Islamic information

Islamic information Information about Islam in Quran Hades and pray for hadite

دعا کی گہری تفسیر و تشریح اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَیہ صرف 12...
01/07/2026

دعا کی گہری تفسیر و تشریح

اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ

یہ صرف 12 الفاظ کی دعا ہے، مگر اس میں ساری دنیا اور آخرت کی بھلائی سمو دی گئی ہے۔ ایک ایک لفظ کو کھول کر دیکھیے:

1. اللَّهُمَّ
- یا اللہ! خاص اللہ کے نام سے شروع، جو سارے ناموں کا سرِ چشمہ ہے۔ اس ایک لفظ میں کامل توحید ہے۔

2. اكْفِنِي
- مجھے کافی کر دیں، بے‌نیاز کر دیں، محفوظ رکھیں، میری حاجت روائی کر دیں۔
- "اکفنی" میں تینوں طرح کی کفایت مانگی گئی:
1. کفایتِ رزق (مال کی)
2. کفایتِ نفس (دل کی)
3. کفایتِ عقل (سوچ کی)

3. بِحَلَالِكَ
- آپ کے حلال سے، یعنی وہ رزق جو آپ کی طرف سے پاک ہو، برکت والا ہو، طیب ہو،،آپ کے حکم کے مطابق ہو۔
- یہاں بندہ یہ کہہ رہا ہے: "اے اللہ! میرا رزق آپ کے ہاتھ سے ہو، مخلوق کے ہاتھ سے نہیں۔"
4. عَنْ حَرَامِكَ
- آپ کے حرام کردہ امور سے بے‌نیاز کر دیں۔
- یہاں صرف "حرام نہ کھانے" کی دعا نہیں، بلکہ تین اعلیٰ درجے مانگے گئے:
1. حرام کی مجبوری نہ ہو
2. حرام کی طرف رغبت نہ ہو
3. حرام کی طرف نظر بھی نہ جائے

یہی وجہ ہے کہ امام غزالی رحمہ اللہ نے فرمایا:
"یہ دعا پڑھنے والا حرام سے اس طرح بچ جاتا ہے جیسے شیر سے بھاگتا ہے۔"

5. وَأَغْنِنِي
- اور مجھے غنیٰ کر دیں، بے‌نیاز کر دیں۔
- غنا دو طرح کا ہوتا ہے:
- غنای مال (دولت)
- غنای نفس (دل کی بے‌نیازی)
اس دعا میں دوسرا غنا مانگا گیا، جو افضل ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا:
"لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ، وَلَكِنَّ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ"
(بخاری، مسلم)

6. بِفَضْلِكَ
- آپ کے فضل سے، نہ کہ میری محنت سے، نہ میری عقل سے، نہ میرے کاروبار سے۔
- یہ لفظ بندے کی عاجزی کی انتہا ہے۔ وہ کہہ رہا ہے: "اے اللہ! میں کچھ بھی نہیں، سب آپ کا فضل ہے۔"
عَمَّنْ سِوَاكَ
- آپ کے سوا سب سے۔ یعنی: لوگوں سے مانگنے سے بچالیں
- قرض لینے سے بچا لیں
- چاپلوسی کرنے سے بچا لیں
- کسی کے احسان تلے دبنے سے بچا لیں
- دنیا کے کسی طاقتور کے آگے جھکنے سے بچالیں

یہ عزتِ نفس کی آخری حد ہے۔


| امام غزالی (احیاء العلوم)
| یہ دعا قناعت کا سب سے بڑا نسخہ ہے۔ جو اسے پڑھتا ہے، اس کا دل دنیا سے نکل جاتا ہے۔ |

| ابن القیم (عدة الصابرین)
| یہ دعا توحیدِ ربوبیت، توحیدِ الوہیت اور توحیدِ اسماء و صفات کا نچوڑ ہے۔

نتیجہ – یہ دعا کیوں بہت افضل ہے؟
کیونکہ اس میں بندہ چار سب سے بڑی چیزوں سے نجات مانگ رہا ہے:
1. حرام کی مجبوری
2. حرام کی خواہش
3. مخلوق کی غلامی
4. دل کی تنگدستی

اور چار سب سے بڑی چیزیں طلب کر رہا ہے:
1. حلال کی برکت
2. دل کی قناعت
3. اللہ کا فضل
4. عزتِ نفس
منقول

07/06/2026

Alhumdullah

30/05/2026

Mina to jamrat
حضرت ابراہیم علیہ سلام نے اللہ کے حکم کی تعمیل میں اپنے لختِ جگر حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے کے لیے منیٰ کی طرف لے کر روانہ ہوئے، تو شیطان نے انہیں اس عظیم قربانی سے باز رکھنے کے لیے تین مختلف مقامات پر بہکانے کی کوشش کی۔

شیطان باری باری تینوں جمرات (عقبہ، وسطیٰ اور اولیٰ) کے مقام پر ظاہر ہوا اور وسوسے ڈالنے چاہے، لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ہر مقام پر اسے سات سات کنکریاںماریں، جس کے نتیجے میں وہ ذلیل و خوار ہو کر زمین میں دھنس گیا اور وہاں سے بھاگ نکلا۔ ان کا یہ عمل اللہ تعالیٰ کو اس قدر پسند آیا کہ اسے حج کا لازمی رکن بنا دیا گیا، جسے آج ہم 'رمی جمرات' کے نام سے جانتے ہیں۔

حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کی لائی ہوئی قربانی کے جانوروں (اونٹوں) کی کل تعداد 100تھی۔
‎ رسول اللہ ﷺ کا حصہ آپ ﷺ نے اپنے مبارک ہاتھوں سے 63 اونٹ ذبح کیے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کا حصہ بقیہ 37 اونٹ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ذبح کیے۔

