Real Islamic Foundation

Real Islamic Foundation this is a Islamic page and our Mission is Tauheed by Quran and Sunnah
provide authentic knowledge of Islam. provide authentic knowledge of Islam.

08/04/2025
28/10/2022

مزید خالص، اسلامی شرک و بدعت سے پاک اور جھوٹے قصّے کہانیوں سے آزاد پوسٹس کے لئے ہمارا پیج ضرور لائیک کریں.
پوسٹ کی تصدیق قُرآن و حدیث سے کریں سمجھ آئے تو شیئر کرکے دین کو عام اور آسان بنائیں، اور یہ بھی یاد رکھیں کہ دین پر اُجرت دین کی خدمت نہیں بلکہ یہ ایک کاروبار ھے.

قرآنی و مسنون دعائیں جن میں ہر انسانی حاجت کا حل موجود ہے لہٰذا  مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ حاجت کی مناسبت سے ان دعاؤں میں ...
28/10/2022

قرآنی و مسنون دعائیں جن میں ہر انسانی حاجت کا حل موجود ہے لہٰذا مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ حاجت کی مناسبت سے ان دعاؤں میں سے کسی دعا کا انتخاب کریں عربی نہ آتی ہو تو اپنی مادری زبان میں کرلیں مگر اپنی دعاؤں میں من مرضی کے الفاظ ہرگز استعمال نہ کریں مبادا کہ وہ رسول کریمﷺ کی تعلیمات کے خلاف ہوں اور شرک کے زمرے میں آتے ہوں جو الٹا خیر کی بجائے شر بن جائیں کیونکہ قرآنی و مسنون دعاؤں میں کوئی ایک دعا بھی ایسی نہیں ملتی کہ جس میں کسی پیغمبر نے دوسرے پیغمبر کا واسطہ وسیلہ یا صدقہ طفیل دیکر دعا کی ہو یا قرآن وحدیث میں اس کی کوئی ترغیب و تاکید ملتی ہو۔

کفر و شرکپیغمبروں کے معجزات اور اولیاء اللّٰہ کی کشف وکرامات نے انسان کو متاثر کیا اور اُس کے دِل میں ان کیلئے عقیدت و م...
17/10/2022

کفر و شرک
پیغمبروں کے معجزات اور اولیاء اللّٰہ کی کشف وکرامات نے انسان کو متاثر کیا اور اُس کے دِل میں ان کیلئے عقیدت و محبت کے جذبات پیدا کئے اور شیطان لعین نے انہیں جذبات کو بطورِ ہتھیار استعمال کیا اور اکثر انسانوں کو کفر و شرک کی راہ پر ڈالدیا۔
فوت ہوئے اولیاء اللّٰہ سے عقیدت و محبت کے غلبہ نے انسانی عقل و شعور کو معطل (ماؤف) کر دیا اور وہ شرعی حدود کو روندتا ہوا کفر و شرک کی راہ پر چل نکلا اور فوت ہوئے اولیاء اللّٰہ کو شریعتِ محمدیﷺ کے برخلاف خدائی درجہ پر فائز کر دیا اور پھر اپنے من گھڑت معبودوں کی عبادت کیلئے اِن کی تصویروں، بتوں، قبروں، مزاروں، مندروں اور گوردواروں وغیرہ (نشانات جو اُن کے ناموں سے منسوب اور اُن کی نمائندگی کرتے ہیں) کو بطورِ عبادت استعمال کرنا شروع کردیا۔
ماضی و حال کے تمام مشرکین ہندو، سکھ، عیسائی، یہود، بدھ مت، قادیانی یا مشرکین مکہ ہوں یا آج کے نام نہاد مسلمان ہوں اپنے معبودوں سے متعلق اِن سب کا ایک ہی عقیدہ ہے کہ وہ اللّٰہ تعالیٰ کے دوست (ولی اللّٰہ) ہیں اور اِس دوستی کی طاقت ہے کہ وہ اپنے (عبادتی نشانات) بتوں ، تصویروں ، مندروں ۔ گردواروں ، قبروں اور مزارات کے آس پاس موجود رہتے ہیں اور حاضرین و زائرین کی پکار کو سننے، دیکھتے، جانتے اور مشکل کشائی پر قدرت رکھتے ہیں، پس اسی بہتان پر شرک کی پوری عمارت کھڑی ہے۔
مشرکینِ مکہ ایک طرف اپنے آپ کو ابراھیمی کہتے تو دوسری طرف اپنے قرار دیئے ہوئے اولیاء اللّٰہ لات، عزیٰ، منات اور حبل وغیرہ کی پرستش کرتے بلکہ انہوں نے اپنے معبودوں کا اللّٰہ تعالیٰ سے دوستی کا رشتہ مضبوط رکھنے کیلئے اُن کے (عبادتی نشانات) یعنی بتوں کو کعبۃ اللّٰہ کے اندر سجایا ہوا تھا اور اِن بتوں میں قومِ نوح کے پانچ بزرگوں " ود، سواع، یعوق، یغوث، نصر سمیت حضرت ابراھیم و اسماعیل علیہ السلام کے بت بھی شامل تھے جنکو رسول کریمﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر اپنے عصا سے توڑا اور اللّٰہ تعالیٰ کے پاکیزہ گھر کو بتوں کی نجاست سے پاک کیا۔
آج کے نام نہاد مسلمان بھی مشرکینِ مکہ کی ڈگر پر ہیں اور اِنہوں نے بھی مساجد کے احاطوں میں مزارات اور مزارات کے احاطوں میں مساجد تعمیر کر رکھی ہیں تاکہ اپنے معبودوں کا اللّٰہ تعالیٰ سے رشتہ قائم رکھا جا سکے اور اِس قربت کا یہ فائدہ بھی رہے کہ ایک طرف اللّٰہ کو سجدہ تو دوسری طرف جعلی معبودوں کو سجدہ، مطلب یہ کہ شرک جیسے بڑے ظلم کو آسان بنا دیا۔
فوت ہوئے اولیاء اللّٰہ سے اندھی عقیدت و محبت کا ہی نتیجہ تھا کہ مشرک قوموں نے انبیاء کرام کی تضحیک کی حتٰکہ بعض نبیوں کو قتل کر ڈالا اور الہامی کتابوں کو جھٹلایا۔
مشرکین کے باطل عقائد و نظریات نے ہی زمین پر قتل و غارتگری کی بنیاد رکھی اور اب ایک مرتبہ پھر حق و باطل کے درمیان نظریاتی اختلافات دنیا کو ہولناک جنگ کی طرف دھکیل رہے ہے۔
۔

