدورفت اور ٹرانسپورٹ کی سہولت میسر ہے۔
قدرتی طور پر یہ چاروں شہر لوریتو سے تقریباً مساوی فاصلے پر واقع ہیں۔ لوریتو کو ’’تھل کا دِل‘‘ اس لیے بھی کہا جاتا ہے کہ یہاں آنے والا کوئی شخص، خواہ اندرونی ہو یا بیرونی، مایوسی لے کر واپس نہیں جاتا ہے۔ اس گاؤں کے بانی اور ایک انتہائی اہم تاریخی شخصیت فادر جارج ویسٹ واٹر تھے، جن کی خدمات آج بھی لوریتو کی شناخت کا حصہ ہیں۔ معروف صاحبِ قلم پرنس خُدابخش ناصر اپنی کتاب ’’انسائیکلوپیڈیا آف لیہ‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’لوریتو، لیہ کے شمال مشرق میں ٹیل انڈس سے کا قاضی آباد جاتے ہوئے راستے میں چک نمبر 270 ٹی ڈی اے آتا ہے۔ اسے لوریتو کا نام دیا جاتا ہے۔ ضلع لیہ میں مسیحیوں کا مرکزی قصبہ ہے۔ تھل کی آبادکاری کے ایام میں مشنری کی کوششوں کی بدولت آباد ہوا۔ یہاں مکمل طور پر مسیحی مقیم ہیں۔ ہر گھر کو مخصوص خطہ اراضی دیا گیا ہے جہاں وہ کاشت کاری کرکے روزگار روزی کما سکتے ہیں۔ یہاں سے کئی افراد بیرون ملک بھی مقیم ہیں۔
کھلی گلیوں اور بازار اس کی رونقوں میں اضافہ کرتے ہیں۔ اس میں چرچ کی خوب صورت عمارت تعمیر کی گئی ہے جہاں ہر اتوار عبادت کی جاتی ہے۔ چرچ سے متصل مسیحیوں کے مذہبی راہ نما فادر کی رہائش گاہ ہے جہاں مشن کی طرف سے فادر تعینات ہوتے ہیں۔ قصبے کی آبادی دو ہزار کے لگ بھگ ہے۔ یہاں بجلی، ٹیلی فون کی بنیادی سہولتوں کے علاوہ مشنری ہائی اسکول، ابن مریم ہائی اسکول، بوائز اینڈ گرلز ہاسٹل اور پلے گراؤنڈ کی سہولتیں میسر ہیں۔‘‘
شیخ اقبال حسین دانش اپنی کتاب ’’عکسِ لیہ ‘‘ میں لکھتے ہیں چک نمبر 270 میں ایک بہت بڑا گرجا گھر موجود ہے۔ جو لوریتو گاؤں کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس گاؤں کو ماڈل مسیحی گاؤں کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا، جہاں زندگی کی تمام تر سہولیات موجود ہیں، جہاں لڑکوں اور لڑکیوں کے اسکول، ڈسپنسری، کھیل کے میدان، خوب صورت کشادہ سڑکیں، جدید ٹرانسپورٹ کا نظام اور ڈائریکٹ بس سروس جیسی سہولتیں موجود ہیں۔ معروف صحافی انجم صحرائی کی اہم اور تاریخی کتاب ’’پاکستانی اقلیتیں‘‘ میںفادر فیلکس اللّہ دتہ، پیرش پریسٹ لوریتو، لیہ1984میں لیا گیا انٹرویو، اور ہمارے گاؤں کے ڈاکٹر ایلون مراد کی زیر طبع کتاب اس حوالے سے قابل ذکر ہیں۔
زرعی اہمیت اور محنت کی تصویر
گاؤں کی معیشت کا بنیادی ستون زراعت تھا۔ ٹی ڈی اے نہر کا پانی یہاں برکت بن کر بہتا تھا۔ اب ہر زمیندار نے اپنے اپنے ٹیوب ویل لگالیے ہیں۔ کپاس، گندم اور گَنّے کی لہراتی فصلیں یہاں کے کسانوں کی محنت اور خُدا کی رحمت کا منظر پیش کرتی ہیں۔ اب باغ اور مویشیوں کی پرورش کا رحجان بڑھا ہے۔ یہاں کی خواتین بھی کھیتوں میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتی ہیں جو اس گاؤں کی خاندانی مضبوطی اور سماجی اتحاد کی واضح نشانی ہے۔
تعلیم: شعور کی پہلی کرن
مشن کے زیرانتظام قائم ہونے والے اسکول نے اس گاؤں کے بچوں کو پہلی بار کتاب سے روشناس کیا۔ یہاں سے شروع ہونے والا تعلیمی سفر آج بین الاقوامی یونیورسٹیوں تک جا پہنچا ہے۔ اس گاؤں نے ڈاکٹر، بیوروکریٹ، نرسز، اساتذہ، کاہن، صحافی اور سیاسی، سماجی و مسیحی راہ نما پیدا کیے جو آج پاکستان کی خدمت کررہے ہیں۔ کیتھولک ملتان ڈایوسیس کے موجودہ بشپ یوسف سوہن کا تعلق بھی اسی گاؤں سے ہے۔
سماجی و روحانی ہم آہنگی
گاؤں کا ہر فرد ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوتا تھا، تاہم اب صورت حال ایسی نہیں ہے۔ چرچ، کھیت، اسکول اور چوپال یہ سب صرف جگہیں نہیں بلکہ برادری کے ایمان، اتحاد اور محبت کی علامتیں تھیں۔ ادیبوں اور شعراء کے دِل میں گاؤں کی محبت نمایاں تھی۔ میری آنکھیں آج بھی وہ منظر دیکھتی ہیں جب چرچ کی گھنٹی بجتی اور ہم سب دوڑ کر عبادت کے لیے جمع ہوتے۔ بچوں کے قہقہے ، مٹی کی خوشبو، کھیتوں میں ہل چلانے کی آواز، چرچ میں گونجتے مقدس گیت، یہ سب میری تحریر کی رُوح اور ایمان کا مرکز ہیں۔ یہ گاؤں میرا ماضی نہیں بلکہ میرا مستقبل بھی ہے۔