نبی کریم ﷺ مدینہ منورہ سے 63 اونٹ اپنے ساتھ لائے تھے (جو آپ ﷺ کی عمر مبارک کے سالوں کے برابر تھے) اور حضرت علی رضی اللہ عنہ یمن سے بقیہ اونٹ لے کر حاضر ہوئے تھے، یوں کل تعداد 100 ہو گئی تھی۔ قربانی کے بعد آپ ﷺ نے حکم دیا کہ ہر اونٹ کے گوشت کا ایک ایک ٹکڑا لے کر ہانڈی میں پکایا جائے، پھر آپ ﷺ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کا گوشت بھی تناول فرمایا اور اس کا شوربہ بھی پیا۔
صحیح مسلم، حدیث نمبر: 1218
"میں نے یہاں (منحر میں) قربانی کی ہے، اور پورا منیٰ قربانی کی جگہ ہے، پس تم اپنے ٹھکانوں پر بھی قربانی کر سکتے ہو۔" (صحیح مسلم: 1218)
امام ابن حجر عسقلانی کی مشہور شارحِ بخاری امام ابن حجر عسقلانی اپنی کتاب "فتح الباری" (جو صحیح بخاری کی سب سے مستند شرح ہے) میں لکھتے ہیں
نبی کریم ﷺ نے جمرہ عقبہ اور جمرہ وسطیٰ کے درمیان والے علاقے میں قربانی فرمائی تھی۔"

وہ مزید وضاحت کرتے ہیں کہ اس زمانے میں منیٰ کی اصل قربانی گاہ (منحر) جمرہ عقبہ کے قریب ہی واقع تھی، جو جمرہ وسطیٰ اور جمرہ عقبہ کے درمیانی فاصلے کے ایک حصے میں آتی تھی۔
وہاں ایک قدیم مسجد جسے "مسجد الکبش" (مینڈھے والی مسجد) کہا جاتا تھو اسیی واقعے کی یادگار سمجھی جاتی ہے جو جمرہ عقبہ اور جمرہ وسطیٰ کے درمیان پہاڑ کے دامن میں واقع تھی۔

یہ ایک بہت اہم وضاحت ہے جو آپ کے لئے ضروری ہے
ٹور گائیڈز منیٰ میں جبلِ مرسلات کے قریب جس بند کمرے یا کتبے کو "مقامِ ذبحِ اسماعیل"بتاتے ہیں، وہ تاریخی اور علمی لحاظ سے درست نہیں ہے۔
مستند روایات اور احادیث کے مطابق، حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا واقعہ جمرات (شیطانوں) کے قریبپیش آیا تھا، جہاں پہلے "مسجد الکبش" موجود تھی۔

صل اللہ علیہ والہ وصحبہ وبارک وسلم ❤️❤️❤️

30/05/2026

حج 2026 کے دوران جمرات کے قریب ہیلی پیڈ پر ہیلی کاپٹر لینڈ کر رہا ہے۔

25/05/2026

Hajj 2026 Alhamdulillah
#7

کیسے روکیں خود کو🥺ان دنوں حج سے ٹھیک کچھ پہلے کا منظر ، اسے دیکھ کر دل ایسے مچل رہا ہے کہ الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں،...
22/04/2026

کیسے روکیں خود کو🥺
ان دنوں حج سے ٹھیک کچھ پہلے کا منظر ، اسے دیکھ کر دل ایسے مچل رہا ہے کہ الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں، مطاف کا یہ علاقہ بہت رئیر ہے کہ خالی نظر آئے ، رش اتنا زیادہ نہیں ہے بس کچھ ہی لوگ ہیں اور کیا خوش نصیب لوگ ہیں ، جتنے لوگ موجود ہیں یہاں یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ جس کا جب دل کرتا ہوگا تب کعبہ کو یا حجرہ اسود کو چھوتا یا بوسہ دیتا ہوگا ، ورنہ تو حجرہ اسود کہ پاس جانا کافی مشکل ہوتا ہے ،

اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک انہیں یا ان جیسے دنوں میں ہمیں اپنے گھر کی زیارت بار بار کروائے ، اور ہم میں سے جو حضرات عمرہ کر چکے ہیں انہیں اللہ پاک حج کرنے کی بھی توفیق عطا فرمائے ۔۔۔آمین

فالو اور شیئر کر سکتے ہیں۔۔۔

16/04/2026

ابن حجر نے اپنی کتاب العجاب في بیان الأسباب میں روایت نقل کی ہے کہ ایک مرتبہ محمد ﷺ نے صحابہ سے فرمایا:

"جو شخص صدقہ کرے گا، اسے جنت میں اس کا مثل دیا جائے گا!"

📍‏‎‎ *ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:*  *"دل جتنی زیادہ غفلت میں پڑتا ہے،* اتنی ہی اس کی سختی بڑھتی جاتی ہے۔لیکن جب اللہ ک...
07/04/2026

📍‏‎‎ *ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:*

*"دل جتنی زیادہ غفلت میں پڑتا ہے،*
اتنی ہی اس کی سختی بڑھتی جاتی ہے۔لیکن جب اللہ کا ذکر کرتا ہے تو یہ سختی اس طرح پگھل جاتی ہے جیسے سیسہ آگ میں پگھلتا ہے۔
*دل کی سختی کو اللہ کے ذکر سے بہتر کوئی چیز نہیں پگھلا سکتی*

کتاب: الوابل الصيب، صفحہ 171

26/03/2026

Address

Factory # 65, 66 Multan Road Lahore
Lahore
53700

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Islamic information posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Islamic information:

Shortcuts

Share