11/10/2022

" لالہ الاللہ " (کوئی معبود نہیں مگر اللّٰہ)

زمانہ قدیم سے انسان سورج چاند ستارے آگ پانی ہوا چرند پرند گائے سانپ ہاتھی وغیرہ کو پوجنے کے علاوہ اکثر و بیشتر فوت ہوئی شخصیات کو پوجتا اور انہیں اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتا چلا آرہا ہے۔ فوت ہوئی شخصیات کو پوجنے کی وجہ یہ گمان ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے دوست {ولی اللہ} ہیں۔

لہٰذا فوت ہوئے اولیاء اللہ کو خدائی رنگ دینے اور اِن کی موجودگی ثابت کرنے کیلئے انسان نے دھوکہ دہی و فریب کاری کا سہارا لیا اور اُن کی شکل و صورت کے بت تراشے، تصویریں بنائیں اور اِن کی قبروں کو پختہ کیا اور پھر اپنے خودساختہ معبودوں کی نمائندگی کرنے والے اِن نشانات کو مندروں، مزاروں، گوردواروں وغیرہ بڑی بڑی عالی شان عمارتوں کے سجایا تاکہ پوجا پاٹ (عبادت) میں آسانی رہے۔

زمین پر سب سے پہلے نوحً کی قوم نے اپنے پانچ بزرگوں ود، سواع، یعوق، یغوص اور نصر کے بت تراشے اور اْن کی عبادت شروع کی۔ بعدازاں عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ و مریم علیہ السلام کو، یہود نے حضرت عزیر علیہ السلام کو، سکھوں نے گورو نانک کو، بدھ مت نے بدھا کو اور ہندوؤں نے بیشمار عورتوں اور مردوں کو جن کے متعلق اِن کا گمان ہے کہ وہ سب ایشور (اللہ) کے دوست ہیں اس لئے وہ اِن کو اپنا معبود مانتے ہیں اور یہی حال آج کے نام نہاد مسلمانوں کا ہے جنہوں نے اولیاء اللہ اور اہلِ بیت کو اور ایک گروہ نے مرزا غلام احمد قادیانی کو اپنا معبود بنا لیا، بلکہ اِن کی زیرِ استعمال چیزوں یا اِن سے منسوب چیزوں کو بھی نفع و نقصان کا منبع قرار دیتے ہیں علاوہ ازیں جھاڑ پھونک تعویذ گنڈہ بدشگونی جادو گری اور توہم پرستی جیسی بیت ساری خرافات میں بھی بری طرح مبتلاء ہیں۔ مشرکین کا یہ شیوہ رہا ہے کہ وہ اپنی زندگیوں اور معاملات سے خالقِ کائنات کو باہر نکال دیتے ہیں اور صرف جعلی و من گھڑت خداؤں کے اسیر ہو کر رہ جاتے ہیں۔

