26/02/2025
ارکان اسلام
ان کی تعداد پانچ ہے رکن کے معنی ستون یا تھم کے ہوتے ہیں یہ پانچ ستون ہوں تو ہی اسلام کی چھت قائم ہو سکتی ہے ان کو ہی پنجابی میں "پنج بِنا" بھی کہتے ہیں
ارکان یہ ہیں :
1۔توحیدِ باری تعالیٰ اور نبی کریم ﷺ کی رسالت پر ایمان۔ 2۔ نماز قائم کرنا۔ 3۔ زکاۃ ادا کرنا۔ 4۔ بیت اللہ کا حج کرنا۔5۔ رمضان کے روزے رکھنا
یعنی
کلمہ،نماز،روزہ،زکوات،حج
یہ پانچ شرطیں پوری ہو جائیں تو مسلمان کہلوا سکتا ہے یعنی کلمہ طیبہ کا اقرار اور بنیادی احکام اسلام ( عبادات)
ایک دن جبرائیل علیہ السلام مجلس نبوی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں حاضر ہوئےدوزانو ہوکر بیٹھ گئے پھر سوال کر دیا جواب ارشاد فرمایا گیا تو تصدیق بھی کر دی
حدیث کا عربی متن ( حصہ)
قالَ: يا محمد أخبرني عَنْ الإسلام؟ فقَالَ رَسُول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:
"الإسلام ، 1- أن تشهد أن لا إلہ إلا اللَّہ وأن محمدا رَسُول اللَّهِ، 2- وتقيم الصلاة، 3- وتؤتي الزكاة، 4- وتصوم رمضان، 5 وتحج البيت إن استطعت إليہ سبيلا" قَالَ صدقت
عرض کیا :ائے محمد(صلی اللہ علیہ وسلم )مجھے بتلائے کہ :۔ ارکان اسلام پانچ ہیں﴾ اسلام کیا ہے؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسلام یہ ہے کہ توگواہی دے کہ اللہ کے سواکوئی معبودنہیں،اوریہ کہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)اللہ کے رسول ہیں،اور نماز کو اچھی طرح پابندی سے اداکرے،اورزکوۃ دے اوررمضان کے روزے رکھے اورخانۂ کعبہ کاحج کرے بشرطیکہ وہاں تک پہنچنے پرقادرہو،اس شخص نے (یہ سن کر)کہا کے آپ نے سچ فرمایا
ایمان اور اسلام کا گہرا تعلق ہے جو ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں اسلام ظاہری اعضاء سے متعلق ہے جبکہ ایمان کا تعلق دل سے ہے گویا زبان سے کلمہ طیبہ پڑھ لینے اور بنیادی عبادات کو اپنانے والے کو مسلمان کہا جا سکتا ہے اور اس کے ساتھ مسلمانوں والا سلوک کیا جائیگا
ایک اور حدیث مبارکہ سے ارکان اسلام کی وضاحت ہوتی ہے جو یہ ہے
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "بني الإسلام على خمس: شهادة أن لا إله إلا الله وأنّ محمَّدًا رسول الله، وإقام الصلاة، وإيتاء الزكاة، والحج، وصوم رمضان"۔ بخآری
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے یہ گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، نماز کا قائم کرنا،زکوات کا ادا کرنا،حج ادا کرنا،رمضان المبارک کے روزے رکھنا
گو کامل مسلمان کی بہت سی باتیں ہیں مگر ایسے شخص کو مسلمان کہا جائیگا
#صفدر