موجودہ چیلینجز میں جدید اور معیاری تعلیم اور صحت کی سہولیات میں کمی، نوجوانوں کے لیے روزگار کے محدود مواقع، ڈیجیٹل سہولیات کی عدم دست یابی، نہری پانی کی کمی اور موسمی تبدیلیاں، سیاسی و سماجی قیادت کا فقدان، وژن اور اجتماعی بہتری کی سوچ کا نہ ہونا سرفہرست ہیں، مگر ان چیلینجز کے باوجود اُمید زندہ ہے کیوںکہ یہاں ایمان مضبوط ہے، لوگوں کا عزم بلند ہے اور ترقی کے امکانات روشن ہیں، اگر جدید تعلیمی مراکز، اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام، CSR کے ذریعے یوتھ ایمپاورمنٹ، زرعی تحقیقاتی اقدامات، مذہبی سیاحت اور تاریخی ورثے کی عالمی سطح پر تشہیر کو ممکن بنایا جائے۔ یہ بات تاریخی اہمیت کی حامل ہے کہ عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کا ہمارے گاؤں کا دورہ کیا تھا۔
میرا یہ مضمون لوریتو کی مکمل تاریخ بیان کرنے کے لیے نہیں، بلکہ اس کے تعارف اور اس کے ساتھ وابستہ میری ذاتی یادوں کا عکس ہے۔ لوریتو کے بانی فادر تھامس کونسا او پی تھے، جو ممبئی (انڈیا) میں پیدا ہوئے۔ 1953ء میں انہوں نے شورکوٹ سے لوریتو کی سرزمین پر قدم رکھا اور اپنی انتھک محنت، عزم اور واضح وژن کے ساتھ ایک بے آب و گیاہ صحرا میں سرکنڈوں اور جھگیوں سے ایک نئی بستی کی بنیاد رکھی، وہ بستی جو آج ایک سرسبز، منظم اور شان دار گاؤں کی صورت اختیار کرچکی ہے۔ ان کے جانشین فادر جارج ویسٹ واٹر نے ان کوششوں کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ وہ لوریتو کی ایک ہر ِدل عزیز شخصیت ہیں، جنہوں نے صحرا کو آباد کرنے میں نہایت اہم کردار ادا کیا۔ ملتان میانوالی روڈ (المروف ایم ایم روڈ) سے قاضی آباد کے اسٹاپ سے تقریباً نو کلو میٹر کے فاصلے پر اور ضلع لیہ سے لگ بھگ اٹھارہ کلو میٹر دور واقع یہ گاؤں پاکستانی کیتھولک مسیحیوں کا ایک مثالی اور نمایاں گاؤں ہے۔
اس گاؤں کی منصوبہ بندی میں اس دُور کی بہترین بنیادی سہولتوں کے ساتھ ساتھ امریکن مشنریوں کی سوچ، وژن اور منظم پلاننگ شامل تھی۔ اس کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ اس صحرا میں سینٹ سیسیلیا کے نام سے ایک شان دار چرچ قائم کیا گیا۔ اس کے ساتھ گرلز ہاسٹل، بوائز ہاسٹل (جس میں سوئمنگ پول کی سہولت بھی موجود تھی)، لڑکوں کے لیے علیحدہ سوئمنگ پول، ایک سے زائد کرکٹ گراؤنڈز، لائبریری، ڈسپنسری، سلائی سینٹر اور اسٹوریج کی سہولتیں فراہم کی گئیں۔ مزید برآں، گاؤں کی سہولت کے لیے پختہ سڑکیں اور مناسب روشنی (لائٹنگ) کا بھی بھرپور انتظام کیا گیا۔
بدقسمتی سے وقت کے ساتھ ساتھ لائبریری، ڈسپنسری اور سلائی سینٹر جیسی چند سہولتیں ختم ہوگئیں، اور اسی طرح اس دُور میں قائم کیا گیا ٹیلی فون ایکسچینج بھی اب فعال نہیں رہا۔ اس کے باوجود لوریتو اپنی روحانی اور ثقافتی شناخت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ چرچ میں قائم زیارت گاہ میں ہر سال اکتوبر کے مہینے میں سالانہ زیارت منعقد کی جاتی ہے، جہاں عبادات کے ساتھ ساتھ ثقافتی، سماجی اور کھیلوں کے پروگرام بھی منعقد ہوتے ہیں، جو گاؤں کی اجتماعی زندگی کو ایک نئی توانائی بخشتے ہیں۔
پیغامِ اُمید
چک نمبر 270 ٹی ڈی اے صرف ایک گاؤں نہیں بلکہ ایک خواب ہے، ایک ایسا خواب جو نسلوں کے ایمان، بزرگوں کی قربانیوں اور نوجوانوں کی اُمیدوں سے جڑا ہے۔ یہ گاؤں پاکستان کے نقشے کی ایک روشن مثال ہے جو ثابت کرتا ہے کہ اگر نیت پاک ہو تو چھوٹے چھوٹے دیہات بھی عالمی سطح پر اپنی پہچان بناسکتے ہیں۔ یہ مٹی میری پہچان ہے۔ یہ چرچ میری روح کا مرکز ہے۔ یہ گاؤں میرا ماضی نہیں بلکہ میرا دائمی فخر ہے۔ میں جہاں بھی جاؤں، میری سانسوں میں اس مٹی کی خوشبو، میری آواز میں اس گاؤں کی گونج اور میرے قلم میں اس گاؤں کی برکت موجود رہے گی۔ میرے گاؤں کے شاعر مقبول شہزاد، گاؤں سے ہماری محبت کی نمائندگی ان الفاظ سے کرتے ہیں:
اے زمین لوریتو میر ی آبرو
تو سلامت رہے، ہے میری آرزو
تیری مٹی سے میری ہستی بنی
تو بزرگوں کی محنت سے بستی بنی
| fans | St.Cecilia Church,Loretto,270 | Farhan Irshaad | Ayaz Morris