مشرکین مکہ نے کعبۃ اللّٰہ کے اندر قومِ نوح کے پانچ بزرگوں کے بتوں سمیت لات، عزیٰ، منات، حبل وغیرہ اور حضرت ابراھیم و اسماعیل علیہ السلام کے بتوں کو سجا رکھا تھا، اُن کا عقیدہ تھا کہ جس ہستی کا یہ گھر ہے تو یہ مجسمے بھی تو اُسی کے محبوب بندوں کے ہیں اور یہی طریقہ آج کے نام نہاد مسلمانوں نے بھی اختیار کر رکھا ہے آور اِنہوں نے بھی مزارات کے احاطوں میں مساجد اور مساجد کے احاطوں میں مزارات تعمیر کر رکھے ہیں ایک طرف اللّٰہ کو سجدہ تو دوسری طرف قبروں کو سجدہ اس لحاظ سے آج کے نام نہاد مسلمان بھی مشرکینِ مکہ کے نقشِ قدم پر ہیں۔

تمام مشرکین کا اپنے معبودوں سے متعلق ایک ہی عقیدہ ہے کہ وہ اپنے بتوں، تصویروں، قبروں، مندروں، مزاروں اور گوردواروں میں موجود ہیں اور حاجت مندوں کی پکار کو سنتے دیکھتے اور جانتے ہیں اور حاجت روائی و مشکل کشائی کی قدرت بھی رکھتے ہیں، پس مشرکین کے اسی جھوٹ پر شرک کی پوری عمارت کھڑی ہے۔

اولیاء اللّٰہ سے عقیدت و محبت کے انسانی جذبہ کو شیطان لعین نے خوب استعمال کیا اور بہت سارے انسانوں کو کفر وشرک کی راہ پر ڈال دیا اور گمراہ طبقات نے بزرگانِ دین سے عقیدت و محبت کی آڑ میں اِن کی تعلیمات کے برعکس ان کو اپنا معبود بنا لیا اور اللّٰہ تعالیٰ کو یکسر بھلا دیا۔

07/10/2022

*سود کی تباہ کاریاں*

دنیا میں ہر کام کے لیے محنت اور سرمایہ لگانا پڑتا ہے خواہ اس کام کا تعلق صنعت و حرفت ( انڈسٹریز ) سے ہو یا زراعت و تجارت سے، پھر کوئی بھی کام ایسا نہیں جس میں نقصان کا خطرہ نہ ہو لیکن سرمایہ دار سود کی وجہ سے ہمیشہ سرمائے میں لازمی اضافے کا حق دار قرار پاتا ہے اور اسے کبھی نقصان کا اندیشہ نہیں ہوتا انسانی محنت اگر ضائع بھی ہو جائے تب بھی سرمایا دار اپنا سود چھوڑ نے کو تیار نہیں ہوتا یہ صورت حال عقل، منطق، اخلاقیات غرض ہر اعتبار سے غیر منصفانہ ہے۔

سودی نظام دراصل انسانیت پر سرمائے کی بالادستی کو تسلیم کرنے کا اعلان ہے یہی وجہ ہے کہ نئی تہذیب میں شرافت، ہمدردی، رزق حلال اور انسان کی قیمت گرتی جا رہی ہے اور لالچ، حرص، لوٹ کھسوٹ اور فراڈ سب سے مؤثر اور توانا جذبے بنتے جارہے ہیں۔

بعض اوقات سودی قرض لینے والے کی تمام کمائی وسائل یہاں تک کہ گھر اور گھر میں موجود ضروریات زندگی پر بھی قبضہ کر لیا جاتا ہے صورت حال اس سنگینی کو بھی پہنچ جاتی ہے کہ انسان خودکشی پر اور اپنے بھوک سے بلبلاتے بچوں کو اپنے ہاتھوں سے قتل کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے لیکن خواہ کوئی ضرورت مند بیماری، بھوک، افلاس سے کراہ رہا ہو یا بےروزگار اپنی زندگی سے بے زار ہو سود خور کی سنگ دلی کا یہ عالم ہوتا ہے کہ اسے صرف اپنے نفع سے غرض ہوتی ہے۔

Address

Johar Town
Lahore
54770

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Real Islamic Foundation posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Real Islamic Foundation:

Share