13/02/2026
21/03/2025

لوریتو مشن ہائی سکول، چک نمبر 270، ٹی ڈی اے لیہ |
مس مارگریٹ ڈینیل |

اپنے گاؤں کے معروف شاعر اور صاحبِ کتاب، جناب مقبول شہزاد سے ملاقات کے بعد، نہایت خوشی کے ساتھ انہیں نئے ایوارڈ کے حصول پ...
28/02/2025

اپنے گاؤں کے معروف شاعر اور صاحبِ کتاب، جناب مقبول شہزاد سے ملاقات کے بعد، نہایت خوشی کے ساتھ انہیں نئے ایوارڈ کے حصول پر مبارکباد پیش کی اور ان کی ادبی خدمات کو سراہتے ہوئے کہتا ہوں:

”یہ آپ کی محنت، لگن اور ادب سے محبت کا نتیجہ ہے کہ آج آپ کو یہ عزت و وقار نصیب ہوا ہے۔ ہمارا گاؤں آپ پر فخر کرتا ہے اور دُعا گو ہے کہ آپ کی شاعری یوں ہی روشنی بکھیرتا رہی۔“

جناب مقبول شہزاد، جن کی شاعری ہمیشہ گاؤں کے مسائل، محبت، معاشرتی رویوں اور زندگی کی سچائیوں کی عکاس رہی ہے۔
یہ ملاقات ایک یادگار لمحہ ہے، جہاں ادب کی محبت اور عزت و احترام کی فضا قائم رہتی ہے۔
( ایاز مورس)
Maqbool Shahzad
Ayaz Morris

Address

Laretto Chak#270, TDA
Layyah
31200

Telephone

+923422739678

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when St.Cecilia Church,Loretto,270 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to St.Cecilia Church,Loretto,270:

Shortcuts

Share